جن جن لوگوں کو لگتا ہے کہ پچھلی کہانی قدیر احمد رانا ملتانی کے بارے لکھی گئی وہ بالکل غلط ہیں۔ یہ کہانی ہر گز ان کے لئے نہیں تھی۔ یہ بات سچ ہے کہ ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور یہ کہانی ان پر فٹ بھی بیٹھی لیکن یہ ان پر نہیں لکھی گئی تھی۔ کہانی کی اشاعت کے وقت تک وہ اس قابل بھی نہیں تھے کہ ان کے بارے سوچا یا لکھا جائے۔ ان کے لئے اگلی کہانی ہو گی جس میں ان کے کرتوت پر مناسب حد تک روشنی ڈالی جا سکتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ دو ہفتہ کے لئے امی کی گود کی طرف دوڑ لگا سکتے ہیں۔ میری ان تمام سے التماس ہے جو اس کلیش کے نیتجہ میں متاثر ہوں کہ قدیر احمد رانا ملتانی کی پوسٹس سے ان کے کریکٹر کا اندازہ لگا کر فاصلہ رکھیں بصورت دیگر حضرت کسی بھی قسم کی کیچڑ آپ یا آپ کے کردار پر اچھال سکتے ہیں۔
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
242 views
Related Posts
- None Found




























اچھا خاصے ماحول کو نظر لگ گئی
o:
یه کیا گیم شروع کر دی جی اپ نے اپنے بدتمیز صاحب اسم بامسمی ؟؟
عجیب کوفت سی هوتی ہے جی !ـ
کوئی اور کام نہیں هےجی گیا ؟؟
اس لڑائی کے علاوھ ؟
بندے بنو جی نہیں تو اگر میں نےلکھ دیا ناں جی اپ کے اس تفرقے بازی پر تو زمانے کا ” هاسا ” اور اپ کا ” تراھ ” نکل جائے گا
خاور’s last blog post..انتقال پرملال
خاور آپ شوق سے لکھیں
جان دیو یار۔ یہ بچوںکی طرح لڑنا۔ کون لوگ او تُسیں
دوست’s last blog post..اور اپگریڈ ہوگئی
کہتے ہیںکوئیلوں کی دلالی میںمنہ کالا۔ یہی حال ہو گا ان صاحبان کا جو ان بچوں کو لڑنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ انہیں ایک ہی دفعہ لڑ لینے دیںتا کہ ان کی پوری تسلی ہو جائے۔ ویسے ہم تو حیران پریشان ہیںکہ اتنے سلجھے ہوئے لوگ اتنی عامیانہ سی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ کہیںیہ ہم سے مذاق تو نہیںکر رہے۔
میرا پاکستان’s last blog post..کیا کبھی تبدیلی آئے گی
شاکر: تم بھی کون لوگ ہو؟
میرا پاکستان: آپ بھی بڑے نزدیک ہے اس منے کے۔ جلد ہی آپ کے خلاف بھی کچھ کہہ دے گا۔ پیٹھ پیچھے تو یہ سبھی کی بات کرتا ہے۔