گوگل کی برتری ختم کرنے کی اکثر کوشش ہوتی رہتی ہے۔ گوگل بھی خدا کی ایک نعمت ہے۔ اگر نہیں یقین تو 1998٫99 کو یاد کر لیں۔ گوگل کی برتری کو اس دفعہ ایک انوکھی ٹیم نے چیلنج کرنے کی ٹھانی ہے۔ یہ ہیں گوگل کی ایکس ورکر۔ خاتون کا بیان ہے کہ گوگل وہیں ہے جہاں دس سال پہلے کھڑا تھا اور مزید دس سال بعد بھی وہیں کا وہیں ہو گا۔ اس نئے سرچ انجن جو ابھی شام کو لانچ ہوا ہے کول بولا جائے گا۔ اس کو ابھی گوگل سے تقابل کرنے کی ضرورت تو نہیں لیکن ایم ایس این سے اس کے رزلٹس بہرحال بہتر ہیں۔ 33 ملین ڈالر کی لاگت سے بنے اس سرچ انجن کا مستقبل کیا ہو گا یہ تو وقت ہی بہتر بتائے گا۔ ویسے مجھے اس کا ہوم پیچ پسند نہیں آیا۔
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
210 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







تازہ خبر بہم پہنچانے کا شکریہ
افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..اہم ۔ بلکہ ۔ بہت اہم اعلان
یہ بیان تو بالکل غلط ہے کے گوگل وہیں کھڑا ہے۔ گوگل نے پچھلی کم و بیش ایک دہائی میں ناممکنات کی حد تک معلومات کا ذخیرہ اکھٹا کیا ہے اور اب وہ نت نئے طریقوں سے اس معلومات کا ایک عجیب امتزاج نئی نئی پراڈکٹ کی صورت میں لوگوں کے سامنے لا رہے ہیں۔ گوگل انگریزی زبان میں باقاعدہ “فعل” کے طور پر قبول عام ہوچکا ہے اور ہم تو چاہتے ہیں کے گوگل کے مدمقابل دوسری پراڈکٹس بھی کھڑی ہوں لیکن اب تک کے استعمال کے بعد کویل میں مجھے کوئی بہت خاص بات دکھائی نہیں دی۔۔
راشد کامران’s last blog post..(شفقت حجام (قسط اول
اجمل انکل:
راشد کامران: خاتون سرچ ٹیکنالوجیز پر کام کرتی تھیں اور ان کا کام گوگل نے خرید لیا تھا بعد میں راہیں جدا ہو گئیں۔ خاتون کا دعویٰ بظاہر درست معلوم نہ ہو لیکن 33 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری جس نے بھی کی ہے اس نے یقیننا کچھ سوچ سمجھ کر ہی کی ہے نہ۔ ہو سکتا ہے یہ درست ہی ہو۔ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔
ہاں ہمارے حق میںیہی بہتر ہے کے انفارمیشن کے اس “گوگل ارتکاز” کو روکا جائے ورنہ ہر چیز کے لیے ہم گوگل کے محتاج ہوجائیںگے۔۔ میرا کہنا تو صرف اتنا تھا کے “کول” صرف اس لیے اہم بن گیا ہے کیونکہ گوگل کے سابقہ انجینرز نے بنایا ہے ۔۔ اور پہلا تاثر کوئی اتنا خاصنہیںتھا۔۔ یہاں تک کے کچھ اہم چیزوں کی سرچ پر تو ایک رزلٹ تک نہیں آیا۔
راشد کامران’s last blog post..(شفقت حجام (قسط اول
گوگل ویسے پرائیویسی پر تو بہت سخت ہے لیکن پھر بھی بہت nosy ہے۔