میں بڑے مزے سے بیٹھا ناول پڑھ رہا تھا کہ ایک سکھ پر نظر پڑی۔ عام طور پر میں ہاتھ دیکھ کر اندازہ لگا لیتا ہوں کہ اگلا بندہ شریف انسان ہے کہ مانگنے والا۔ اس سکھ کا بھی ہاتھ مانگنے والا ہی تھا۔ اس نے اشارہ کیا میں نے بھی سر ہلا دیا اور ہاتھ دیکھ کر سمجھ گیا کہ غلطی کر لی ہے۔
ہو گیا میرے سر۔ کون ہو کتھے دے ہو؟
پاکستان
اچھا سرکار دی جگہ توں، کدی انڈیا وی گئے ہو؟
نہیں
جاؤ نہ بڑی اچھی جگہ ہے۔ کدی مکے مدینے گئے ہو؟
نہیں
جاؤ نہ نماز پڑھیا کرو، جمعہ تے بالکل نہ چھڈیا کرو،
پھر ایک گھٹیا ترین طباعت کا اجمیر شریف مکہ وغیرہ کی تصویر نکال کر دی۔ اور بیان شروع۔ فلاں نے پچاس ڈالر دئے کہ غریب کو دیے دینا۔
میں نے کہا اچھا وہ پیسے پھر مجھے دے دیں اس وقت تو میرے سے زیادہ کوئی غریب نہیں۔
اس نے میری بات ان سنی کر کے اپنا بیگ کھول دیا کہ اس میں کچھ رکھو۔ میں نے بڑا سوچ کر ایک ڈالر رکھ دیا تو بولا ایہہ کی؟ سکھ مرنا جاندے نئے منگنا نئیں۔ میں نے سوچا مانگ مانگ کر ہی مرنا؟ ایک کاغز نکالا کہتا فلاں نے 101 ڈالر دیا کہ میرے واسطے دعا کرنا۔ میں نے سوچا پھر تو آج اچھی دیہاڑی لگ گئی۔
اب بولے گھر میں فلاں لفظ سے بھی کوئی بندہ ہے۔ اب اگر آپ میری طرح بےوقوف ہوں تو آپ کو پوری فیملی میں کوئی نہ کوئی یاد آ جاتا ہے۔ میں نے فورا انکار کر دیا کہ نہیں کیونکہ یہ لوگ ایسا کامن ورڈ پکڑیں گیں جس سے اس قوم میں کافی سارے نام ہوں۔ اب کہے نہیں ہے اس نام کا بڑا فائدہ دے گا تیرے دل کی مراد بھی بتا دونگا فقیر ہوں تو حیران رہ جائے گا۔ ہنس کے مل۔ میں تو فقیر ہوں تیرا متھا دیکھ کر آگیا، میں نے سوچا ماتھا دیکھ کر کہ میرے سر ہلا کر اشارہ کرنے پر کہ ہاں بھئی سپینش نہیں دیسی ہی ہے۔
میں نے کہا چلو بتاؤ اگر درست ہوا تو دونگا ورنہ نہیں۔ اب بحث شروع وہ کہے کہ پہلے دے میں کہوں کہ پہلے بتاؤ۔ خیر کہتا ایک سادہ کاغز دے۔ کاغز دے دیا۔ اب پھر کہے کہ کچھ دے۔ میں نے کہا اس کو فارغ کروں ایک اور ڈالر دے دیا۔ پھر حیران کہتا آجکل حالات نہیں صحٰح؟ میں نے کہا بہت برے حالات ہیں اب تو سکھ بھی مانگنے پر آ گئے ہیں۔ اس نے تو جو دوڑ لگائی میرا سادہ کاغز اور ۲ ڈالر بھی لے گیا۔ یعنی دو ڈالر اور پانچ سینٹ کا نقصان ہو گیا میرا۔
Popularity: 6% [?]
Popularity: 6% [?]
89 views
Related Posts
- None Found



























اوہ تو اُدھر بھی حالات اتنے خراب ہو گئے کہ سکھ بھی بھیک مانگنے پر آگئے، سنا تو یہی تھا کہ سکھ بھوکا مر جاتا ہے لیکن بھیک نہیں مانگتا، لیکن ویسے اس نے بھیک مانگی کب آپ سے وہ تو اپنا باتمیز فن دکھا رہا تھا
بڑی ترقی کرگیا هے جی امریکه واقعی !
که سکھ بھی مانگنےلگے هیں
اب اپ کسی دن یه بتانے لگیں گے که امریکه کے بٹ باتمیز هو گئے هیں
جاٹوں نے لڑائی چھوڑ دی ہے
کمال ہے یہ لگتا ہے سکھوںکا یونیورسل طریقہ ہے مانگنے کا، ادھر بھی مجھے ایک سردار جی ٹکرائے اور تقریبا یہی طریقہ واردات اپنایا، بس انڈیا میں بچوںکی فلاح و بہبود کا منصوبہ بھی شامل تھا۔۔۔
چار سال پہلے میں بھی بیس ڈالر دے چکا ہوں
جوگی سکھ کو :ms:
سکھ کے ساتھ تو بڑی تمیز دکھائی آپ نے۔۔۔۔ اپنے نام جیسا کام دکھاتے تو کچھ دے کے ہی جاتا آپ کو
وارث: نہیں نہیں مانگتے ہیں کیوں نہیں مانگتے
خاور: جٹ تو نہں لڑتے بٹ تمیز دار ہیں ان کے بچے نہین
احمد: ٹھگوں کے طریقے ایسے ہی یونیورسل ہوتے ہیں مذہب کی قید نہیں۔
جہانزیب: ہمارا تو دینا بنتا تھا نہ ہماری میلے میں بچھڑی شاخ ہے۔
جعفر: ویلکم
دیکھانے لگا تھا آس پاس گوریاں مجھے پاگل سمجھتیں
بہُت مزہ آیا پڑھ کر واہ ،ویسے سِکھ ہوتے شریف ہی ہیں میرا خیال ہے لیکِن آپ کی تحریر پڑھ کر تو ایسا لگا کہ ہم لوگوں کی ہی عادتیں ہیں