امریکہ میں گھروں کی کھڑکیوں میں سلاخیں نہیں ہوتیں۔ جیل اور گھر میں کچھ تو فرق ہونا چاہئے نہ۔ اکثر فلموں میں دیکھا ہو گا شیشہ اوپر کریں اور بس۔ جالی لگی ہوتی ہے تاکہ ہوا اندر آئے حشرات نہیں۔ بہت پیارے پیارے گھر ہوتے ہیں اور بہت نازک۔ کچھ سٹائلز میں تو کھڑکی یا شیشے کی دیوار فرش سے شروع ہوتی ہے تو چھت تک جاتی ہے۔ یعنی گھر ہوتے ہیں قلعے نہیں۔ اسی طرح آپ کا گیراج سارا سارا دن کھلا رہتا ہے۔ عموما جو گھر ذرا نزدیک نزدیک بنے ہوتے ہیں اور بیک یارڈ میں خوبصورتی کی وجہ سے شیڈ رکھنا ممکن نہیں ہوتا تو گیراج ہی آپ کے تمام ٹولز کو ہولڈ کرتا ہے اور چھوٹی موٹی مشینری بھی۔ مجال ہے جو کبھی کوئی اندر آ جائے۔
اسی طرح بڑے شہروں کو چھوڑ دیں تو گردونواح کے علاقوں میں گھروں کو تالے لگانے کا رواج نہیں۔ بس دروازہ بند کریں اور چلے جائیں۔ مثتثنیات صرف افریقن امریکن کے علاقوں میں ہیں کہ وہاں سب ارب میں بھی وہ علاقہ کافی برا ہو گا۔ خود میرے ساتھ کتنی دفعہ ہوا ہے کہ میں کسی کے گھر جاؤں تو آگے وہ گھر پر کوئی نہ ہو تو میں فون کر دیتا ہوں کہ میں آیا ہوا ہوں کہاں ہو تو وہ بس یہی کہتے ہیں کہ دروازہ کھولو اندر بیٹھو ہم آ رہے ہیں۔ ماں باپ کام پر بچے سکولوں کو اور پیچھے گھر لاک نہیں ہے صرف دروازہ بند ہے۔
یہ جو کمیونٹی کا ایک مجموعی تاثر ہے یہ ایک پر سکون اور پر امن تاثر بنتا ہے۔ یعنی لوگوں کو حفاظت کی طرف سے اتنا اطمینان ہے کہ ان کے گھروں میں سیکیورٹی سے زیادہ خوبصورتی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ گھروں کے باہر صرف لان ہوتا ہے۔ دیوار نہیں۔ لوگ گھر کھلے چھوٹ کر چلے جاتے ہیں اور کبھی کوئی نہیں گھستا۔ یہاں قیمتی گاڑی سیل فون کیمرہ وغیرہ لوگ لے کر آزادانہ گھومتے ہیں کہ ان کو اپنے ہی محلے میں کوئی نہیں لوٹ سکتا۔
پاکستان ایک اچھا ملک ہے۔ پاکستان بہترین ملک ہے۔ پاکستان یہ تو پاکستان وہ۔ کیا واقعی ہماری خرابیوں کی جڑ حکمران ہی ہیں؟ ہم اپنے گھروں کو قلعوں کی شکل بناتے ہیں۔ ہماری بیرونی دیواریں جب تک 14 فٹ اونچی نہ ہو جائیں ہمیں ذہنی سکون نہیں ملتا۔ ہم اپنے ہی محلوں میں جہاں نسلوں سے رہتے ہیں گھروں کو تالے لگا کر دو قدم پر سبزی لینے جانے پر مجبور ہیں۔ ہمیں اپنے ہی محلے کے لوگوں پر اعتبار نہیں۔ ہماری عزت آبرو اپنے ہی محلے میں محفوظ نہیں۔ ہمارے گھروں کے دروازے کھڑکیاں سٹیل سے مزین ہیں۔ ہم ایک معاشرے کے طور پر بری طرح عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
ہم قیمتی گاڑی نہیں خرید سکتے کہ جرائم پشہ کی ںظر میں آ جائیں گیں۔ مہنگا موبائل لے کر اپنے ہی محلے میں گھوم پھر نہیں سکتے۔ ہم سر شام گھروں میں دبک جاتے ہیں۔ دن تک محفوظ نہیں رہے۔ سفر پر جائیں تو جب تک دن میں چھ دفعہ گھر فون کر کے پوچھ نہ لیں کہ سب خیریت ہے چین نہیں آتا ان چھ کالوں میں 36 دفعہ کھڑکیاں دروازے بند رکھنا پوچھ کر کھولنا جیسی نصیحتیں کرتے ہیں۔ گھر والے بھی فون کر کے پوچھتے رہتے ہیں کہ منزل پر پہنچ گئے یا نہیں۔ یہ کئیر یا خیال رکھنا ہر گز نہیں یہ عدم تحفظ کا شدید احساس ہے۔
ہم کوئی چیز گیراج میں کھلی تو چھوڑنا درکنار اگر گھر میں رکھیں اور کوئی دیکھ لے تو فٹ مانگ لیتا ہے۔ اور پھر واپسی کا نام و نشان نہیں۔ ہم لوگ بحیثیت قوم گراؤنڈ لیول پر بے حد کرپٹ اور بدمعاش لوگ ہیں۔ ہم لوگ شریف لوگوں کے لئے بدمعاش ہیں اور ہمارے اوپر والے ہمارے لئے بدمعاش تو ایک چین ہے جو صدر پاکستان پر ختم ہوتی ہے۔ ملک حکمرانوں سے نہیں اس کے عوام سے ہوتے ہیں۔ اور یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ ہم عوام ہی درست نہیں۔
Popularity: 2% [?]
Popularity: 2% [?]
217 views
Related Posts
- None Found



























عوام اور حکمرانوں میں معاشرے کے بگاڑ کا زمہ دار کون ہے یہ وہی حساب ہے کہ پہلے مرغی آئی یا انڈہ۔ یعنی عوام ہی حکمرانوںکو چنتے ہیںاور حکمران پھر معاشرے کے سدھار کا ذمہ لیتے ہیں لیکن دوسری طرف حکمران ہی عوام کی تربیت کرتے ہیں یعنی حکمران ہی تعلیمی اداروں کا نصاب بناتے ہیں، عوام کیلیے رول ماڈل بنتے ہیں اور قانون پر عمل کرانے کے پابند ہوتے ہیں۔ ہمارے خیال میں معاشرے کے بگاڑ میں زیادہ ذمہ دار حکمران ہیں کیونکہ وہی اگر آنے والی نسل کی تربیت ٹھیک طرحسے نہیںکریںگے تو پھر عوام جاہل ہی رہیںگے اور وہ جاہلوںکو ہی اپنا حکمران چنیںگے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
میرا پاکستان’s last blog post..ہم غلام کیوں ہیں؟
آپ جس ملک کی بات کررہے ہیںوہاں لوگ اپنی آمدن کا کتنے فیصد روٹی، پٹرول، بجلی اور دوسری بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں؟ جس دن یہ تناسب پاکستان جتنا ہو جائے پھر موازنہ کر کے بتائیے گا۔
پولیس کی کیا کارکردگی ہے اور عدالتوں میںانصاف کیا کیا پوزیشن ہے؟ جس دن یہ پاکستان جیسے ہو جائے پھر موازنہ کر کے بتائیے گا۔
کتنے چوراہوں پر، دکانوںمیں، ہائی ویز پر کیمرے نہیںلگے ہوتے؟ جس دن یہ تعداد پاکستان جتنی ہو جائے، پھر موازنہ کر کے بتائیے گا۔
امریکیوںجیسی خوفزدہ قوم تو کوئی ہے ہی نہیںکہ پری ایمپٹیو سٹرائیک کی ڈاکٹرائین پیش کرنے والے کو آٹھ سال صدر بنائے رکھا اور آئندہ بھی بنائے گی۔ بیچارہ اوبامہ بھی “کمانڈو” بیانات دینے پر مجبور ہے کہ لوگ اسکے بغیر ووٹ جو نہیں دیتے۔
فیصل’s last blog post..همارا نیا نوکیا -١
سچی بات یہ ہے کہ باؤنڈری وال یا احاطے کے نام پر ہم اپنے آپ کو قید کر لیتے ہیں۔
کمیونیٹی لائف یا سماج کا تصور ہماری زندگی سے ختم ہوگیا ہے۔ نئی ہاؤسنگ اسکیمیں اور کمپاؤنڈ بھی اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں ہمیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہے اسی لیے دوسروں پر بھروسہ نہیں کرسکتے وجہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ بہت زیادہ اونچ نیچ کا شکار ہے ایک طرف بہت زیادہ غربت اور دوسری طرف امارت جسے نمودونمائش کا بے حد جنون ہے۔
رضوان’s last blog post..ساون کی جھڑی
میرا پاکستان: حکمران کہاں سے آتے ہیں؟ عوام میں سے ہی۔ صرف وزیر خزانہ اور خارجہ امپورٹڈ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وزیراعظم بھی ہوتا ہے۔ ان کو بےنقاب کرنے والا پریس عوام میں سے ہوتا ہے۔ یہ جو لیاقت بلوچ جہانگیر بدر کل کو یونیورسٹی میں ہڑتالیں کرواتے تھے آج لیڈر ہیں۔ عوام اور حکمران الگ نہیں۔ جیسی جنتا ویسا راجہ۔
فیصل: تقابل ایسے تو نہیں ہونا چاہئے خیر آپ کی خوشی کے لئے۔ ہم لوگ 70 فیصد رقم فوڈ پر خرچ کرتے ہیں۔ امریکی ستر فیصد ہاوسنگ پر کرتے ہیں۔ امریکی کم و بیش 13 فیصد فوڈ پر خرچ کرتے ہیں جس کا تقریبا پچاس فیصد ہوٹلنگ پر خرچ ہوتا ہے فرق تو ظاہر ہے۔ ویسے اب سے صرف سو سال پہلے امریکی اپنی آمدن کا پچاس فیصد فوڈ پر خرچ کرتے تھے جسمیں کمی آتی گئی ہے۔ برطانیہ میں ایک لیٹر تیل 160 روپے ہیں پاکستان میں 86 روپے۔ پاکستنا میںڈبل روٹی 20 روپے کی ہے یہاں 200 روپے کی۔
تناسب پاکستان جتنا ہو جائے یہ کچھ غلط نہیں؟ کیونکہ پاکستان نے امریکہ کو پکڑنا ہے امریکہ نے بیک گئیر نہیں لگانا۔ پولیس کچھ حد تک کرپٹ ہے۔ آئے دن واقعات ہوتے ہیں۔ یہاں پولیس کو نہیں آفیسر کو برا کہتے ہیں۔ عدالتوں میں بھی انصاف تب ہوتا ہے جب عدالت تک ثبوت اور کیس جائے۔
چوراہوں پر کیمرہ کیوں لگایا گیا؟ ایکسیڈینٹ ہو یا اشارہ توڑیں تو پکڑے جائیں۔ قانون کے احترام کے لئے قانون کا طاقتور ہونا ضروری ہے۔ ہم لوگ قانون مظبوط نہیں کرتے۔ ہم لوگ قانون مظبوط کرنے کی بات کرتے ہیں لیکں خود اس سے بچنا چاہتے ہیں۔ امریکہ میں ثبوت کے بغیر “ڈک” نہیں سکتے۔ پاکستان میں پورا گھر تھانے میں بند ہوتا ہے۔ یہاں اگر پولیس نے دیکھا بھی ہو لیکن اگر ثبوت نہیں پیش کر سکتی تو عدالت سزا نہیں دے سکتی۔ پولیس کی گاڑی کے کیمرے کے سامنے اگر ملزم سے مار پیٹ ہو تو ملزم کو دیکھا جاتا ہے اگر پیچھے ہو تو ملزم پر اس کا الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے حملہ کیا تھا۔
امریکیوں نے دکانوں میں لوگوں کو آنے دیا بجائے یہ کہ دھوپ ہو یا برسات آپ دکان کے باہر کھڑے رہیں۔ اب سارے امریکی معصوم نہیں ہوتے۔ لہذا شریفوں کو شریف رکھنے کے لئے تالہ ایجاد ہوا۔ شریف وہ ہوتا ہے جس کو آپ موقع نہ دیں۔ لاہور میں آپ کے پیس شاپنگ سینٹر میں لوگوں کو اندر آنے دیا اور کیمرے کے بجائے 100 بندے بھرتی کر لئے جو ہر وقت سر پر کھڑے رہتے۔ فرق کیا ہوا؟
امریکیوں جیسی خوفزدہ قوم شائد نہ ہو لیکن پاکستان میں 60 سال سے بھارت کا جو خوف بٹھایا ہوا ہے وہ؟ ہم بارڈر پر ٹریڈ کرنے کے بجائے دوبئی کے راستے ٹریڈ کرتے ہیں۔ ہماری جو چیز بارڈ پر 100 ڈالر کی مل سکتی تھی وہ دوبئی سے 600 ڈالر کی پڑتی تھی۔ امریکیوں کا خوف ان کے حق میں کیسے ہے؟ پچھلے سال اگست میں ایک پل گرا صرف ایک۔ اس وقت سے سال ہو گیا ہے ہر ریاست میں پل چیک اور توڑ کر نئے بن رہے ہیں۔ اور یہ وہ پل نہیں جو سمندروں اور دریاؤں پر ہوں۔ یہ وہ ہیں جو چھوٹے چھوٹے ندی نالوں یا کسی انٹرسیکشن پر بنتے ہیں۔ ہمارے ہاںایسا ہو سکتا ہے؟ ہمارے ہاں تو کراچی کا پل بنتے ساتھ گر گیا اور پھر کیا ہوا؟ ہم امریکہ جتنے ترقی یافتہ تو نہیں کم از کم اس معیار کے پل تو بنا سکتے ہیں کہ وہ بھی نہیں؟
تقابل ایسے نہیں کیا جا سکتا۔ قوموں کا تقابل ان کے مجموعی روئے سے ہوتا ہے۔ کیا ہم انفرادی سطح پر خرابیوں سے پاک ہیں؟ بالکل نہیں اور ہم میں سے ہی شریر لوگ بڑھتے بڑھتے لیڈر بن جاتے ہیں۔ امریکی بڑے خوفزدہ ہیں لیکن ابھی ڈرائیور کی آپ نے خبر سنی ہو اس کو عدالت نے پانچ سال سے اوپر کی سزا سنائی جس میں سے پانچ سال وہ پہلے کاٹ چکا ہے۔ عدالت نے وہ اس میں شمار رکھی۔ یعنی چند ماہ بعد اس نے رہا ہو جانا ہے۔ لیکن پینٹا گون کا کہنا ہے کہ اس نے اس کو رہا نہیں ہونے دینا۔ عدالت کا کام فیصلہ کرنا ہے ڈنڈا لے کر کھڑا ہونا نہیں۔ میڈیا اب پینٹا گون پر تنقید کر رہا ہے کہ یہ امریکی آئین کی بےعزتی ہے۔ اور ہم؟
یہ بڑی دلچسپ بحث ہے۔ جب تک آپ اس حقیقت کو نہیں سمجھیں گیں کہ عوام میں سے ہی حکمران ہوتے ہیں۔ بات نہں بنے گی۔
رضوان: بالکل۔ سماجی لائف ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اگر ہم باہر نکلیں تو لوگ ایک دوسرے کو گھورتے ہیں۔ اگر کسی نئے علاقے میں جائیں تو لوگ جب تک نظروں سے اوجھل نہ ہو جایں ایسے گھورتے ہیں جیسے جرائم پیشہ گھس ائے ہوں۔ یہاں آپ کسی کو جانتے تک نہیں اور آپ اس کے پیچھے پیھچے ہیں تو وہ رک کر دروازہ کھولے آپکا انتظار کرے گا۔ اسی طرح آپ کسی ہاؤسنگ ایریا سے گاڑی میں گزریں تو وہاں لوگ باقاعدہ ہاتھ ہلاتے ہیں یا مسکرا کر دیکھتے ہیں۔
امیر غریب کی اونچ نیچ یہاں بھی ہے۔ یہاں باقاعدہ ہاؤسنگ ایریاز ہوتے ہیں کہ کہاں سنگل سٹوری پرانے اور سستے گھر ہیں کہاں نسبتا نئے اور متوسط طبقہ کے اور کہاں بڑے بڑے زیادہ آمدنی والوں کے لیکن لوگوں کے روئے ایک دوسرے سے ریسپیکٹ والے ہوتے ہیں اور عزت دینے میں کمی نہیں۔ سوٹ بوٹ پہنے شخص کو بھی بینک، دکان، آفس، پولیس نے سر ہی کہنا ہے اور رنگ روغن کرنے والے یا آٹو میکینک جن سے تیل کی بو آ رہی ہو کو بھی۔ ہم دراصل ہر وقت ایک دوسرے کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔ اور یہ خرابی اور خرابیوں کو جنم دیتی جاتی ہے۔
آئیے آپکی اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ حکمران عوام میں سے ہوتے ہیں:
قائدِاعظم؟ لیاقت علی خان؟ غلام محمد؟ اسکندر مرزا؟ ایوب خان؟ یحیٰی؟ بھٹو؟ ضیا؟ نواز شریف؟ بینظیر؟ مشرف؟ زرداری؟ بلاول؟ مونس الٰہی؟ حمزہ شریف؟ سکندر شیرپاؤ؟ فاطمہ بھٹو؟ فیصل کنڈی؟
ہاں کچھ عوام میں سے بھی ہوتے ہیں مثلآ مجیب یا کسی زمانے میں الطاف بھائی۔ باقی آپ خود سمجھ دار ہین۔
فیصل: بے حد ادب کے ساتھ،
یہ جو لیاقت بلوچ جہانگیر بدر کل کو یونیورسٹی میں ہڑتالیں کرواتے تھے آج لیڈر ہیں۔
میں نے بات کی کہ عوام درست نہیں۔ عوام کی درستگی کا نتیجہ ہے کہ متبادل قیادت مذکورہ لوگوں جیسی ہے۔ ہم لوگ آئڈیلزم پر بہت یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس متبادل قیادت ہماری جیسی ہی ہے۔ نتیجتا جن لوگوں کے آپ نے نام گنوائے پڑھے لکھے اور تہذیب دار ہونے کے باعث ہم جوہڑ میں ٹراتے میڈکوں کی طرح ان کو منتخب کرتے گئے اور ابھی تک اسی امید میں ہین۔ یہ الگ بات ہے کہ شہتیر کی جگہ پھر بگلا بھیج دیا گیا جس نے ہمیں چن چن کر شکار کرنا شروع کر دیا۔ جب تک ہم لوگ قیادت کے لئے کسی کا انتظار کرتے رہیں گیں یہی حال رہے گا۔ ہمیں آپ کے گنوائے ناموں کو روکنے کے لئے جن کے بارے میں ہمارے پڑھے لکھے طبقے تک کو غلط فہمی ہے کہ ان کا لائف سٹائل ان کا حق ہے، ایسی متبادل قیادت کی ضرورت ہے جو کہ میری مثال میں پیش کیے گئے لوگ نہ ہوں۔ عوام میں سب لوگ شامل ہیں جیسے مزید مثال کے طور پر جاوید چوہدری کالم نگار حکومت جانے کے بعد کافی کچھ لکھتا ہے۔ جب حکومت ہوتی ہے تب کہاں ہوتا ہے؟ آجکل وزیر اعلی پنجاب شہباز کے ساتھ گھومتا ہے لیکن شہباز کی غلط باتوں کو رواداری یا مروت یا مصلحت کے تحت پوائنٹ آؤٹ کرنے میں ناکام ہے۔ مجھے یہ حقیقت سمجھتے سمجھتے ایک سال لگ گیا۔ میں بھی پہلے یہی سمجھتا تھا لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی معلوم ہوتا ہے نہ۔ بالکل غیر جانبدار ہو کر اپنے ارد گرد کے لوگوں اور پاکستان کے عوام میں فرق تلاش کریں۔
بدتمیز’s last blog post..take it easy urvashi