پوسٹ کا عنوان انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہاں سے چرایا گیا ہے۔
پرسوں اوبامہ اور جان مکین کے درمیان آخری پریذیڈینشل ڈیبیٹ تھی۔ جان مکین پہلی دفعہ اس قدر aggressive تھے۔ انہوں نے پہلے بیس منٹ تک کافی اچھا پرفارم کیا۔ لیکن پھر بقول مبصرین انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو گھسیٹ لیا۔ اوبامہ کا کہا جا رہا تھا کہ وہ cool نظر آ رہے تھے جیسا کہ ایک ملک کے سربراہ کو ہونا چاہئے جبکہ جان مکین غصہ میں آ گئے تھے جو کہ یہاں کے معیارات کے مطابق نہیں۔ یعنی پرسکون رہنا اور تحمل مزاجی ہی لیڈران کو زیب دیتی ہے۔
ہمارے ہاں پہلے تو جہانگیر کی وہ کہانی سنائی جاتی ہے کہ جو مظلوم ہو وہ گرجدار آواز میں بات کرتا ہے۔ زمانہ بدل گیا ہم وہی کے وہیں ہیں۔ گرج چمک والے کو سچا مانتے مانتے عقل سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بھٹو کی تقاریر دیکھ لیں۔ مائیک کے ساتھ جھول جھول کر پاپ سنگر کی طرز پر وہ قوم کو ابھارنے میں تو کامیاب رہا لیکن سٹینڈرڈ برا سیٹ کر گیا۔ میں بھٹو کو جینوئن سیاستدان مانتا ہوں پر اس نے بھی قوم کو exploit کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی حال باقی تمام سیاستدانوں کا ہے لیکن وہ کچھ زیادہ ہی ایسا تھا اور ہمارا عمومی مزاج بھی ایسے ہی لوگوں کو بڑا لیڈر مانتا ہے۔
ابھی کل جاوید چوہدری نے کالم میں بھٹو کا واقعہ لکھا ہے یہ اپنے الفاظ پر قائم رہنے کی عمدہ مثال تو دے دی۔ لیکن کیا الفاظ ادا کرنے سے پہلے اس پر اچھی طرح غور ضروری نہیں؟ ہمارے لیڈران اسی لے بےتکان بولتے ہیں کہ عقل جائے بھاڑ میں انہوں نے چاہے گھاٹے کا سودا ہو کرنا ضرور ہوتا ہے۔ یہاں کوئی سیاستدان ایسے کرے تو دیکھے۔ خیر ہمارے ہاں تو بجٹ کوئی بناتا ہے اور پیش کر کے تالیاں بجوانا کسی اور کا کام ہوتا ہے۔
ابھی معیشت کا ماہر کہتا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ دو دن بعد امریکی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ ہے کہ پاکستان تباہ ہونے والا ہے۔ لفظ استعمال ہوا edge. جبکہ ہمارے صدر صاحب کیا بیان دیتے ہیں؟ “ملک کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں جو دیوالیہ ہو جائے۔” جس کو معیشت کا رتی بھر علم نہیں وہ بیان دیتا ہے اور اس کے مرید انہے واہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ صاحب شائد اخبارات نہیں پڑھتے۔ کس ملک میں 12 فیصد منافع ملتا ہے؟ inflation اس قدر بڑھ گئی ہے کہ 12 فیصد منافع لے کر بھی آپ کے روپے کی قیمت اتنی ہے؟ اور ٹرم ہے “تحفظ کے ساتھ منافع” کونسا منافع تحفظ کے ساتھ ہوتا ہے؟ میں تو ایک سے ہی واقف ہوں۔
ہمارے سیاستدان دوسرے ممالک کے دورے اس لئے کرتے ہیں کہ اول تو دورے پڑتے ہیں دوسرے یہ once in a life time opportunity ہوتی ہے کہ پورے پروٹوکول کے ساتھ انجوائے کیا جائے۔ اور پھر ملک میں جان کر ایسی خبریں لگوائی جاتی ہیں کہ دورے کامیاب ہوئے۔ وعدے وعید لے کر ہم آ جاتے ہیں۔ اپنے اخبار کو اجازت نہٰں ہوتی پول ہمارے غیروں کے اخبارات کھولتے ہیں اور ہم لوگ حمایت میں اتنے مصروف کے اس کو پڑھنے اور سوچنے کی فرصت نہیں رکھتے۔
یہ تصویر ملاحظہ ہو۔ میں نے بیٹھنے کے آداب لکھے تھے۔ آپ خود ہی اپنے “محبوب” لیڈر کا موازنہ چینی صدر سے کر لیں۔
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
319 views
Related Posts
- None Found


























ابھی بھی ہو سکتا ہے
لیکن عوام کے دل کی آواز مختلف ہے
وہ کہتی ہے
یا اللہ زرداری کو موت دے
ٹِھیشوُوووں
اس دعا میں ‘بلاول بھٹو زرداری’ کا نام بھی شامل کر لیں۔ اللہ تعالیٰ بی بی کے کراؤن پرنس کو بھی ہدایت دے اور وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں جس کی امید بہت کم ہے۔
ایک آف ٹاپک بات: میرا بلاگ مسائلستان بنتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مدد کی ضرورت ہے پلیز۔
ڈف ر: کسی کی موت ہی مسائل حل کرنے کا نام تو نہ ہوا نہ؟ اسی وجہ سے ہمیں عادت ہے کہ جو نہ مانے اس کو ٹھشو۔ کوئی چاہے جتنا مرضی برا ہو ہمیں اس کو زندگی سے محروم کرنے کا حق نہیں۔
فرحت کیانی۔ شششش بلاول کا نام نہیں لینا۔ ایک دنیا اس کے پیچھے پاگل ہے یہ اور بات ہے کہ اس کے گل کھلتے کسی کو دیکھانے کی اجازت نہیں۔
کیا کیا مسئلے آ رہے ہیںِ؟
صرف ہمیں دکھانے کی اجازت نہیں لیکن یہاں کے لوگ خصوصاً سٹوڈنٹس جس طرح ہم پاکستانیوں کو پکڑ پکڑ پرنس بلاول کی باتیں سناتے اور شرمندہ کرتے ہیں اس کا کیا کیا جائے؟
بلاگ پر جو بھی پوسٹ کرتی ہوں الٹی سیدھی بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اور اردو پیڈ تو عرصے سے نہیں ہے
کیا تھیم تبدیل ہو سکتا ہے؟
یہ مسئلہ صرف فائرفاکس میں ہے اور ابھی آیا ہے۔ میرے خیال سے اس کی وجہ ٹینا فے والی پوسٹ ہے۔ جب آپ مزید کچھ پوسٹس کریں گی اور یہ پوسٹ مین پیج سے غائب ہو جائے گی تو یہ فائر فاکس میں درست نظر آئے گا۔ ابھی انٹرنیٹ ایکسپلورر کے 6،7،8 سبھی ورژن میں بلاگ درست نظر آ رہا ہے۔
اردو پیڈ شامل کرنا ہے؟ میںنے اپلوڈ کر دیا ہے۔
تھیم تبدیل ہو سکتا ہے۔ ڈیپینڈ کتنی تھیم آپ کے پاس ہیں یا نئی لگانی ہے تو کونسی۔ اوکے کوئیک چیک آپ کے پاس کوئی تھیم نہیں۔ ادھر ادھر دیکھیں کوئی تھیم پسند آئے تو بتائیں۔
آپ کے پاس تو ایک بھی پلگ ان نہیں :haye: سوری۔ (آپ ابھی تک خاموش کیوں تھیں :haye: ( میں کچھ پلگ ان اپلوڈ کر رہا ہوں۔ ان میں سے ایک ہو گا ون کلک۔ اس سے آپ تھیم وغیرہ خود اپلوڈ کر سکتی ہیں۔
update: کچھی تھیم اپلوڈ کئے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور لگانا ہو تو آپ ون کلک سے خود اپلوڈ کر لیں۔ بلاگ بھی اپگریڈ ہونے والا ہو گا۔ اپنے بلاگ کا بیک اپ لے لیں پھر میں اس کو اپگریڈ کروں۔ بیک لینے کے لئے
dash board > manage > export > download export file.
بہت بہت شکریہ۔میرا بلاگ بیچارہ شروع سے ہی اتنا غریب ہے۔ اور اب ایک دم سے اتنےساری دولت (تھیم( ملنے کے بعد لگتا ہے کہ شادیء مرگ کا شکار ہو گیا ہے
میں تھیم اپلائی کر رہی تھی کہ یہ ہوگیا
Fatal error: Call to undefined function: add_shortcode() in /home/content/i/m/r/imranhameed/html/urdutech/dareecha/wp-content/themes/madmeg urdu/functions.php on line 10
اب یہ تھیم مت استعمال کریں۔ دوسری دیکھیں۔ اگر یہی کرنی ہے تو پھر مجھے اس کو فکس کرنا پڑے گا۔ سو ڈیش بورڈ تک رسائی درکار ہو گی۔
تھیم تو کوئی دوسرا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ مسئلہ بار بار آ رہا ہے۔ اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو پلیز آپ ہی فکس کر دیں پلیز۔ ڈیش بورڈ تک آپ کی رسائی کے لئے کیا کرنا ہو گا؟
Sorry to bother you again
کانٹیکٹ پیج پر دیکھیں یا تو ای میل کر دیں یا وہاں چیٹ ایپلٹ ہے اس سے دیکھ لیں۔ میرے پاس صرف آج کا دن رہ گیا ہے۔ آگے نیٹ کا کوئی پتہ نہیں۔
اوکے۔ میں نے کچھ چینج کیا ہے لیکن پھر بھی اگر آپ ایک بار دیکھ لیں پلیز۔ ای میل کر رہی ہوں۔
ابھی تو بلاگ اپگریڈ ہوا تھا پھر سے ہوگا کیا ؟؟؟؟؟ جب بھی ہو اپگریڈ میرے بلاگ کا بیک اپ خود رکھ لیاکریں پلیز مجھے پتہ نہیں ہوتا کب کیا ہو رہا ہے :thinkin/
حجاب: جی میں اپگریڈ سے شغل کرتا رہتا ہوں