اردو بیچاری کے پسماندگان میں سے کچھ مجھ جیسے احمقان ہیں۔ باقی اس کے علما فضلا۔ دستار پہنے عصا ٹیکتے خوشبو لگائے نہائے دھوئے اردو ویکیپیڈیا پر ہوتے ہیں۔
اگر میں ایک مکان بنانے کا ارادہ رکھوں اور ٹھیکیدار کو گھر بنانے پر لگا دوں کسی دن اینٹوں کا ٹرک نہیں آئے اور وہ بیٹھ کر میرے پلاٹ پر اینٹوں کا بھٹہ بنانے بیٹھ جائے تو؟
اسی طرح کتنی مثالیں ہو سکتی ہیں۔ ہمارے صاحبان اردو اردو کرتے ترجمہ کرنے بیٹھتے ہیں اور نت نئی ایجادات کر دیتے ہیں۔ مثلا ویب اطلاقیہ۔ اس لفظ کے خالق عقل مند سے مجھ عقل بند کا سوال ہے کہ بھیا یہ ویب کو جالا کیوں نہ بنایا۔ لفظ ہوتا “جا لا اطلاقیہ” تو اردو کا حسن ایسے نکھر کر سامنے آتا کہ چاند بھی شرماتا۔
اسی طرح کسی ٹرانسپورٹر نے جاوید طیارہ اور بھٹی طیارہ کی طرز پر ائیرپورٹ کا ترجمہ کیا ہے طیران گاہ۔ ڈیسکٹاپ کا بھی بڑا موثر ترجمہ تھا کسی بھی دشمن کو سنا کر پھڑکا کر مارا جا سکتا ہے۔
اب نیا لیپ ٹاپ لے لیا تو میں کی بورڈ ڈھونڈوں اور وہ ملے نہ۔ احمق جو ٹھہرا۔ عقلمندوں کو تو علم ہے کہ جی اگر آپ کے پاس اردو انسٹال ہی نہیں تو آپ کسی طرح بھی اردو لکھ کر سرچ نہیں فرما سکتے۔ لہذا میں عقل بند اب phonetic keyboard لکھر کر سرچ کروں تو جو ملے وہ کرلپ کا بیہودہ کی بورڈ۔ محفل پر ملے نہ۔ کیونکہ وہاں بھی ایک نیا ورڈ ایجاد کیا گیا ہے۔ کلیدی تختہ۔
وہاں سرچ کریں تو ہر پیج کا رزلٹ سامنے آ جاتا ہے۔ اردو لکھ کر گوگل پر سرچ نہیں کر سکتے۔ کاش یہ لوگ کبھی ایسے کمپیوٹر پر بھی بیٹھ کر دیکھیں جہاں اردو سپورٹ دور دور تک نہ ہو پھر سوچیں کہ اردو اردو کرتے باقی لوگوں کو کیسے اردو تک لائیں گیں۔ سرچ جس کا نام ان علما نے تلاشنا رکھا ہوا ہے ہی سے تو لوگ نئی چیز دریافت کرتے ہیں۔ اگر وہ اس چیز کو اردو میں تلاش ہی نہیں کر سکتے تو کھے اور مٹی ہی بچتی ہے۔
ساتھ ایک اعتراض تھا دو سال پہلے کہ انڈیا اپنے سارے میڈیا میں ہندی یا اردو یا سنسکرت الفاظ استعمال کرتا ہے۔ مجھے پچھلے چھ ماہ انڈیا کے رئیلٹی شوز، ایوارڈز گیم شوز اور نیشنل جیوگرافک کی انڈیا سے متعلق ڈاکیومینٹریز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
ہندی فلم یا ٹی وی اردو پر ہے۔ پر اس کے سارے انٹرویوز شوز سب کے سب انگلش میں۔ بیک سٹیج دیکھ لیں صرف انگلش بولتے ہیں۔ رئیلٹی شوز دیکھیں سب کے سب انگلش۔ جتنی ڈاکیومینٹریز ہیں ان میں ایک عام ملاح تک انگلش میں باسانی مطلب بیان کر لیتا ہے۔
یہاں جتنے انڈینز آتے ہیں ان کی نئی نسل مکمل انگش میں بات کرتی ہے۔ صرف پرانے لوگ اردو بولتے ہیں۔ اور ہم؟ ہم انگلی چھوڑ پورے پورے ہاتھ اٹھا رہے ہیں۔ بس رونے دھونے سینہ کوبی اشک شوئی اور جھولی اٹھانے کی کسر باقی ہے۔
مجھے کہہ دیتے ہیں کہ عقل کل ہو کر تبصرہ کیاہے۔ اس کے بعد جو کلام ہوتا ہے وہ پڑھ کر مجھے لگتا ہے صاحب بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔
Popularity: 6% [?]
Popularity: 6% [?]
316 views
Related Posts
- None Found



























ؔپ کی بات درست ہے، اردو کی روزمرہ زبان میں استعمال ہونے دیگر زبانوں کے مانوس الفاظ اور اصطلاحات کا نامانوس عربی یا فارسی ترجمہ نہیں کرنا چاہیٕے بلکہ انہیں بعینہ ہی اردو میں استعمال کرنا چاہیٕے، یہی اردو کی روایت ہے اور یہی اسکا حسن ہے، وگرنہ جس طرح کے تراجم وکی پیڈیا پر کیے جاتے ہیں وہ تو اردو سے لوگوں کو متنفر کرنے والی بات ہے۔
محمد وارث’s last blog post..آٹھ سال بعد
بہت تیزی دکھائی آپ نے محترم!
اگر میں خود کو عقلِ کُل کہتا تو لغت کا حوالہ نہ دیتا بلکہ اپنی اصطلاح کے حق میں ذاتی دلائل پیش کرتا۔ میں نے آپ کو لغت کا حوالہ دیا، میں نے بھی اس اصطلاح کو وہیں سے لیا۔ آگے تسلیم کریں یا نہ کریں آپ کی مرضی۔۔۔۔۔
وکیپیڈیا کی کئی اصطلاحات پر مجھے بھی شدید تحفظات ہیں اور میں پہلے بھی کئی بار اس امر کا اظہار کر کرچکا ہوں کہ جس کو اعتراضات ہیں وہ سامنے آئے، وہ لوگ اپنی اصطلاح کے حق میں دلیل دیتے ہیں، آپ بھی دیں۔ میں نے تو اپنی بساط کے مطابق بہت کوشش کر لی لیکن میں ماہر لسانیات تو نہیں کہ دلیل سے قائل کر لوں۔ اب یہ ذمہ داری آپ کی ہے جو اس امر کے دعوے دار ہیں کہ اردو وکیپیڈيا پر اردو کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ اگر آپ کو محبت ہے اردو سے، تو آئیے اردو کو زیادتی سے بچائیے۔ خالی خولی نعرے بازے سے تو بھائی کچھ نہیں ہوتا، عملاً کچھ کر دکھانا پڑتا ہے۔
ویسے آپ انگریزی الفاظ کو رومن اردو میں لکھ کر اسے اردو سمجھے ہیں؟؟؟
ابوشامل’s last blog post..بلاگرز کے لیے اہم پلگ انز
آپ کی بات میں دم ہے۔ خود مجھے آج تک ایسے الفاظوں کی سمجھ نہیں لگ سکی نئے آنے والے کیا خاک سمجھیں گے۔ اور پھر ایک ایسا سسٹم جس میں سرے سے اردو ہو ہی نہیں ۔۔۔ اللہ مالک ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اردو کو نئے آنے والوں کے لئے آسان بنایا جائے نہ کہ چوں چوں کا مربہ کہ بیچارہ نیا یوزر الفاظوں کے معنی ڈھونڈتا پھرے۔
پاکستانی’s last blog post..عجیب قوم ہیں ہم!
اچھا لکھا ہے
اور اپ کے دلائل میں وزن بھی ہے
آپ اس طرح کریں که اپ بھی وکی پر کام کرنا شروع کردیں
اور آپ اپنی طرز کی اردو لکھیں
اس بات سے قطع نظر که زبان کیسی استعمال هو رهی هے
یه دیکھیں که مضامین کا معیار کیا ہے
اگر اپ یه سمجھتے هیں که زبان مشکل ہے تو
جناب وکی پیڈیا صرف اج کے لیے هی نہیں ہے
یه انے والی نسلوں کے لیے هے
جب کمپیوٹر اتنی ترقی کر لے گا که
الفاظ کی تلقش اج کی ترح مشکل نہیں رہے گی
اس کی ایک مثال میری پرانی تحاریر دیکھ لیں که ان میں ڈبے بہت اتے تھے
کیونکه ونڈوز کا اپریٹنک سسٹم نکما تھا
اج وهی تحاریر بغیر کسی ترمیم کے پڑهی جاسکتی هیں
اسی طرح وکی بر اج کا لکھا هوا انے والے وقت کے لوگوں کے لیے هے
هو سکے تو غور کریں ذرا مثبت سوچ کے ساتھ تو اپ کو اردو کا وکی ایک بہت بڑا کارنامه نظر ائے گا
ان لوگوں کا جو بغیر کسی لالچ کے یه کام کیے هی جا رہے هیں
جناب بات ہہ ہے کہ انسان کی ہار یہ ہے کہ وہ خود ہے ھار مان لے تو انھوں ہے کی ہے-
میں بد تمیز سے بالکل متفق ہوں
اس اردو کا تو وہی حساب ہو گیا کہ mother board کو ’ماں کا پَھٹٌا” کہنا شروع کر دیں
ہم اردو کو موجودہ لوگوں کے لئے ہی مشکل بنا رہے ہیں تو آنے والے تو بس اردو کے عشق میں ہی مبتلا ہوئے تو اردو کو اپنائیں گے ورنہ ۔۔۔ اردو میڈیم سکول میں پڑھنے کے باوجود بھی آج اگر میں سائنس کی کسی ٹرم کی بات کرتا ہوں تو شائد ہی وہ اردو لفظ استعمال کرتا ہوں جو کتاب میں تھا ۔آج بھی کسی اردو میڈیم کے بچے سے بات کریں تو کی بورڈ کو کی بورڈ ہی کہے گا۔ کچھ چیزیں ہمیں اردو میں نہیں بدلنی چاہییں۔ اردو کا اپنا وجود دوسری زبانوں کی بنیاد ہر ہے اس میں بہت صلاحیت ہے دوسری زبانوں کو جذب کرنے کی۔ ہمیں صرف انگریزی کو کافر زبان ہونے کی وجہ سے پس پشت ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے نا ہی کرنا چاہیے۔ ہمارا مقصد اردو کو آسان بنانا ہونا چاہیے
اس حوالے سے پہلے بھی کئی دفعہ گفتگو ہوتی رہی ہے اور دونوں اطراف کے لوگوں کے اپنے دلائل ہیں۔۔ نہ بدتمیز کی بات سے انکار کیا جاسکتا ہے، نہ ابوشامل کی بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی خاور کی بات سے۔ شاید مسئلے کا حل درمیان کا راستہ نکال لینے میں ہی ہے۔ اردو کو مکمل فارسی بنانا یا عربی رسم الخط میں اردش لکھنا دونوں ہی عوام کی زبان سے دور ہوجاتے ہیں۔ شاید اصطلاحات کے تراجم میں زیادہ تحفظات ہیں جیسے “اوپن سورس” کو “آزاد مصدر” کہنے سے اصل مقصد “سورس” تو فوت ہوگیا۔
میرے دوست نے مائکروسافٹ دوبئی کے ایک ملازم کا بزنس کارڈ دکھایا اس پر موبائل نمبر کی جگہ درج تھا “متحرک” کیوں کے عوامی سطح پر اسے سمجھا جاتا ہے لیکن انٹرنیٹ کی جگہ “انترنیت” لکھا ہوا تھا کیونکہ اسکا ترجمہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بھی شاید نہ سمجھ سکتے چناچہ “ٹ” نہ ہونے کے باوجود اسکا ترجمہ نہیں کیا گیا ۔۔ ہماری زبان میں تو کم و بیش ہر آواز موجود ہے اور “ٹرانسلٹریشن” کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے لہذا عوام میں پہلے سے مقبول اور سمجھی جانے والی اصطلاحات کا ترجمہ مسئلے پیدا کرتا رہے گا الا یہ کہ ترجمہ بہتر اور زیادہ عوامی ہو ۔۔
نوٹ: یہ صرف ایک رائے ہے۔۔ میں وکی پیڈیا کی خدمات کا بہت معترف ہوں۔
راشد کامران’s last blog post..براؤزر ہوگا، بادل ہوگا۔۔
السلام و علیکم!
میرے خیال میں سب ہی اپنی جگہ درست ہیں۔ جو لوگ اردو کی ترقی کے لیئے اس میں نئے الفاظ و تراجم کا اضافہ کر رہے ہیں ان کی اپنی سوج اور لگن ہے۔ وہ بے غرضی سے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں کرنے دو، مت ٹوکو۔ ہر زبان میں ہر اسم اور فعل کے لیئے الفاظ ہوتے ہونگے۔ اردو میں بھی ہونے چاہئیں۔
یہ اور بات ہے کہ اس لشکری زبان میں یہ خاصیّت ہے کہ یہ باآسانی دیگر زبانوں کے الفاظوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کلیدی تختہ نہیں کِی بورڈ ہی آپ کے قارئین کے لیئے بہتر ہے تو آپ اس کو ہی استعمال کریں۔ زبان (شائستہ) وہی مناسب ہے جو زدِ عام ہو۔
ویسے ہمیں اس بات کو بھی مدِّ نظر رکھنا چاہیئے کہ ایک تو اردو کمپیوتنگ کی طرف پہلے ہی بہت کم لوگ مائل ہیں اس لیئے پہلی ترجیح تو ان کو اس کی عادت ڈلوانا ہے پھر الفاظ کا انتخاب وہ خود بہتر طور سے کر لیں گے۔
ابو کاشان’s last blog post..رمضان المبارک : مرحبا
اس سلسلے میں کبھی کچھ کرنے کا اردہ کئے ہوئے ہیں جس میں ابوشامل اور محبوب بھائی بھی شامل ہیں آپ بھی زرا ایک نظر مائیں
http://www.urduzuban.org
عبدالقدوس’s last blog post..دنیا کا اونچا ترین قبرستان۔ مائونٹ ایورسٹ
جناب کیا وجہ ہے کہ میرا تبصرہ نا منظور ہوا؟؟؟
تم گوگل میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہو
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=875
وارث: بہت شکریہ۔ ویسے بھی یہ لوگ فارسی یا عربی ترجمہ کرنے سے ایک قدم بڑھ کر الفاظ ایجاد کرنے لگ گئے ہیں جس کی مثال ڈیسکٹاپ کا ترجمہ تھا۔
ابوشامل: میں نے بتا دیا تھا کہ مجھے اس لفظ کا علم نہیںتھا پلس میں اپ کو الفاظ ایجاد کرنے والا نہیں سمجھتا۔ اگر آپ کو نہیںیقین تو ابھی جن کا ذکر کیا ان میں شاکر صاحب تھے جو اردو کی ایسی ٹانگ مروڑنے میں شیر تھے جن سے میری بحث میں مکی، علمدار اور امانت چن صاھب چھلانگ لگا بیٹھے تھے۔ امید کرتا ہوں اب آپ کو پتہ لگ گیا ہو گا کہ تیزی نہیں دیکھائی بلکہ ڈیڑھ دو سال انتظار کیا ہے۔
جہاں تک آپ کی بات ہے کہ میں کچھ کروں تو میں نے مذکورہ لوگوں سے دیکھ لیا تھا کہ جب نادانوں کے ہاتھ ملاحی آئی ہو تو کشتی کدھر کو جاتی ہے۔ میں باز ہی اچھا۔
پاکستانی: بہت شکریہ
خاور: وقت ہی کہاں ہے
اور آجکل تو میں بچوں میں پھنس گیا ہوں۔
عوام: ویلکم جناب۔ آپ کی بات نامکمل سی لگی۔
ڈفر: بہت شکریہ
ٹرم خوب نکالی ہے۔ 
یہ بہت اچھا نکتہ ہے کسی احمق نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں بھی سائنس کی ٹرمز کی اردو اصطلاحات نکال دی تھیں۔ مجھے تو بہت غصہ آیا کہ نکموں کو مزید نکما کرنا ہے۔ اور آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤ کہ یہ جو ہندی کے بعد عربی کی مثالیں دیتے ہیں مصر کا لڑکا اور اس کو آئرن کا مطلب نہ ملے۔ یقین کریں اس نے ڈکشنری نکال کر آئرن کا مطلب ڈھونڈا اور امریکہ میں وہ کلاس لے رہا تھا؟ کیمسٹری کی۔ اللہ مسلمانوں کا بھلا کرے،
راشد: عربوں کو یہ عقل ملٹی نیشنل کمپنیوں نے دی۔ ہمارے ہاں یہ کام نان پروفیشنل لوگ کر رہے ہیں جنکو کسی بات کا کچھ علم نہیں یا پھر انجان بننے میں ماہر ہیں۔ ویکیپیڈیا پر بھی جو کام ہے وہ ہماری قوم خامی یعنی کوالٹی نہیں کوانٹٹی پر زور ہے۔ اس کے اردو کے آرٹیکل انتہائی ناقص ہیں اور ترجمہ کرنے والوں نے صرف دو دو لائن ترجمہ کر کے چھوڑے ہوے ہیں۔
ابوکاشان: خوش آمدید،
تبصرہ نامنظور نہیں ہوا تھا منظور ہونے کے لئے رکا ہوا تھا۔
اگر نٕے بندے کو علم ہی نہیں کہ اردو کی جس اصلاح کو اس کے سر پر دے مارا گیا ہے تو اس کا اس طرف رجحان کسیے ہو گا
نبیل: بہت شکریہ
ویسے میں لکھ سکتا ہوں کیونکہ مجھے آپ نے بتا دیا۔ دو چار اور لکھ سکتے ہونگے کیونکہ محفل سے پتہ لگ گیا۔ لاکھوں لوگ اندھیرے میں بیٹھے ہیں۔ ان کو اردو نہیں انگلش میں ہی تلاش کرنا ہے جس کی ان اردو دانوں کو بالکل سمجھ نہیں لگ رہی۔ محفل پر اس کو پوائنٹ کریں۔ خاص طور پر کلیدی تختے صحیح کریں۔ آگے آپ کی مرضی۔
عزیزی بہت شکریہ آپ کا۔
ابوشامل’s last blog post..بلاگرز کے لیے اہم پلگ انز