پاکستان کی ایک اور سالگرہ آ رہی ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق حب الوطنی کے تقاضے پورے کرنے چاہئے۔ پاپ کوئز۔ کتنے لوگوں کو ابھی بغیر کسی حساب کتاب کے علم ہے کہ یہ پاکستان کی کتنی ویں سالگرہ ہے؟ بہت سے لوگوں کو میری طرح یہی علم ہو گا کہ ساٹھ سال سے کچھ اوپر ہے۔
میں اس دفعہ سچھا اور اچھا پاکستانی بننے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو دل سے یقین آ جائے کہ میں سچ مچ حب الوطن ہوں اور مجھے پاکستان سے زیادہ کوئی پیارا نہیں اور یہ کہ امریکی چھنڈے یا امریکہ سے محبت میری بےوقوفی اور سوچنے سمجھے کی اہلیت نہ رکھنا ہے۔ امریکہ تمام تر ترقی کے باوجود پاکستان جیسا نہیں ہو سکتا۔
اس کے لئے میں گفتار کا غازی بننے کی کلاس لینے کی کوشش کرنے کی سوچ رہا ہوں۔ ساتھ ہی میں نے آج ہی ایک تسبیح خریدنے کا ارادہ کر رکھا ہے اور میں اس پر “آئی لو پاکستان” کا ورد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اس وقت تک جب تک ہر اچھے اور سچے پاکستانی کو یقین نہ ہو جائے کہ میں بھی اسی کی طرح حب الوطن ہوں اور میری حب الوطنی پر کسی کو شک باقی نہ رہ جائے۔
میں ابھی کل رات تک میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہو سن رہا تھا۔ (یہ میری حب الوطنی کے ثبوت کے طور پر لیا جا سکتا ہے؟) یا نہیں؟
یا پھر جگ جگ جیے میرا پیارا وطن سن رہا تھا۔
لیکن آج میں ایسے ہی کہیں سیر پر چلا گیا اور بات چیت میں اور بہت کچھ دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ نہیں ہم پاکستان کو اس وقت تک عظیم نہیں کہہ سکتے جب تک پاکستان واقعی عظیم نہ بن جائے اور اس کو بنانے والے ہم گفتار کے غازی ہیں جو صرف رٹا مارتے جاتے ہیں کہ پاکستان عظیم ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ امریکہ چین یورپ عظیم اس لئے ہیں کہ ان کے عوام گفتار کے غازی نہیں۔ ہم سیاستدانوں کو یا پھر فوج اور بالآخر امریکہ کو الزام دے کر گھر کو جاتے ہیں۔
پاکستان میں رہ کر آپ کے پاس صرف دو آپشنز ہوتے ہیں۔ “ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف” چاہے پی پی یا مسلم لیگ کی جنگ ہو یا جسٹس اور مشرف کی لڑائی آپ کو ایک کی سائیڈ لینی ہوتی ہے۔ باہر ایسا نہیں باہر رہنے والے مشاہدے کے باعث معاملات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ان کو کسی کی سائیڈ لینے کی ضرورت نہیں وہ پاکستان کو برڈ آئی ویو سے دیکھتے ہیں۔ باہر رہنے والے اپنے مشاہدے کی بدولت کچھ مسائل کا بہتر حل تجویز کر سکتے ہیں پھر وہ یہاں کے سسٹم کو اتنا جان جاتے ہیں کہ ویسے ہی پاکستان میں سلوشن بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ (آپ اپنی سہولت کے لئے مجھے ان باہر رہنے والے پڑھے لکھے پاکستانیوں کی صف سے باہر نکال سکتے ہیں) :d
اوپس میرا موڈ تبدیل ہو گیا۔ میں یہ ورد نہیں کر سکتا۔ میں بتانا چاہونگا کہ پاکستان کیوں عظیم نہیں ہے۔ کیوں نہ بن سکا۔ کیوں ہم صرف الزامات لگا کر فرض پورا کر لیتے ہیں۔ کیوں صرف پاکستان پاکستان کا ورد پاکستان کی جھولی میں کچھ نہیں ڈال سکتا۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ ایک پاکستانی کو امریکہ پاکستان سے بہتر لگتا ہے۔ یہ اس کی کم ظرفی ہے کہ وہ پاکستان سے زیادہ امریکہ پسند کرتا ہے یا اس کا تاسف کہ وہ جو پاکستان میں ملنا چاہئے تھا اس کو نہ مل سکا۔ چونکہ میں اس کو وقتا فوقتا اور بہت ساری پوسٹس میں کور کرنا چاہتا ہوں لہذا آپ اس کیٹگری کو پڑھ پڑھ کر برا منا سکتے ہیں۔
Popularity: 3% [?]
Popularity: 3% [?]
165 views
Related Posts
- difference of ideas On March 13, 2008, 0 Comments
- ah I learned that long time ago what a perfect example difference of ideas AKPC_IDS += "1053,";Popularity: 3% [?] Share and Enjoy:



























عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنم بھی
———————————————–
شاخ نازک پہ جو آشیاں بنے گا ۔ ناپائیدار ہو گا
افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..وزیرِ خزانہ