جاوید چوہدری نے ایک کالم لکھا تھا کہ اس میں اس نے بیان کیا تھا کہ امیر لوگوں کو بیماریاں کیوں ہوتی ہیں۔ اس میں اس نے شہزادہ طلال کا ذکر کیا کہ وہ اپنی بیماری کے لئے فنڈ بنائے بیٹھا ہے اسی طرح بل گیٹس کا ذکر کیا کہ ایڈز کے علاوہ وہ اپنی بیماری جس میں اس کو دودھ پینا پڑتا ہے کا بھی تحقیقی خرچ برداشت کر رہا ہے۔ یہ کالم کہیں سے مل سکے تو لنک کر دیں۔ بہت شکریہ۔
اب تو نت نئی بیماریاں نازل ہو رہی ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ چین میں زرد دریا کے ساتھ جنگلات کی کٹائی سے نئے نئے وائرس نکل رہے ہیں اور کچھ کہتے ہیں برف میں دبے جراثیم گلوبل وارمنگ کی مہربانی سے باہر آ رہے ہیں۔ کچھ کی خبر آ جاتی ہے کہ جی لیب میں بنائے گئے ہیں۔
اگر میں ایک سائنسدان ہوں اور کسی ایسی بیماری کا علاج کر رہا ہوں جس میں بہت کم لوگ مبتلا ہوں تو میری تحقیق کا فنڈ کیسے پیدا ہو گا؟ سرمایہ دار تو بھاری منافع کے لالچ ہی میں پیسہ تحقیق پر لگائے گا نہ۔ اگر اس کو آگے مارکیٹ ہی نظر نہ آ رہی ہو تو؟
جی ہاں بیماری بھی مارکیٹ ہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز مال اور کھپت ہی ہوتا ہے۔ اگر کسی بیماری میں مبتلا چند ہی افراد ہوں تو کیونکر ممکن ہے کہ اس کے لئے فنڈ بھی فراہم ہو؟
ایسی صورت میں دو چیزیں ہیں۔ یا تو کسی انتہائی امیر شخص کو بھی وہی بیماری ہو جائے۔ ٹن ٹن ٹن۔۔۔ گھنٹی بجی؟
یا پھر کوئی بیماری یکا یک ایسے پھیلے کہ اس کی مارکیٹ نکل آئے۔ میڈ کاؤ سے لے کر برڈ فلو تک؟
اس تھیوری کا مرکزی خیال فرنج سے لیا گیا ہے۔
Popularity: 7% [?]
Popularity: 7% [?]
510 views
Related Posts
- None Found



























آجکل عوامی بہبود کا شور بھی سرمایہ دارانہ نظام کی ماتٹنگ کا حصہ ہے ۔ بیماریاں جدیدیت نے پھیلائی ہیں اور کچھ نئی پیدا کی ہیں ۔ اللہ کے فضل سے وطن عزیز کے دیہات میں اب بھی باقی دنیا کی نسبت بیماریاں بہت کم ہیں
افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..اگر یہ درست ہے تو ۔ ۔ ۔
اس ملعون سرمایہ دارانہ نظام نے وہ قہر برپا کیئے ہیں کہ انسانیت نے اپنا گلا طلائی زنجیر سے خود ہی گھونٹ لیا ہے۔
محمد وارث’s last blog post..استاد فتح علی خان – ٹھمری کھماج
اگے اگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
پہلے بیماری پیدا کی جاتی ھے اورپھر پھیلا ئی جاتی ھے
اور اسکےبعد اسکی دوا بیچی جاتی ھے منافع ھی منافع
واہ رے سرمایہ دارانہ نظام ۔امیر امیر تر غریب غریب تر
انہیں اجرت میں لوھا ۔ ہمیں اجرت میں برف
انکی دولت بڑھے ۔ ہماری دولت گلے
کیا سمجھ میں آئی میرے بھائی
جاوید چوہدری کے کالم کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن آپکا مطلوبہ کالم نہیں ملا
آپکے سوال کا جواب یا تو ایکپریس کے پرانے شماروں میں
http://www.express.com.pk/
یا پھر خود جاوید چوہدری صاحب ھی دے سکتے ہیں
javedch100@gmail.com