شہد کی مکھی

سچون، چین: پہاڑیوں اور ان کے دامنوں میں لاکھوں درختوں پر کروڑوں پھول کھلے ہیں۔ ہزاروں دیہاتی ان درختوں پر چڑھ کر سگریٹ فلٹرز ، پرندوں کے بروں سے ان پھولوں کو پولینیٹ کر رہے ہیں۔ وجہ بہت "معمولی" سی ہے۔ شہد کی مکھیاں گم ہو گئیں ہیں۔

کیلیفورنیا، امریکہ: صرف اس ایک ریاست کو باداموں کی جتنی مقدار پیدا ہونے کی توقع ہے یعنی بمپر کراب اس کے لئے جس قدر شہد کی مکھیاں درکار ہیں وہ بدقسمتی سے اتنی ہیں جتنی پورے امریکہ میں بچی ہیں۔

P1020974

P1020975

P1020976

P1020977

P1020978

P1020979

P1020980

P1020981

P1020982

P1020983

P1020984

P1020985           

دو سال قبل جب میں نے پہلی دفعہ ٹماٹر کے پودے لگائے تھے تب یہ پودے ٹماٹروں سے لد گئے تھے۔ اب کا حال دیکھ لیں۔ اس وقت شام کو شہد کی مکھی دیکھنا عام سی بات تھی اس سال مجھے ایک بھی نظر نہیں آئی۔ معاملہ اتنا اہم نہیں لگتا لیکن بہت گھمبیر ہے۔

شہد کی مکھیاں یہاں باقاعدہ پالی جاتی ہیں۔ یعنی ایک کاروبار ہے۔ ان کے بڑے بڑے باکس ہوتے ہیں جن میں چھتے کی طرح خانے بنے ہوتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں ان میں رہتی ہیں۔ جس سے معاہدہ ہو اس کے فارم یا کھیت پر یہ باکس چھوڑ دیئے جاتے ہیں شہد کی مکھیاں اس کی فصل بارآور کرتی ہیں اور کام تمام۔ ذرا اس فصلوں کی لسٹ پر نظر ڈالیں جو شہد کی مکھیاں بارآور کرتی ہیں

بی کیپر یعنی شہد کی مکھیاں پالنے والے کچھ عرصہ سے اس کے ڈنگ سے بھی زیادہ شدت کے جھٹکے سے آشنا ہو رہے ہیں اور وہ ہے اس ڈبہ کو کھولنے کی صورت میں شہد کی مکھیاں غائب ہونا۔ جیسے ایک بی کیپر نے یہ چھتا کھولا تو دیکھا اس کی ۱۰۰ ملین مکھیوں میں سے ۵۰ ملین غائب ہیں۔ ویسٹ کوسٹ پر تیس سے ساٹھ فیصد جبکہ ایسٹ کوسٹ پر ستر فیصد تک مکھیاں غائب پائی جا رہی ہیں۔

ہوتا کچھ یوں ہے کہ شہد کی مکھی چھتے سے نکلی اور کبھی واپس نہیں آئی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک چھتے کی مکھی دوسرے چھتے میں چلی جائے۔ کیونکہ اس کو درانداز سمجھ کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ لہذا یہ کھیت کھلیانوں میں کہیں مر جاتی ہیں۔ اس کو colony collaps disorder کا نام دیا گیا ہے۔

بات اگر صرف باداموں تک ہوتی تو ہم یادداشت پر صبر کر لیتے۔ لیکن مسئلہ کچھ یوں ہے کہ دنیا کی 87 اہم ترین فصلیں جو کہ انسانی خوراک کا تیسرا حصہ بنتی ہیں وہ شہد کی مکھیوں کی مرہون منت ہے۔ اس حصہ کی قیمت ایک ٹریلین ڈالر ہے۔ صرف امریکہ کا کہیں تو ساٹھ سال پہلے اگر 100 مکھیاں ہوا کرتی تھیں تو اب صرف 33 بچی ہیں اور وہ بھی ختم ہو رہی ہیں۔

مسئلہ اگر صرف امریکہ بہادر کا ہوتا تو اور بات تھی۔ انگلستان نے رپورٹ دی ہے کہ 2018 تک نہ صرف شہد کی مکھیاں وہاں سے غائب ہو جائیں گی بلکہ 165 ملین پاؤنڈ مالیت کی فصلیں جیسے سیب ناشپاتی کینولا وغیرہ غائب ہو جائیں گیں۔

سائنسدانوں کو ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ایسے کیوں ہو رہا ہے۔ کچھ کیڑے مکوڑوں کی ادویات کو الزام دیتے ہیں تو کچھ وائرلیس نیٹورکس کو۔ کبھی فرکٹوز کارن سیرپ کا نام لیا جاتا ہے تو کبھی اسرائیل اکیوٹ وائرس کا۔ اسرائیل کے پیچھے پڑنے کی ابھی ضرورت نہیں کہ وائرس کا نام اس کی جہاں نشاندہی ہوتی ہے پر رکھا جاتا ہے جیسے انہی مکھیوں کو متاثر کرنے والا ایک وائرس کشمیر وائرس بھی ہے۔

شہد کی مکھیوں کی کمی یورپ یہاں تک کہ بھارت میں بھی نوٹ کی گئی ہے۔ برازیل بھی پیچھے نہیں۔ آپ سوچ سکتے ہیں ان کے گم ہونے پر کیا ہو گا؟ اگر ابھی غذائی قلت ہے تو تب کیا ہو گا؟ اس طرح کسانوں کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔ 160 سے 180 ڈالر فی چھتہ دینا پھر گلوبل مارکیٹ ہونے کی وجہ سے نرخ خود مقرر نہ کر سکنا لہذا کسان نقد فصلوں پر بھاگ جاتے ہیں۔ جیسے اگر پہلے کوئی گندم اگاتا تھا اور اس کا منافع اتنا نہیں تھا لیکن اب کارن اگا کر قریب واقع ایتھانول پلانٹ کو بیچ کر اسی وقت چیک حاصل کر لیتا ہے۔

یہ تمام کیسے ایک دوسرے سے متعلقہ ہے اسکو گلف آف میکسیکو کے ڈیڈ زون کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دریائے مسی سپی کی تمام وادیوں میں تو کیمیائی کھادیں خوب فصلیں اگاتی ہیں لیکن دریا کے ساتھ گلف آف میکسیکو میں شامل ہو کر یہ ڈیڈ زون بناتی ہیں جس کا رقبہ امریکی ریاست نیو جرسی جتنا ہے۔ اس علاقے میں پانی میں کوئی بھی سمندری مخلوق نہیں رہ سکتی اور ہر سال اس کا بننا لازمی ہے جو کہ بڑھتا جاتا ہے۔ یعنی ایک چیز فصل کے لئے تو بہت اچھی ہے لیکن میرین لائف کے لئے بہت خطرناک۔

کچھ موسم کی تبدیلی پر بھی ہے۔ اس سال تو میں خود اس کا گواہ ہوں۔ ہر سال ہمارے گھر کے ارد گھر بہت پھول کھلتے ہیں۔ اس دفعہ بھی پھول بنے لیکن ایک "دیر آید" قسم کی ٹھنڈ کی لہر نے یہ سب تباہ کر دیا لہذا اس دفعہ کی بہار بہار نہ تھی بلکہ بہار بیگم لگ رہی تھی۔ اس کا اثر پھلوں اور پھولوں پر تو پڑا ہی لیکن شہد کی مکھی پر بھی کہ یہ زیادہ ٹھنڈ میں مر جاتی ہیں۔

کیا ناروے کا ڈومز ڈے بھی اسی قسم کی پیش بندی ہے کہ کل کلاں کو ایسے بھی فصلیں نایاب ہو سکتی ہیں؟ جب تک سائنسدان اس کا علاج نہیں ڈھونڈ لیتے اور شہد کی مکھیاں پہلے جیسی تعداد میں واپس نہیں آ جاتیں میرا خیال ہے مجھے کاٹن سٹک سے خود ہی ان ٹماٹروں کو بارآور کرنا پڑے گا۔

 

Popularity: 5% [?]

Popularity: 5% [?]

286 views

 

 

Related Posts

    None Found

 

Random Posts


1 Response to “شہد کی مکھی”

  1. 1 خاور

    اے نواں کٹّا کھول دتا جے ـ
    آپ امریکی لوگوں کو دنیا کا تراھ نکالنے کا بڑا شوق ہے ـ

    خاور’s last blog post..ٹیگ

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • taha: magar baaz log bohat hi ziada ehsaan faramosh hotay hyn unhain yaad dilana hi parta hy un ki ziadtiyon se...
    • DuFFeR - ڈفر: احسان کی قیمت ہوتی ہی کب ہے؟ .-= DuFFeR – ڈفر´s last blog...
    • DuFFeR - ڈفر: نا یار میرے متعلق اپنی رائے مت بدلو میں نے تو سیدھا...
    • لالے کی جان: ھہ تہ بدتمیز لیکن باتیں کمال کی کرتے ھو۔ .-= لالے کی...
    • کنفیوز کامی: ٹھیک کیا اے پا جی :cool:
    • نبیل: اس مرتبہ نشانے پرکون ہے؟
    • بلوُ: احسان کی قیمت وصول کر لی جائے تو قیمت دینے والا بھی احسان...
    • میرا پاکستان: جعفر صاحب، پہلا ہی جواب کافی تھا لیکن ہو سکتا ہے آپ...
    • افتخار اجمل بھوپال: میرے خیال کے مطابق جو احسان صرف اللہ کی...
    • ریحان: واہ

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 748
    • Links to posts: 73
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (48) جہیز (42) سب سے پہلے پاکستان (33)
    • Comments: 2449
    • Comments per post: 3.27
    • Top3 commenters: -بدتمیز (596) -راہبر (87) -راشد کامران (77)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 392913

     

    اردو بلاگرز

    Powered by SideRSS Plugin

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->