اگلے سال یہ شب دیکھنے تک زندہ رہا تو
تو ایسا ہے کہ میں پھر بچ گیا۔ مغرب کا انتظار کر رہا تھا کہ دیکھو بچتا ہوں کہ نہیں۔ اب یہ نہیں پتہ کہ اگلے سال بچنے والوں میں ہوں کہ نہیں۔ ویسے ہم کہتے یہی ہیں کہ پتہ نہیں بچیں گے یا نہیں لیکن دل میں پورا یقین ہوتا ہے کہ نہیں جی ہمیں کیا ہونا ہے ہم تو ادھر ہی رہیں گیں۔
تو اس یقین کے ساتھ کہ میں اگلے سال بھی بچ جاؤں گا میں اب جا کر سوؤں۔
سائیڈ نوٹ ٹو اللہ میاں: اللہ میاں ابھی نہ مارنا ابھی تو میں نے شادی بھی کرنی ہے۔
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
148 views
Related Posts
- None Found



























0 Responses to “پھر بچ گیا۔”
Please Wait
Leave a Reply