کل میں نے لکھا تھا کہ گوگل ایڈسینس استعمال کریں۔ آج میں مختصرا بتا دیتا ہوں کہ کیا نہیں کریں۔
دنیا میں اس قدر انٹرنیٹ یوزرز ہیں کہ آپ کو فریکشن میں اس کے یوزرز چاہیے کہ آپ کچھ کما سکیں۔
گوگل نے ایڈ سینس کی جو پیمنٹس لوگوں کی 100 ڈالر سے کم ہونے کی صورت میں روکی ہوئی تھیں وہ 2006 کے اواخر میں 370 ملین ڈالر تھیں۔ یہ پروگرام کس قدر بڑا ہو گا؟
ریسیشن کے باوجود گوگل کا سرچ ریونیو 26 فیصد بڑھا ہے۔ لہذا آپ جو بھی لکھتے ہیں دنیا میں کہیں نہ کہیں اس کی مارکیٹ ہے۔
لکھنا ہے تو کسی ایک چیز پر لکھیں۔ کسی مخصوص چیز پر۔ جیسے اگر صرف کتابوں پر یا صرف گیمز پر۔ یہ نہیں کہ سائیٹ کو چوں چوں کا مربہ بنا دیں۔
لکھنے کے لئے بہترین جگہ بلاگسپاٹ ہے۔ مناسب تھیم دیکھ لیں اور بس۔ بلاگسپاٹ نہیں پسند تو ورڈ پریس پر سیٹ کر لیں۔ ان کے علاوہ کہیں نہیں۔
فری ہوسٹ بالکل مت استعمال کریں۔ فری ہوسٹ پر ورڈ پریس سے بہتر ہے کہ بلاگسپاٹ استعمال کریں۔
جب بھی لکھیں خود سے لکھیں۔ دیکھ کر لکھیں لیکن الفاظ آپ کے اپنے ہوں۔
ناغہ مت کریں۔ ایک عام سائیٹ کو 3 ماہ لگ ہی جاتے ہیں گوگل انڈیکس میں آتے آتے۔
بہت سے لوگ خاص طور پر انڈین فری لانس لکھتے ہیں۔ اس سے آپ کو ایک دفعہ اپنی محنت کے پیسے ملتے ہیں۔ اپنی سائیٹ پر لکھنے کا یہ فرق ہے کہ ایسے آپ کی سائیٹ کا مواد 24 گھنٹے ہر وقت لوگوں کے لئے موجود رہتا ہے۔ اور یہ جب تک سائیٹ ہے ملتا رہتا ہے۔ کل پوسٹ لکھنے کے بعد میں نے ایسے ہی ایڈ سینس وزٹ کیا تو میرا ایک پرانا ایڈسینس اکاوّنٹ اوپن ہو گیا جو میں نے بہت عرصہ قبل بنایا تھا اور مجھے بے حد حیرانی ہوئی کہ میں نے ۲۰۰۴ میں جو سائیٹس بنائی تھیں اور ان چھ سات سائیٹس کے مجھے نام تک بھول چکے ہیں۔ ان سے اچھی خاصی رقم جمع ہو چکی تھی۔ مسئلہ بڑا چھوٹا سا ہے اب۔ نہ مجھے سائیٹس کے ایڈریس معلوم ہیں نہ میں یہ رقم لے سکتا ہوں۔ لہذا یہ ضائع ہی ہو جانی ہے۔ پچھلے سال مارچ میں بھِی میرے ساڑھے تین سو ڈالر ضائع ہوئے ہیں۔ اتنے سے پیسوں کے لئے پاکستان تو جانے سے رہا۔
ایک پوسٹ لکھ کر کبھی بھی امید نہ رکھیں کہ اسی پر وزٹس سٹارٹ ہو جائیں اور اسی پر پیسے بھی بنیں۔ کم از کم بھِی 500 پیجز ہوں تو ایسی امید رکھیں۔
ای میل مارکیٹنگ کسی حد تک درست ہے لیکن عادت نہ بنائیں۔ سپیم میں ہی نہ مارک ہو جائیں۔
فورمز اور گروپس میں اپنا ربط ڈال دیں۔ اس سے لوگ آتے ہیں۔
اپنی سائیٹ کا لنک صرف وہیں پیش کریں جہاں کا موضوع مطابق ہو۔
لنک ایکسچینج گوگل کو پسند نہیں۔ کسی بھِی صورت لنک ایکسچینگ کی سہولت فراہم نہ کریں۔
ایڈ سینس اس طرح لگانا کہ آپ کی پوسٹ کافی نیچے ہو اور پہلے صرف ایڈز ہی نظر آئیں درست نہیں۔ گوگل آجکل خود ہی ایسے تمام سائیٹس کو بلاک کر رہا ہے بجائے یہ کہ ای میل میں خبردار کرے۔ ایسی صورت میں غلطی درست کر کے دوبارہ ایڈز چلوانا چار پانچ ماہ تک لینے کی خبر تھِی۔ لہذا چار پانچ ماہ کے ریونیو سے ہاتھ دھونے سے پرہیز کریں۔ بجائے لالچ کے۔
آخر میں اپنی اس کمائی کا کچھ حصہ charity کے لئے وقف کریں۔اور یہ حصہ سڑکوں پر بھاگتے دوڑتے فقیروں کو دینے سے پرہیز کریں۔
Popularity: 11% [?]
Popularity: 11% [?]
300 views
Related Posts
- None Found


























یه تو بڑی چنگی گلاں لکھ رہے هیں آپ
کیا یه سب کچھ میرے اردو بلاگ پر بھی هو سکتا ہے؟؟
یه کمائی شمائی کی بات !!ـ
یا یه سہولت صرف انگریزوں کے لیے هی هے؟؟؟
خاور: بدقسمتی سے یہ آپشن ابھی تک صرف انگریزوں کے لئے ہی ہے۔ اردو کی سپورٹ نہ ہونے کی ایک اور وجہ اردو پر کام کرنے والے بہت سے حضرات کی گل شگافیاں بھی ہیں۔
ارے بھائی میں تو 6 صحفات پر مبنی سائٹ سے 200 ڈالر تک بنا چکا ہوں :dollars/
اور اس کے علاوہ سائٹ بغیر ہوسٹ کے پیج رینک 3 بھی لے چکا ہوں مجھے لگتا ہے کہ گوگل والے مجھ پر کچھ زیادہ سے مہربان ہورہے ہیں
تو اپنی ویب سائیٹ کا لنک بھی تو دینا تھا نہ جناب
بھائی وہ سائٹ تو اب بند کردی ہے فل وقت ورڈ پریس دوبارہ سے انسٹال کرنا ہے اس لیے
اور پیج رینک 3 کی سائٹس یہ ہیں
http://www.abdulqudoos.info
http://www.paksites.info
بھائی یہ ایک کا رنگ سرخ اور دوسرے کا نیلا کیوں ہے :dont:
پڑھ کر ڈیلیٹ کر دیں۔شکریہ
بھائی جان۔ بندے کو کچھ گائیڈ کریں گے۔ ایمیل ایڈریس موجود ہے۔
ایڈ سینس کو میں دو سال سے جانتا ہوں۔ اکاؤنٹ کیسے بنتا ہے، سائیٹ کیسے بنتی ہے، دو دن میں کس کونٹینٹ پر اپروو ہوتی ہے اور کیوں اور کیسے بینڈ ہوتی ہے یہ سب جانتا ہوں۔
مگر سائیٹ پر کیا ہونا چاہیئے یہ بتا دیں۔ کوئی آئیڈیا دیں۔ کیا مختلف تصاویر(نیچر، فنی یا حیران کن) سے کام چل جائے گا؟
بلاگاسپاٹ کا بلاگ تو دو دن میں ہی گوگل سرچ پر آ جاتا ہے۔