bailout

آجکل بیل آؤٹ کا بڑا چرچا ہے۔ یہ دراصل صدر بش کا اعتراف تھا کہ میں نے اپنے دور حکومت میں ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ اب سے صرف دو تین ہفتہ قبل جان مکین فرما رہے تھے کہ اکانومی بہت مظبوط ہے۔ سٹریٹ ٹالک کہتے ہی وہ جب اس قسم کے لطیفے چھوڑتے ہیں تو بہت مزا آتا ہے۔ خیر ان کے اس حالئہ بیان کے بعد بش نے ٹی وی پر چند منٹوں کا خطاب کیا جس کا لب لباب یہی تھا کہ "یہ میں نے کیا کر دیا"

بیل آؤٹ 700 بلین ڈالر کے ایسے نئے قرضے کا نام ہے جو کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے جائے گا۔ اصل میں ہوا کیا؟ بقول نیر زیدی مسائل بحران بن گئے۔ لیٹ نائٹ ایک پروگرام میں خاتون فرما رہی تھیں کہ امریکہ میں گھر کی قیمت دس سال بعد دگنی ہو جاتی ہے۔ پتہ نہیں یہ درست ہے یا نہیں لیکن خاطر خواہ ضرور بڑھ جاتی ہو گی۔ مکان لینا کیسے ایک انویسٹمینٹ ہے اس پر میں نے یہاں لکھا تھا۔

مکان لینے کے لئے آپ کو مکان کی بیس فیصد رقم خود جمع کرنی ہوتی ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں جو رقم آپ کے پاس ہوتی ہے اس کو بیس فیصد مان کر آپ کو باقی 80 فیصد بینک سے قرض پر مل جاتی ہے۔ اگر بیس فیصد رقم نہ ہو تو بینک 100 فیصد رقم بھی فراہم کر سکتا ہے اگر اس کو یقین ہو کہ آپ ایک باشعور اور سمجھدار انسان ہیں اور آپ کسی ایسے بحران میں نہیں پھنسیں گیں کہ رقم ادا نہ کر سکیں۔

صدر بل کلنٹن کے دور میں امریکہ بہت خوشحال ہوا۔ ہیلری کلنٹن بھی دراصل اسی خوشحالی کو کیش کرواتی رہی تھیں۔ صدر بل کلنٹن کا جو بجٹ منافع میں جا رہا تھا اس کو صرف دو سالوں میں صدر بش نے گھاٹے کا سودا کروا دیا۔ اس دوران بینکوں کے پاس چونکہ بہت پیسہ تھا لہذا انہوں نے لوگوں کو رقم فراہم کرنے سے ہاتھ نہیں کھینچا۔ اصول یہ ہے کہ اگر کسی نے 100 فیصد قرض لینا ہے تو اس کی آمدنی کی تصدیق کرو۔ یہاں یہ حال تھا کہ بس زبانی کلامی بات پر اعتبار کیا گیا کہ بس پیسے لو اور جاؤ بینک آمدنی کی تصدیق نہیں کرے گا۔ نتیجہ میں جس کی اہلیت 1 لاکھ کا گھر لینے کی تھی اس نے 3 لاکھ کا گھر لے لیا۔ اب اس طرح بڑھتے بڑھتے یہ صورتحال اس قدر بڑھی کہ کریڈٹ کرنچ بن گئی۔

جان مکین صاحب بش کے اعتراف نااہلی کے دو دن پہلے تک تو فرماتے رہے کہ اکانومی بڑی مظبوط ہے۔ پھر اسی دوران شور اٹھا پریذیڈنشل ڈیبیٹ کا تو مسئلہ یہ تھا کہ جان مکین اوبامہ سے فیس ٹو فیس ہونا نہیں چاہتے تھے۔ کیوں کہ جان مکین جو الزام لگاتے ہیں اوبامہ اس کو جھوٹا ثابت کر دیتے ہیں یا کم از کم کہتے ہیں اور پھر جان مکین کے پاس کہنے کو کچھ ہوتا نہیں۔ جان مکین کی کوشش تھی کہ ڈیبیٹ ٹاؤن ہال میٹنگ طرز کی ہو۔ اس میں ان کی کارکردگی بہتر رہتی ہے۔ دراصل یہ ووٹر کا بہت بڑا فرق ہے۔ میں نے یہاں لکھا تھا کہ دونوں جماعتوں کے ووٹروں میں کیا فرق ہے۔ ٹاؤن ہال میٹنگ میں اکثریت ری پبلکن کی حمایتی آتی ہے ڈیموکریٹ کے ووٹر صرف ووٹ ڈالنا یا بڑی حد تک ہماری طرح بس منہ چلانے پر اکتفا کرتے ہیں۔

لہذا ڈیبیٹ سے بچنے کے لئے جان مکین صاحب فرمائیں کہ میں اپنی الیکشن کیمپین روک کر واپس واشنگٹن ڈی سی جا رہا ہوں تا کہ اس بیل آؤٹ پلان کو کامیاب کروا سکوں۔ اس کا مقصد دراصل بیل آؤٹ پلان کے ثمرات سمیٹنا تھا کہ اگر کچھ فائدہ ہو تو اپنا نام لگایا جا سکے کہ ایسا ہم نے کیا لیکن ادھر صدر بش نے اوبامہ کو بھی وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی۔ جان مکین کے اس اجلاس میں بہت دیر تک چپ رہنے پر بہت مذاق اڑایا گیا۔

اس بل کو منظور ہونا تھا 29 ستمبر سے پہلے پہلے لیکن یہ منظور نہ ہو سکا۔ اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ اگر یہ بل اتوار تک پاس نہ ہوا تو پیر کو ایشین مارکیٹس کھلنے کے بعد بہت نقصان ہو گا۔ اور ہوا بھی یہی۔ یہ بل منظور نہ ہو سکا اور پھر یہودیوں کے تہوار روشن ہشانہ کی چھٹی کا اعلان صدر بش نے فرمایا کہ جی میں پھر ناکام ہو گیا ہوں اور کل روشن ہشانا کی چھٹی ہے۔ مجھے اس کی سمجھ نہیں لگی کہ کیا یہ یہودیوں پر ملبہ ڈالا جا رہا تھا کہ ان کی چھٹی سے ایک دن ضایع ہو رہا ہے یا پھر یہودی اتنے طاقتور تھے کہ جاؤ بھاڑ میں ہم عبادت کریں گیں۔ یہ بلا لیتے کہ آؤ بھئی ملک کو نقصان ہو رہا ہے لیکن نہیں, کوئی بہانہ تو بنانا ہوتا ہے نہ۔

روشن ہشانا ہماری شب برات سے ملتا جلتا ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ سارے سال کے کئے گئے کے مطابق اس رات یا موقع پر ان کا حساب کتاب ہوتا ہے۔

خیر اصل قصہ یہودی نہیں تھے۔ ڈیموکریٹ کا کہنا تھا کہ ایسے تمام لوگ یعنی ان بڑے بڑے اداروں کے مینیجران ڈائریکٹران کو پکڑ کر سزا دی جائے یہ نہ ہو کہ یہ گولڈن ہینڈ شیک کر کے بھاگ جائیں۔ جبکہ یہی ہوا ہے کہ بہت سے لوگ بہت کچھ سمیٹ گئے ہیں۔ جبکہ ری پبلکن اس کے حامی نہیں تھے۔ وہ سزا دینے یا بینکنگ کو گورننگ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ لہذا ترامیم کے بعد یہ بل منظور ہوا پر اس کا نقصان جو ہونا تھا اس کو سبھی دیکھ رہے ہیں۔

جان مکین کو کیا ملا؟ صاحب کی رسوائی بھی ہوئی اور ان کو ڈیبیٹس میں بھی آنا پڑا۔ ابھی بھی دونوں پارٹیاں اس کو کیش کروانے میں لگئی ہوئی ہیں۔ جیت کسی کی ہو گی صرف 22 دنوں کی تو بات ہے۔

Popularity: 7% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 7% [?]

154 views

 

 

Related Posts

    None Found


0 Responses to “bailout”

  1. No Comments

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: گندم کی اسٹوریج کا مسئلہ؟
    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2860
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (659) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 367965

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->