رمضان
176 views Published September 2nd, 2008 in بش کے دیس میں.میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ امریکہ میں رمضان کا بالکل مزہ نہیں آتا۔ بالکل بھی نہیں۔ اول تو رمضان کے آنے کا ہی پتہ نہیں چلتا۔ پاکستان میں تو پہلے شب معراج پھر شب برات پر جب تک مولوی ساری رات لاؤڈ سپیکر پر گلا پھاڑتے نہیں تھے اور اگلا سارا دن ساری قوم کا سر سکولوں اور دفتروں میں بھاری نہیں رہتا تھا تب تک پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ رمضان کی آمد آمد ہے۔ اسلامی دن عصر پر ختم ہوتا ہے اور مغرب سے نیا وقت شروع ہوتا ہے تو اس وقت ماحول تبدیل ہو جاتا تھا اور ایک بڑی عجیب لیکن اچھی کیفیت ہوتی تھی جس کو میں بیان تو نہیں کر سکتا بس یوں سمجھیئے کہ پتہ لگتا تھا کہ عام دن نہیں ہیں۔ امریکہ میں آپ کو محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اور سب دن ایک جیسے ہی ہیں۔
اس کے بعد مسلمان پہلے دن بیس کی بیس تراویح پڑھتے ہیں۔ میں چونکہ گناہ بخشوا آیا ہوں لہذا میں اس وقت بستر میں سکون سے لیٹ کر لاؤڈ سپیکر سے بلند ہوتی اللہ اکبر کی صدا سنا کرتا تھا۔ دادا ابو ہوتے تھے تو وہ روزے کے بعد فجر کے وقت سب کو مسجد لے کر جاتے تھے۔ اس وقت مسجد میں اتنے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں کہ جگہ ختم ہو جاتی ہے۔ پھر مسلمان گھٹتے گھٹے بیس رمضان تک دوبارہ اگلی دو صفوں تک محدود ہو جاتے ہیں جو اکیسویں روزے سے پھر آباد ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ میری پھپھو کے بچے مجھے بتاتے تھے کہ صاحب ہم نے اتنی تروایح پڑھیں۔ اور تو اور مجھے وہ بچے بھی اپنی تراویح کا ریکارڈ سنا جاتے تھے جو ہفتہ میں ایک روزہ رکھتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ بیس تراویح ہوتی ہیں تو ان کی اس دن کے حساب سے پوری کیوں نہیں ہوتی؟ ہمیشہ کم ہی کیوں ہوتی ہیں۔ ایک دن ان کے ساتھ تراویح پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ ہوتا کچھ یوں تھا کہ پہلی آٹھ تو انہوں نے پوری پڑھیں۔ آٹھ کے بعد بہت سے مسلمان ضروری کاموں سے گھر روانہ ہو جاتے ہیں تو یہ لوگ پھوپھا جی کو اگلی صف میں کر دیتے تھے۔ اگر پھوپھا جی خود اگلی صف میں نہ جائیں تو یہ تکبیر کے بعد کچھ دیر انتظار کرتے تھے اور پھوپھا جی جب نماز شروع کر دیتے تھے تو یہ خود ایک صف پیچھے جا کر ایسے بیٹھتے تھے کہ لگے ابھی سلام پھیرا ہے۔
رمضان اس لئے بھی بہت اہم ہے کہ روزہ رکھیں یا نہ لیکن افطار بہت لازمی شے ہے۔ اور افطار پر خصوصی توجہ لازمی ہے۔ اس قدر لازمی کہ چاہے بیمار ہی کیوں نہ ہوں ہر اچھی شے میں سے کچھ نہ کچھ حسب توفیق کھانا لازمی بات ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ صبح سکول کے لئے تو بیمار تھے لیکن افطار کے وقت تک لڈیاں ڈال رہے ہیں کہ باورچی خانے سے ہو آئے ہیں۔ یہ سارے عیش پاکستان ہی ہیں۔ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں۔ سحری میں تو ہمیشہ رات کا بچا سالن ہوا کرتا تھا لیکن یہاں تو افطار کی بھی عزت گئی گزری ہے۔ دو پکوڑے اور ایک روٹی بات ختم۔ چائے کا کپ لو اور منہ بند۔ اگر ابو والمارٹ گئے ہوں تو آئس کریم کا ڈبہ لے لو یا جو کوک لا کر رکھی تھی اس کو دیکھو کہ کدھر گئی۔ میرا تو پورا موڈ ہے کہ اگلے سال رمضان میں پاکستان رفوچکر ہو جانا ہے۔ چاہے آخری دس دنوں کے لئے جائیں پر جائیں ضرور۔
امریکہ میں رمضان کا پتہ چلانا ہو یا عید کا یا تو مسجد سے پوچھیں۔ اگر میری طرح کسی ایسی جگہ پھنس گئے ہیں جہاں مسجد کافی دور ہے یا پھر ہر ایک کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد۔ تو پھر isna یا icna کا منہ تکیں۔ یہاں کافی لوگوں کا موڈ تھا کہ 2 ستمبر سے روزے شروع کریں میں نے یکم ستمبر سے کروا دئیے۔ میں نے گوگل پر مون فیز سرچ کر کے دیکھا اور یکم ستمبر سے شروع کروا دیا۔ بعد میں دیکھا تو isna کا بھی یکم ستمبر سے تھا۔ icna کی سائٹ پر مجھے نہیں ملا۔ اگر آپ کے دین میں مون کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا لازمی نہیں چاہے آپ کو دس نمبر کی عینک لگی ہو اور وہ بھی آپ گھر بھول آئے ہوں اور پھر بھی چاند تلاش کر رہے ہوں تو مون فیز دیکھنے میں حرج نہیں۔
اپڈیٹ: ابھی لنک کے لئے دوبارہ icna کی ویب سائٹ پر گیا تو انہوں نے سچ مچ چاند دیکھ کر ہی دو ستمبر کو رمضان شروع کروایا ہے۔
رمضان کا شیڈول یہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔ ویسے یہ سافٹ وئیر بھی اچھا ہے۔ میں نے اس کو کافی عرصہ سے انسٹال کیا ہوا ہے۔ ایک تو پورے گھر کو پتہ چل جاتا ہے کہ اذان ہوئی ہے۔ (جی ہاں میرے گھر میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ سب 24 گھنٹے چلتے ہیں کبھی بند نہیں ہوتے) دوسرے اس کا شیڈول مجھے زیادہ مناسب لگا۔ میں شیڈول کی جگہ اس سافٹ وئیر کو فالو کرتا ہوں۔
Popularity: 3%
Popularity: 3%
176 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







ایسا بھی ہوتا ہے کیا
عبدالقدوس’s last...
بڑی حقیقی تصویر کشی کی ہے افطاری اور بچوں کے رمضان کی۔
جو سافٹ وئیر بتایا ہے اسکی ’ لائسنس کی‘ بھی مل جاتی تو ۔۔۔
ڈفر’s last blog post..پولے بادشاہ
سوری اس کی لائسنس کی نہیں ہے۔ آپ اس کا فری روژن استعمال کر لیں۔
کیا یاد دلادیا جناب ۔۔ میں بھی ہر سال رمضان میں یہی سوچتا ہوں کے اگلی دفعہ پورا کا پورا پاکستان میں گزارنا ہے ۔۔ لیکن وہ خواہش ہی کیا جو پوری ہو جائے۔۔ چلیں ایک فائدہ تو ہے “گراں فروشی کا بار گراں” تو نہیں اٹھانا پڑتا نا
راشد کامران’s last blog post..کیا طالبان مسلمان ہیں؟
کچھ بار گراں اتنے بھی بار گراں نہیں ہوتے
چلیں، اگلی دفعہ ہم ماہ رمضان میں یہاں پاکستان میں آپ کا انتظار کریں گے۔
راہبر’s last blog post..Protected: کیا تمہیں یاد ہے؟