یہودی علما نے اپنی قوم سے وعدہ لیا کہ ہر گھر سے ایک بچہ استاد بنے گا۔ یعنی اس کی تربیت پر خاص توجہ ہو گی۔ دنیا میں یہودیوں میں سب سے زیادہ ڈاکٹر انجینئر بینکر وغیرہ ہیں۔ ہمارے ہاں استاد نکمے بچے بنتے ہیں۔ چاہے وہ اسکول میں پڑھاتا ہو یا مدرسہ میں دینی تعلیم۔
ہمارے اسکول اسکول نہیں جیلیں ہیں جہاں بچوں کو جبر سے متشدد بنا دیا جاتا ہے۔ ہمارے اسکول ہماری بہت سی نفسیاتی الجھنوں کا “زچہ بچہ وارڈ” ہیں۔
امریکہ میں بچے کو اسکول بھیجنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اسکول کی ذمہ داری نہیں کہ وہ بچوں کو اسکول نہ آنے پر پھینٹی لگائیں۔ اسکولوں میں صرف پرائمری اسکولوں تک بچے کو ڈک کر رکھا جاتا ہے اس کے بعد اسکول کی ذمہ داری ختم۔
اس طرح بچوں کی چھانٹی ہوتی ہے۔ جو بچے ذہین ہوتے ہیں اور محنتی وہ پڑھ لکھ کر کالج تک پہنچ جاتے ہیں باقی ہائی اسکول ڈراپ آوٹ ہو کر بلو کالر ورکر بن کر ملک و قوم کی خدمت کرتے ہیں۔
ہم بچے مار مار کر پڑھاتے ہیں۔ نتیجتا جس کی اہلیت نہیں ہوتی وہ بھی اپنی ڈگری کے بل پر کسی ایسی جگہ جا لگتا ہے جس کی اسکو سمجھ بوجھ ہوتی ہی نہیں۔ کچھ ایسے ہی بچے بڑے ہو کر وزیر بن جاتے ہیں اور محکموں کی بندر بانٹ میں ایسے محکموں کا بیڑہ غرق کرتے ہیں۔ اگر کسی کو تعلیم کے وزیر یاد ہوں۔
نتیجتا ہمارے ذہین لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور نکمے اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ اور یہ نکمے مزید نکمے تیار کرتے ہیں۔ یعنی نکموں کی ایک مارکیٹ ہے۔
ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ کرپٹ ہیں اور کوسنے کے لئے زرداری۔
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
136 views
Related Posts
- None Found



























السلامُ علیکُم
کیا زبردست تحریر ہے ؟ لیکِن کیا کریں کہ ہم لوگوں کو اور اِتنے کام ہوتے ہیں اِن بِلا وجہ کی باتوں کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا جو زندگیاں بناتے ہیں ہم بس زِندگیوں میں بِگاڑ پیدا کر کے چھانٹیاں کرواتے ہیں
شاہدہ اکرم’s last blog post..کيا کراچی ميں طالبا نائزيشن ہو رہی ہے؟
بالکل درست لکھا
ہم میں سے 5 فیصد سے بھی کم بائی چائس ہی کوئی پیشہ جائن کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں
آپ میری اردو کو ایزیلی انڈرسٹینڈ کر لیتے ہیں نا؟
میرے دل کی بات لکھ دی آپ نے ۔۔۔ پاکستان کی 80؏ فیصداسکولز ایسے ہی ہیں جہاں نہ تعلیم صحیح دی جاتی ہے نہ تربیت ۔۔۔
جو اسکولز کسی قابل ہیں وہاں تک ہر ایک کی پہنچ نہیں ۔۔۔
جناب یہودیوں کی تعریف کر دی آپ نے؟ صاحب لوگوں کو برا لگتا
یہ واقعی ایک عجیب کہانی ہے ۔۔کراچی یونیورسٹی میں ایک زمانے میں جو طالب علم کیمسٹری پڑھنے آتا اسے نمبروں کی بنیاد پر فزکس میں دھکا دے دیتے ۔ جس کو جغرافیہ پڑھنا ہوتا ہے اس کو جینیات پڑھنے پر مجبور کرتے۔ نا معلوم یہ چلن بدلا یا نہیں لیکن اس کا نتیجہ آپ نے اپنے بلاگ میں خوبی سے واضح کردیا۔ اس کے بعد اگر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ پی آئی اے کو کیا ہوا؟ اسٹیل مل کہاں جارہی ہے۔ کی ایس سی کیوں برباد ہوگئی تو کیا کہا جاسکتا ہے۔
راشد کامران’s last blog post..اردو بلاگرز سے ایک شکایت
ڈفر: جی جی بالکل بالکل
راشد: ابھی اور کرنی ہے۔ ذرا وقت مل جائے
اور ہمارے علماء ہم سے کیا وعدہ لیتے ہیں ؟؟ چندہ ، چندہ اور صرف چندہ ۔۔۔۔ ان چندوں سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ ان سے وہ اپنے زندگی روشن کرنے کے لئے ”چندا بیٹری سیل “ خریدتے ہیں ۔۔۔ جن سے ان کی راتیں روشن اور ہمارے دن تاریک ہوجاتے ہیں :skull