صرف ان مسلمانوں کے نام جن کے دلوں میں یہودیوں سے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ذرا یہ خبر ملاحظہ کریں۔ اوہ معاف کیجئے گا آپ اس کے بجائے یہ لنک دیکھ لیں۔ صرف اسرائیل سے ہی ایسی خبریں کیوں آتی ہیں کہ ان کے ملک کے ہر وزیراعظم کی تھانے پیشی بھی ہوتی ہے عدالتوں میں گھسیٹا بھی جاتا ہے اور انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں؟ ان پاک صاف بابرکت بخشے بخشائے مسلمانوں کے ملکوں سے ایسا کیوں نہیں؟ کیا کریں جی حکمران ہی ایسے ہیں۔
ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اپنے اسکول کے کسی نہ کسی کام چور استاد کو یاد کر سکیں؟ ہم میں سے کتنے کسی نہ کسی کرپٹ پولیس والے کو جانتے ہیں؟ فون گیس پانی بجلی کے محکموں میں کام کرنے والے اہلکار؟ یہ سب حکمرانوں کے بچے تو نہیں؟ یہ ہم میں سے ہی ہیں۔ کسی کا تایا پولیس افسر ہے تو کسی کا بیٹا سرکاری اہلکار۔ ہم بحیثیت قوم کرپٹ ہیں اور حکمران قوموں میں سے ہی ہوتے ہیں۔ عدلیہ کی بحالی ایک خوش آئند قدم ہے لیکن افتخار چوہدری کے اگلے دو تین سال کیا کر لیں گیں؟ اس تبدیلی کو جاری رکھنے کے لئے سب کو بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم ہر چند سالوں بعد ایک لانگ مارچ کا حصہ بنتے ہی رہے ہیں۔
Popularity: 3% [?]
Popularity: 3% [?]
54 views
Related Posts
- None Found



























آپ نے بالکل صحیح کہا ہم خود ہی کرپٹ ہیں تو حکومت کو کیا کہیں
ہم بھی اس تحریر سے متفق ہیں مگر کیا کریں ہماری ماں کی گود سے لیکر سکول تک کا تربیتی نظام ہی ایسا ہے کہ کرپشن شروع سے ہم میںسرائیت کر جاتی ہے۔
جی بالکل یہی تو رونا ہے، یہاں کیا نہیں ہوتا ہر گلی ہر کوچے میں، حسب توفیق ہم سب ہی ایک دوسرے کو دھوکے دے رہے ہیں، اور جو دھوکے دینے میں زیادہ ماہر ہو، سو ترقی کر جاتا ہے۔ مثال دینے کی ضرورت ہے نہیں
بلو اور میرا پاکستان: تربیت ہے لیکن ہمارے پاس دماغ بھی ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم دماغ کا استعمال کم سے کم کرتے ہیں؟
عمر: ویلکم
دھوکے دینے والے کو الزام دینا چاہئے کہ دھوکے پر دھوکہ کھانے والوں کوِ؟
درست کہا آپ نے۔۔۔۔ لیکن جناب مچھلی سب سے پہلے سر سے گلنا شروع کرتی ہے۔ عربی کا محاورہ ہے کہ الناس علی دین ملوکھم ، لوگ اپنے حکمرانوں کے راستے پر چلتے ہیں۔ جس دن ہمارا حکمران طبقہ قانون کی حکمرانی کا قائل ہوگیا ، اس دن ہمارے دن بدلنے شروع ہو جائیں گے۔ لیکن ہمارے حکمراں لاتوں کے بھوت ہیں، اس لئے باتوں سے نہیں مانیں گے۔۔۔ ڈنڈا پِیر اے وگڑیاں تگڑیاں دیا۔۔۔