تحفہ دینے کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی ارشاد ہے کہ تحائف کے لین دین سے محبت بڑھتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں یہ محبت تب تک نہیں بڑھتی جب تک تحفہ کی قیمت چار فیگرز میں نہ ہو۔
اگر آپ کسی کو ۱۰۰ روپے کی کتاب دیں تو وہ ایک طرف ڈال دے گا۔ یہی اگر آپ اس کو کوئی قیمتی چیز دیں تو وہ تب ہی اس کی قدر کرے گا۔ امریکہ الٹ ہے۔ یہاں تقریبا ہر گھر میں آپ کو ضرور ایک شیلف کتابوں سے سجی نظر آئے گی۔
ہم لوگ تحائف میں قیمتی گھڑیاں۔ نت نئی الیکٹرونکس یا گیمنگ ڈیوائسز مانگتے ہیں۔ مہنگے سے مہنگا پرفیوم یا قیمتی سے قیمتی لباس۔ اس سے نیچے ہمارا معیار تحفہ کا نہیں ہوتا۔ ذرا دیکھئے امریکی کس قسم کے تحائف کا لین دین کرتے ہیں۔
امریکی بات بات پر تحائف لینا دینا پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا اسٹیکر پیک سے لے کر گاڑی میں جھولنے والے گڈے تک ہو سکتا ہے۔ یہ وہ پین بھی ہو سکتا ہے جو آپ کو staples پر لٹکتا نظر آیا تھا یا صابن کا پیک۔ بالکل آسان الفاظ میں عام روزمرہ کی چیزیں ہی تحائف میں شامل ہوتی ہے اور اگر ڈالروں میں سننا ہوں تو ۲ ڈالر جس میں ایک ڈالر کا تحفہ اور ایک ڈالر کا کارڈ ہوتا ہے سے لے کر ڈبل فیگرز سے نیچے نیچے کا گفٹ ہوتا ہے۔
سالگرہ پر باقاعدہ پوچھا جاتا ہے کہ تمکو برتھ ڈے پر کیا چاہئے۔ اور ہماری طرح نہیں کہ “مجھے تو گفٹ ہی چاہئے” کی رٹ لگی ہو اور گفٹ لے کر بھی منہ پھولا ہی ہو کہ یہ کیا دیا ہے۔ میں اسی لئے نقد دینے کو ترجیح دیتا ہوں کہ جو لینا ہے لو۔ پھر ہمارے تو باتیں بھی بہت ہوتی ہے لو یہ گفٹ دیا ہے؟ اس سے اچھا نہ ہی دیتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے بچپن میں بچے گفٹ کھولتے وقت ایک دوسرے کا گفٹ بہت شوق سے دیکھتے تھے کہ بعد میں باتیں کر سکیں۔
امریکی سے پوچھنے پر وہ آپ کو جو گفٹس لسٹ بتائے گا اس میں قطعا مہنگی اور فضول چیزیں شامل نہیں ہونگی۔ اس میں برتن، صابن۔ کچن کا سامان، کالنگ کارڈ یا اگر بہت ہی زیادہ قریبی ہو تو گفٹ کارڈ کا مطالبہ کرے گا کہ تم مجھے ڈنر کا گفٹ کارڈ دے دو جو کہ 25 ڈالر کا ہوتا ہے۔ میں نے خود چند خواتین کے لئے سٹوروں میں مارا مارا پھر کر کچن گلووز، dove شیمپو اور صابن۔ ایک ایک ڈالر کے ڈیکوریشن پیس۔ پیسٹری کا ایک سلائس جیسی چیزیں لی ہیں۔
اور یہ وہ لوگ ہیں جنکو عوام کہا جاتا ہے۔ مزید آسانی کے لئے یہ لوگ excluding top 1% لوگ ہیں۔ ہم لوگ پیسے کے زور پر ایک دوسرے اور رشتوں کو تولتے ہیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ گوری چمڑی سے متاثر ہوں تو پڑھتے رہئے ان گوری چمڑی والوں کے مزید ایسے کارنامے لکھتا رہوگا جس سے ہمیں اپنا گریبان جھانکنے کی توفیق ہو۔
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
236 views
Related Posts
- None Found


























ویسے تو کہتے ہیں کہ کالیوں کہ علاوہ کوئی منہ نہیں لگاتی تو یہ صابن اور شیمپو کے لیے مارے مارے کن عورتوں کے لیے پھرے؟ آپکا خیال ہے کہ ان کالیوں کی رنگت ان شیمپوؤںصابنوں سے بدلنے والی ہے؟ :thinkin/
لیکن بات بالکل صحیح کی ہے آپنے۔ میں نے پہلی دفعہ جرمنی جانا تھا تو سوچا وہاں کے کولیگز کے لئے کچھ تحفے تحائف لے جاؤں لیکن میرے باس اور دوسرے لوگوں نے منع کر دیا کی نہیں۔ اور اگر لے کر ہی جانا ہے تو بہت سستی اور معمولی چیز لے کر جانا۔ مہنگے تحفے کو وہ لوگ پسند نہیں کرتے اور تحفہ دینے والے کو بھی۔ شاید وہ رشوت کا تاثر لیتے ہیںکہ یہ ہم سے کوئی ایسا ویسا کام کروانا چاہتا ہے ورنہ مجھے کیوں اتنا مہنگا تحفہ دے رہا ہے؟ میں کیا اسکے پھپھے کا پتر ہوں؟ (پر اُسے کیا پتہ کہ پھپھے کے پتر کی کوئی ویلیو ہوتی ہے بھلا؟) پھر مجھے سمجھ آئی کہ جب بھی یہ باہر والے آتے ہیں تو ٹیبل کیلنڈر یا10۔ 10 روپے والا چینی مال ہی کیوں لاتے ہیں؟
ڈفر’s last blog post..پیارے چِیپ جسٹس
ہمارے ہاں تو تحفے تحائف دینے کی رسم صرف سالگرہ، شادی بیاہ یا ایسی دوسری تقریبات تک محدود رہ گئی ہے۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی ارشاد لکھنا چاہتا تھا جو آپ نے لکھا۔ اچھا ہے اگر اس طرح کے اخلاقی معاملات میں گوروں کا اور ہمارا تقابل ہو۔ شاید اسی طرح کچھ مثبت تبدیلی آسکے۔
ویسے تو ہمارے ہاں حسد کی بیماری کافی عام ہے لیکن اچھے معاملات میں ہم حسد سے دور رہتے ہیں۔
واہ جی، خوشی ہوئی پڑھ کے۔ امریکن بھی میرا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ :kool: دیہی علاقوں میں تو چینی اور دالیں بھی تحفہ میں دیتے ہیں۔ میری امی ابھی تک ایسے ہی تحفے دیتی ہیں لیکن نئے زمانے کے لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں(بشمول میرا سسرال)۔
ساجداقبال’s last blog post..اب کے ہم بچھڑے تو شاید
:thinkin/
اچھی تحریر ہے کچھ گتھیاں سلجھ گئیں اس معاشرے کو سمجھنے میں جہاں رہتے ہیں۔ چونکہ آپ کا انٹیریکشن گوری یا کالیوںسے زیادہ ہے
امید ہے آپ دیگر معاشرتی رویئوں پر لکھتے رہیں گے
سب سے مزے کی بات یہ کہ تحفہ آپ کے سامنے بلکہ سب کے سامنے کھول کر دیکھا بھی جاتا ہے لیکن ویسے بھی سب کے ایک کی میعار کے ہوتے ہیں اسلیے کوئی فکر نہیں ہوتی
۔۔
راشد کامران’s last blog post..Hockey Mom vs Polo Dads
ڈفر: بندہ ٹرائی تو کرتا ہے نہ کیا پتہ کالی گوری ہو ہی جائے
گفٹ ایسے ہی اکٹھے ہوتے ہیں۔ میرے ابو بھی ہر دی گٕی چیز کو سارا سال اپنے اٹیجی کیس میں بھرتے رہتے ہیں اور سال کے اختتام پر وہ گفٹس بن جاتے ہیں
میری کتنی گمشدہ چیزیں ادھر سے ہی برآمد ہوتی ہیں۔
عمار: ان موقعوں پر بھی تحائف ٹریڈ ہی ہیں کہ آج دیں گے تو کل کو لیں گے بھی۔
ساجد: آنٹی بالکل درست کرتی ہیں۔ مجھے تحفقے کی قدر نہ کرنے والے لوگ بالکل نہیںپسند۔ اپنے سسرال سے دبنا نہ میرا بھائی۔ ورنہ مجھے ایسے لوگ بھی پسند نہیں۔
بوچھی: o:-) ساب کی سب 35 سے اوپر کی ہیں اور جو ایک 19 کی ہے اس کا بھی بوائے فرینڈ ہیں لہذا ثابت ہوا لوگوں کے دوستوں کے لٕے تحإف لیتے وقت مجھے ڈرائیور بنا کر ساتھ لے جایا جاتا ہے۔
تشویش میں کمی اب لازمی ہونی چاہئے
احمد: گوریوں سے کہاں :-s صرف کالیوں سے ;;)
راشد: جب مانگ کر لیا ہے تو وہی نکلے گا نہ جو انہوں نے مانگا تھا۔ اور اسی لٕے امریکی اچھے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی اور کساد بازاری نے ہماری روایات کا بھرکس نکال دیا ہے۔ مہمان نوازی اور تحفے تحائف اب جوئے شیر لانے سے بھی مشکل لگتے ہیں۔ گھر کا خرچ پورا نہ ہو تو تحفے تحائف کیا خاک دئیے جائیں۔
دوست’s last blog post..اور کل عید ہے
شاکر میرا پوائنٹ ہے کہ تحفہ ہمارے بجٹ پر بوجھ کیوں بنے؟ 20 پچیس کی چیز کو ہم لوگ تحفہ کیوں نہیں سمجھتے۔