yet another oil story

امریکہ آ کر جو ایک خوفناک حقیقت منہ کھولے کھڑی ہوتی ہے وہ یہ کہ ساری دنیا میں چاہے روپیہ ہو یا یورو دنیا کی ایک ہی کرنسی ہے اور وہ ہے ڈالر۔ جو موبائل یہاں 500 ڈالر کا ہو گا وہ پاکستان میں 35 ہزار کا۔ اسی طرح الیکٹرونکس اور تمام اشیا۔ کھانے پینے کی چیزیں یہاں مہنگی لگتی ہیں کیونکہ کوالٹی سٹینڈرڈ بہت سخت ہیں۔

تیل پر جس طرح لوگوں کو بےوقوف بنایا جاتا ہے وہ بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ امریکی میڈیا نہیں بتاتا کہ تیل کی سپلائی تو فل ہے۔ الٹا ایسا عام تاثر ہے کہ سعودی تیل قیمت سے امریکیوں کو لوٹ رہے ہیں۔ جبکہ یہ غلط ہے۔ تیل کی سپلائی تو بالکل فل ہے۔ اگر آپ نے آئل مین والی ویڈیو جو پوسٹ کی تھی دیکھی ہو تو اس نے بھی کہا تھا۔

ہم لوگ بس مالا مال کرتے رہتے ہیں کہ فلاں میں مالامال تو فلاں میں یہ۔ تیل ممالک بشمول ایران کے پاس تو ریفائنریز ہی نہیں۔ یا ناکافی ہیں۔ تیل نکالا اور اگر یہ بالفرض خام حالت میں سستا ہے تو صاف ہو کر تو بہت مہنگا ملتا ہے۔ مثال کے طور پر میں اگر کپاس کی گانٹھ ایک ڈالر میں بیچتا ہوں اور وہی کاٹن سے کپڑا بنوں تو 50 ڈالر کا بیچ سکتا ہوں تو یہ قصہ ہے کہ ہمارے پاس چیز ہے سہولیات نہیں۔ رضوان بہت بہتر طور پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ کہ کیسے تیل کی قیمت کا تعین ہوتا ہے اور پاکستان کہاں سے تیل لیتا ہے۔

ایک بڑی عام غلط فہمی ہے کہ جی تیل کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ میں گر گئی تو اب ہمارے پر بھی اثر پڑے۔ پہلی بات یہ کہ یہ سودے اگلے ماہ کے ہوتے ہیں نہ کہ کرنٹ مہینہ کے۔ دوسری بات یہ خام تیل ہے نہ کہ روزمرہ استعمال کا۔ خیر دیکھیں جب تیل 147 ڈالر فی بیرل تھا تب پمپ پر صاف شدہ 4 ڈالر گیلن تھا۔ اب یہ 119 کے لگ بھگ ہو تو پمپ پر 3 اعشاریہ 60 ہے یعنی صرف 40 سینٹ کا فرق پڑا۔ اب چالیس سینٹ کا مطلب ہوا ایک لیٹر پر صرف 10 سینٹ قیمت کم ہوئی۔ 10 سینٹ پاکستانی روپے میں کتنا ہوا؟ ڈالر 70 روپے کا ہے تو 7 روپے لگا لیں۔ اب اگر آپ کہیں کہ یہ سات روپے کم کرو تو بھائی جو تیل کھا رہے ہو وہ تو پچھلے ماہ خریدا گیا تھا قیمت تو اب کم ہوئی ہے۔ حکومت کہے گی کہ سبسڈی دینا ممکن نہیں۔ میں حکومت کو ڈیفینڈ نہیں کر رہا لیکن طریقہ کار سمجھیں بجائے کہ الزام دیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ امریکہ کا بڑا دباؤ تھا ایشین ممالک پر کہ اپنی عوام کو تیل پر سبسڈی بند کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنوعی طور پر تیل قیمت کم رکھنے سے دوسرے ممالک کو نقصان ہو رہا ہے اور قیمت قابو میں نہیں آ رہی۔

پھر یہ بھی دیکھیں یہ صاحب بہت اچھا لکھتے ہیں لیکن ان کی بھی غلط فہمی ہے۔ ایک بیرل میں موٹر آئل تقریبا بیس گیلن ہوتا ہے نہ کہ 162 لیٹر یعنی 42 گیلن کو سارا کا سارا ہم لوگ موٹر آئل شمار کر لیتے ہیں۔

چونکہ میری بات اتنی وزن نہیں رکھتی لہذا یہ نیر زیدی کا کالم پڑھیں۔ میں مانتا ہوں حکومت کچھ نہ کچھ کر سکتی ہے لیکن وہ تیل پر نہیں اپنے اللے تللوں پر خرچ کے بارے میں ہے۔ ابھی یہ رحمان ملک اور بلاول صاحب بمعہ اہل و عیال چین میں مال و دولت لٹا رہے ہیں شریف خاندان کا علم نہیں کہ کوئی گیا ہے کہ نہیں۔ تو یہ پیسہ کسکا ہو گا؟

ایک اور بات کیونکہ ہم ہر چیز کو گرانٹڈ لیتے ہیں۔ تو ہمیں آئل کی پیک تھیوری کا بھی علم نہیں۔ اس کا آسان لفظوں میں مطلب ہے کہ آپ جتنا بھی تیل نکال سکتے ہیں اس وقت اس کی انتہا پر ہیں۔ ان چند سالوں میں تو فل سپیڈ سے تیل نکال سکتے ہیں لیکن اس کے بعد تیل نکلنا کم ہی ہو گا بڑھے گا نہیں۔ اس تھیوری کو بیک کرنے کے لئے الزام ہے کہ امریکہ نے 30 سالوں میں کوئی نئی آئل ریفائنری نہیں لگائی۔  چونکہ کسی بھی آئل ریفائنری کو بننے سے لے کر کانٹریکٹ کے بعد 25 سے 30 سال درکار ہوتے ہیں کہ وہ منافع میں جائے لہذا اب اتنا تیل ہے کہ ریفائنری لگائی جا سکے لیکن سالوں بعد موجودہ ریفائنریز کافی ہونگی۔ ساتھ ہی مجھے نمبر بھول گئے لیکن شائد 1970 کی دہائی میں اگر 271 آئل ریفائنریز تھیں تو شائد آج 145 یا ڈیڑھ سو ہیں۔ ابھی ساؤتھ ڈکوٹا میں ایک نئی ریفائنری لگ رہی ہے تیس سالوں بعد جو کہ کینیڈا سے نکالے تیل کو صاف کرنے کے لئے ہے۔

اس کے مخالفین امریکہ میں آئل ریفائنری نہ لگنے کا سبب 1976 کے اس بل کو بتاتے ہیں جس سے آئل ریفائنری یہاں چلانا زیادہ اخراجات کا باعث ہے یعنی وہی وجہ جس سے چین میں فیکٹریاں لگ رہی ہیں۔ اور افریقہ اور مڈل ایسٹ میں لگنے والی آئل ریفائنریز کو پیش کرتے ہیں کہ ایسی بات نہیں کہ تیل ختم ہو رہا ہے۔ جس طرح سے سفید فام اقوام ری نیوایبل انرجی پر تحقیق وقت اور پیسہ “ضائع” کر رہی ہیں ہو سکتا ہے سو سال کا تیل بچا ہو۔ جب تک پتہ تھا کہ تیل ہی ہماری انرجی ہے تیل سستا تھا اب جب علم ہے کہ تیل ختم اب نیا سورس لگانا ہے تو نئے سورس کے لئے بڑی بڑی رقمیں کہاں سے آئیں گیں؟ یہ تیل کمپنیاں پاکستانیوں کی نہیں کہ ایک پشت کمائے اور دوسری کھائے یہی کمپنیاں نئے انرجی سورس میں سرمایہ کاری کریں گیں۔ میں ان کمپنیوں کو ڈیفینڈ نہیں کر رہا لیکن ایسا سوچنا کہ آپکو کچھ بریک ملے خام خالی ہے۔

تو بجائے آپ اچھلیں کودیں یا شور مچائیں حکومت کو الزام دیں دوسروں کو تلقین کریں کہ اپنی مدد آپ اور بلاگ پوسٹس میں آپ ایک ایک حکمران کو گالیاں لکھ کر اپنے والدین کی تربیت پر روشنی ڈالیں اور کچھ کہنے پر روئیں کہ والدین کی شان میں گستاخی بند، یہ حق صرف میرا ہے۔ آپ چپ کر کے شاہ رخ خان کی فلم سوادیس دیکھیں۔

Popularity: 7% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 7% [?]

144 views

 

 

Related Posts

    None Found


4 Responses to “yet another oil story”

  1. 1 راشد کامران

    بہت خوبصورت ۔۔ یہ بات بالکل درست ہے لوگوں کی سمجھنا چاہیے کہ حکومت صرف اور صرف ایک حد تک سبسڈی دے سکتی ہے جو ہماری عیاش حکومت کے لیے اب تو بالکل ممکن نہیں ہے۔۔ جیسے جیسے روپیہ نیچے جائے گا ۔۔ یا اگر ڈالر مزید مضبوط ہوا تو چاہے انٹرنیشنل مارکیٹ میں آئل کی قیمتیں کم ہوں ۔۔ پاکستان میں مہنگا ہوجائے گا۔۔

    کپڑے والے مثال میں آپ نے پچاس گنا قیمت بڑھائی ہے ۔۔ آئل کے کیس میں غالبا ڈبل ہوتی ہے ۔۔ یعنی ایک ڈالر خام بیرل پمپ پر دو ڈالر موٹر بیرل ملے گا۔۔ قریب قریب http://www.eia.doe.gov/bookshelf/brochures/gasolinepricesprimer/

    راشد کامران’s last blog post..مبینہ یوم آزادی

  2. 2 ابوشامل

    بہت خوب! اس “تیل چکر” کو سمجھنے کے لیے بہت اچھی تحریر ہے۔

    ابوشامل’s last blog post..جشن آزادی مبارک

  3. 3 بدتمیز(427)

    راشد کامران: ہمم والمارٹ پر بنگلہ دیش کی بنی شرٹس 20 ڈالر کی ہیں تو میں نے اس سے حساب لگایا کہ ہماری تو کوالٹی بھی بہتر ہوا کرتی تھی تو اس لئے کہا۔ ویسے یہ حقیقت ہے خام مال بہت سستا ہوتا ہے۔

    ابو شامل: قبلہ آپ کو کہا تھا جو آپ کے علاقہ میں سولر پینل لگے ہیں ان پر تفصیل سے روشنی ڈالیں مجھے جاننا ہے۔

  4. 4 راشد کامران

    کوئی شک نہیں‌ کہ خام مال سستا ہوتا ہے خصوصا اگر آپ کے پاس اس کو استعمال میں‌ لانے کی ٹیکنالوجی موجود نہ ہو، خام تیل کو ایک استثنی کہہ سکتے ہیں۔۔ ویسے بھی عرب ممالک کے پاس اس کے علاوہ کمانے کے لیے ہے ہی کیا ؟

    راشد کامران’s last blog post..مبینہ یوم آزادی

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2859
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 1
    • Alexarank: 382622

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->