زرداری ساڈا شیر اے
333 views 6 Comments Published September 28th, 2008 in امریکہ نامہ, دنیا نامہ, پاکستان نامہ.آجکل پاکستانی میڈیا ایک عجب مصیبت کا شکار ہے۔ اگر آپ نوٹ کریں تو ہر چینل پر نیوز کاسٹر، کمینٹر، ہوسٹ صدر کہنے کے بعد ایک لمحہ کا pause کرتا ہے۔ وہ اس کشمکش میں ہوتا ہے کہ یا اللہ صدر زرداری؟ پھر بالآخر کڑوی گولی نگل ہی لیتا ہے۔
زرداری کے حمایتیوں کو جو اس کے خلاف ہر بات کو پرانی کہہ کر جھٹلا دیتے ہیں کہ جی بس کرو اب پرانی ہو گئی یا کہہ دیتے ہیں کہ جی یہ تو ثابت ہی نہیں ہوئی ایسے تو مشرف کے 9 میں سے 8 سال عدالت کے حمایت یافتہ تھے ایک سال ہی اس کی محاذ آرائی رہی خیر ہم زرداری کی اہلیت پر ماضی کے بجائے حالئہ دورے کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہیں اور مجھے یقین ہیں ہم اس قدر ڈھیٹ ہیں کہ اس پر بھی یہی کہیں گے تو پھر کیا ہوا؟ اس کا پہلا دورہ تھا۔
پہلے تو زرداری کی اہلیت اسی میں ہے؟ کہ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم کی حیثیت کسی طور جمالی یا شوکت عزیز سے برتر نہیں۔ جب وزیراعظم سب کچھ ہوتا ہے تو صدر کس بل پر ادھر ادھر پھر رہا ہے؟ یہی اس کی نااہل اور ہمارے بےوقوف ہونے کی نشانی ہے کہ جب پہلی اینٹ غلط ہے تو زرداری اور مشرف میں فرق کیا؟
پھر زرداری کے جیتنے پر ہر اخبار نے کیا سرخی دی؟ benezir widower wins head of the state of Pakistan یعنی بینظیر کا "رنڈوا" پاکستان کا سربراہ بن گیا۔ ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ ڈی گریڈ کرنے والی بات ہے۔ یاد رہے کہ اس کی عدالتوں کے لئے لی گئی ڈاکٹری رخصتیاں انہی اخبارات نے ڈھونڈ کر شائع کی تھیں یعنی پاکستان ایسا ملک ہے جسے کے عوام اس قدر بےوقوف ہیں کہ ان کا سربراہ دماغی طور پر درست نہیں۔
دماغی حالت کا احوال تو یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے سارا پیلن صرف اور صرف ہنری کیسینجر کو گلے لگانے کے موڈ میں تھی۔ ویسے زرداری نے ٹوڈ پیلن کو دیکھ رکھا ہے؟ خیر یہی بس نہیں زرداری نے یہاں جو لطیفے چھوڑے ہیں ان پر ہر کوئی بالکل ویسے ہی دانت نکالے کھڑا ہے جیسے آجکل زرداری نکالتا رہتا ہے اور یہ بالکل ویسی ہی awkward دندیاں ہیں جیسی مکین تقریر کے دوران نکال کر pause کرتا ہے۔
یہ جو سیاستدان ہوتے ہیں انکی باقاعدہ ٹریننگ ہوتی ہے کہ انہوں ںے میڈیا کے سامنے کیسے ایکٹ کرنا ہے۔ شائد بل کلنٹن نے ایک فارم پر چھوٹے سے پگ کو اٹھایا تو ایک اہلکار فورا لپک کر آیا تھا کہ منہ بنا کر نہیں اٹھانا ہنستے مسکراتے اٹھانا ہے اسی طرح کسی خاتون کی گود میں بچے کو بھی پیار کرنا وغیرہ اس ٹریننگ کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ ٹریننگ آصف نے لی ہی نہیں ہو گی کیونکہ اس کو گھمنڈ ہی اتنا ہو گا کہ اس کو سب پتہ ہے نتیجہ کیا نکلا۔ ملاحظہ فرمائیں۔
جب دو سربراہان ملتے ہیں تو میڈیا کے سامنے photo op ہوتی ہے یعنی سارا پریس ہوتا ہے تو دونوں ملکر تصویر کھنچواتے ہیں۔ اس دوران اب دونوں چپ کر کے تو نہیں بیٹھ سکتے لہذا دونوں باری باری ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں۔ اس دوران جس کی تعریف ہو اس کو چپ رہنا ہوتا ہے اور ہلکے سے مسکراہٹ لانی ہوتی ہے۔ کاش میں آپ لوگوں کو وہ سین دیکھا سکتا صدر بش، زرداری کی تعریف کر رہے ہیں اور زرداری صاحب اسی طرح ڈینٹونک کا اشتہار بنے تھینک یو تھینک یو تھینک یو کا رٹا لگا رہے ہیں۔ اس قدر برا لگ رہا تھا کہ حد نہیں۔
دوسری طرف منموہن سنگھ بھی تشریف لائے۔ وہ پڑھا کر لائے گئے تھے۔ ان کا انداز بالکل درست تھا۔ منموہن کا ذکر ہے تو آصف کو خالی پیلن کو ہی گلے لگانے کا شوق نہیں تھا۔ وہاں تو شائد کسی وجہ سے رک گئے۔ منموہن کو زبردستی گلے لگا لیا۔ مجبورا منموہن کو بھی ان کے گلے لگنا پڑا۔ اس وقت منموہن کے چہرے کے تاثرات دیکھنے والے تھے۔ یہاں بھی زرداری کے دانت۔
سائیڈ نوٹ یہ بھارتی ہر دفعہ کیوں ملاقات کی دعوت دیتے ہیں اور ہم قبول بھی کر لیتے ہیں؟
پھر اگر آپ نے کونڈالیزا رائس کی سربراہان سے ملاقات کی تصاویر یا ابھی پیلن کی تصاویر دیکھی ہوں مثال کے طور پر جارجیا کے صدر والی ہی تصویر ڈھونڈ لیں تو اگر صوفہ ہو تو ایج پر بیٹھ کر بات چیت کی جاتی ہے اول شور بہت دوسرا یہ کہ ایکٹو ہیں۔ اگر کرسی ہو تو پھر بالکل up straight بیٹھتے ہیں۔ اور پیپلز پارٹی کے صدر؟ یہ جناب صوفے میں بیٹھے ہیں تو ایسے کہ ڈر ہو کہ جگہ خالی چھوڑ دی تو کوئی اور نہ آ کر بیٹھ جائے اور کرسی پر بیٹھے ہیں تو ٹانگیں کھول کر نمائش لگائی ہوئی ہے۔ کرسی پر بھی ہینڈ ریسٹ وہی استعمال ہوتا ہے جو دوسرے سربراہ کی طرف ہو اور ٹانگیں سمیٹ کر بند ہوتی ہیں اور ہاتھ گود میں۔ یہ پریس ٹائم ہوتا ہے ڈنر نہیں۔
پھر زرداری صاحب اقوام متحدہ میں بھی جھنڈے گاڑ آئے ہیں۔ پاکستان میں تو یہی ہو گا کہ بڑی تڑیاں دی ہیں پر یہاں ان کی درخواست تھی کہ اللہ دا واسطہ ہے اینج نہ کرو۔ ڈائس پر بھی بالکل سیدھے attention کھڑے ہوتے ہیں۔ آپ صرف دو حرکتیں کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ نظر اٹھا کر حاظرین کو دیکھیں اور پھر اپنی تقریر کو دیکھ کر پڑھیں۔ یعنی eye contact دوسری ہوتی ہے کہ آپ صرف تقریر کا صفحہ پلٹیں۔ اور زرداری صاحب؟ چونکہ تقریر مدرسہ اور مولوی کے ڈر کے متعلق تھی لہذا نہ جانے ان پر لرزہ طاری ہو گیا یا ان کو انہی مدرسہ کے جھوم جھوم کر پڑھنے والے بچے یاد آ گئے اور زرداری صاحب Literally دائیں سے بائیں اور واپس بائیں سے دائیں جھولنے شروع ہو گئے۔ اور ساری تقریر میں جھولتے ہی رہے ہیں۔ ایک افواہ یہ بھی ہے کہ intoxicated تھے۔ اب ان کو ہی علم ہو کہ چکر کیوں آ رہے تھے۔ ڈائس پر بالکل سیدھے کھڑے ہوتے ہیں اور اگر مڑنا بھی ہو تو صرف اوپری دھڑ مڑتا ہے۔ پینڈولم نہیں بنا جاتا۔
اس کے علاوہ بھی انہوں نے ادھر ادھر لطیفے مارے ہونگے میں نے دیکھے نہیں بس اتنا ہی دیکھا تھا۔ ویسے میرا نہیں خیال زرداری سپورٹرز کے لئے یہ ان کی نااہلیت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ ان کی تو تربیت ہی نہیں ہوئی اگر ایسا ہے تو گنوار ثابت کرنے کے لئے کافی ہے؟
Popularity: 7% [?]
Popularity: 7% [?]
333 views
Related Posts
- None Found
Random Posts
6 Responses to “زرداری ساڈا شیر اے”
- 1 Pingback on Oct 5th, 2008 at 9:27 am
- 2 Pingback on Oct 17th, 2008 at 6:26 pm






زرداری صاحب کی بتیسی ہر تصویر میںایک جیسی ہی نظر آتی ہے اور انہیںاس بات کی پرواہ نہیںہوتی کہ ملنے والے کے چہرے کے کیا تاثرات ہیں۔ ہم نے تمام تصاویر ایک جگہ اکٹھی کر کے دیکھی ہیں ہر تصویر دوسری کی ڈپلیکیٹ لگتی ہے۔
میرا پاکستان’s last blog post..صدر زرداری کے بارے میں پشین گوئیاں
زرداری کو آخر لائے بھی تو ہمارے منتخب کردہ نمائندے ہیں۔۔
شکاری’s last blog post..دکھتی رگ
زرداری شیر نہیں شیر مارکہ منجن کا اشتہار ہے
ڈفر’s last blog post..پیارے چِیپ جسٹس