اجتماعیت
173 views Published October 3rd, 2008 in میرے اقوال :P.مذہب ہی وہ واحد طاقت ہے جو کسی بھی انسان کو اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ کسی بھی اجتماعی مقصد کے حصول کے لئے خرچ کرتے کسی قسم کے تردد یا افسوس میں مبتلا نہیں کرتا۔
جہاں اجتماعیت کی جگہ انفرادیت کا رجحان ہو وہاں تباہی مقدر ہوتی ہے۔
Popularity: 5%
Popularity: 5%
173 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
کچھ سمجھ نہیں آئی بات۔
پہلے آپ نے مذہب کی بات کی پھر اجتماعیت کی، گویا دونوںایک ہی چیز کے دو نام ہوں
ویسے لامذہب لوگ بھی اجتماعی مقاصد کیلئے کافی کچھ کرتے ہیں۔ صرف مذہب ہی ایسے کسی کام کی بنیاد نہیں بنتا۔
اجتماعی فعل یا کلیکٹیو ایکشن پر خاصے لوگوںنے کام کیا ہے، گوگلا دیکھئے۔
فیصل’s last blog post..ہمارا نیا نوکیا -۲
لا دین لوگ بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں لیکن صرف کسی ایک خاص مقصد کے لئے، اور اس مقصد کے پیچھے ہر بندے کی اپنی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ ایک گیا اگلا اپنی سوچ کے مطابق کام شروع کر دے گا۔ پہلے سمت دوسری ہو گی اسکے بعد دوسری ۔۔۔ جبکہ مذہب کے مقاصد پری ڈیفائینڈ ہوتے ہیں، جو آئے گا اسکا ایک ہی مقصد ہو گا
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں۔
میرے خیال میں ملت کی بنیاد مذ ہب ہی ہوتی ہے۔
ویسے آپس کی بات ہے ہمارے مولوی آجکل وہی کر رہے ہیں جو میں نے اوپر لکھا ۔ ہر ایک اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کے بیٹھا ہے اور نتیجہ آپکے سامنے ہے۔
ڈفر’s last blog post..پیارے چِیپ جسٹس
فیصل: مذہب ہی اجتماعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ ایسے اجتماعیت کی جس میں ذاتی غرض شامل نہ ہو۔ اس کے برعکس لامذہب لوگوں کا اجتماع عموما کسی خاص مقصد کے حصول جس میں ان کی ذاتی فائدے کی کوشش بھی شامل ہوتی ہے۔ پین بٹ نو گین کا فلسفہ صرف مذہب سے جڑا ہے۔ ہاں اگر اس کی ڈیفائن کرتے کرتے آپ مذہب کو الگ کرتے جائیں تو پھر بات اور ہے۔
ڈفر۔ شکریہ۔
ویل ڈیفائنڈ