ری نیو ایبل انرجی
177 views 3 Comments Published August 5th, 2008 in امریکہ نامہ, بش کے دیس میں, دنیا نامہ, فرق The Difference, پاکستان نامہ.
میرا خیال تھا کہ میں نے کچھ عرصہ پہلے پرنس جارج کاؤنٹی کے حوالے سے لکھا تھا کہ اس کے ہائی اسکول طلبہ نے کھانے پکانے والے تیل سے بایو فیول بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ بلاگ چھان مارا لیکن نہیں ملا۔ اس کا مطلب بہت کچھ ایسا ہو گا جو میں یہی سوچ کر بیٹھا ہونگا کہ لکھ لیا ہے جبکہ نہیں لکھا ہو گا۔
انرجی کی بڑھتی قیمتوں نے امریکہ کو پریشان کر دیا۔ اس سال پہلی دفعہ تیل کی قیمت بڑھی اور کھپت کم ہوئی۔ امریکہ میں تعلیم کا بجٹ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارے دل کھول کر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ یہاں سکولوں کی بسز بچوں کو لاتی لے جاتی ہیں۔ اگر آپ کا گھر سکول سے بہت نزدیک ہو یا آپ بچہ خود چھوڑنے جائیں ورنہ بچے بس پر ہی آتی جاتے ہیں۔ یہ بسیں ڈیزل پر چلتی ہیں۔ بائیو فیول ڈیزل کا ہی متبادل ہے۔
اسکولوں میں بایو ڈیزل بنانے کا پلانٹ لگا ہوا ہے۔ کیمسٹری کے سٹوڈنٹ اس پر کام کرتے ہیں۔ سکول کیفے ٹیریا سے لے کر سٹی کی حدود میں واقع تمام ریستورانوں سے یہ استعمال شدہ کھانے پکانے کا تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں پاکستان کی طرح تیل بار بار استعمال کرنا جرم ہے۔ تیل ایک مخصوص مدت کے بعد نہیں استعمال کیا جا سکتا۔ اب اس تیل سے بایو فیول بنتا ہے۔ میرے شہر کی ایک اسکول بس صرف اسی کام پر معمور ہے کہ وہ تمام ریستورانوں سے تیل اکٹھا کرے۔ اسکول کی بسیں اب ڈیزل نہیں ڈلواتیں۔
اسی طرح یہاں ایک بندے کی خبر تھی کہ اس نے 25 ہزار ڈالر سے اپنے گھر پر سولر پینلز لگوائے۔ ہمم سولر پینل ارے یار یہ تو وہی نہیں جو ناسا کے سیارچوں کو لگے ہوتے ہیں بجلی فراہم کرنے کے لئے؟ شائد لیکن یہ وہ ضرور ہیں جو ہمارے چھوٹے چھوٹے کیلکولیٹر میں بھی لگے ہوتے ہیں۔ سولر پینل جو کہ سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کر کے اس کا گھر چلاتے ہیں اور بیٹریوں میں بجلی محفوظ بھی کرتے ہیں تا کہ جب سورج ڈھلے تو کچھ دیر تک بیٹریوں سے بجلی ملے۔ اس کے بعد جو بھی بجلی کا کنکشن ہے اس سے بجلی آنی شروع ہو جاتی ہے۔ اب اگر دن کے وقت سورج خوب چمکا۔ گھر بھی چل رہا ہے اور بیٹریاں بھی فل چارج ہیں تو کیا ہو گا؟ اب بجلی تو بنتی جائے گی لیکن پھر وہ میٹر کو الٹا چلانا شروع کر دے گی۔ یعنی آپ نے جتنی بھی زائد بجلی بنائی وہ آپ اپنی بجلی کمپنی کو بیچ رہے ہیں۔ مذکورہ شخص کا بل نہ ہونے کے برابر آتا ہے۔
عثمان (بھائی) کے سائنس ٹیچر کے بیٹے نے یہاں اپنے گھر پر ایسے پینلز لگوائے ہیں۔ اس کی لاگت کم و بیش 25 ہزار ڈالر ہی ہے۔ چونکہ یہ صاحب ملٹری میں ہیں اور گھر ٹکتے نہیں کیونکہ ملٹری والوں کو تو مختلف بیسز پر سٹیشن کیا جاتا ہے لہذا ان کے گھر بجلی والے بل بھیجنے کے بجائے ہر ماہ چیک بھیجتے ہیں۔ بجلی بنتی جاتی ہے اور خود بخود بکتی جاتی ہے مفت میں رقم آتی جاتی ہے۔ جلد ہی یہ اپنی لاگت پوری کر لیں گیں۔ سائنس ٹیچر کو یہ اتنا پسند آیا ہے کہ وہ بھی اپنے گھر پر یہ سولر پینل لگوانا چاہتے ہیں۔ ساتھ یہ یہ ان کی ایک اچیومینٹ بھی ہو گی کہ اپنے شعبہ میں وہ اس حد تک دلچسپی لیتے ہیں۔
اب تو سولر پاورڈ چارجنگ ڈیوائسز عام ہیں۔ ان کے پینل کھول کر کھڑکی کار یا صحن میں رکھ دیں۔ یہ اپنی بیٹری چارج کر لیں گیں اب آپ اپنا سیل فون یا آئی پوڈ جو بھی چارج کرنا ہو کر لیں۔ سولر پاور کے انقلاب کی راہ میں lithium ion بیٹری رکاوٹ ہے۔ یہ بہت زیادہ چارج محفوظ کر لیتی ہے لیکن امریکہ میں پچھلے سال لیپ ٹاپ بیٹریاں گرم ہو کر پھٹ گئی تھیں اور بہت سی کمپنیوں کو یہ بیٹریاں واپس لینی پڑی تھیں۔ toyota prius کا نیا ماڈل اس سال due ہے۔ (اس کی بیٹری lithium ion نہیں جس کے استعمال سے اس کی مائلیج 100 میل فی گیلن سے تجاوز کرنے کا عام خیال ہے۔) اس کی چھت پر سولر پینل لگائے جا رہے ہیں جو گاڑی کو تو نہیں چلانے میں اتنے مددگار ہونگے لیکن اے سی کو partially بجلی فراہم کریں گیں۔ (گاڑی کا اے سی اس کی مائیلج کم کر دیتا ہے)۔ یہ hybrid کار ہے۔
اسی طرح الیکٹرک کاروں کا بڑا شہرہ ہے۔ 700 ہارس پاور کی یہ الیکٹرک کار جولائی میں آئی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کی مثال دی گئی تھی کسی کالم میں کہ انہوں نے الیکٹرک کار کو فروغ دیا ہے۔ الیکٹرک کاریں جہاں بھی ہوں اگر وہ بجلی گرین طریقوں سے نہیں بناتے تو یہ ایک برابر ہی ہیں۔ جو تیل گاڑی میں جلانا ہے وہ پلانٹ میں جلائیں اور گاڑی چارج کریں۔ اب تیل ختم ہو جائے تو فیوچر تو ایسی ہی انرجی کا ہوا نہ جو ری نیوایبل ہو۔ جس کا ذریعہ ختم نہ ہو۔ سب سے بڑی بات کسی طاقت کا اس پر کنٹرول نہ ہو۔ ٹیکنالوجی آج اس قدر طاقتور ہو چکی ہے کہ ری نیو ایبل انرجی کا خواب خواب نہیں رہا۔ اس پر بات کل۔
جاری ہے۔
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
177 views
Related Posts
- None Found



























خوب مجھے آپ کی اسی متعلق تحریر کا انتظار تھا۔ کیا آپ نے خود کوئی تجربات کیے ہیں؟
ساجداقبال’s last blog post..کچھ اچھا ضرور ہے
یہاں پاکستان میں متبادل توانائی پر جتنے تجربات ہو چکے ہیں وہ سب لوڈ شیڈنگ کی مرہون منت ہیں۔ ہمارے علاقے میں ہی جنریٹر، یو پی ایس کے علاوہ آپ کو ونڈ مل اور سولر پینل سب نظر آئیں گے۔ اب تو 50 فیصد گھر بجلی جانے کی صورت میں بھی اپنی توانائی استعمال کر کے روشن رہتے ہیں۔
ابوشامل’s last blog post..Anoushey knows what??
ساجد اقبال: خود تجربے؟ کیا آپ کی مراد کیا میں نے متبادل توانائی کا سیٹ اپ لگایا ہے؟ اگر ہاں تو نہیں ابھی یہ کافی مہنگا ہے۔ اگر آپ کا اپنا گھر ہو تب بھی کافی سوچ سمجھ کر لگانا پڑے گا۔ ویسے میں سولر چارجر لینے کی سوچ رہا تھا لیکن کوئی بھی لیپ ٹاپ چارج نہیں کر پائے گا۔
ابوشامل: کیا آپ ان ونڈ ملز اور سولر پینل جو آپ کے علاقے میں ہیں کے بارے میں مزید تفصیل سے معلومات فراہم کر سکتے ہیں؟