سارا پیلن کی پہلی تقریر ان کا تعارف ہی تھا۔ ری پبلکن کی طرف سے nomination قبول کرنے کی تقریر آدھی پہلی تقریر یعنی اپنا وہی تعارف اور آدھی براک کی خبر لینے پر مشتمل تھی۔ میڈیا نے شروع شروع میں تو تجزئیہ کیا کہ شائد جو بائیڈن کو اس تند و تیز لب و لہجہ سے گریز کرنا پڑے گا جو انہوں نے جان مکین کے لئے استعمال کیا لیکن جان مکین کیمپین کے اور ہی پلان تھے۔ انہوں نے سارا پیلن کو براک سے نبرد آزما کرنے کا نسخہ آزمایا ہے۔ عورت سے لڑائی کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ جیتے تو بھی آپ کی بےعزتی اور وہ ہارے تب بھی آپ کی ہی عزت پر حرف آّتا ہے۔
براک اوبامہ ایک عام سے امیدوار تھے۔ ان کے پاس سوائے ذہانت کے کچھ نہیں تھا۔ حتی کہ شروع میں ان کو دھمکیوں کے باعث خفیہ اداروں سے باڈی گارڈ بھی حاصل کرنے پڑے۔ لوگ بتدریج ان سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ براک نہ صرف خود ذہین ہیں بلکہ ان کی کیمپین چلانے والے بھی ایسے ہی افراد پر مشتمل ہیں۔ آپ جیسے ہوتے ہیں ویسے ہی لوگ اپنے ارد گرد رکھنا پسند کرتے ہیں۔
براک کی میڈیا ٹیم نے انٹرنیٹ کو بے حد عمدہ طریقہ سے استعمال کیا۔ پہلے ہیلری کلنٹن کے بڑے بڑے چندہ دینے والوں کے مقابلے میں چھوٹے چھوٹے چندہ دینے والے عوام کی مدد سے ایک ماہ میں 55 ملین ڈالر جمع کر کے ہیلری کو حیرت زدہ کر دیا۔ پھر فیس بک کا ایک کو فاؤنڈر براک کے سوشل نیٹورک کو ڈیویلپ کرنے میں مدد کے لئے موجود تھا۔ اس لنک پر (بشکریہ زکریا) تفصیل موجود ہے کہ براک کی میڈیا ٹیم نے انٹرنیٹ کیسے استعمال کیا۔ ابھی میں ایسے ہی یوٹیوب پر دونوں کے اعداد و شمار دیکھ رہا تھا۔ براک کے چینل پر 1250 ویڈیوز ہیں جبکہ مکین کے چینل نے صرف 262 ویڈیوز اپلوڈ کرنے کی زحمت کی۔ اسی طرح براک کے سبسکرائبر 83000 ہیں جبکہ مکین کو صرف 18000 لوگوں نے سبسکرائب کیا۔ ویسے کیاآپ کو علم ہے؟ کہ مکین ای میل استعمال نہیں کرتے۔
سارہ پیلن نے ان مذکورہ تقاریر میں طیارہ فروخت کرنے اور شیف فارغ کرنے کی بات کہہ کر داد وصول کی۔ طیارہ ہی وہ ایشو تھا جس کو لے کر سارہ نے یہ انتخابات جیتے تھے۔ لہذا اس کی فروخت یقینی تھی۔ ابھی کل پرسوں ایک تفصیلی خبر (updated link) میں سارہ پیلن اور ان کے خاندان کے ان اخراجات کی تفصیلات تھیں جو انہوں نے الاسکا کے خزانہ سے وصول کئے۔ ان میں ایک بیان یہ بھی تھا کہ گورنر الاسکا خود کھانے پکانے کو ترجیح دیتی ہیں لہذا انہوں نے شیف فارغ کیا۔ یہ شائد اتنی بڑی بات نہ ہو لیکن کچھ چیزیں مزے دار ہیں جیسے ایک بیٹی کے ہمراہ نیویارک ایک فیشن میگزین کی پارٹی میں شمولیت کے لئے جانا اور گورنمنٹ فنڈ استعمال کرنا۔ جس ہوٹل میں رہیں وہاں کا کرایہ 707 ڈالر فی رات تھا۔ اسی طرح اپنے شوہر ٹوڈ کی جس سنو موبل چیمپئن شپ کا ذکر کرتی ہیں اس کو دیکھنے تک کے لئے جب گئیں تو اس کا خرچہ بھی حکومت سے لیا گیا ہے۔
سابق گورنر نے 473000 ڈالر کی سیریں کیں تو سارہ نے 93000 ڈالر کی۔ فرق وہی طیارہ تھا۔ لیکن یہ رپورٹ مزے کی تھی۔ اگر میرا ورک پلیس گھر سے 50 میل دور ہو تو میں ظاہری بات ہے جاب کے پالکل پاس گھر لونگا کہ مجھے کرایہ کی مد میں رقم نہ خرچ کرنی پڑے۔ اگر میری جاب مجھے آنے جانے کا الگ سے خرچ دے تو؟ سارہ پیلن نے گورنر بننے کے بعد بھی اپنا آبائی شہر نہیں چھوڑا اور آنے جانے کی مد میں رقم وصول کرتی ہیں۔ ان کے بچے اور شوہر بھی ادھر ادھر آنے جانے کا خرچہ حکومت کو ڈالتے ہیں۔ خیر کسی اور کو بھی سارہ پیلن کے ڈائس پر آتے وقت ٹوڈ کی سٹیج پر موجودگی عجیب لگتی ہے؟
چونکہ شروع سے ہی اگر براک پالیسیز پر بات کرے تو جان مکین کیمپین سلیبریٹی ایڈز چلاتے ہیں یا اگر جنگ ختم کی بات ہو تو کنٹری فرسٹ کا شوشہ چھوڑتے ہیں۔ اب ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح فضول وقت ضائع کیا جائے۔ لہذا براک کے ایک کمنٹ کو سارہ کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ براک نے کہا کہ if you put lipstick on pig, its still a pig جان مکین کیمپین نے شور مچا دیا کہ براک نے سارا پیلن کو پگ کہا ہے۔ خیر سارا پگ ہوں نہ ہوں جان مکین نے ابھی مئی میں یہ ٹرم ہیلری کلنٹن کی ہیلتھ پالیسی کے لئے استعمال کی تھی۔
میں نے کہا کہ جیسے آپ ہوتے ہیں ویسے ہی لوگ اپنے ارد گرد جمع کرتے ہیں۔ ذرا جان مکین کی ترجمان خاتون کی باتیں سنیں۔ خواتین بےوقوف تو ہوتی ہی ہیں لہذا براک ان کے منہ نہیں لگتے۔ اس نیوز کاسٹر کی مجبوری تھی۔ سنئے اور سر دھنئے۔
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
163 views
Related Posts
- None Found



























مزیدار تھا ۔۔۔
آپ کو نہیں لگتا عراق میں امریکی کامیابیوں کا براہ راست فائدہ مکین کو پہنچنے جارہا ہے ۔۔ بلکہ میرا خیال ہے سرج کا پورا چکر ہی نومبر کے لیے چلایا گیا تھا اور نومبر کے آس پاس کچھ فوجیں امریکہ واپس آئیں گی اور پھر جی او پی کی بلے بلے
راشد کامران’s last blog post..ہمارا نیا میک منی
عراق میں تو شائد اتنا نہیں مکین کو اب فغانستان اور پاکستان سے فائدہ پہنچے گا۔ کیونکہ عراق کی بات ختم کر کے اب افغانستان کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ پہلے پہل اعتراف ہی نکلتے ہیں کہ جی ہم افغانستان میں کامیاب نہیں ہو سکے پھر وہاں مزید فوج بھیج دی جاتی ہے تو میرا خیال ہے کہ اب جہاں اوبامہ نے توجہ دینے کا کہا تھا وہاں توجہ دے کر مکین کو فائدہ ہو گا کیونکہ جنگ میں امریکی عوام بےوقوفوںکی طرح کچھ سمجھے دیکھے سنے بغیر صدر کی حمایت کرتی ہے اس کے بعد جا کر اس کو ہوش آتا ہے کہ یہ کیا ہو گیا۔ اس لئے بھی کہ پاکستان نے قبائلی علاقے میں گولہ باری رمضان کے دوران بند کر دی اور یہ ذمہ داری امریکہ نے سنبھال لی۔ وہی امریکہ جس نے اپنے پہلے سال افغانستان میں بھی رمضان کے دوران بمباری بند کر دی تھی۔ لہذا لگتا یہی ہے کہ سب سے پہلے پاکستان آ پہنچا ہے۔