اردو بلاگنگ کو آجکل دو بڑے خطرے لاحق ہیں۔ اول حکومت وقت جس کا ایمان ہے کہ اگر بندہ دانت نکال رہا ہے تو وہ ضرور زرداری صاحب کا کوئی ایس ایم ایس پڑھ کر ان کی نقل کر رہا ہے۔ جس کی پاداش میں کڑی سے کڑی سزا رکھی گئی ہے کیونکہ جیلیں قومی مفاہمت کی زد میں آ کر خالی ہو گئیں لہذا ان کو بھرنا لازمی ہے۔
دوسرا خطرہ اردو بلاگرز کے اہل و عیال ہیں۔ جو بلاگ پڑھ پڑھ کر ہولتے رہتے ہیں کہ یا اللہ خیر میرے منڈے نوں عقل دے۔ ہر بلاگر جس جس کا بلاگ ان کے بزرگوں میں سے کوئی نہ کوئی پڑھتا ہے ضرور کبھی نہ کبھی کسی پوسٹ کے حوالے سے نصیحت کا شکار ہوا ہو گا۔ لہذا اردو بلاگرز کو میری بھی نصیحت ہے کہ اپنے بلاگز اپنے خاندان سے جہاں تک ممکن ہو سکے پوشیدہ رکھیں اسی میں اردو بلاگنگ کی بہتری ہے۔
مزید کسی نے سنجیدگی سے اردو بلاگنگ پر کچھ پڑھنا ہو تو اس پوسٹ کو دیکھا جا سکتا ہے۔
Popularity: 1% [?]
Popularity: 1% [?]
121 views
Related Posts
- None Found




























baray hamesha sahi kehtay hyn yeh aaj kal ki nasal hi apnay aap ko ziada akalmand samajhnay lagi hy jabkay ……………
بدتمیز میرے مصطفی کمال کی پوسٹ پر اس کے کیئے کاموں کی لسٹ کے لنکس لگاتے ہی چند دن میں وہ پوسٹ جو مہینوں سے نمایاں جگمگا رہی تھی جناب کے بلاگ پر اچانک وہاں سے غائب کردی گئی ویسے تو آپ کا بلاگ ہے لیکن ناگوار خاطر نہ ہو تو کچھ ہمیں بھی اس کی وجہ بتادیں نوازش ہوگی
عبداللہ: کس جگہ نظر آیا کرتی تھی اور اب کہاں نہیں ہے؟
آپنے اپنے بلاگ کی رائٹ بار میں اسے خاصا نمایاں کرکے لگایا ہوا تھا ،مصطفی کمال دنیا کے دوسرے بہترین میئر کچھ حقائق کے عنوان سے جو اب وہاں نظر نہیں آرہی اور آپ اتنے انجان کیوں بن رہے ہیں
مصطفٰی کمال۔ دنیا کے دوسرے بہترین میئر؟ خبریں، بلاگز اور حقیقت۔ — Pak Fact — پاک فیکٹ
یہ تھا وہ عنوان اور اس پر جناب کی 11 نومبر 2008 کی پوسٹ مصطفی کدال کے نام سے کچھ یاد آیا یا اب بھی ۔۔۔۔۔
عبداللہ: اپنے دماغ کا تعصب ختم کرو سائڈ بار آٹومیٹڈ ہوتی ہے اور پوسٹ خود ہی ہٹس کے حساب سے آتی جاتی ہیں۔ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ پوسٹ غائب اور حاظر کرتا پھرے۔
اچھا
مجھے تعصبی کہنے کا شکریہ کیونکہ انسان کو وہی نظر آتا ہے جو وہ خود ہوتا ہے مجھے حیرت صرف اس بات پر ہے کہ نومبر 2008 کی پوسٹ میرے لنکس لگانے سے پہلے تک مسلسل لگی رہی اور میرے لنکس لگانے کے بعد ہی وہ آٹومیٹکلی غائب ہوگئی چہ خوب
سر جی پہلا خطرہ تو میرے دل میں بھی بیٹھا ہوا ہے
۔
۔
اور دوسرا خطرہ میں نے پیدا ہونے کے چانس ہی نی چھوڑے
عبداللہ کو ایک ڈیمو بلاگ بنا کر دے دیں اور یہ سجٹ انسٹال کر دیں
امید تو ہے کہ پھر بھی ”بھینس کے پانچ تھن“ ہی ہوں گے
لیکن اللہ تعالٰی کبھی بھی علم کے دروازے کھول سکتا ہے
سجٹ نہیں وجٹ
ڈفر آپ کے لیئے تو بس اتنا ہی کہ اللہ تعالی آپ پر بھی علم کے دروازے کھولے اور آپکو اس لسانیت اور تعصب سے نجات عطا فرمائے جس کی آپ دہائیاں دیتے پھرتے ہیں آمین