جب ہم بیچلرز میں تھے ہمارے انگلش کے پروفیسر نے اپنا ایک واقعہ سنایا۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ میں گاڑی پارکنگ سے نکالتے ہوئے کسی گورے کی گاڑی سے ہلکی سی ٹکرا دی۔ وہ گورا خوب غصہ سے چنگھاڑتا نکلا۔ پروفسیر صاحب نے اسکو ایک جادوئی جملہ کہا۔ “آئی آیم سوری” اس بندے کا غصہ فورا جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور اس نے کہا “دیٹس اوکے”۔
تہذیب یافتہ دنیا کے بارے میں لوگ بے رخی اجنبیت اور نہ جانے کیسی کیسی کہانیاں تو سنا دیتے ہیں پر ان معاشروں کی اچھائیاں بیان نہیں کرتے۔ ان جگہوں پر ان چیزوں کی بے حد اہمیت ہے جو ہم دیسی لوگ قطعا توجہ دینا گوارا نہیں کرتے۔
ایسا ہی ایک دوسرا جادوئی لفظ ہے پلیز۔ آپ کسی سٹور پر جائیں یا کسی بندے سے کچھ طلب کریں۔ آپ کو پلیز لازمی کہنا پڑتا ہے۔ یہ آپ کے تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی ہے۔ کسی کو روکنا ہو صرف ایک دفعہ پلیز کہنا کافی ہے وہ فورا رک جائے گا۔ لیکن کسی دیسی کو کو آپ سو دفعہ پلیز کہہ لیں وہ وہیں کا وہیں اڑا رہے گا۔ مجال ہے کہ ذرا بھی خیال کرے۔
Popularity: 2% [?]
Popularity: 2% [?]
130 views
Related Posts
- None Found



























شان میںفرق پڑجاتا ہے اگر کسی کو سوری یا پلیز کہہ دیں۔۔۔
نہ تعلیم اور نہ تربیت
لے دے کے (جھوٹی) شان ہی تو باقی رہ گئی ہے ہم لوگوں میں
جعفر´s last blog ..گانے شانے۔۔۔
انگریزی اتنی میٹھی زبان نہیں جتنی جرمن اور عربی ہیں ۔ معاف کیجئے گا ۔ مہربانی فرما کر ۔ آپ کا شکریہ جیسے فقرے وہ لوگ کثرت سے بولتے ہیں ۔ اگر کوئی اجنبی ایسا ہی طرزِ عمل اختیار کرے تو وہ لوگ اس کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتے ہیں ۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے ملک میں کسی دکان پر یا چھابڑی والے سے سودا لینے سے پہلے سلام کرتے ہیں ؟ جبکہ یہ اللہ کا حکم ہے
جناب عالی ہم نے تو یہاں سوری کہنے پر لوگوں کو آگ بگولہ ہوتے دیکھا ہے۔ کئی جگہوں پر تو سوری کہنا “آ بیل مجھے مار” کے مترادف ہے۔
ابوشامل´s last blog ..یہ کون سا فونٹ ہے؟
اچھی پوسٹ اور اچھی کوشش ہے، اگر اس کو پڑھ کر پانچ فصید لوگوں کے اخلاقیات میں تبدیلی آجائے تو آپ اپنی کوشش میں کامیاب ہو
کیسی نے ویسے خوب ہی کہاہے کہ ہم مسلمان ہیں مگراسلام ان کے پاس ہے۔ اگر کسی صاحب کو یہ جملہ برالگے تو پیشگی معزرت۔
خوش رہو تے آبادرہو۔
جو لکھا یہ واقعی حقیقت ہے۔ دراصل بچوں کو سکول میں ایسا ہی پڑھایا جاتا ہے۔ یہاں کے بچوں کی اکثریت اتنی سادی ہوتی ہے کہ پاکستانی بچے انہیں بدھو کہتے ہیں۔
میرا پاکستان´s last blog ..روز آمریت
الفاظ کی جادوئی حیثیت اس وقت قائم ہوتی ہے جب الفاظ کی لاج رکھی جائے۔ ہر زبان کی اپنی ایک انفرادیت ہوتی ہے لیکن جب ہم ماشاء اللہ بول کر حسد کرتے ہوں اور انشاء اللہ بول کر جان چھڑانا چاہتے ہوں تو الفاظ اپنی جادوئی تو چھوڑ عمومی حیثیت بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ اور یہ فرق بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتا ہے کسی کو قران اٹھا کر جھوٹ بولنے میں بھی تعمل نہیں ہوتا اور ایک جہاں لادینی میں بھی کذب کو گناہ سمجھتا ہے۔
پنجابی زبان میں تو اکثت استعمال ہوتا ہے “اوئے سوری دیا” اس سے زیادہ میٹھی اور کون سی زبان ہوگی ۔
السلام علیکم
اچھی تحریر اور اچھا پیغام دیا ۔ ویسے اس تحریر کے پس منظر میں “پلیز” ہے کہ “سوری” یا دونوں
شگفتہ´s last blog ..ہفتہ بلاگستان منایا جائے ۔ ۔
شگفتہ: پلیز۔ میں دیسیوں کی اس حرکت سے تنگ ہوں کہ جتنی مرضی دفعہ پلیز کہہ لو انہوں نے بات نہیں ماننی ہوتی۔
ہم تو جب کبھی سرکاری سکول میں کسی کو سوری کہہ دیتے تھے تو اپنے وقت کے بڑے بڑے احمد فرازوں کے مصرعے سننے کو ملتے تھے
اب بھی کسی کو کہہ دو تو گوروں سے ہمارا شجرہ ملا دیتا ہے
یہاں تو کسی سے کام لے کر اس کو شکریہ کرنے کا بھی رواج نہیں
میں نے ایک دفعہ راستہ پوچھنے کے بعد اس بندے کا شکریہ کر دیا تو میرے ”یاروں“ نے سارا راستہ میرے کردار پر بہتان تراشیاں کر کر کے مجھے سکینڈ لو سکینڈلی کر دیا
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..ٹیکسی بچے یا ٹیکس فری بچے
سوری سوری سوری
پرے ہٹ ڈھائی من دی بوری
laalay ki jaan´s last blog ..نہلے پہ دیہلا
چاہے کوئہ مذاق اڑائے یا برا کہے اپنی اخلاقیات کبھی نہیں چھوڑنا چاہیئے ہمیں تو یہی سکھایا گیا ہے،میں تو دکاندار کو سلام بھی کرتا ہوں اور سودا دینے پر اس کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں کوئی غلطی ہوجائے تو معاف کیجیئے کہ دینے سے بندے کی عزت گھٹتی نہیں بڑھتی ہی ہے،
باقی راشد صاحب نے بھی کیا خوب باتیں کہی ہیں اور سچ کہی ہیں
بدتمیز کو میرا مشورہ یہی ہے کہ لگے رہو کبھی نہ کبھی دنیا بدل ہی جائے گی کیونکہ امید پے دنیا قائم ہے اور نا امیدی کفر ہے
دنیا کی جگہ اپنے دیسی!
کبھی نہ کبھی اپنے دیسی سدھر ہی جائیں گے
محترم بدتمیز صاحب،


سوری، تھینکس، پلیز اور سو کائنڈ آف یو دراصل بہت آگے کی اخلاقیات ہیںہمارے معاشرے کی۔ کوئی غلطی نہیںمانتا تو سوری کیسا، کوئی آپکو انسان نہیںسمجھتا تو پلیز کیسا، کوئی آپکو اپنا ہم عصر اور ہم پلہ نہیںسمجھتا تو تھینکس کیسا اور کسی میںرحم ہے ہی نہیںتو سو کائنڈآف یو صرف چاٹنے کو ہی ہیںبس۔
بڑا وقت لگے گا جی ہمیںاس نہج پہنچنے کو
عمر احمد بنگش´s last blog ..ماں کی دعا جنت کی ہوا