امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچے امریکی ہوتے ہیں۔ اسی لئے بہت سے غیر قانونی طور پر رہائشی والدین کے بچے یہاں پیدا ہونے کے سبب امریکی حکام کو نرمی برتنی پرتی ہے۔ میں نے پہلے لکھا تھا کہ سپینش مائیں چھاپے کے دوران جب بچے چھپا دیتی ہے تو کیا حشر ہوتا ہے۔
امیگرینٹ کا مطلب ہوتا ہے مہاجر۔ یعنی کوئی اپنا ملک چھوڑ کر نئی جگہ بس جاتا ہے۔ ساؤتھ کے لوگ کہتے ہیں welcome to america now speak english. چاہے طنزا صحیح ان کا مطالبہ کسی حد تک درست ہے۔ یہ الگ اور لمبی بحث ہے لیکن اگر یہ آپکا ملک ہے تو کم از کم کسی حد تک اس کو اپنائیں ضرور۔
اسی طرح باوجود یہ جانتے ہوئے کہ امیگرینٹس امریکی کلچر کو بری طرح مسخ کرتے ہیں اور خاص طور پر اخلاقی برائیوں جیسے جھوٹ بولنا اور دھوکہ دہی میں اضافہ کرتے ہیں میں امیگریشن کے حق میں ہوں کیونکہ میں خود ایک امیگرینٹ ہوں اور میں کسی دوسرے سے یہ حق چھیننے کے خلاف ہوں۔
جب پاکستان بنا تو صرف مہاجرین “اردو سپیکنگ” نہیں تھے۔ آج بین ڈالنے کو صرف اردو سپیکنگ کیوں ہیں؟ بالخصوص ایسے میں جب ان کی تیسری اور چوتھی نسل یہاں پیدا ہوئی ہے یہ لوگ پاکستانی کیوں نہیں بن سکے اور ان کے والدین نے انکے دماغوں میں “مہاجر” زہر کیوں بھر دیا اور یہ آگے اپنی اولادوں میں یہ زہر کیوں منتقل کر رہے ہیں؟
ان کی ٹرمز بھی دیکھ لیں۔ حق پرست پنجابی۔ اگر ان کی بات من و عن تسلیم کر لی جائے تو اپ کو خطاب دیں گے حق پرست پنجابی۔ تائب کارکنان کو نہ جانے کیا خطاب دیتے ہیں جو اصلیت فاش کرتے رہتے ہیں۔
میرے گھر کے دو اطراف اردو سپیکنگ تھے۔ میرے ابو نے ہمیشہ ان کو “ہندوستانی” یا “بھئیے” کہنے پر جھڑکا۔ آج یہ لوگ ایک شہر کے بھیکاریوں کو پنجابی ثابت کرنے پر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں اور کس جگہ سے؟ عمرہ کی ادائیگی کے دوران۔ اس دوران یہ لوگ وضائف تو پڑھ رہے ہیں لیکن “بھائی” کے۔
میں نے بہت سے اردو سپیکنگ دیکھے ہیں۔ ایک بات مجھے انتہائی کامن نظر آئی کہ یہ کسی احساس کمتری کا شکار ہیں۔ مطمئن نہیں۔ ہمیشہ رونا روتے نظر آتے ہیں۔ آپ ان سے کوئی بھی بات کر لیں ان کے پاس عورتوں کی طرح طعنے ہی ہوتے ہیں۔ خیر ان کی عورتیں بھی کم نہیں۔ میں نے ایک خاتون کا بلاگ پڑھا۔ واقعی ذہین ہیں اور بہت اچھا لکھتی ہیں لیکن ایک دو جگہ پر ان کے بھی اسی قسم کے خیالات پڑھ کر سخت کوفت ہوئی۔
اگر آپنے ان کی مثالیں پڑھنی ہوں تو یہاں پڑھ لیں۔ مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی ایک شہر کا پورے صوبے کے ساتھ کیسے مقابلہ ہو سکتا ہے؟ مزید جس صوبے کا رونا رویا جاتا ہے اس سے کتنے حکمران گزرے؟ اس میں صوبہ یا اس کے رہنے والوں کا قصور؟ آپ کی اپنی جہاں حکومت ہے وہاں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں کے حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ وہاں کس نے ہاتھ پکڑ رکھا ہے؟
جس طرح ایک صوبہ میں کافی شہر معاشی گڑھ ہیں آپ ایک شہر تک کیوں محدود ہیں۔ اس قدر بھاری فنڈ جمع کر کے “باہر” کیوں بھیج دیا جاتا ہے؟ ابھی تک اس فنڈ سے کراچی سے باہر سندھ کے دوسرے شہروں کو بڑا کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟
پچھلے دنوں پاکستان نے انگلستان سے مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ دستخط کرنے سے انکار کیا۔ پاکستان کی یہ مجال؟ اگر یہ معاہدہ ہو جائے تو سب سے پہلے کس شخصیت کو لایا جائے گا؟ سوچئے سوچئے۔
دنیاوی اور دینی علوم پر برتری کا دعوٰی کرنے والوں نے کسی بلاگ پر اس ویڈیو پر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ اس دور کے “علامہ اقبال” صاحب بھی ادھر سے ادھر ہوتے رہے ہیں مزید وہ ماضی میں ایم کیو ایم کے مخالف رہے ہیں اب کایا پلٹ کیسے؟ ایک تو بندہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اور؟ اور دوسرے ویسے جیسے جیو متاثر کیا گیا تھا؟ مزید اس ویڈیو کو دیکھ کر کیا سمجھ آتی ہے؟ میرے خیال سے ایسا ایک کالم لکھ کر بعد میں کالم نگار نے تردید کی تھی یا نہیں یاد نہیں۔
میں یہ کہنا نہیں چاہتا لیکن جس شہر کی معیشت اپنا زور بازو سمجھنے والے اس کی اصلیت کا سراغ لگائیں تو کھسیانی بلی کھمپا نوچے۔ welcome to pakistan, now be pakistani.
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
450 views
Related Posts
- Pakistan Independence Day, August 14 On August 14, 2007, 0 Comments
- Today is Pakistan’s independence day. Unfortunately Pakistan had been set free from British but still local “kala sahab” rule over. hope we get rid of the junk soon. to Pakistani all over the world, Happy Independence Day, Pray that Pakistan could be set free from our selfishness. pic take from here AKPC_IDS += "1465,";Popularity: 5% [?] Share
- google adsense payments through westron union On October 6, 2007, 4 Comments
- Google announced a new way of payments to a few more countries other than check. Inclduing is Pakistan. A very interesting line in the official news reads as “This choice can also cut down on bank fees and long clearing times associated with depositing checks.”
- youtube On May 27, 2007, 4 Comments
- پاکستان کی بدلتی صورتحال اور صدر مشرف کے حمائتیوں کی حرکات سے تنگ بہت سے لوگ اور بلاگر اب سیاست کی طرف لکھنے پر مائل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تصویر ہزار الفاظ سے زیادہ اثر رکھتی ہے تو پھر متحرک تصویر کتنا اثر رکھتی ہو گی؟ میری ان تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ یوٹیوب
- سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
- خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان
- میری نظر میں On November 10, 2007, 3 Comments
- صدر؟ مملکت پاکستان جناب؟ جنرل؟ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے بعد قوم؟ سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کی اکثریت کو سمجھ نہیں لگ سکی۔ اس میں صدر کا قصور نہیں۔ اکثریت کو اردو نہیں آتی۔ آئیے میں کوشش کرتا ہوں مجھے جیسے صدر کے خطاب کی سمجھ لگی ویسے آپ کو بھی سمجھانے کی کوشش
- صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن On November 8, 2007, 4 Comments
- مغری میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے بہت تشویشناک رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں جس کا صدر کو بالکل اندازہ نہیں۔ صدر کا انداز ایسے ہی ہے جیسے وہ سو کر اٹھے ہو کچھ سمجھنے میں عمر کے تقاضے کے تحت وقت لیتے ہوں۔ خاص طور پر صدر کے انگلش میں خطاب پر بہت
- American Idiot by Green Day On December 1, 2006, 0 Comments
- Criticism is goin on, Guys “Dreamin” all the time about “Europe” or “America” should consider this too that how hard the criticism is here or rough it could be and how patiently the person being criticized accepts it. It’s really stupid to say oh if I don’t like it I won’t stand it. If you are
- GPS On September 21, 2007, 5 Comments
- Amazon.com: TomTom One Portable GPS Automobile Navigator (Refurbished): Electronics I wanted to expand my playground so I was looking for a GPS. the one above is $159. I found another with a value of $199 that’s TomTom ONE Portable GPS Vehicle Navigation System, I don’t know what’s the difference between automobile navigator and vehicle navigation system
- Updating On August 9, 2008, 0 Comments
- updating in progress, 1:40pm EDT = 11:40pm Pakistan Standard Time I hope everything goes smooth and we dont face any problem with themes atlest after the update. or will have to revert back AKPC_IDS += "1465,";Popularity: 5% [?] Share and Enjoy:
- Hips Don’t Lie On April 10, 2007, 0 Comments
- Ladies up in here tonightNo fighting, no fightingWe got the refugees up in hereNo fighting, no fighting Shakira, Shakira I never really knew that she could dance like thisShe makes a man wants to speak SpanishComo se llama (si), bonita (si), mi casa (si, Shakira Shakira), su casaShakira, Shakira Oh baby when you talk like thatYou make a


























میں نے کہیں پڑھا تھا، کہ اگر کسی شخص کو عوامی حمایت حاصل کرنی ہے تو وہ مزدوروں اور طلبا ٕ پر اپنی صلا حیتیں صرف کرے۔ اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان میں احساس کمتری پیدا کیا جائے، ان کو احساس دلایا جائے کہ وہ کمتر سمجھے جاتے ہیں، حال آنکہ وہ برتر ہیں، ان کے کچھ حقوق ہیں جو ان سے سلب کیئے گئے ہیں اور یہ کہ ان حقوق کی واپسی پُر امن طریقے سے ہونا مشکل ہے۔ کوئی شخص اگر یہ طریقہ اپناتا ہے تو وہ ضرور کامیاب ہوگا۔
کراچی کا اگر آپ چکر لگائیں تو دیکھیں کہ اردو سپیکنگ مہاجروں اور پشتو یا بلوچی سپیکنگ مہاجروں کے لائف سٹائل میں کتنا فرق ہے۔ کراچی کی ساری کچی آبادیاں ان لوگوں سے بھری ہوئی ہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ اس کی تصدیق عبداللہ صاحب نے بھی کی ہے
یہ کہہ کر
اسی طرح کراچی جھونپڑ پٹیوں میں رہنے والوں کی اکثریت پنجاب کے لوگوں پر مشتمل ہے اور دوسرے نمبر پر بنگالی اور پٹھان ہیں،
http://www.badtamiz.com/blog/2009/04/27/nizam-e-adal/#comment-347987
اس کے بر عکس میں نے دیکھا کہ اردو بولنے والوں کا رہن سہن اچھا ہے، ان کا برتاؤ اچھا ہے، ان کا معیار زندگی بحیثیت مجموعی دوسروں سے بہت اچھا ہے، ان کے کاروبار، کمانے کے ذرائع، اور بہت سی دوسری چیزیں باقیوں سے اچھی ہیں۔
اگر حقوق کی لڑائی لڑنی چاہئے تو ان لوگوں کو۔ اگر سہولیات چاہئیں تو ان لوگوں کو، اگر تعلیم چاہئے تو ان لوگوں کو نہ کہ ان کو جو کہ 80 یا 120 گز کے گھروں میں رہ رہے ہیں اور ان سے کہیں بہتر زندگی گزاررہے ہیں۔
اس بات سے انکار کبھی بھی نہیں کیا جاسکتا کہ قیام پاکستان کے بعد اگر یہ تعلیم یافتہ لوگ پاکستان نہ آتے تو یہاں کے اپنے لوگوں کے لئے بہت سی ذمہ داریاں سنبھالنا قریبا ناممکن ہو جاتا، پاکستان کی قیام کے وقت ان لوگوں نے جو قربانیاں دی ہیں ہم صرف ان کا تصور ہی کر سکتے ہیں، جو تکالیف برداشت کی ہیں ، ناممکن ہے کہ آج ہم لوگوں میں وہ حوصلہ پیدا ہو، مگر بس کردیا جائے نا؟
اب تو پاکستان بن چکا ہے، ختم کریں یہ مہاجر کی گردان۔ اب اگر ایک نسلی گروہ اپنی پہچان اپنی زبان یا علاقے سے کراتا ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ مہاجروں کے خلاف ہیں؟
مگر یہاں وہی سیاست آجاتی ہے جس کا تذ کرہ میں نے آغاز میں کیا تھا۔ نظام عدل والی آپ کی پوسٹ میں عبداللہ صآحب نے مندرجہ ذیل تبصرے میں کہا :
http://www.badtamiz.com/blog/2009/04/27/nizam-e-adal/#comment-347518
جہاں تک ووٹوں کی بات ہے تو اے این پی کراچی میں آباد افغانیوں کی آبادیوں پر اپنے جھنڈے لگا کر اور ان کے جعلی شناختی کارڈ بنوا کر اپنے دو بندے وہاں سے منتخب کراوا چکی ہے اور کراچی والے آخر برداشت کر ہی رہے ہیں۔۔۔
مندرجہ بالا بات ثبت کر ہی ہے بی بی سی کے تجزئے کو بھی کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کو ڈر ہے کہ کراچی میں دوسری قمیتوں کے آنے سے ان کا ووٹ بینک تباہ ہو جائے گا۔ اور اس طرح جو سیٹیں یہ جیت کر حکومت بناتے ہیں ، شائد وہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل جائیں۔ یہی بات ڈیموگرافک پرفائل کے بدلنے کے نام سے ایک محترمہ اردو محفل پر کرچکی ہیں۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ حقوق وغیرہ کچھ نہیں، یہ صرف اقتدار کا لالچ ہے جس نے کچھ اشخاص کے ہاتھوں ہم پاکستانیوں کے ایک مہذب اور ذہین گروہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
وما علینا الا البلاغ۔۔
کچھ تصحیح:
قمیتوں کی جگہ قومیتوں پڑھا جائے۔۔
اور مندرجہ ذیل سطور کو عبداللہ صاحب کے بیان سے متصل پڑھا جائے:
اگر حقوق کی لڑائی لڑنی چاہئے تو ان لوگوں کو۔ اگر سہولیات چاہئیں تو ان لوگوں کو، اگر تعلیم چاہئے تو ان لوگوں کو نہ کہ ان کو جو کہ 80 یا 120 گز کے گھروں میں رہ رہے ہیں اور ان سے کہیں بہتر زندگی گزاررہے ہیں۔۔
شکریہ
ہر بچہ بھی مہاجر تو ہوا نا جی کہ ایک جہان سے ہجرت کر کے دوسرے جہان میں آتا ہے

خیر! یہ قوم جسے اپنا “رہنما” سمجھتی ہے وہ خود تو نفسیاتی مریض ہے ہی اور پوری قوم کو بھی نفسیاتی مریض بنانے پر تلا ہوا ہے۔
آپ اگر متحدہ کی ذیلی قیادت بھی دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہر شخص ان تمام خوبیوں سے مکمل طور پر محروم ہے جو کسی بھی رہنما میں ہونی چاہئیں۔ اور اس کی بہت ہی بنیادی وجہ ہے کہ ہمیشہ ان کے اوپر قائد کا یہ “احسان عظیم” رہے کہ یہ سب تمہارا کرم ہے قائد کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔ میں اس کرم کے کہاں تھا قابل؟ حضور کی بندہ پروری ہے۔
بس اسی “بندہ پروری” کے بوجھ تلے پوری قوم کو دبا دیا گیا ہے۔ اللہ رحم کرے اور اس قوم کو عقل دے۔
ابوشامل´s last blog ..سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ – قسط 2
یہ لوگ 1951ء سے قبل بھارت سے ہجرت کر کے نہیں آئے ۔ اس لئے اپنے آپ کو مہاجر کہہ کر یہ لوگ دھوکہ دہی کے مرتک ہو رہۓ ہیں ۔ ایک حقیقت جو بہت کم لوگوں کے علم میں ہے یہ ہے کہ ان میں سب اُردو بولنے والوں کی اولاد بھی نہیں ہیں ۔ دوسرے صوبوں کے کچھ بھگوڑوں نے بھی ایم کیو ایم میں پناہ لے رکھی ہے ۔ ان کی کارستانیوں کے متعلق کچھ مواد یہاں موجود ہے
http://www.insaf.pk/Forum/tabid/53/forumid/1/tpage/1/view/topic/postid/3374/Default.aspx#3374
بہت اچھا لکھا ہے ـ کچھ اسی طرح کے خیالات میرے بھی هیں لیکن اگر میں لکھتا تو شائد لوگوں کو ناگوار گزر جاتا ـیه لوگ ایک عجیب سو احساس کمتری کا شکار هیں ـ اور تو اور اب کچھ لوگ تو سید بھی بننا شروع هو گئے هیں ـ ایک تو مجھے یه نسل برتری والے لوگوں پر مجھے بہت وٹ چڑھتا ہے ـ چاھے وه آل ابراهیم کے یہودی هوں یا آل اولاد والے مقدس صاحبان ـ
خاور´s last blog ..پهلوان کی اکھاڑے میں موت ، میساوا پروفیشنل ریسلر تھا
ہاں بھئ بات یہ ہے کہ آپ کی اس پوسٹ میں کچھ ایسا نہیں کہ جسے پڑھکر طبیعت کوش ہوجاتی کہ یی ہیں ہمارے سپوت کتنی بلندی پہ جا کہ سوچتے ہیں کہ ہم اپنے آپ سے شرمندہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سیں
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
اس کے علاوہ یہ کہ اس وقت کچھ فراغت بھی ہے تو سوچا کہ زبان کے مزے کے لئے بھیا کچھ آپ سے بھی ہو جائے۔
سب سے پہلے تویہ کہ اگر آپ ابا جی کی جھڑکیوں سے باہر نکل آئیں تو شاید کچھ زیادہ سمجھنے کے قابل ہو سکیں۔ اگر اہل کفار اپنے والدین کے اتنے تابع ہوتے تو اسلام تو گار حرا میں ہی ختم ہو جاتا۔ خیر خدا آپ جیسی فرمانبردار اولاد آپ کو بھی دے۔
اس ساری چیز کو پڑھنے کے بعد میں ناچیز اس چی کا فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ زیادہ متعصب کون ہے، آپ جنہیں مہاجر کہ رہے ہیں وہ ، آپ یا آپ کے ابو۔
اس وقت صرف ایک تصحیح کرانا چاہتی ہوں کہ یہ لوگ خود اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہتے۔ یہ مختلف نام مثلآ پناہ گیر، مہاجر، مکڑ، بھئے یہ سب نام آپ نے ان کو دئے ہیں۔ ان سب دئے گئے ناموں میں سے انہیں مہاجر پسند آگیا تو آپ کیوں ناراض ہیں۔ اچھا یہ بتاءیں آپ نے اپنے لئے پنجابی نام کیوں پسند کیا ہے۔ آپ اپنے آپ کو پاکستانی کہیں۔ وہ اپنے آپ کو پاکستانی کہیں گے اور آپ اپنے آپ کو پنجابی کہئیے تو مہاجر کہیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ بے وقوفی میں اپنے باپ دادا کی زمینیں چھوڑ آئے ہیں اور آپ کی قسمت اچھی تھی آپ کے باپ دادا کو ایسا نہیں کرنا پڑا۔ اب کون زیادہ متعصب ہوا۔ آپ یا انکی قسمت یا وہ خود۔
اب بھیا ایک بات یہ بھی سن لیں کہ آپ اپنی تربیت کے دوران شعوری اور لاشعوری طور پر جن خیالات کو بھی جذب کرتے رہے ہوں اگربڑے ہونے کے بعد تھوڑی سی دیر کے لئے فرض کرلیں کہ آپ ان خیالات کے بالک برعکس جا کر سوچ رہے ہیں تو اس سے بڑی پختگی پیدا ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے یہ سوچ لیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں پھر اپنے مذہب پہ نظر دالیں اور اس کے بعد اعلان کریں کہ میں نے اسے سچا پایا۔ تو دراصل آپ اسی دن سدق دل سے مسلمان ہونگے۔ ورنہ آپ اس لئے مسلمان ہونگے کہ آپ مسلمان گحرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔
یہی حال زندگی کی باقی چیزوں کا بحی ہے۔ اس سے زیادہ وقت میں اپ پر اسی صورت میں ضائع کرونگی کہ آپ وعدہ کریں کہ آپ کورس کی کتابوں کے علاوہ بحی کچھ پڑھیں گے اور اپنے ابو اور دیگر رشتے داروں کے دماغ سے سوچنے کے بجائے خود بھی کچھ سوچیں گے۔
آپ نے لکھا ہے کہ احساس کمتری کا شکار ہیں۔۔۔ میرا اپنا خیال ہے کہ اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد احساس برتری کا بھی شکار ہے جس سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔۔ بہر حال ایک سیاسی جماعت کے اسٹینڈ کو اگر آپ تمام اردو بولنے والوں سے نتھی کرتے ہیں تو شماریاتی غلطی کا امکان ہے ایم کیو ایم اور اردو بولنے والے تمام لوگ ایک چیز نہیں۔ لفظ مہاجر ایک شناخت کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور لغوی معنوں میں استعمال نہیں ہوتا اور نہ ہی کرنا چاہیے، حقیقت میں تو پاکستان کی کوئی قوم بھی پاکستانی نہیں بن سکی صرف مہاجرین سے کیا شکوہ کرنا۔ ہمارے یہاں شناخت کے لیے اس طرح کے سوال کرنے کا اتنا رجحان ہے یہاں تک کے سرکاری سطح پر بھی کہ اردو بولنے والوں کے پاس دو ہی جواب ہوتے ہیں کہ اپنے آپ کو ہندوستانی کہیں یا مہاجر۔۔ اور اکثریت کے لیے ہندوستانی ہونا کوئی قابل فخر بات نہیں۔۔
جیسے 47 سے پہلے تو باقی ساری قومیتیں ہندوستانی نہیں تھیں اور تقسیم کے وقت اچانک کہیں سے نمودار ہوکر پاکستانی بن گئیں دیکھا جائے تو سارا پاکستان ہی سابقہ ہندوستانی ہے اردو بولنے والوں کی طرح۔
I m agreed with Rashid Kamran
shaper´s last blog ..پہلی نظر میں
جزاک اللہ راشد کامران صاحب،
اس پوری داستان امیر حمزہ کا لب لباب یہ ہے کہ ہم نہ تو خود کو مہاجر کہلوانا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی ہندوستانی یہ آپ جیسے لوگ ہی ہیں جو اس طرح کے الفاظ ثبت کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں میںے جو کچھ بھی لکھا وہ حقائق پر مبنی ہے آپ کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
ہم کل بھی پاکستانی تھے اور آج بھی ہیں،آپ کی اطلاع کے لیئے عرض کردوں کہ میں خود بھی آدھا سندھی اور آدھا اردو اسپیکنگ ہوں تکلیف صرف اردو بولنے والوں کو ہوتی تو ان کا قصور مان بھی لیا جاتا یہاں تو پورا پاکستان ہی آپ لوگوں سے ناراض ہے اب آپ جیسے لوگوں کو نظر نہیں آتا تو یہ آپ کا مسئلہ ہے
راشد میرا خیال تو یہ ہے کہ جتنا احساس برتری کا شکار پنجاب کے لوگ ہیں اردو بولنے والے اس کاعشر عشیر بھی نہیں ہیں اور کیوں نہ ہوں 62 سال پاکستان پر حکومت جو کی ہے حق داروں کا حق جو مارا ہے اور اب بھی ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہیں
منیر عباسی صاحب جھونپڑ پٹی کے رہنے والے بلکل اپنے حقوق کی جنگ لڑیں مگر ان سے جنہیں وہ وٹ دیتے ہیں یہ لوگ خاص کر اپنے علاقوں میں ووٹ دینے جاتے ہیں اور ان کے وہاں پکے گھر بھی ہوتے ہیں اگر زیادہ بڑے نہ بھی ہوں،اور پھر واپس آکر انہی جھونپڑیوں میں رہنا شرو ع کر دیتے ہیں ،اب آپ جیسے لوگوں کو کون کون سی سچائیاں بتائی اور سنائی جائیں،کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں،اور بدتمیز صاحب آپ لوگ سب لے کر جو تھوڑا بہت واپس دیتے ہیں اس سے کراچی کے ارد گرد کے گوٹھوں میں بھی ترقیاتی کام کروائے جا رہے ہیں حالانکہ پی پی پی کے لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے کیونکہ یہ گوٹھ ان کے ووٹ بنک ہیں،
راشد: یہی بات ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ اردو بولنے والے تمام لوگ ایم کیو ایم کو سپورٹ نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں طعنے شروع ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوںکو کالوں کی طرح سوچنے کی عادت ہے کہ “بی کاز آئی ایم ہندوستانی؟”
پھر ان لوگوں کی سوچ ہمیشہ پنجاب یہ اور پنجاب وہ سے زیادہ نہیں بڑھ سکتی۔ ابھی بھی دیکھ لیں صاحب موصوف پنجاب پر راگ الاپ گئے اور جواب طلب سوالات شائد انکی سمجھ سے بالاتر تھے۔
یہ لوگ حکمرانی حکمرانی کرتے ہیں۔ پنجاب سے کتنے حکمرانوں نے کسی دوسرے صوبے پر ایسے باتیں کی؟ اور کیا ایسے واقعات پر ہمیشہ پنجاب کے ہی میڈیا نے غلط اور صحیح کی پہچان نہیں دلائی؟ یہ لوگ کم تعلیم یافتہ اور تربیت کے فقدان کے تحت اپنی بلا دوسرے کی کارستانی ہی سمجھنے والے ہیں۔ اس سے زیادہ سوچنا ان کے لئے حرام ہے۔
جواب طلب تمام سوالات کے جوابات میں پچھلے تبصروں میں دے چکا تھا اگر کوئی رہ گیا ہو تو آپ نشان دہی فرمادیں!
یہ دیکھ کر ہنسی آئی کہ بڑے بڑے لوگ جو بلوں میں منہ چھپائے بیٹھے تھے سب موقع دیکھ کر باہر نکل آئے خیر
لنک دینے والے صاحب کا خود یہ حال ہے کہ میرے تبصرے انہیں ہضم نہیں ہوتے اور وہ انہیں یا تو چھپنے نہیں دیتے یا مٹا ڈالتے ہیں خیر ان کا بلاگ ہے ان کی مرضی البتہ یہ لنک جو انہوں نے تحریک انصاف کا دیا ہے اس کے لیڈر صاحب جو مقدمہ کررہے تھے اس کی کہانی تو وہیں ٹھپ ہو گئی بے چارے گئے تو بڑے زور شور سے تھے مگر اے بسائے آرزو کہ خاک شد،وھاں کی عدالتیں پاکستانی عدالتوں کی طرح نہیں ہوتیں کہ جج خریدو گے یا وکیل،اور جو داستان ان کے بلاگ پر چھاپی گئی ہے ایسی کہانیوں کو وہاں کی عدالتیں رتی بھر اہمیت نہیں دیتیں اسی لیئے ان کے لیڈر کو منہ کی کہانا پڑی،
میں آپ کو کم تعلیم یافتہ اور انتہائی بگڑا ہوا انسان سمجھنے پر مجبور ہوں جو بات بے بات اللہ سے لڑنے پر تیار ہو جائے اسے انسانوں کی بات کہاں سمجھ آسکتی ہے،آپ کی میں نہ مانوں کا میرے پاس کوئی حل نہیں ہے،آپ اپنے اندر بھرا زہر اسی طرح نکالتے رہیں تاکہ جو لوگ اب تک کسی خوش فہمی میں مبتلا تھے وہ بھی آنکھیں کھول لیں،
راشد کامران: آپ نے ایک جملے میں کافی کچھ بیان کردیا ہے کہ دراصل اردو بولنے والے احساس کمتری کا نہیں احساس برتری کا شکار ہیں۔
لفظ مہاجر کی وضاحت میں بھی کئی بار پیش کرچکا ہوں مگر یہ کسی کے سمجھ نہیں آتی۔ کہ لفظ مہاجر ایک علامتی اظہاریہ ہے اس کے لغوی معنوں سے قطع نظر اسے بطور ایک گروہ کی شناخت کے استعمال کیا جاتا ہے۔
بدتمیزکی کم علمی غالبا وطن سے دوری یا محض بدتمیزی کے سبب ہے ورنہ انہیں پتہ ہوتا کہ صوبہ سندھ میں صنعت و حرفت محض کراچی تک محدود نہیں حیدرآباد میں بہت صنعتیں ہیں، دادو اور سکھر میں کافی صنعتیں ہیں۔ صوبہ سندھ کی چون فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ اور صنعت و تجارت سے روزگار کماتی ہے۔ چھیالیس فیصد آبادی جو دیہات میں رہتی ہے ان کی اکثریت کاشتکاری کے ذریعہ ملکی معیشت میں حصہ ڈالتی ہے۔ سندھ پھلوں کی پیداوار میں کافی اچھا ہے اس کے علاوہ کپاس اور گندم، گنا، اور دیگر اجناس بھی وافر مقدار میں اگائی جاتی ہیں۔ اندرون سندھ سے کراچی روزگار کمانے آنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ زیادہ تر سندھی روزگار کے حصول کے لئے قریب ترین شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
کراچی میں صنعتیں تیزی سے ختم ہورہی ہیں کیونکہ کراچی ایک تجارتی شہر ہے تجارت یہاں کہ آمدنی کا اہم ترین ذریعہ ہے صنعت نہیں۔ صوبہ سندھ میں صنعت و تجارت کے علاوہ معدنی وسائل کو ترقی دینے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ کوئلہ، گیس اور پیٹرولیم جیسی قدرتی نعمتیں سندھ کے وسائل میں اضافے کا سبب ہیں۔ صوبے کی معیشت میں اتنی ہی ڈائیورسیٹی ہے جتنی اس کی آبادی میں ہے۔
تاہم نا انصافی یہ ہے کہ سندھ کو وفاق سے آمدنی کے حساب سے حصہ نہیں ملتا بلکہ آبادی کے لحاظ سے ملتا ہے۔ جس کا آسان سا حل یہ ہے کہ این ایف سی کی تقسیم آبادی نہیں بلکہ ضرورت اور قومی آمدنی میں اس صوبے کے حصے کے حساب سے کیا جائے۔ اگر آپ تلاش کرسکیں تو کل جاری ہونے والے صوبہ سندھ کے بجٹ کی سرخیوں کا مطالعہ کریں تو آپ کو سندھ کی معیشت سیاست اور ضروریات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
نعمان: اچھا تو آپ نے مطالعہ پاکستان/ معاشرتی علوم کو ابھی تک یاد رکھا ہوا ہے
نوٹ: راشد نے کچھ کہا ہے سب نہیں۔ مزید احساس برتری پر بھی لکھونگا
آنٹی عنیقہ
میری درخواست ہے میری پوسٹ اگلی دفعہ دو تین دفعہ پڑھنے کے بعد ٹھنڈا پانی پینے کے بعد تبصرہ کریں۔ ش سے شکریہ۔ آپ کا کچھ تبصرہ پوسٹ کو نا سمجھ پانے پر مشتمل ہے لہذا اس کی تصیح کرنے پر میں وقت ضائع نہیں کر رہا۔
چونکہ آپ سیاق و سباق سے بھی ناواقف ہیں لہذا میں پنجابی کیوں ہوں کا بھی آپ کو علم نہیں۔ بس عادت کے تحت لٹھ لے کر دوڑ پڑنا مجبوری ہوتی ہے۔ میں پنجابی اس لئے ہوں کہ پنجابی کا طعنہ فورا سے پہلے صاحب کی عادت ہے۔
آپ کی بے حد اطلاع کے لئے ضروری ہے کہ میری دادی کا پورا گھرانہ ہجرت کر کے آیا۔ میرا پورا ننھیال نانا کی ساری فیملی اور نانی کی ساری فیملی ہجرت کر کے آئی۔ صرف میرے دادا کی فیملی پاکستان میں رہتی تھی۔ لہذا اردو بولنے والے مہاجرین رونا بند کریں کیونکہ دوسری زبانیں بولنے والے مہاجرین بھی انہی مشکلات کا شکار ہوئے تھے مزید یہ کہ جو صاحب یہاں پیدا ہوئے تھے وہ اپنے آپ کوپاکستانی کہیں۔ اور آپ کا علم نہیں کدھر پیدا ہوئیں مگر آپ بھی اپنی پوسٹس میں خود کو “کیونکہ میںاردو سپیکنگ ہوں” کہنا بند فرمائیں۔
مزید نصیحت کرنے سے پہلے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں میرے بلاگ پر مزید وقت ضائع کریں اور خود ہی شرمندہ ہو لیں۔ میں آپ سے بہت پہلے لکھ چکا ہوں کہ میں مسلمان کیوں ہوں۔ کورس کی کتنی کو کتابیں پڑھتا ہوں اور اپنے عزیز رشتہ داروں کی کتنی سنتا ہوں۔ بالخصوص یہ جو ابو ابو کی اپ نے گردان ہی شروع کر دی میرے خیال سے آپ کے اپنے ابا جان کے ساتھ کچھ ایسے خوشگوار تعلقات نہ تھے؟
میں بھی آج سے مہاجر ہونے کا اعلان کرتا ہوں
میرا تو پورا خاندان ہجرت کرکے آیا تھا۔۔۔ جالندھر سے ، نانا ، دادا سب۔۔۔۔
میرے دادا کے دو بھائی اور دو بیٹے بھی راستے میں شہید ہوئے تھے (اگر یہ لفظ پنجابیوں کے لئے پسند نہیں تو جاں بحق پڑھ لیں)
47 میں ہجرت کے دوران شہید ہونے والوں کی 95 فیصد تعداد پنجابیوں کی تھی۔۔۔
آپ جن کو مہاجر کہتے ہیں ان کی اکثریت تو 1951 کے لیاقت نہرو پیکٹ کے بعد پاکستان آئی تھی ۔۔۔ حکومت کی سرپرستی میں ۔۔۔۔۔
تو پھر ہم کو بھی ایک پی ایم کیوایم (پنجابی مہاجر قومی موومنٹ) بنا لینی چاہئے تھی۔۔۔۔
لیکن ہم تو ڈھگے ہوتے ہیں نا بقول اعلی تعلیم یافتہ اور مہذب کمیونٹی کے
اس لئے پاکستانی ہی کہلاتے ہیں۔۔۔۔
مہاجر نہیں۔۔۔
جعفر´s last blog ..میں نے اک بار کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اوہو اب میں سمجھا آپ لوگوں کا مسئلہ ،بھائی لوگوں مہاجر قومی موومنٹ کب کی متحدہ قومی موومنٹ میں بدل گئی اور آپ لوگ اب تک وہی راگ الاپ رہے ہیں برسوں بیت گئے اس بات کو اب تو وہ صرف مہاجروں کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مظلوم 92 فیصد عوام کی بات کرتی ہے،پھر بھی آپ لوگوں کو تکلیف کیوں ہے
اگر کوئی اپنے نام کے ساتھ جھوٹا سید لگاتا ہے تو آپ کیوں ازیت اٹھاتے ہیں بھائی آپ اس کے اعمال کے حساب سے اس سے سلوک کرو اگر عزت کے قابل ہو تو عزت دو اور عزت کے قابل نہ ہو تو عزت نہ دو جیسے آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ کرتے ہو،باقی وہ اگر جھوٹا سید ہے تو اپنی قبر میں جا کر خود ہی بھگت لے گا،دوسروں پر وٹنے کے بجائے اپنے اعمال پر غور کریں اور اگر ان میں کوئی غلطی ہو تو ان پر وٹتے زیادہ فائدے میں رہیں گے 
اور خاور صاحب زیادہ نہ وٹیں کہیں آپ کا کچھ اور وٹ گیا تو مشکل ہو جائے گی
اور جعفر کون کب آیا تھا تم اس بارے میں کیسے جان سکتے ہو ،اور تمھاری بات کا جواب راشد صاحب بہت اچھی طرح دے چکے ہیں باقی میں تمہیں صحیح بخاری کی ایک حدیث بتاتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کفر کو چھوڑ کر اسلام کی طرف آتا ہے وہ بھی مہاجر ہے اور جو گناہوں کو چھوڑ کر نیکیوں کی طرف آتا ہے وہ بھی مہاجر ہے ،تو مہاجر ہونا کوئی گالی نہیں ہے مگر تم جیسے اور بدتمیز جیسے چند لوگوں نے اسے گالی بنا دیا ہے،
ہر صوبے سے لوگ اس میں شامل ہورہے ہیں اور وہ ہر زبان بولنے والے کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ بھی دیتے ہیں بقول اجمل صاحب دوسرے صوبوں کے کچھ بھگوڑوں نے بھی اس میں پناہ لے رکھی ہے،بھگوڑے کن معنوں میں کہا ہے وہ تو میں نہیں جانتا مگر اس میں شامل ہونے والے ڈاکٹرز انجینیئرز،بینکرز اور اعلی تعلیم یافتہ لوگ ہیں،اصل میں جس دائرے میں وہ لوگوں کو کولہو کا بیل بنا کر گھما رہے تھے لوگوں نے آنکھوں پر بندھی پٹی اتار کر مزید اس دائرے میں گھومنے سے انکار کردیا ہے بس اسی کا غصہ ہے،
ابھی تو غصہ میں اور اضافہ ہوگا جنگ کی خبر دیکھ کر جو آپ حضرات کی آسانی کے لیئے منیر احمد طاہر نے اپنے بلاگ پر لگا دی ہے،
ویسے بدتمیز جس کالم نگار کی تم نے بات کی تھی اس کا نام حامد میر ہے اور تمہیں بہت افسوس ہوگا یہ جان کر کہ اب تک نہ تو اس نے اپنے کالم کی تردید کی ہے بلکہ وہ آج بھی ایم کیو ایم کی تمام جائز باتوں کو زور و شور سے تسلیم کرتا ہے اور ان پر بات بھی کرتا ہے جیو پر پیر سے لے کر جمعہ تک روزانہ شام کو اس کا پروگرام کیپیٹل ٹالک آتا ہے دل چاہے تو دیکھ لینا،خیر مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ تم نے میرے کسی سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب نہیں دیا اپنی لن ترانیوں کے آگے،جیسے اجمل صاحب کے پاس میرے کسی سوال کا جواب نہیں ہوتا
جعفر کے لیئے شہادت کے حوالے سے ایک اور حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کسی حادثے میں مرے یا قتل کیا جائے یا کسی پیٹ کی بیماری سے مرے اسے اللہ کے یہاں شہید کا رتبہ نصیب ہوگا،اللہ تعلی آپ کے شہداء کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین،
اللہ تعالی
میرے پیارے عبداللہ بھائی


آپ کے لئے تو ہمیشہ سے میرا ایک ہی پیغام ہے
ساری خدائی ایک طرف
الطاف بھائی ایک طرف
جعفر´s last blog ..میں نے اک بار کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ تمہاری لن ترانیاں ہم سن رہے ہیں اور تم حماقت پر حماقت ما ررہے ہیں اس کالم نگار کا نام حس نثار ہی ہے بیٹے نہ کہ حامد میر۔ اپنی معلومات میں اضافہ کرو۔
بدتمیز بیٹے آپ ابھی بچے ہو اورآپکی معلومات بھی بے حد مختصر ہیں ایک کالم حامد میر نے 12 مئی 2007کے حوالے سے 13 مئی 2007 کو ایم کیو ایم کے فیور میں لکھا تھا مجھے خیال ہوا کہ آپ جناب اس کا حوالہ دے رہے ہو بھائی جی تھوڑا انتظار کرو آپ کو بہت سے کالم نگار متحدہ کی تعریفیں کرتے نظر آئیں گے وہ کہتے ہیں نا ہاتھ کنگن کو آرسی کیا اور پڑھے لکھے کو فارسی کیا
ہ
بدتمیز کے اعتراضات بھی انتہادرجے کے احمقانہ ہوتے ہیں اب انیقہ بی بی کو کہ رہے ہیں کہ آپ خود کو اردو اسپیکنگ کہنا بند کریں ارے بھائی اگر کسی کی مادری زبان اردو ہے جو اس ملک کی قومی زبان بھی ہے(چاہے بہت سے لوگوں کو ناگوار ہی گزرتا ہو) تو وہ اپنے آپ کو اردو اسپیکنگ نہ کہے تو کیا فارسی اسپیکنگ کہے یہ تو حال ہے حماقتوں کا اور اس پر جناب خود کو خاصا علامہ بھی سمجھتے ہیں،
منیر عباسی صاحب سے صرف ایک عرض اور کرنا تھی کہ جس طرح ٹھنڈے پیٹوں آپ نے اے این پی کا یہ کارنامہ کہ افغان بستیوں پر اپنے جھنڈے لگا کر اور جعلی شناختی کارڈ بنوا کر الیکشن لڑنا قبول کرلیا کیا اگر متحدہ اسی طرح بنگالی اور برمی بستیوں میں کرتی تو اسے بھی آپ اتنے ہی آرام سے قبول کرلیتے اور کیا اگر یہی حرکت اے این پی پنجاب میں کرے تو پنجاب کے لوگ اور وہاں کے سیاست داں اسے آرام سے قبول کر لیں گے امید کرتا ہوں کے آپ جواب سے ضرور نوازیں گے اگر آپ کے پاس کوئی جواب ہوا تو
اور ایک اور اطلاع بھی دینا تھی کہ کسی سودی عرب میں رہنے والے انتہائی تعصبی اور بزدل شخص نے متحدہ کی تعریفوں سے گھبرا کر یہاں فرحان دانش کا بلاگ بلاک کروادیا ہے، مگر وہ یہ بھول گیا ہے کہ سچ کو زیادہ دیر تک نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ چھپایا جاسکتا ہے ،ویسے پیارے بھائی جعفر امید ہے کہ یہ گھٹیا حرکت آپنے ہر گز نہیں کی ہوگی
سعودی عرب
”بھائی جعفر امید ہے کہ یہ گھٹیا حرکت آپنے ہر گز نہیں کی ہوگی “



آپ کی کم ازکم ایک بات ضرور درست ثابت ہوگئی ہے۔۔۔
ویسے یہ فرحان دانش ہیں کون۔۔۔۔
اور بھائی صاحب میں یواے ای میںہوں
سعودیہ میں نہیں۔۔۔
جعفر´s last blog ..میں نے اک بار کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اھسلام علیکم۔
میں عمومآچند ہی بلاکوں پر لکھتا ہوں ۔ مگر کیونکہ یہاں موضوں شدد اختیار کرگیاہے اس لیے کچھ ٹھنڈا کرنے اور سمجھانے کی جسارت کررہاہوں۔
ہر قوم میں دراصل دو طبقے ہوتے ہیں حاکم و محکوم ۔ اصل لڑائی اس وقت شروع ہوتی ہے جب محکوم طبقے حاکمیت کو چیلنج کرتا۔
اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ حاکم طبقہ کس کے بل بوتے پر اپنی حاکمیت قائم رکھتا ہے۔ بات بلکل سادہ ہے دراصل یہ مراعیت یافتہ دولت مند طبقہ محکوم طبقے میں سے ہی کچھ لوگوں کو تھوڑی سی مراعت کے عوض اپنا ہمنوا بنالیتااور یوں وہ اپنی حاکمت کے مزے لوٹتارہتا ہے۔
میرے مطابق آپ سب لوگ جن کے بلاک ہیں یاجو ان پر تبصرے کرتے ہیں پاکستان کادرد رکھنے والے محکوم طبقے میں سے ہو۔ آپ کوئی بھی زبان بولتے ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑ تاآپ سب پاکستانی ہو ، کیونکہ آپ پاکستان کا درد رکھتے ہو ، اس کی بہتری چاہتے ہو اس کو بنانا چاہتے ہو۔ کرپشن سے تعصب سے پاک کرنا چاہتے ہو۔ اب وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ آپ سب جوکہ محکوم طبقے میں سے ہو ایک ہو کر سونچو ورنہ اگر آپ تھوڑے پر خوش ہوتے رہے تو مراعت یافتہ طبقہ اسی طرح آپ پر حکمرانی کرتا رہے گا۔
یہ باتیں انتہائی گھٹیا ہیں کہ کسی بھی قوم کو ان الفاظوں سے بلایے جائے جس میں اس قوم کی تزلیل کا عنصر چھپا ہو۔
جب میں چھوٹا تھا اور اس وقت جب ہمارے بڑے پنجاب کہ آئے ہوئے لوگوں کے اپنے میں مکس ہونے پر طنزیہ مسکرتے تھے تو وہ مجھے اس وقت ہی برا لگتا تھا جبکہ ایک واقع مجھے آج تک یاد ہے جب میں اپنے ایک اردو بولنے والے دوست کے ساتھ بیٹھا تھا اور میرا ایک اور دوست آگیا اور اس نے حسب عادت مجھ سے پنجابی مےں بات شروع کردی مگر اسے جلد ہی احساس ہوگیاکہ میرا دوسرا دوست اردو سپیکنگ ہے چنانچہ اس نے اس اردو سپیکنگ سے فوری معزرت کی اور کہاکہ یار یہ ہماری ایک بری عادت ہے کہ ہم جب آپس میں ملتے ہیں تو فورآ پنجابی میں شروع ہو جاتے ہیں جس پر میرے اردو سپیکنک دوست نے کہاکہ نیہں آپ لوگ اپنی زبان میں ہی بات کرو اس بہانے میں بھی کچھ پنجابی سیکھ جائوں گا۔
رہی جہاں تک ایم کیوایم کی بات تو بقول حسن نثار کے ہوسکتاہے کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں ، مگر وہ ایک حقیقت ہیں اور ان کو میں اسٹریم میں آنے دیناچاہے ۔ وہ بہرحال پڑھے لکھے لوگ ہیں نسبتآ کم کرپٹ شاید اسی لیے آج کراچی میں اتنی ترقی نظر آتی ہے۔
اسے لوگوں کی دنیا میں ہر جگہ جگہ ہوتی ہے۔ کہیں ایسانہ ہو کہ ہمیں وہی الفاظ دھرانے پڑے جوکہ لئیق احمد نے ایک دفع لائف بھٹو صاحب کے الیکشن کوریج کے دوران کہہ دئے تھے کہ ۔
پاکستان کے ساتھ سب بڑی ذیادی اس وقت ہوئی تھی جب ایوب خان نے دارلحکومت اسلام آباد منتقل کرکے بیک جمبش قلم تین سو کے قریب اردو بولنے والوں کو بیروکریسی سے فارغ کردیاتھا۔ پاکستان اور خان ان کاتو کچھ نہ بگاٹ سکے کیونکہ ان کی اکثیریت اپنے گھروں پر تالا ڈال کر بیرون ملک چلے گئے ، مگر اس خلا کو پر نہ کیا جاسکا۔
ہمیں محنتی اور ایماندار لوگوں کی قدر کرنی چاہیے چاہے اس کا تعلق کسی بھی قوم سے ہو کوئی بھی زبان بولتا، ایسی میں ہم سب کی اور پاکستان کی ترقی کا راز پوشیدہ اور یہ بات اس وقت سمجھ آئے گی جب ہم گروہی اور علاقائی تعصب سے بالاتر ہو کے سونچنے لگیں۔
تصحیح فرمائیں۔
السلام
اصل لڑائی اس وقت شروع ہوتی ہے جب محکوم طبقہ حاکمیت کو چیلنج کرتا۔
وہ اپنی حاکمیت کے مزے لوٹتارہتا ہے۔
الفاظوں سے بلایا
پنجابی میں
مین اسٹریم میں آنے دیناچاہے
اسیے لوگوں
خان ان کاتو کچھ نہ بگاڑ
جناب عبداللہ صاحب،
میں آپ سے ہر گز بحث نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ مجھے یقین ہے آپ نے کبھی بھی میری بات ماننی نہیں ہے۔ غالبا اسی نام سے کچھ اور بلاگ بھی ہیں جہاں آپ کے تبصرے پڑھنے کا اتفاق مجھے ہوا اور مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ آپ ضد میں آ کر بات ماننے سے انکاری ہیں، اس صورت حال میں بات نہ کرنا بہتر ہے،
جس طرح آپ نے کہا کہ میں نے آپ کی ایک بات کو ٹھنڈے پیٹوں قبول کر لیا ہے، تو غالبا آپ بہت مصروف رہتے ہیں اس لئے میری عرضداشت غور سے نہیں پڑھ سکے۔۔ میں نے صرف آپ کی تحریر کا اقتباس دیا تھا۔ یہاں تبصرہ کرتے ہوئے دقت یہ ہوتی ہے کہ انسان جس بات کا اقتباس دینا چاہے وہ الفاظ کسی مختلف شکل میں نہیں رکھے جا سکتے، اسی لئے آپ کو غلط فہمی ہوئی کہ میں آپ سے متفق ہوں۔
جناب اجمل صاحب کے دئے گئے لنک سے میرے علم میں یہ اضافہ ہوا کہ آج جس طرح ایم کیو ایم ایک خاص لسانی گروہ کے روابط پوری شد و مد سے ڈرگ مافیا سے جوڑنے میں مصروف ہے، بالکل اسی طرح کے بیانا اسی کی دہائی کے آخر میں جماعت اسلامی کے خلاف بھی دیئے گئے تھے۔۔۔۔۔
والسلام۔
عبداللہ اس کالم کو پیش کر سکتے ہو؟ کیونکہ اکثر تم لوگ جسکو تعریف سمجھتے ہو اس کو بین السطور پڑھنے سے قاصر ہوتے ہو۔ مثال کے طور پر حسن نثار کی وہی ویڈیو جس پر بغلیں بجائی گئیں۔ کہ بھائی نے خاندان شامل نہیں کیا۔ خاندان رہا کہاں؟ بھائی نے وڈیرے شامل نہیں کئے، وڈیروں کی اپنی فوج کے سامنے ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ؟
عنیقہ بی بی کو جو کہا اس کو بھی تم سمجھنے سے قاصر ہو براہ مہربانی صرف اتنی بات کیا کرو جو تم سے متعلق ہو۔ ش شکریہ اسی طرح غیر ضروری باتیں کر کے تم اپنے آپ کو ہر بلاگ پر بلاک کرواتے پھرتے ہو۔
چوہدری حشمت: ویلکم
مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے کہ ان کی جماعت ایک پریشر گروپ ہے جو کہ صرف دہشت گردی کے باعث ہر حکومت میں شامل ہوتی ہے۔ سیاسی جماعت اگر ہارے تو اپوزیشن میں ہوتی ہے۔ ان کی جماعت کو ساتھ ملانا کراچی میں امن قائم رکھنے کو ضروری ہوتا ہے۔ اسی پریشر کا نتیجہ ہے کہ باقی لوگ اس جماعت کو ناپسند کرتے ہیں۔
پھر یہ لوگ اس قدر تعصب پسند ہیں کہ کسی بھی بات میں فوری طور پر پنجاب کا طعنہ مارتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔ حالانکہ اس کے لیڈران تو سندھ سے ہیں۔ اصل میںپنجاب میں اس قدر شعور بیدار ہے کہ وہ جس کو اپنی سمجھ کے مطابق درست سمجھے اس کو ووٹ دے۔ جبکہ یہ لوگ میں نہ مانو کے تحت اڑے رہتے ہیں۔ پھر لیڈر صاحب کی تصویر ڈالڈا کے ڈبے اور آٹے کے تھیلے پر چپکا کر ورکرز اور ووٹرز میں بانٹی جاتی ہے۔
پھر ان لوگوں کا خیال ہے کہ پنجابی بولنے والا پنجابی ہے۔ ہمارے خیال میں ہر وہ شخص جو پنجاب میں رہتا ہے پنجابی ہے۔ اسی طرح دارلحکومت تبدیل کرنے کا بھی بڑا غم ان لوگوں کو ہے جس پر میں نے اس کو تاریخ پڑھنے کا مشورہ دیا تھا جو کہ بقول اس کے اس نے بہت پڑھی ہے۔ مگر میرا خیال برعکس ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ نیویارک کہے کہ سب کچھ ہمارے پاس ہے تو کیپیٹل بھی یہی بنا لو اور فلاڈلفیا والے رونے لگیں کے کیپیٹل یہاں سے تبدیل کیا ہی کیوں۔ یعنی اس قدر ناسمجھی ان لوگوں میں بھری ہوئی ہے کہ تعلیم ان کی سب غارت ہوئی۔ جب بحث کرتے ہیں تو ان کی تعلیم دور دور تک نظر نہیں آتی۔ لا یعنی باتوں کو پکڑے بیٹھے ہوتے ہیں۔
جناب منیر عباسی صاحب ،ارے حضرت مجھے آپ سے بحث کا ہرگز کوئی شوق نہیں، مینے تو آپ کی گفتگو کے جواب میں آپ سے اپنے سوال کا جواب مانگا تھا جو آپ نے نہیں دیا، اور جس کی مجھے پوری امید تھی

اور اوپر سے مجھ گناہگار پر ضد کا الزام بھی لگا رہے ہیںتو ضد میں کررہا ہوں یا آپ
میں کراچی میں رہتا ہوں اس کے بارے میں میں زیادہ بہتر جانتا ہوں گا یا آپ ،بلکل ایسے ہی جیسے کہ آپ ایبٹ آباد کے رہائشی ہیں تو ظاہر ہے وہاں کے بارے میں جو معلومات آپ کو ہوں گی مجھے تو نہیں ہوں سکتیں،آپکا میری کسی بات سے اتفاق کرنا قطعی ضروری نہیں اور مینے بھی جو آپ نے لکھا تھا اس کا ہی جواب دیا ہے،
اور جماعت اسلامی کی بھی آپ نے خوب کہی،ان کی داستانیں تو اب پورا میڈیا سنا رہا ہے،پنجابی طالبان کے سرپرست نکلے ہیں وہ لوگ،اس سے پہلے کہ بدتمیز کو غصہ آجائے میں بتا دوں کہ یہ میں نہیں کہ رہا مجرم خود کہ رہے ہیں اور میڈیا پوری دنیا کو دکھا رہا ہے
اب بد تمیز تمھاری باتوں کا جواب،جیسے کہ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ تمھارے اعتراضات انتہا درجے کے احمقانہ ہوتے ہیں تمھیں اعتراض ہے کہ میں دوسروں کے بلاگ پر تبصرے کیوں کرتا ہوں جس کا تمھیں قطعی کوئی حق نہیں میں جس پر اور جیسے چاہوں تبصرے کروں البتہ صاحب بلاگ کی مرضی ہے کہ وہ اسے چھاپے یا نہیں اور جو لوگ میرے تبصروں کو بلاجواز مٹا دیتے ہیں میں ان پر پھر تبصرہ کرتا بھی نہیں ہوں ہاں اگر وہ کہیں حد سے گزر رہے ہوں تو کبھی کبھی انہیں انفارم کردیتا ہوں ماننا نہ ماننا ان کی مرضی اور سوائے ان بزرگوار کے جن کانام اجمل ہے کسی نے مجھے کبھی بلاک نہیںکیا اور ان کی یہ پرانی ہسٹری ہے کہ جو بات انہیں ہضم نہ ہو وہ اسے مٹا ڈالتے ہیں یا بندہ ہی بلاک کردیتے ہیں ،ایک اور بات تمھارے اس چھوٹے سے دماغ میں نہیں بیٹھتی جو حشمت صاحب اور دوسرے سمجھ دار لوگوں کی سمجھ میں آگئی ہے کہ میں جب بھی پنجاب یا پنجابی کی برائی کرتا ہوں تو اس سے مراد صرف اور صرف وہ استحصالی طبقہ اور انکا بنایا ہوا نظام ہوتا ہے جس کا خود عام اور غریب پنجابی بھی اتنا ہی شکار ہے جتنا دوسرے صوبوں کے لوگ،اور اسے صرف وہی لوگ سپورٹ کرتے ہیں جو اس سے فوائد حاصل کررہے ہیں،کہیں تمھارا تعلق بھی اسی طبقے سے تو نہیں



تمھیں اس پر بھی اعتراض ہے کہ میں متحدہ کو سپورٹ کیوں کرتا ہوں جو کہ دوبارا میرا زاتی فعل ہے اور تمھیں اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں جیسے مجھے تمھارے نواز لیگ کو سپورٹ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں جس میں دنیا بھر کے کرپٹ کرمنل اور تّعصبی بھرے ہیں جن میں سے دو تین تو عوام میں ننگے ہو چکے ہیں باقی کا بھی لگ پتہ جائے گا ویسے مجھے لگتا ہے کہ تمیں زیادہ غصہ نواز اور شہباز کے سائن کیئے ہوئے ڈاکومنٹس منظر عام پر آنے کا ہے،
انیقہ بی بی سے جو آپ نے عالمیت بگھاری تھی کچھ مجھ جاہل کو بھی بتا دیں تاکہ میرے علم میں بھی اضافہ ہو جائے
متحدہ کیا ہے اس پر بحث کے بجائے اس کا جواب وقت پر چھوڑ دو وقت خود ثابت کر دے گا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط تم کیوں ہلکان ہوئے جاتے ہو
ہاں کالم کے ربط تم نے مانگے تھے یہ ربط میرا پاکستان کی ایک پوسٹ پر مہر آپی نے لگائے تھے مگر اب پرانے ہونے کی وجہ سے یہ کھل نہیں رہے ہیں یہاں تک کہ ہم لوگوں نے جنگ سے اسے اپنے اپنے ای میل پر بھیجا تھا وہاں بھی نہیں کھل رہے مگر میرا تم سے یہ وعدہ ہے کہ میں کراچی جا کر وہاں لائبریری سے تمھیں یہ کالم لا کر پوسٹ ضرور کروں گا اگر زندگی رہی تو انشاء اللہ،ایک پرنٹ آؤٹ ہے مگر وہ واضح نہیں ہے،
افضل صاحب کے بلاک پر لگے ربظ بھیج رہاہوں،تاریخ دیکھ کر اگر تم خود کہیں سے ڈونڈ لو تو تمھاری مرضی
ڈھونڈ لو،غلطی کی تصحیح،
Syeda Mehar Afshan کا تبصرہ19th May, 2007 میں افضل صاحب ہم نے آپ سے ان تھریڈز کو اپنے بلاگ پر ڈالنے کا کہا تو آپنے منع کردیاجبکہ آپنے اپنے بلاگ پر ایم کیو ایم کو اکیوز کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے انصاف کا تقاضہ تو یہی تھا کہ آپ انہیں بھی اپنے بلاگ پر جگہ دیتے،مگر ایک ماحول جو بنا ہوا ہے اسے شائد آپ تبدیل کرنا نہیں چاہتے،بہر حال ہم یہ تھریڈز یہاں لنک کر کے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں،
http://www.jang.com.pk/jang/may2007-daily/04-05-2007/col2.htm
http://www.jang.com.pk/jang/may2007-daily/17-05-2007/col2.htm
یہ تبصرہ 17 مئی 2007 کی افضل صاحب کی ایک پوسٹ پر تھا،جس کا نام تھا “سروے ایک بہترین ہتھیار” اور اگر میں غلط نہیں سوچ رہا تو تم نے اسے تب بھی پڑھا ہو گا مگر اب چونکہ یہ کھل نہیں رہا تو تم نے مجھ سے اس کا مطالبہ کیا ہے
خیر میں اپنے وعدے پر قائم ہوں بس تمھیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا،اگر کہوگے تو اس کا جو بلر پرنٹ آؤٹ ہے تمھیں بھیج دوں گا
بدتمیز میں اس بارے میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تمھیں اگر متحدہ کی اچھائیاں برائیاں جاننا ہوں تو ان کا وعب ایڈریس یہ ہے اس پر خود دیکھ لو یوں بھی اب میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے،تم خوش ہو جاؤ
http://www.mqm.org
حب علی میں نہیں تو بغض معاویہ میں بھی چیک کرسکتے ہو
عبداللہ: نواز شریف کو کون پسند کرتا ہے؟ پنجاب کے لوگ شہباز شریف کے کاموںکی وجہ سے اس کو پسند کرتے ہیں۔ پلس تم اتنی لمبی باتوں میں عورتوں کی طرح طعنے دے کر نکل گئے کام کی کوئی بات نہیں کی۔ بالکل نواز اور شہباز کا ملک چھوڑ کر جانے کا فیصلہ غلط تھا لیکن جان بچانے کو تو ایک بھائی ہمارا لندن بیٹھا ہے اس نے آج تک جرات نہیں کی کہ واپس آ سکے۔ شہباز نے دو دفعہ کی اور نواز نے ایک دفعہ۔ ابھی بھی اسقدر خطرناک حالات میں وہ ادھر ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے بھائی کبھی آئے گا یا ہمیشہ بھائی ہی رہے گا؟
الطاف حسین کے لیے ابھی مزید دس سال کوئی کلئرنس نہیں، نواز اور شہباز خاص لوگوں سے ذاتی دوستی کی بنیاداور ان کے پریشر پر ہمت کرسکے۔
نوازا بیوقوف تے جذباتی ہے، جبکہ شہباز کچھ سمجھدار ہے مگر اتنا نہیں جتنی بی بی تھی۔
آئندہ آنے والا وقت نوجوانوں کا ہے، آپ لوگ آگے آؤ ، آپس میں محبت بڑھاؤ اور انے والے وقت میں اپنا حصہ ڈالو۔
اب پرانوں کی رٹارمنٹ ہے ۔
بد تمیز تم اپنی بد تمیزی سے باز نہیں آتے اور مجھے مجبورا جواب دینا پرتا ہے پہلی بات تم عورتوں کی طرح تعنے دینے کی بات کرتے ہو کبھی کم علمیت اور جہالت کا طعنہ دیتے ہو خود تمھارے پاس کسی سوال کا جواب نہیں اور دوسروں کے دیئے جواب تمھارے دماغ میں گھستے نہیں،کبھی ٹھنڈے دل سے خود اپنی تحریریں پڑھو تو تمہیں حقیقت حال پتہ چل جائے گی،
رہا سوال بھائی کے آنے یا نہ انے کا تو اس کا کچھ جواب تو چوہدری حشمت صاحب نے دے دیا ہے مین انہیں اتنا با خبر نہین سمجھتا تھا مگر وہ تو چھپے رستم نکلے
باقی نہ تواسے نواز اور شہباز کی طرح کوئی سیا سی عہدے کا لالچ ہے اور نہ زمینوں جائدادوں کا وہ تو اپنا اور اپنے بھائی کا (جس کو اور اس کے جواں سال بیٹے کو گھر سے اٹھا کر ایجینسیوں نے اسی طرح قتل کردیا تھا جیسے مرتضی بھٹو ،عظیم احمد طارق ،غلام حیدر وائن اور نہ جانے کتنوں کو قتل کیا )120 گز کے گھر بھی اپنی تحریک کے نام کرگیا،لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ کراچی والے کیوں اس کے اور اس کی تحریک کے پیچھے پاگل ہیں بھائی اس میں پڑ تی ہے محنت زیادہ اور تمھیں یہ بات سمجھ میں نہیں آسکتی،تمھارے نواز اور شہباز تو ایکڑون پر پھیلے ہر چیز سے پروف بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں اسے تو آکر اسی 120 گز کے گھر کے کسی کمرے میں رہنا ہے،
اور تمھارے شہباز نے کیا خاک دھول مٹی کام کیا ہو گا جو وہ اور اس کی تحریک کے بے غرض لوگ دن رات اپنے ووٹروں کے لیئے کرتے ہیں دنیا مانتی ہے چند تم جیسے نہیں مانتے تو کیا فرق پڑتا ہے،
بالکل بھتہ لینے میں کافی محنت لگتی ہے اور بھائی کی تصویر والے دیسی گھی کے ڈبے یا آٹے کے تھیلے ورکرز میں بانٹنا بھی
اچھا تو 2 روپے کی روٹی والا جعلی اسٹنٹ کس زمرے میں آتا ہے ،
روٹی چاہے پانچ روپے کی بھی ہو بھائی کی تصویر نہ ہو سب بھوک مر جاتی ہے
تمھاری ایک بات کا جواب رہ گیا تھا سوچا جانے سے پہلے اس کا بھی جواب دے دوں،بات تمھاری سمجھ میں آئے گی یا نہیں یہ تو اللہ ہی کو پتہ ہے


تم کہتے ہو کہ کراچی والے ہر وقت دارالحکومت کے اسلام آباد لے جانے کا رونا روتے رہتے ہیں اور یہ کیا بات ہوئی کہ ہر اچھی چیز ہمارے ہی پاس ہو ،
تو ہر اچھی چیز ہمارے ہی پاس ہو یہ ذہنیت تو تم لوگوں کی ہے اسی لیئے تو ہر صوبہ پنجاب سے ناراض ہے
رہی بات ہمارے رونے کی تو بھائی اگر دار الحکومت پنجاب شفٹ کر کے تم لوگوں نے پاکستان کی بھلائی اور بہتری کے کام کیئے ہوتے تو ہم ہر گز یہ رونا نہ روتے مگر افسوس تو اسی بات کا ہے کہ خوب دل بھر کر ملک کی مٹی پلید کی گئی اور بیڑا غرق کیا گیا
اس لیئے کہ اس ساری پلاننگ کے پیچھے نیتوں کا فتور تھا باقی ملک پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی نیت تھی ان کے وسائل پر ڈاکے مارنے کا ارادہ تھا،آج جو ملک میں ہر طرف ہا ہا کار مچی ہے یہ ان ہی خود غرضیوں کا پھل ہے
میرے خیال میں چند لوگوںکے ذہنی توازن کو پوری اردو سپیکنگ کمیونیٹی یا مہاجر کمیونٹی سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ میں نے کراچی میں کافی سارا عرصہ گزارا ہے اور پنجاب میں بھی میرے دوستوں کی اکثریت اسی (قومیت تو نہیں کہنا چاہئے لیکن اور کیا کہوں) سے تعلق رکھتی ہے۔ میں نے کبھی بھی ان میں کوئی احساس محرومی یا مہاجر یا اردو سپیکنگ کہلوانے میں فخر محسوس کرنا نہیں دیکھا۔ بلکہ میرا ایک دوست تو کراچی گیا میرے ساتھ اور اس کو کسی نے کہا تم تو اردو سپیکنگ ہو تو وہ کہنے لگا نہیں میںپنجابی ہوں، اردو سپیکنگ کیا ہوتا ہے؟ حضرت کہنے لگے تو کیا تمہارے اجداد ہجرت کر کے نہیں آئے تھے؟ تو جواب دیا ہاں آئے تھے تو؟
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک بندے یا چند لوگوں کی وجہ سے سب پر وہی بات تھوپ دینا غلط ہے
اور کراچی میں تو لوگ ان کی بدمعاشیوں سے مجبور ہیں۔ آنا پڑتا ہے لوگوں کو جلسوں میں اور ووٹ نا ڈال کر بھی ڈالنا پڑتا ہے
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..عقلمند کون؟
http://www.badtamiz.com/blog/2009/06/14/%d9%85%db%81%d8%a7%d8%ac%d8%b1/comment-page-1/#comment-355907

کم تعلیم یافتہ والی بات سے تو مجھے اختلاف ہے
تعلیم کے مقابلے میں زیر بحث لوگ کسی طور کم نہیں
اور کیا یہ نہیںہو سکتا کہ بحث مباحثے کے لٕے ایک فورم بنا دیا جائے؟
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..عقلمند کون؟
میرے کمنٹس ماڈریزن میںگئے ہوئے ہیں ان کو اپروو کر کے شکریہ کا موقع دیا جائے
ڈفر صاحب یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ بھی اپنے ہم علاقہ لوگوں کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اور یہ افسوس بھی ہوا کہ میں نے آپ کو کیا سمجھا تھا اور آپ کیا نکلے ،جتنی باتیں آپ نے لکھی ہیں ان کا جواب میں بیسیوں بار دے چکا مگر میرے کسی سوال کا جواب آپ میں سے کسی نے نہیں دیا شائد اتنی ہمت نہیں رکھتے کہ اپنے خول میں سے باہر جھانکیں

دنیا بہت بدل گئی ہے اور آپ حضرات ابھی تک 80 اور 90 کی دہائی میں زندہ ہیں
پنجاب کے مہاجرین کو ہری ہری نظر آئی پنجاب کے طفیل اور وہ بھی صرف شہروں میں جبکہ باقی صوبے بمع کراچی کونڈے کے نیچے اوندھا دیئے گئے
نا یار میرے متعلق اپنی رائے مت بدلو
میں نے تو سیدھا سیدھا تمہاری سائیڈ لی ہے
اب مجھے یہی کلئیر نہیں پتا چلتا کہ آپ کی سائیڈ کون سی ہے تو میں کیا کروں؟
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..ٹیکسی بچے یا ٹیکس فری بچے
میری سائڈ وہی ہے جو پاکستان کی سائڈ ہے،اگر صرف خود کو ہی حب الوطن نہ سمجھا جائے،اور ہر برائی کو ختم کرنے کے بجائے ڈھانک کر رکھنے کو حب الوطنی نہ سمجھا جائے توبات سمجھ میں آسکتی ہے بس اس میں لگتی ہے تھوڑی محنت زیادہ
عبداللہ ذاتی طور پر میں چاہتا ہوں کہ آپ حب الوطنی کو جماعت سے مت جوڑیں اور اپنے دماغ سے سوچیں۔ لیڈر بھی انسان ہیں اور ان کا کہا کیا درست نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح جیسے پنجاب کا کوئی ایک بھی لیڈر مکمل طور پر درست نہیں۔ بشمول نواز اور شہباز۔
بدتمیز مینے کبھی الطاف حسین کو مومن یا دودھ کا دھلا نہ کہا نہ سمجھا،وہ بھی ہماری آپکی طرح انسان ہے اور انسان خطاؤں کا پتلا ہوتا ہے یقینا”غلطیاں اس سے بھی ہوئی ہوں گی مگر جو میڈیا کے ذریعے اڑایا اور پھیلایا گیا اس میں سے شائد 10 فیصد سچ ہوگا اور باقی صرف کہانیاں ہیں اور یہ بات ہم کراچی والے بہت اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں،جبکہ متحدہ والوں پر جو ظلم توڑے گئے اس کا عشر عشیر بھی میڈیا پر نہیں بتایا گیا،
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ لوگ ماضی کی گڑھی کہانیوں کے فریب سے باہر نکلیں اور آج جو متحدہ کا کردار ہے اس کی روشنی میں اسے پرکھیں سچ اور جھوٹ خود بخود آپ کے سامنے آجائے گا،
میں حب الوطنی کو کسی جماعت سے نہیں جوڑ رہا بلکہ صوبے سے جوڑ رہا ہوں کہ پنجاب والے صرف خود کو ہی حب الوطن نہ سمجھیں اس ملک کے لیئے ہم نے بھی تن من دھن سب وارا ہے اور دیگر صوبوں کے لوگوں نے بھی اگر کوئی انتظامی فیصلے کیئے جاتے ہیں تو اس کے لیئے فیصلہ کرنے والوں کو غدار وطن کا خطاب دینا کوئی صحتمندانہ عمل نہیں ہے بس اتنی سی بات ہے