ریسرچ ایںڈ ڈیویلوپمینٹ سے مسلمانوں کی جان جاتی ہے۔ اگر آپ ویسے بھی دیکھیں تو ہدایات پر عمل کرنا ہمیں کچھ خاص محبوب نہیں۔ کجا تحقیق کر کے بہتری لانے میں۔ آپ کسی کو کچھ سیکھائیں اور گارنٹی ہے کہ صاحب وہی بیٹھے ہونگے۔ بلکہ بہت سے تو عام طور پر جو سکھایا گیا ہو اس سے بھی پیدل ہو جاتے ہیں۔ اس کی اہمیت اس قدر ہے کہ جو ٹینکالوجی ملٹی نیشنل کمپنیاں آپ کو سیکرٹ کہہ کر دینے سے انکار کریں گیں یا پھر انتہائی مہنگے داموں فروخت کریں گیں وہی چیز انڈیا نے صرف آر اینڈ ڈی کی بدولت مفت ان کمپنیوں کے خرچہ پر حاصل کی ہے کہ اب یہ سب کام وہاں شفٹ ہو رہا ہے۔
زیادہ دور کیوں جائیں۔ 1400 سالوں سے ہم سے ایک تحقیق نہیں ہوئی۔ مسلمانوں پر کافی دوسری راتوں کی طرح شب قدر بھی آتی ہے اور نکل جاتی ہے۔ سکول میں آپ کو پڑھایا جاتا ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس کو ڈھونڈنا ہے کیونکہ اللہ میاں نے دو بندوں کی لڑائی کی وجہ سے امت پر یہ آفت نازل کی کہ بس اب اس رات کو ڈھونڈو۔ پہلی بات یہ سوچنے والی کہ اللہ میاں نے اس فرشتہ کو بیچ راستہ واپس کیسے بلایا ہو گا؟ کیا فرشتوں کے پاس سیل فون ہوتے ہیں؟ میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ دین میں ایسی ایسی چیزیں ڈھونڈتے ہیں کہ عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ دوسری بات کہ حکم ہے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس کو ڈھونڈنے کا اور مسلمان 27 ویں کو تکیہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ (ویسے نہ گرمی نہ سردی کے حساب سے تو ہماری شب قدر 27 ویں ہی تھیں) لیکن ہر سال اس پر ہی تکیہ کئے بیٹھنا ذرا نامناسب بات ہے۔ پھر ہمارے اخبار بھی یہی خبر پھیلاتے ہیں کہ مسلمانوں نے شب قدر 27 کو منائی یعنی باقی راتوں کا رستہ ہی بند کر دیتے ہیں۔
اب بات آئی آر اینڈ ڈی کی۔ اللہ میاں نے تو فاؤل پلے کیا ہی کیا کہ دو کے پیچھے بخشے بخشائے مسلمانوں کو ڈھونڈنے کے کام پر لگا دیا۔ لیکن کیا مسلمان 1400 سالوں کا ڈیٹا نہیں جمع کر سکتے تھے؟ اس ڈیٹا کو صرف پلاٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور آپ کے پاس ایک پیٹرن آ جائے گا کہ کس الگورتھم کے تحت شب قدر کا نزول ہو رہا ہے۔ اوہ معذرت ہم تو ابھی تک چاند پر لڑ رہے ہٰیں یہ ڈیٹا والی بات ذرا مشکل کام ہے۔
سائیڈ نوٹ:
ابھی جیو پر ڈاکٹر عامر لیاقت جعلی ڈگری والے فرما رہے تھے کہ لیلتہ القدر کو آخری سات راتوں میں ڈھونڈو۔ ان کو دو گھگو جو بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بھی نہیں بتایا کہ “ابے او” آخری عشرے میں 5 طاق راتیں ہیں دو گھر سے ڈال لی ہیں؟ تو
شب قدر میں ورڈ “شب” سے مراد رات ہے نہ کہ یہ والی شب۔ لہذا ایس ایم ایس نیٹورک جام کرنے کی ضرورت نہیں۔
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
211 views
Related Posts
- None Found


























آپکا کیا خیال ہے کہ اللہ تعالٰی سٹیٹسٹکس کی کسی سیریز سے شبِ قدر نازل فرماتا ہو گا؟
اور اس کمینے ڈاکٹر بلکہ کمپوڈر کا نام لے کے ایویں دل خراب کر دیا۔ جاہل کا بچہ ہے ۔۔۔
ڈفر’s last blog post..پیارے چِیپ جسٹس
اللہ میاں نے اس فرشتہ کو بیچ راستہ واپس کیسے بلایا ہو گا؟ کیا فرشتوں کے پاس سیل فون ہوتے ہیں؟
اب ایسی بونگیوں کا کیا جواب دیا جائے؟ کل کو آپ یہ پوچھے کہ اصلی تے وڈے بگ بینگ کے لئے اللہ میاں نے سرن جیسی لیبارٹری کہاں اور کتنی کی بنائی تھی یا یہ کہ فرشتے اوپر نیچے جانے کیلیے ٹھوس، مائع میں سے کونسا ایندھن استعمال کرتے ہیں؟ :ms:
زرا آپ بھی آر اینڈ ڈی کو کام میں لائیں اور ”کن فیکون“ کے معنی تلاشیں۔
نبی علیہ السلام کا اپنا معمول طاق راتوں میں تلاشنے کا تھا اور یہی انکا ارشاد تو سیدھے سے معنی ہوئے کہ یہ ویری ایبل ہوگی، شماریات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم لوگوں کی ذہنیت واقعی غلط ہے کہ صرف 27 ویں کو لیکر بیٹھ جاتے ہیں۔
ساجداقبال’s last blog post..اب کے ہم بچھڑے تو شاید
ڈفر آپ کا کیا خیال ہے اللہ کے کام بے ترتیب ہونگے؟
ساجد اقبال: ساجد آپ کا کیا خیال ہے فرشتہ نیچے اترنے کے لئے وہیل مچھلی کی طرح پیھپڑوںمیں پانی بھر کر نیچے آتے ہونگے اور ہوا بھر کر واپس اوپر جاتے ہونگے؟ میری تحریر کم از کم دو دفعہ ضرور پڑھا کریں میں نے یہ طنز کیا تھا خیر کوٕئی بات نہیں۔
آپ سے بھی یہی سوال ہے آپ کا کیا خیال ہے ان پانچ راتوں میں کوئی ربط نہیںہو گا؟ چلیں آپ ساری باتیں چھوڑیں صرف آپ ذرا اتنا بتا دیں کہ اگر اس رات لڑائی نہ ہو رہی ہوتی تو خدا کیا کہتا کہ شب قدر کب نازل ہو گی۔ اگر جواب نہ آئے تو کوئی بات نہیں مسلمانوں کا آجکل یہی حال ہے۔
اگر آپ کی مراد جدید دور کے مسلمان مراد ہیں تو حقیقتا ریسرچ سے جان جاتی ہے لیکن مسلمانوں کا عمومی مزاج ایسا نہیں تھا بلکہ آر اینڈ ڈی کی کئی قسموں کے بانی بھی رہے ہیں۔۔ شپ قدر کے طاق راتوں میں مطلق قیام اور کسی پیٹرن پر واقع ہونا قدرے ثانوی چیز ہے اصل مدعا تقوی کے حصول کی جدوجہد ہے جو رمضان کا اصل مقصد بھی ہے۔۔ آخر کے دس دن کا اعتکاف اور اس میں خلوص نیت سے عبادت گویا شب قدر کے حصول کی گارنٹی ہے۔۔ باقی آدمیوں کی لڑائی، گرمی سردی، کتوں کا بھونکنا یہ سب روایات کی چیزیں ہیں۔
راشد کامران’s last blog post..Hockey Mom vs Polo Dads
لڑائی والی بات صرف روایات کے تحت کی جاتی ہے کیونکہ جب بھی کوئی حدیث بیان کی جاتی ہے تو اس وقت کے موجودہ حالات کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرنا حدیث کے مستند ہونے کے لیے ضروری بھی ہے
شکاری’s last blog post..دکھتی رگ