میرے دادا تحصیلدار تھے۔ سرکاری دفاتر سے ان کو عادت تھی کہ نوٹ کرنا کہ ان کی چیزیں کسی نے چھیڑیں تو نہیں ہوئیں؟ لہذا ہمارے آبائی گھر کے تین کمروں میں سے ایک پورا کمرہ ان کا تھا جو انکا ہوم آفس تھا۔ یہ بڑی دلچسپ چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔ قلم دوات سلیٹ، سلیٹیاں، گاچی، لاتعداد انک پین بال پین اور بلامبالغہ شائد وہ تمام پین اڑھائی تین سو کی تعداد میں ہوں۔ بہت سی کاپیاں کتابیں اخبار غرض اسٹیشنری سٹور تھا۔ ان کی لوہے کی الماری جس میں وہ بچوں کے لئے نمکین بسکٹ رکھتے تھے۔ یہ بسکٹ ان کو اس لئے پسند تھے کہ میٹھے نہیں ہوتے تھے اور ہمیں اس لئے کہ اس پیکٹ میں چار کے بجائے چھ بسکٹ ہوا کرتے تھے۔
جب ہم لوگ اتنے بڑے ہوئے کہ چیزیں نہ صرف چھیڑ سکیں بلکہ حسب ضرورت ادھار لے کر واپس نہ کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا رہیں۔ لہذا دادی کے گھر میں دادا ابو کی چیزوں کی شامت بہت آئی۔ سلیٹ نکال لی اور باہر صحن میں چھوڑی دی کہ دھوپ میں سڑتی رہے یا حسب ضرورت ان کے پیڈ سے صفحہ نکال کر اس کو انہی کے محدب عدسہ سے جلا جلا کر وہی دہلیز پر چھوڑ دیا۔ یا پھر ان کے کمرے سے پینسل نکال کر کاغذ پر سارے کھیل کھیلے اور پنسلیں ایسے ہی ادھر ادھر پھینک دیں۔
دادا سمجھتے تھے کہ بچے کچھ پڑھتے رہے ہیں۔ وہ نوٹس لکھا کرتے تھے اور ان کے نیچے سے جب ہم کاغذ نکالتے تھے تو ان کا خیال تھا کہ کوئی بڑا ان کے کاغذات پڑھتا رہا ہے۔ پکڑتے ایسے تھے کہ وہ بورڈ پر ٹوتھ پک ٹکا جاتے تھے۔ اگر کوئی بورڈ سے کاغذ نکالے تو ٹوتھ پک ہلکی سی ادھر ادھر ہو جانا لازمی بات ہے اور ان کو چونکہ پتا تھا لہذا وہ سمجھ جاتے تھے کہ کوئی چھیڑ چھاڑ کر کے گیا ہے۔ میں ہمیشہ ٹوتھ پک واپس رکھ دیتا تھا
ٹوتھ پک کو میں نے ذرا دوسرے طریقے سے استعمال کیا۔ اکثر لوگ بورڈ پر ہی پین لگا دیتے ہیں۔ اگر بال پین کھلا ہو تو صفحہ پلٹنے پر وہ لازمی بات ہے صفحہ پر نشان ڈالے گا۔ اکثر لوگ آپ کے نوٹس پڑھتے ہوئے بال پین نکال دیں گیں۔ لہذا وہی ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں۔ یہ اتنی چھوٹی سی باہر نکلی ہو کہ لکھائی پر نہ آ رہی ہو۔ بس جو صفحہ پلٹے گا یہ صفحہ میں سوراخ کر دے گی۔
جاسوسی کے ٹرک آجکل بہت بڑھ گئے ہوئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ کوئی آپ کے پاس ہو تبھی آپ کی گفتگو سن سکے۔ اگر آپ کا خیال ہو کہ جاسوسی آلات سے دور بیٹھے باتیں سننے کی بات تو اس کے علاوہ بھی بہت سمپل چیزوں سے آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ بلکہ میں نے ایک دھیلا خرچے بغیر کوئی آلہ لئے بغیر یک طرفہ اور دو طرفہ دونوں قسم کے فون ٹیپ کئے ہوئے ہیں۔ اب یہ مت پوچھیں کہ کیسے
کم از کم بھی تین چار سال ہو گئے ہونگے۔ بعض دفعہ صرف اپنا پوائنٹ ثابت کرنا ہوتا ہے۔
اسی طرح سیل فون کی چپس ہیں۔ بیٹھے باتیں سنتے رہیں۔ اسی پر بس نہیں اب تو ایسے ایسے سینسرز ہیں جو کہ کسی سطح پر صرف آواز کی لہروں کی ٹکر کو ٹرانسمٹ کر دیتے ہیں۔ آگے وہ خود ہی اس کو آواز میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ آپ چان بھی نہیں سکیں گیں کہ یہ بے ضرر سی چیز کیا ہے۔
جی پی ایس کی بڑی دھوم ہے۔ یہاں پانچ چھ ماہ پہلے اخبار نے ایک رپورٹ کی جس میں یہ تھا کہ پولیس مشتبہ مجرموں کو جی پی ایس سے ٹریک کر رہی ہے اور اس پر بحث تھی کہ جب تک کسی پر فرد جرم عائد نہ کی جائے ایسی ٹریکنگ آئینی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں۔ ورجینیا کے سبھی شہروں اور کاونٹیز کے پولیس ڈیپارٹمنٹس اس کو استعمال کرتے ہیں کچھے نے اعتراف کیا کچھ نے تصدیق یا تردید کرنے سے معذوری ظاہر کی لیکن کہا کہ وہ یہ آپشن رکھتے ہیں۔
یہ جو پرنٹر ہیں۔ سب تو نہیں لیکن لیزرز ان میں یہ ٹیکنالوجی ہے کہ یہ پرنٹ کرتے وقت صفحہ پر ایک کوڈ سا بنا دیتےہیں جو آپ کو نظر نہیں آئے گا۔ اگر کسی پرنٹڈ صفحہ کی کسی جرم یا تحقیق میں ضرورت ہو تو اس صفحہ سے پتہ چل جائے گا کہ یہ کس پرنٹر سے پرنٹ ہوا۔ ریکارڈ سے پتہ لگا لیا جائے گا کہ یہ خاص پرنٹر کس کسٹمر کو کہاں پیچا گیا تھا۔ بس ایڈریس نکالیں اور پہنچ جائیں۔ کیا آپ اس کا یقین کر سکتے ہیں؟
اتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کچھ پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اگر آپ کورئیر سے سی ڈی یا ڈی وی ڈی بھیجتے ہیں تو وہ اگلے کھول کر اطمینان سے بیٹھ کر دیکھ کر کلئیر کرتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ تصویر کو انکرپٹ کرنا اور تصویر میں ڈیٹا چھپانے کے پراجیکٹ تھے۔ کافی سالوں پہلے۔ لہذا اس تیز رفتار نیٹ کے زمانے میں جب پوری سی ڈی بھیجنا چند گھنٹوں کا کام ہے توجیہہ یہ دی جاتی ہے کہیں کچھ راز نہ بھیجے جا رہے ہوں۔ حالانکہ یہی رازوں بھری سی ڈی لوگ آتے جاتے کے ہاتھ بھییج دیتے ہونگے۔ مجھے پتہ ہے ڈی ایچ ایل والے سی ڈی نہیں لیتے لیکن باقی بہت سے لوگ یہاں سے سی ڈیز بھیجتے اور وصول کرتے رہتے ہیں۔ کیسے اور کس کورئیر سے یہ نہیں علم۔ کسی نے کبھی پاکستان سے سی ڈی یا ڈی وی ڈی ڈاک سے کبھی وصول کی؟
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
180 views
Related Posts
- None Found


























اس تحریر سے بد تمیز بندھ ایک پر اسرار بندھ بننے کی طرف جارها ہے
بڑی کم دیاں گلاں نے جی ـ
کجھ هور تفصیل نال لکھو جی ـ
خاور’s last blog post..اپنے من میں ڈوب
دادا والا قصہ بہت مزیدار ہے
سائینسی باتیں زیادہ اٹریکٹ نہیں کرتیں
ڈفر’s last blog post..پیارے چِیپ جسٹس
خاور: دیکھوں گا مزید معلومات ملیں
ڈفر: جی ہماری قوم کو بس گانا بجانا پسند ہے۔ پھر رونا۔