بہت سے تارکیں وطن امریکہ آ کر جو سب سے بڑی اور بھیانک غلطی کرتے ہیں وہ اپنا گھر نہ لینا ہے۔ باقی ممالک کا علم نہیں لیکن اگر امریکہ میں آپ کرایہ خود ادا کرتے ہیں اور حکومت سے مدد نہیں لیتے تو شائد اس سے بڑی غلطی کوئی نہ ہو۔
یہاں گھر لینا کافی آسان ہی ہے۔ مکان کی قیمت کا اگر بیس فیصد ڈاؤن پیمنٹ میں دیں تو آپ کو مکان پر مورٹگیج انشورنس نہیں لینا پڑتی۔ مورٹگیج اصل میں اس قرض کو کہتے ہیں جو آپ بینک سے گھر کے نام پر لیتے ہیں۔ اس میں گھر بینک کے پاس گروی رہتا ہے اور تیس سال تک اقساط میں گھر کی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ ویسے تو 5 دس اور پندرہ سالوں کا بھی ہوتا ہے لیکن عموما تیس ہی لیا جاتا ہے۔
جیسے اگر مکان دو لاکھ ڈالر کا ہے تو چالیس ہزار ڈالر جمع کریں اور آپکو مورٹگیج انشورنس نہیں لینی پڑتی۔ مورٹگیج انشورنس کا مطلب اگر آپ کے پاس بیس فیصد رقم نہیں تھی تب آپکو مورٹگیج انشورنس لینی پڑتی ہے کہ بینک کو اطمینان رہے کہ اس کی رقم ڈوبے گی نہیں۔
مکان لینے کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ کرائے پر رہنے سے آپ جو کرایہ دیتے ہیں وہ ضائع ہوتا جا رہا ہے آپ کے کسی کام کا نہیں۔ جتنا کرایہ ہے اتنی ہی مکان کی قسط ہوتی ہے اور آپ کا فائدہ یہ کہ یہ ماہانہ اقساط سے مکان آپ کا ہو رہا ہے۔ اگر کل کو پانچ سات سال بعد آپ واپس جانے کی سوچیں تو مکان بیچیں اور گھر کو جائیں۔ آپکو نہ صرف ڈاؤن پیمنٹ واپس ملے گی بلکہ اتنے عرصہ کا جو کرایہ تھا وہ بھی۔ یعنی ایک طرح سے تقریبا مفت ہی رہ لیا۔
یہ جو امریکہ کا کریڈٹ کرنچ ہے اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بینکوں نے آمدن کی بغیر تصدیق کے یہ قرضہ فراہم کئے اگر کسی کے پاس ڈاؤن پیمنٹ کی رقم نہیں تھی تو اس کو بھی سیکنڈ مورٹگیج بنا کر ڈاؤن پیمنٹ بھی فراہم کر دی۔ اب لوگ ادا نہیں کر سکتے تو گھر بینک واپس لے لیتا ہے۔ اس کو فور کلوژر کہتے ہیں۔ یہاں جابجا گھر فور سیل لگے ہوئے ہیں۔
ایک اور قسم کی پراپرٹی مرنے والوں کی ہوتی ہے۔ مجھے اسکی ٹرم بھول گئی۔ اکثر امریکیوں کی وصیت پر اٹارنی عمل درآمد کرتی ہے۔ ان کے جو گھر بیچے جاتے ہیں وہ اٹارنی کو کیا پڑی ہے کہ زیادہ سے زیادہ داموں مفت کی محنت کر کے بیچے لہذا اونے پونے بیچ دیے جاتے ہیں۔ لواحقین بھی توہم پرست مرنے والے گھر کو خود لینا پسند نہیں کرتے۔ ایسی پراپرٹیز لے کر تزئین وآرائش کر کے بیچی جاتی ہے۔
ایک ٹیکس پر بھی ہوتی ہے کہ ٹیکس نہیں پے کر سکے تو وہ بھی گھر سٹی لے لیتی ہے اور پھر اس کی بولی دیتی ہے۔ اس طرح بھی گھر سستے ہی مل جاتے ہیں۔
کچھ لوگ انتہائی ٹوٹے پھوٹے یا پھر جلے ہوئے گھر خریدتے ہیں۔ ایسے گھر کوڑیوں کے مول ملتے ہیں۔ عقلمند لوگ جنکو مرمت اور گھر بنانے کا کام آتا ہے یا کروانے کی ہمت ہوتی ہے اس کو پیشہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے گھر دس ہزار ڈالر میں خریدیں۔ ڈھانچے کو صحیح کروائیں 15 ہزار ڈالر سے ٹوٹل ہوا 25 ہزار اور جب سٹی یا کاؤنٹی اس کی قیمت لگاتی ہے تو ڈیڑھ لاکھ لگی۔ آپ کو 25 ہزار پر تقریب لاکھ سوا لاکھ ڈالر مل گیا۔
نہ صرف اپنے لئے گھر لیں بلکہ کوشش کریں کہ ایک دو ایسے بھی خرید لیں جن کی مورٹگیج کرایہ داروں سے پوتی جائے۔ یعنی آپ کو صرف ڈاؤن پیمنٹ ادا کرنی پڑی اور مورٹگیج ان پیسوں سے گئٰ جو کہ کرایہ دار نے کرایہ دیا۔
ایک غلطی یہ بھی ہے کہ لوگ پہلے ہی اچھا اور بڑا گھر لینے کے چکر میں کرایہ دیتے جاتے ہیں اور سیونگ اتنی نہیں ہو پاتی۔ پہلے چھوٹا گھر لے لیں جو کہ بہرحال کرایہ سے بہتر ہے۔ پھر دیکھیں کہ دو سال بعد ہی آپ کا کرایہ بھی جمع ہو کر اتنا بن چکا ہو گا کہ آپ مزید بڑا اور بہتر علاقہ میں گھر لے سکیں گیں۔ جیسے جو گھر لیا چاہتے ہیں اس کی ڈاؤن پیمنٹ 40 ہزار ڈالر بنتی ہے لیکن ابھی صرف 20 ہزار ہے تو انتظار کی ضرورت نہیں۔ چھوٹا گھر لیں 20 ہزار دے کر۔ دو سال بعد اگر قسط ہزار ڈالر فی ماہ تھی تو آپ کو گھر بیچنے پر تقریبا 44 ہزار ڈالر ملیں گیں یعنی بڑے گھر کی ڈاؤن پیمنٹ نکل آئی اس دوران آپ کی کچھ سیونگ بھی ہو سکتی ہے اگر قسمت اچھی رہے۔
اب آپ کہیں کہ اگر اتنا آسان ہے تو امریکی کیوں نہیں اپنا گھر لے لیتے۔ اس کی وجہ خود غرضی اور بے حسی ہے۔ کچھ لوگ بہت خود غرض اور بےحس ہوتے ہیں۔ ان کو صرف اپنی ذات کے آگے کچھ نظر نہیں آتا اور اپنی خوشی ان کو مقدم ہوتی ہے۔
امریکی چونکہ فیملی سسٹم نہیں رکھتے لہذا وہ اس سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ غریب والدین چاہتے ہیں کہ بچے جلد سے جلد اپنا خرچہ خود اٹھائیں۔ جبکہ امیر والدین زیادہ سے زیادہ بچے کے گھر کی ڈاؤن پیمنٹ ادا کر کے اس کو خود سے الگ کر دیتے ہیں۔ فیملی سسٹم نہ ہونے سے امریکیوں کا خرچہ زیادہ ہے۔ بلکہ میں تو ایسے لڑکے کو جانتا ہوں جسکی ماں اس کو تنگ کر رہی ہے کہ وہ اب الگ جا کر رہے اور ایسے گھر بھی ہیں جہاں ایک ہی گھر میں بہن بھائیوں کے الگ الگ فون بجلی کیبل وغیرہ کے تین کنکشن ہیں۔
کچھ لوگوں کے تو حالات ایسے نہیں بنتے اور کچھ لوگ کرایہ پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ ایسے ان کے پاس اتنی فالتو رقم ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات پر خرچ کر سکیں۔ یہ غلطی ہے اور اس کا خمیازہ کسی نہ کسی کو بھگتنا پڑتا ہے اور جس کو بھگتنا پڑتا ہے وہ طاہری سی بات ہے آپ سے ناخوش ہی رہے گا۔ اگر آپ کو اپنے نام پر لینا پسند نہیں تو میرے نام پر لے لیں
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
257 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







میری بیوی نے نقد میں هی نیا گھر لے لیا ہے
امیر باپ کی امیر بیٹی ہے ناں جی
کسی دن اس مکان کی فوٹوز وغیره کے ساتھ اس پر ایک پوسٹ لکھوں گا ـ
خاور’s last blog post..دھونکل
اچھے مشورے دیے ہیں، امید ہے کہ پاکستانی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
Faisal’s last blog post..شکریہ دریچہ
آپ سے کس نے کہہ دیا کہ امریکی گھر نہیں خریدتے۔ ہوم اونشپ ریٹ اس وقت 68 فیصد ہے۔
گھر خریدنے کا فائدہ آپ کو اسی صورت میں ہوتا ہے کہ اگر آپ کی کریڈٹ ہسٹری اچھی ہو اور آپ گھر کو کم از کم 2 سے 5 سال تک رکھیں۔
ہم چونکہ خود مالک مکان ہیں اسلیے مشورہ دیں گے کہ گھر خریدنے میںجلدی بھی نہیںکرنی چاہیے اور جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلانے چاہیں کہیںایسا نہ ہو بعد میں گھر فوکلوژر والوں کی قطار میںکھڑا ہونا پڑ جائے۔
گھر اور کرائے کے مکان کا موازنہ کرتے وقت گھر کے پراپرٹی ٹٰیکس، گیس پانی بجلی کے بلوں اور گھر کی دیکھ بھال و مرمت پر اٹھنے والے اخراجات کبھی نظر انداز نہیںکرنے چاہیں۔
گھر اس جگہ خریدنا چاہیے جہاںاس کی قیمت بڑھنے کے زیادہ امکانات ہوں۔ جہاں اچھے سکول ہوںتاکہ بچے اچھی تعلیم حاصل کر سکیں۔
کچھ لوگ جو نقد گھر خریدنے کا سوچ رہے ہوتے ہیںان کی نظر میں سود سے بچنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اب اسلامی مورٹگیج پر گھر خریدنے لگے ہیں۔
امریکی اسلیے بھی گھر نہیںخریدتے کیونکہ وہ خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے کر ترجیحدیتے ہیں جہاںنوکری ملی انہوں نے وہاںہجرت کر لی۔
کرائے پر الگ گھر لینے کی بجائے کچھ لوگ بڑا گھر یعنی دو تین منزلہ لے لیتے ہیں ایک منزل پر خود رہتے ہیں اور باقی کرائے پر دے دیتے ہیں۔ یہ طریقہ بڑے شہروں میںعام ہے۔ ویسے اکثر جگہوں پر کرائے اور مورٹگیج میںکم ہی فرق ہوتا ہے اسلیے کرائے کا فائدہ تبھی ہے جب مورٹگیج کم سے کم ہو۔
کریڈت کرنچ کی سب سے بڑی وجہ لوگوںکا لالچی پن تھا۔ جب لوگوں نے سستے گھر خرید کر مہنگے بیچنے شروع کیے تو سب دیکھا دیکھی آنکھیںبند کرکے اس کاروبار میں کود پڑے اور پاکستان کی سٹاک مارکیٹ اور پراپرٹی مافیا کی طرح آخر میں وہ اپنی جمع پونجی بھی گنوا بیٹھے۔
میرا پاکستان’s last blog post..کیسے کیسے لوگ ۔ اصل کہانی کیا ہے؟
خاور: مجھے خوشی ہو گی جب بھی لکھیں گیں۔ جاپانی سٹرکچر کا خاص طور پر لکھیں اور یہ بھی کہ کتنی اقسام کے گھر ہوتے ہیں سٹرکچر کے حوالے سے۔ جیسے یہاں سرد علاقوں کے گھروں کی چھتیں ہی اس کی دیواریں ہوتی ہیں۔ یعنی سلوپ بہت تیز ہوتی ہے۔ مجھے اس کا بھی نام بھول گیا کہ اس گھر کو کیا کہتے ہیں
فیصل: سر آپ بھی کوئی پوسٹ کر لیں۔
زکریا: میں اس حوالے سے کہہ رہا تھا کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہاں تو گھروں کی فروخت کا بیڑہ تر گیا ہے تو وہ کیونکر۔ ویسے امریکی کافی لیٹ گھر لیتے ہیں جبکہ دیسی پہلے لیتے ہیں۔ میرا خیال ہے شائد نیشن وائڈ درست نہ ہو۔
میرا پاکستان: بل تو ویسے بھی دینے ہی ہوتے ہیں۔ ٹیکس ہمارے یہاں دو ہزار ڈالر ہے پھر بھی سال کا دس ہزار ڈالر بچ جاتا ہے۔ دیکھ بھال کا بھی خرچہ نکال لیںجو کہ عام طور پر ہر سال تو نہیںہوتا تب بھی کافی موٹی رقم بچ جاتی ہے۔
جی ایسا میں نے نیویارک میں دیکھا ہے۔ مورٹگیج چاہے بریک ایون ہو تب بھی لے لینا چاہئے کیونکہ کچھ نہ کچھ جمع ہو ہی رہا ہے بینک میں نہ صحیح گھر میں ہی صحیح کیونکہ جب بھی بیچیں گیں رقم مل جانی ہے۔
کرایہ یا گھر خریدنا
گھر کی مرمت پر کافی پیسہ لگتا ہے مگر یہ ہر سال نہیںلگتا بلکہ ہر سال معمولی رقم اور پھر 10 سے 15 سال پرانا ہوے پر کافی رقم لگتی ہے۔
پراپرٹی ٹیکس مختلف جگہوں پر مختلف ہیں۔ دو سے آٹھ ہزار تک ہو سکتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ مارٹگیج کی وجہ سے جو انکم ٹیکس میں چھوٹ ملتی ہے وہ شروع میں زیادہ اور بعد میں کم ہوتی ہے کیونکہ وہ انٹرسٹ کی چھوٹ ہے اور آپ پہلے سال سب سے زیادہ انٹرسٹ دیتے ہیں۔
رہی بات گھر خرید کر کرایے پر دینے کی تو یاد رہے کہ ایسے گھر کا ٹیکس زیادہ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ کم از کم آج سے ایک دو سال پہلے تک گھروں کی قیمتوں میں اضافہ کرایوں میں اضافے سے بہت زیادہ ہو رہا تھا۔
اگر آپ کام کمپنی سے کرواتے ہیں تو کافی پیسہ لگتا ہے اگر خود کرتے ہیں تو بہت بچت ہے۔ اب تو کافی دیسیوں کو یہ کام آتا ہے۔ سکولوں میں بھی بیسک سیکھإی جاتی ہیں۔
یہاں 2 ہزار ڈالر تک ہے۔ بڑے شہروں مٰں زیادہ ہے اس لٕے اگر چھوٹے شہروں میں خاص طور پر کسی یونیورسٹی کےک پاس لیں تو بہت فائدہ ہے۔