مجھے کبھی اس سوال کا جواب نہیں ملا تھا کہ قریش مکہ اور دیگر لوگ کیونکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر اپنا صدیوں سے قائم دین چھوڑ دیتے؟ اس کا جواب مجھے مین ہیٹن کی ایک مسجد میں ایک مولوی صاحب نے دیا ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ پچھلے ہفتہ رات کے 1 بجے دعوت موصول ہوئی کہ چلئے صاحب ذرا محفل میں شریک ہوں۔ آگے لوگ میرے لادین ہونے پر یقین کئے بیٹھے ہیں میں نے حامی بھر لی۔
اب پہلی بات اندر داخل ہوتے ہی لکھا تھا کہ اپنے سیل فون بند کر لیں۔ وجہ؟ تاکہ رات کے دو بجے نماز پڑھتے نمازیوں کو مولوی صاحب خود اپنے وعظ براستہ سپییکر سے ڈسٹرب کر سکیں۔
مولوی صاحب کا فرمان تھا دین عقل پر نہیں۔ آپ عقل سے نہیں دین کو سمجھ سکتے۔ آپ کو صرف دین کا حکم ماننا ہے۔ میں تو مولوی صاحب کی عقل پر صدقہ واری گیا۔ مولوی صاحب اکیلے مل جاتے تو میں نے تو وہ جوتیاں لگانی تھیں کہ مولوی صاحب کی ساری عقل ٹھکانے لگ جاتی۔ دل تو بڑا چاہا کہ پوچھوں مولوی صاحب رات کے تین بجے اس محفل کا انعقاد عقل کے خلاف ہے کہ اسلام کے۔ پھر جانے دیا۔ مولوی صاحب کا ایک اور فرمان تھا کہ ڈاکٹر ڈاکٹر کو سمجھ سکتا ہے لہذا مولوی کو بھی مولوی ہی سمجھ سکتا ہے۔ میں نہیں۔
تو بس صاحبو جہاں کسی کو تبلیغ کرو اس کو کہو کہ ہمارے دین میں عقل نہیں چلتی۔ ماننا ہے تو مانو نہیں تو جاؤ بھاڑ میں۔ ہمارے مولویوں کے ساتھ ساتھ۔
اگر آپ کو بھی لگے کہ قریش کیونکر ایمان لے اتے۔ تو پہلی کلاس کی وہ پہاڑ والی کہانی یاد کریں جس میں پہلی دفعہ دعوت دی گئی تھی۔
Popularity: 9% [?]
Popularity: 9% [?]
290 views
Related Posts
- None Found


























اسلام کا پہلا اصول ہی یہی ہے کہ خدا پر بن دیکھے ایمان لانا۔ اب اگر آپ کہیںکہ عقل نہیںمانتی تو پھر اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہو سکتا ہے مولوی صاحب کا یہی مطلب ہو مگر آپ نے اسے غلط انداز میںلے لیا ہو۔ ویسے تو مولوی عقل استعمال کر تے ہوئےدلیل سے ہی اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔
میرا پاکستان’s last blog post..امن نایاب ہو گیا
حضور قصور آپ کا ہے اور آپ مولوی پر گرمی کھا رہے ہیں ۔
آپ کی متذکرہ مسجد میں کتنے لوگ نماز پڑھتے ہیں ؟
ان نمازیوں میں سے کتنے ہیں جو واقعی مسلمان بننا چاہتے ہیں ؟
ان میں سے کتنوں نے سوچا کہ بچوں کو تو اعلٰی استاد سے بھاری رقمیں ادا کر کے انگریزی ریاضي طبیعات اور کیمیا پڑھواتے ہیں مگر دینی تعلیم کیلئے اچھے مشاہرہ پر قابل استاد یعنی مولوی کو رکھا جائے ؟
افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..فرح ڈوگر ۔ مصباح مُغل اور اجمل بھوپال
ان تبصروں پر میرا تبصرہ ہے ( اس یقین کے ساتھ کہ افتخار اجمل صاحب اور افضل صاحب ذاتیات پر نہیں لیں گے(
بدتمیز ” ہور چوپو”
رضوان’s last blog post..روپیہ اور ڈالر
هاں میں نے بھی دیکھا ہے که ایسے مولوی هوتے هیں جو که عقل کے سوتے بندکرنے کے پیچھے پڑے هوتے هیں
بن دیکھے اللّه پر ایمان لانے تک تو یه بات کسی حد تک چل جاتی ہے
مگر
جب مولوی کہتا ہے
او جی دین دے کم وچ زیادھ نہیں سوچی دا
تو میرے منه سے نکل جاتا ہے
مولی صاحب تساں تے قران وی نہیں پڑیا
جیہڑا سوچ دے تفکر دی دعوت نال بھرا پڑا ہے
تو جی مولوی میرے اسلام کو هی تسلیم کرنےسے مکر جاتا
یا پھر بھانڈوں کی طرح مسخریاں بھر تقریر پر اتر آتا ہے
باهر کے ممالک میں تو جی ایسے مولوی کم هیں
پر پاکستان میں تو
سناہے که کچھ دور ديهات کے مولوی اب بھی سلطنت عثمانیه کی دعاؤں والے خطبے پڑھتے هیں
بلائنڈ فیتھ یا اندھا اعتقاد اسلامی طریقہ کار نہیں ہے۔ اسلام کا اصل امتیاز ہی یہی ہے کہ یہ عقل کو چیلنچ کرتا ہے اور دلائل کی بنیاد پر قائل کرتا ہے۔ جن لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ عقل کے دروازے بند کر کے دین کو ماننا چاہیے وہ گویا خدا کی عطا کردہ عظیم ترین نعمت عقل و شعور کو گویا تمسخر اڑانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق نماز مومن کی معراج ہے اور ایک حدیث کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے کہ نماز ایسے پڑھو جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو۔ اس لحاظ سے تو خدا کو دیکھنا بھی ممکن ہے مادی طور پر نہیں لیکن روحانی طور پر۔ اور باقی رہا لاؤڈ اسپیکر تو چھٹتی نہیں ہے کافر منہ کو لگی ہوئی۔
راشد کامران’s last blog post..ہولی کاؤ
مولویوں کے خلاف بات کرنے پر سائبر ایکٹ کے حرکت میں آنے کا امکان نا ہو تو ، میرے مطابق۔ ہمارے عالم بے عمل ہونے کی وجہ سےہی ملت ان سے بیزار ہے۔
میرا پاکستان: جس قدر منہ زور میں ہوں اگر مسلمان ہوں تو اس لئے نہیں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس لئے کہ میں نے اپنی عقل سے اس کو پہچان لیا۔ معذرت مجھے اس سے ابھی تک اختلاف ہی ہے۔
اجمل انکل: یہ ذرا مشکل سوال ہے۔
رضوان:
خاور:
راشد کامران: بدقسمتی سے اتنی عربی ہمارے علما نے نہیں پڑھی وہ ترجمے پڑھ پرھ کے جوان ہوئے ہیں۔
ڈف ر: عالم ہی نہیں ہم سب بے عمل ہیں۔
میں برطانیہ میں رہتا ہوںاور یہاںکے مولوی پاکستان کے مولویوںسے کم ازکم بیس برس پیچھے ہیں۔
ایس علی قمر’s last blog post..It snows in England
میرے نبی احمد مصطفٰٰی صلٰٰی اللہ علیہ وسلٰم نے 40 برس قریش کو اپنا کردار دیکھایا اور یہ آج کے مولوی ان کو تو تمیز ہی نہیں کہ پاکی اور ناپاکی میں کیا فرق ہے جماعت کھڑی ہونے نے پہلے منہ سے نسوار نکال کر پھینکیں گے۔ نماز کے بعد پان نوش فرمائیںگے ۔ تبلیغان کو ہی کریں گے جوخدا کو حاضر ناظر جان کر مسجد میں آیا ہے دوران نماز بجتا ہوا موبائل تو ان کو کھولے گا لیکن باہر سائیکل پر لاوڈ سپیکر لگا کر آٌلو چھولے بیچنے والے کو کچھ نہیںکہہ سکیںگے جنت اور دوزخکی تقسیم یوں کرتے ہیںجیسے ان کے باپ کی جاگیر ہو۔ نماز پڑھنے والے کو کہیںگے کہ گانا حرام ہے لیکن باہر کہیں پر ڈھولک بج رہی ہو گی تو ہمت نہیں ہوگی کہ وہاں پر جا کر تبلیغ کریںامریکہ ، یورپ بھاگ بھاگ کر جائیں گے خود کے علاقہ میںچاہے کوئی نماز جنازہ نا جانتا ہو
غالباََ واصف علی واصف نے کہا ہے کہ “میں دعا کرتا ہوںکہ خُدا دین اسلام کو مسلمانوں سے بچائے”
وللہ عالم بالصواب
عبدالقدوس’s last blog post..مفت ڈومین نیم
aik baat hai jitni shiddit se hum is tabqah kah peche paray hoye hain shayed hum nai kabhi itna na teachers na lawyers na doctors ko bura kaha hai is se tou aeesa lgat hai jaisay saare burai ka zimahdaar sirf yehi aik tabqah hai jis ki insaan pora week main kitni sair sunta hai shayed 20 mins? woh bhi ager koi jumah kha bayan main jaldi chala jaye warna aam din ki namaz main tou koi bayaan nahi hota namaaza parhi aur yeh ja woh ja.
aur rahi baat naswaar aur paan ki tou yeh bohat galta ilzaam hai ager koi aik karta bhi hai tou is saare saare tabqah ko nishana banana galat hai
hamara problem yeh hai kah hum technology and islam ko samajne donon main rah gaye peche tech main hum ko dekhna parta hai west ki taraf aur islam kah leye maulviuon ki taraf ab koi west par apnay dil ki bharas nikalta hai tou koi maulvi par warna tanqeed karne waalay logoon nai khud bhi koi nobel nahi hasil keye ab tak pakistan kah leye
aur rahi baat aqal kah istimaal ki tou is ka aik matlab yeh bhi hai kah koi kahe namaaz tou bari achi cheez hai 5 times ki main tou din main 10 baar parhoon ga tou aesa mamalat main usi cheez ko follow keya jaye ga jo hukm hai na kah apnay dil ki wish ya aqal ka istimaal
واللہ اعلم بالصواب
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
(اقبال
:aha/
اویس نصیر کیانی’s last blog post..Penetration of Telecom in Pakistan