میرا لیپ ٹاپ جل گیا تھا۔ مجھے لیپ ٹاپ بالکل پسند نہیں لیکن لیپ ٹاپ ہی کچھ ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ لہذا نیا لینا پڑا۔ جیسے پہلے میں نے face recognition کا لکھا تھا کہ یہ آپکا فیس ریڈ کر کے لاگ ان کر دیتا ہے۔ اس میں دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ چھوٹی موٹی تبدیلی کے بعد بھی آپ کو پہچان کر لاگ ان کر دیتا تھا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق جس میں آپ کی تصویر سامنے رکھنے پر بھِی لاگ ان ہو جاتا تھا کی وجہ سے میں نے اس کھلونے سے نہ کھیلنے کا سوچا۔ میں نے اس سے پرانا ایک فیچر جو کہ فنگر ریڈر تھا وہ لے لیا۔
یہ ایک سلاٹ سی ہے۔ اس پر انگلی پھیریں تو ہی یہ آپ کو لاگ ان کرتا ہے۔ ویسے تو میں نے امریکن ایمبیسی، سٹیزن شپ اور ڈی ایم وی وغیرہ میں فنگر پرنٹس کروائے ہیں لیکن وہاں کافی تفصیلی ہوتا ہے۔ لیکن اس میں حیرت انگیز کم وقت لگا۔ اب مجھے ہر جگہ پاسورڈ نہیں لکھنا پڑتا۔ میسینجر سے لے کر گوگل تک میں لاگ ان ہونے کے لئے صرف انگلی پھیرتا ہوں اور یہ مجھے خود بخود لاگ ان کر دیتا ہے۔
مردوں کا دل ہر عورت کے لئے دھڑک پڑتا ہے۔ امریکیوں کا دل بھی ہر دشمن کے لئے دھڑک پڑتا ہے۔ امریکہ کی جس سے جنگ ہو اس کے تمام فلموں ڈراموں میں صرف لوکیشن بدل جاتی ہے۔ پہلے ویت نام پھر رشیا اور آجکل افغانستان اور عراق ہے۔ نئی فلم آئرن مین میں بھی آئرن مین کو افغانستان سے جوڑ دیا گیا ہے۔ “مجاہدین” کو اردو بولتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔ زیادہ حیرانی تو مجھے ٹونی اسٹارک کو “شیطان الرجیم” کہنے پر آئی کہ کیسے کیسے الفاظ نکال لیتے ہیں۔ اردو بولتا دیکھایا جانا مجھے پسند نہیں آیا۔
خیر جنا دے گھار دانے اونہا دے کملے وی سیانے۔
فلم میں ٹونی اسٹارک کو معلوم پڑتا ہے کہ جو تباہ کن اسلحہ وہ بناتا رہا ہے وہ اس کے بزنس پارٹنر اور باپ کے دوست کی مہربانی سے دشمنوں کے ہاتھ آ چکا ہے اور وہ باقاعدہ اس کو استعمال کرتے پھر رہے ہیں۔ نتیجتا ٹونی اس تمام اسلحہ کو تباہ کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ یہ تمام اسلحہ تباہ تو ہو جائے لیکن آئندہ اس سے بچنے کا طریقہ؟
ایسا اسلحہ ضرور ہو گا جو کہ صرف authorized personal کے لئے ہی چل سکے گا اور کسی کے لئے نہ کام کرے بلکہ الٹا تباہ ہو جائے۔ مثال کے طور پر آج اگر امریکی فوج پر حملہ کر کے یہ لوگ اسلحہ لیتے ہیں اور پھر کل کو انکا اسلحہ انہی پر استعمال کرتے ہیں تو اگر میرا کمپیوٹر صرف میرے فنگر پرنٹس پر قابل استعمال ہوتا ہے تو اس اسلحہ کو بھی ایسے ڈیٹا بیس سے منسلک ہونا چاہئے جو کہ صرف امریکی فوجیوں کے فنگر پرنٹس پر چلے ویسے چلنے سے انکار کر دے۔
لیکن سوال یہ ہوگا کہ ایسا اسلحہ، اسلحہ سازوں کے کتنے مفاد میں ہے؟ یہاں اسلحہ ساز اور ملٹری دو الگ چیزیں ہیں۔ لوہار قدیم زمانے سے تلواریں بنا کر ملٹری کو اور شہروں میں دکانوں پر بیچتے تھے جدید دور میں یہ نت نئے آئیڈیاز لے کر ملٹری سے اپروو کرواتے ہیں اور پھر کانٹریکٹ پر بناتے ہیں۔ لہذا زیادہ طاقتور جیت جاتا ہے۔ جیسے پچھلے سال ایک ملٹری کا ہی سابق آفیسر مناسب اور موثرلابی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آرمر کا ڈیزائن ایک اسلحہ ساز کمپنی کے بنائے گئے آرمر کے مقابلے میں ہار گیا تھا۔
اب ایسے اسلحہ کے ساتھ امریکی فوج کو تو ناقابل شکست بوسٹ مل گیا لیکن اسلحہ سازوں کا دو فریقوں میں سے ایک گاہک کم ہو گیا۔ فریقن کے معاملے میں اسلحہ ساز فریق نہیں بنتے۔ دوسروں کی لڑائی میں اپنا نقصان کروانے کی بےوقوفی ہم ہی کرتے ہیں۔
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
204 views
Related Posts
- None Found




























اس ٹیکنالوجی کو مصیبت بنتے دیکھا ہے ہمارا ایک دوست دس دس بار انگلی پھیرتا تھا تب اس کا لیپ ٹاپ کھلتا تھا
اور بتارہا تھا کہ یہی حال وہاں دروازوں سے گزرتے وقت بھی ہوتا تھا
باسم’s last blog post..جنونیوں کا میوزیکل جہاد
آپ کی یہ پوسٹپہلے والی سے بالکل مختلف ہے۔ پچھلی پوسٹ میںآپ نے لیپٹاپ کی برائیاںگنوائیں اور پھر خرید بھی لیا۔ اچھا ہوتا اگر اب خوبیا بھی گنوا دیتے۔
پچھلی پوسٹ کے جواب میںعرض ہے، لیپ ٹاپ ایک خاص درجہ حرارت کو برداشت کرنے کیلیے ڈیزائن کئے جاتے ہیں۔ ہم بھی لیپ ٹاپ گزشتہ پندرہ سال سے استعمال کر رہے ہیںآج تک جلنے کی نوبت نہیںآئی۔ ویسے لیپ ٹاپ جلنے کی وجوہات بھی بتا دیں تو بہت سوںکا بھلا ہو جائے گا۔ ہمارے خیال میںلیپ ٹاپ دو طرح سے جل سکتا ہے۔ ایک اگر آپ نے اسے تکیے پر یا رضائی پر رکھا ہوا ہے یا پھر ایسی جگہ پر رکھا ہوا ہے جہاںسے اسے تازہ ہوا نہیںمل رہی۔ دوسرے یہ تب جلے گا جب اس کے اندر لگا پنکھا کام کرنا بند کر دے گا۔ لیپ ٹاپ کیلیے کولر ہی لینا ہے تو پھر لیپ ٹاپ کا کیا فائدہ کیونکہ لیپ ٹاپ تو موبائل قسم کی چیز ہے اور یہ لکا ہی اچھا لگتا ہے۔ ویسےگھر میں استعمال کیلیے ڈیسک ٹاپ بہتر ہے۔
میرا پاکستان’s last blog post..سانحہ کارساز کا مقدمہ
محترم بدتیمیز
پراے مہربانی کیا آپ http://urdutech.net/venus/ پر میرا بلاگ شامل کر سکتے ھیں۔
میرا پہلا بلاگ http://www.numanaly.urdutech.net پر تھا جو http://urdutech.net/venus/ پر شامل تھا۔ اب میں نے اپنا بلاگ http://www.noumanali.com پر منتقل کر دیا ھے۔ کیا اب آپ میرے اس بلاگ کی فیڈ کو http://urdutech.net/venus/ پر شامل کر سکتے ھیں؟ میرے بلاک کی فیڈ ھے http://noumanali.com/feed
Thanks
نعمان علی’s last blog post..حیران ھوں میں کہ یہ داستاں کیا ھے
باسم: ویلکم
بالکل شروع میں جب نئی نئی یہ ٹیکنالوجی لیپ ٹاپ میں ؔئی تھی تب اس میں ضرور مشکل ہوئی ہو گی۔ لیکن ساتھ میں کچھ ہمارا بھی قصور ہوتا ہے۔ فنگر ریڈرز انگلی کے پہلے جوڑ سے پور تک پورا سکین ملنے پر لاگ ان کرتا ہے ورنہ ایرر ہی دیتا ہے۔ اسی طرح اگر انگلی ٹیڑھی پھیریں تب بھی لاگ ان نہیں ہوتا۔ میں پہلے دن فنگر ریڈر سے ہی کھیلتا رہا تھا۔
میرا پاکستان: میں نے اپنی ناپسندیگی کا اظہار کیا تھا نہ کہ اس کی برائیاں گنوائیں تھیں۔ اور اعتراف بھی کیا تھا کہ میری ہی نا اہلی سے جلا ہے۔ جلنے کی وجوہات بھی لکھ دی تھیں۔ ویسے جس دن میرا نیا لیپ ٹاپ آیا اسی دن پرانے والا بھی چل پڑا۔ ہفتہ صحیح رہ کر آجکل پھر خراب پڑا ہے۔
لہذا حوصلہ رکھیں کسی ضرورت سے لیا ہے موقعہ ملتے ہی اٹھا پھینکو گا۔
لیپ ٹاپ میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ یہ موبل ہے۔ ویسے آجکل ڈیسک ٹاپ ری پلیس مینٹ لیپ ٹاپ آ رہے ہیں۔ اب دیکھٕے میرا تجربہ کیسا رہتا ہے۔ ویسے میرا پورا پورا ارادہ ایک ڈیسک ٹاپ لے کر اس کو کسی کو گفٹ کر دینے کا ہے۔
نعمان علی۔ ویلکم ۔ آرڈر اوبیڈ
فنگر ریڈر کچھ دنوں بعد واقعی فارغ ہو جاتا ہے، پھر آپ انگلیاں پھیرتے رہ جائینگے۔ آئرن مین بڑی فضول سے مووی ہے، وہ افغانستان والا تو صحیح لطیفہ ہے۔
ساجداقبال’s last blog post..نیا افق
ساجد کم از کم مجھے کہیں ایسی شکائت سننے یا پڑھنے میں نہیں آئی۔ ویسے ہو بھی جائے تو کیا پرابلم؟ میں نیا لے لونگا