یہ ذرا ایک لنک دیکھیں۔ اس سے پہلے کہ آپ لنک فالو کریں میں آپ کو خبردار کرنا چاہونگا کہ یہاں نظروں کو گرماتی 10 تصاویر ہیں۔ لہذا آپ اس پوسٹ کو پڑھنے اور اس لنک کو فالو کرنے کے خود ذمہ دار ہیں۔
دیکھ کر واپس آ گئے؟ یہ cheer leaders ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا فٹ بال یا کچھ کھیلوں میں چند خواتین ہاتھوں میں رنگ برنگی جھنڈیاں پکڑے اچھلتی کودتی رہتی ہیں۔ بس یہی cheer leaders ہوتی ہیں۔ ان کا کام تو ویسے اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانا ہوتا ہے پر جیسے یہ اچھل کود کر رہی ہوتی ہیں کسی بھی جوکر سے کم نہیں لگتیں۔ چاہے گرمی ہو چاہے سردی ان کا لباس ایک ہی ہوتا ہے۔ اوپر سے مکمل اور نیچے ٹانگیں بالکل ننگی۔ اب اسمیں کیا راز ہے یہ تو مجھے معلوم نہیں کسی کھیل میں جاونگا تو دیکھ کر آونگا۔
مذکورہ لنک فلاڈلفیا ایگلز کی cheer leaders کا فوٹو شوٹ ہے۔ اس میں انہوں نے جو کچھ پہن رکھا ہے یہ سارا گرین میں آتا ہے۔ یہاں گرین ٹرم ہے ماحول دوست۔ تو اس میں جو لباس ہے یہ مختلف گرین میٹرز سے بنا ہے یا پھر ری سائیکل کیا گیا ہے۔ ویسے تو یہ خواتین پہلے سے ہی گرین ہیں۔ لباس ہے نہیں۔ یعنی جہاں سے بھی آنا تھا انہوں نے لباس لے کر ماحول کو نقصان نہیں پہنچایا۔ پھر جو لباس پہن رکھا ہے اس کو دھونا نہیں پڑے گا۔ پانی کی بچت صابن نہیں استعمال ہوا۔ استری نہیں کرنا پڑے گی بجلی کی بچت۔ تو یہ تو سر سے پیر تک گرین ہی ہیں پھر بھی اتنا مزید تردد کی کیا ضرورت تھی؟ خیر ہو سکتا ہے ابھی گرین لباس اسی حد تک بن سکتے ہوں اور یہ گرین لباس کا prototype ہو۔ چلیں مذاق ایک طرف ذرا لائین میں آ جائیں۔
بہت سے لوگوں کو یہ تذکرہ برا لگا ہو گا۔ خود سے پوچھیں کیا ایسا ہے؟ ہم لوگ گناہ کو نہیں گناہ کے تذکرے کو برا سمجھتے ہیں۔ گناہ کرتے شرم نہیں آتی لیکن گناہ معلوم ہونے پر بڑے چیں بہ چیں ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی بڑے کو کہیں نہ کہ فلاں غلط کام کیا تھا تو وہ بجائے شرمندہ ہونے کہ آپ کو پڑ جائے گا کہ یہ کیا بری بات کی۔ یہ ہماری قوم میں ہر طبقے میں ہے۔ ہم لوگ الٹی حرکتیں کرتے ہیں تو اس لئے نہیں شرماتے کہ الٹی حرکت کی بلکہ اس لئے شرماتے ہیں کہ کسی کہ پتہ نہ چلے۔ اگر پتہ نہ چلے تو حرکتیں الٹی ہی رہتی ہیں سیدھی نہیں ہوتیں۔
اچھا اب بس بھی کر دیں۔ آ جائیں اس فوٹو شوٹ سے باہر۔
Popularity: 3% [?]
Popularity: 3% [?]
248 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







کرکٹ کے میدان میں چیئرلیڈرز کا تجربہ گزشتہ دنوں بھارت میں انڈین پریمئر لیگ کے دوران کیا گیا جسے عوام میں جتنی مقبولیت حاصل ہوئی، اتنی ہی زیادہ تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ کچھ شہروں میں تو پابندی لگادی گئی تھی کہ پورے ڈریس میں ناچ کود کریں گی۔
ویسے یہ غیر ضروری ہے۔۔۔ وہ الگ بات ہے کہ اس کو کلچر کا حصہ بنالیا جائے۔ جو چیز کلچر کا حصہ بن جائے، وہ غیر ضروری بھی ہو تو لازمی جزو بن جاتی ہے۔
راہبر’s last blog post..بارش کی رم جھم
:aha/ یہ تو امپورٹڈ تھیں۔ ورنہ تو انڈین چئیر لیڈر کا سوچ کر منہ کا ذائقہ خراب ہو ہی گیا تھا۔
:mh:
بابو جی
بلاگ تو اتنے غور سے نہیں پڑھا مگر تصاویر میں ایک دو اعتراض ہیں پہلا تو یہ کہ کچھ پلاسٹک کے گول رِنگ وغیرہ دکھائی دے رہے ہیں تو پھر مکمل گرین تو نا ہوئیں اور پتا کر کے بتائیں کہ انڈروئیر میں الاسٹک کونسا والا ہے۔ :bw-/
رضوان’s last blog post..پاؤں کا چکر
رنگ وغیرہ بھی ری سائیکل سٹف سے ہونگے۔ ڈسکرپشن میں کچھ لکھا تو تھا پر پڑھنے کی ہوش مجھے کہاں تھی
الاسٹک نہیں ہوتے۔