اےپیک کانفرنس اس ماہ کے شروع میں منعقد ہوئی تھی۔ مجھے پاکستانی میڈیا میں اس کی کوریج نظر نہیں آئی۔ باراک اوبامہ کی تقریر مرچ مسالہ لگا کر چھاپی گئی تھی باقی مقاصد وغیرہ پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔
اےپیک کانفرنس اسرائیل کی ساٹھویں سالگرہ منا رہی تھی۔ اس کانفرنس سے کونڈالیزرائس۔ سپیکر نینسی پلوسی، باراک اوبامہ جان مکین اور ہیلری کلنٹن کے علاوہ ہاؤس اور سینٹ کے ریبپلیکن لیڈران اور سینٹ میجورٹی لیڈر نے بھی خطاب کیا۔ اس کے علاوہ اسرائیل وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے بھی خطاب کیا تھا۔
اثر و رسوخ تو ان سب کے وہاں آنے سے صاف ظاہر ہے کہ میرا نہیں خیال کہ یہ تمام کسی اور ملک کے لئے ایسے آئیں گیں۔ اسرائیل وزیراعظم کا لوگوں سے مشفقانہ رویہ دیکھ کر نہ جانے کیوں اپنے مشرف صاحب بڑے یاد آئے جو کہ راکٹ مارنے کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتے تھے۔
تقاریر میں بہت یکسانیت تھی۔ سب کی سب میں اسرائیل کو امداد دینے کا اعادہ، اسرائیل کے دورے کے دوران پیش آیا کوئی واقعہ، اسرائیل پر پھینکے گئے راکٹوں کا ذکر، ایران کے صدر احمدی نژاد کا خصوصی ذکر کہ وہ ہالوکاسٹ پر یقین نہیں رکھتے۔ ایران ایک بڑی خطرہ اور سب سے عجیب بات تین ایسے اسرائیلی فوجیوں کا ذکر جن کے نام تک ان سینیٹرز اور نمائندگان نے رٹے ہوئے تھے۔
باراک اوبامہ کو ایول بنا کر پاکستان میں پیش کیا جا رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ وہ کالم نگار ہیں جن کو کچھ بھی پتہ نہیں۔ اگر آپ امریکی ہوں اور آپ نے جنگ ہی اسامہ بن لادن پر شروع کی ہو تو آپ کا عراق یا ایران میں کیا کام؟ امریکی ہو کر سوچیں اسامہ افغانستان یا ملحقہ پاکستانی علاقے میں ہو گا۔ تورا بورا پر شدید امریکی بمباری اسی کے لئے تھی اس کے بعد بھی اس کی ویڈیوز آئیں تو وہ نکل بھاگا اور ساتھ کونسا علاقہ ہے؟ جی شمالی علاقہ جات۔
انسان طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ قوانین قائدے اصول یہ سب برابری کی سطح پر ہوتے ہیں۔ کیونکہ علم ہوتا ہے کہ مکا مارنے پر گھونسا آنا ہے لہذا قانون بنتا ہے اور تب تک برقرار رہتا ہے جب تک عمل کروانے والے طاقتور رہتے ہیں۔ جب آپ کے پاس طاقت ہی نہیں تو خالی اصول اور انصاف کے نعرے لگا کر آپ کسی کو کیسے روک سکتے ہیں؟
صدر بش کے والد بش نے اسرائیل پر بڑا زور ڈالا ہوا تھا کہ امن معاہدہ کرو۔ امریکی صدور ہمیشہ چاہتے ہیں کہ اپنے دور میں کوئی ایسا کام کر جائیں کہ بعد میں ان کو یاد رکھا جائے۔ جیسے ابھی صدر بش کے حوالے سے ہے کہ وہ چاہتے ہیں اسامہ گرفتار ہو جائے۔ اسی طرح بڑے بش صاحب کی بدقسمتی ان کو امر ہونے کے لئے جونسا ایشو اس وقت دستیاب تھا وہ تھا ہی فلسطین کا۔ دباؤ ڈالا تو ایک تقریر میں بل کلنٹن نے کہا کہ وہ اسرائیل کو دس بلین ڈالر امداد دیں گیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہیں۔ میڈیلین البرائیٹ بھی یاد ہونگی۔ پاکستان کے بڑے چکر لگاتی تھیں۔ میڈیلین البرائیٹ ہالوکاسٹ سے بڑی مشکل سے بچی تھیں۔
باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ وہ اگلے دس سالوں میں اسرائیل کو 30 بلین ڈالر امداد دیں گیں۔ اب یہ آئے گا کہاں سے؟ کن کے ٹیکسوں سے؟ مزے کی بات ہے کہ منظوری کے بعد ان کی بہت چھوٹی سی خبر ہوا کرتی ہے۔ خیر اوبامہ کے علاوہ سب نے اسرائیل کو مدد دینے کا تو کہا لیکن ان کا زیادہ زور ایران کے خطرے کا تھا۔ یعنی قریب قریب ایران کی باری آنی ہی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایران پر حملہ ہو یا نہ ہو مسئلہ اس سے آگے کا ہے کہ پھر اس خطہ کا فیوچر کیا ہو گا؟ اس قدر بڑا علاقہ (ذرا گوگل میپس دیکھیں) اتحادی افواج سنبھال پائیں گیں؟ اگر یہاں بارڈر کا تاثر ختم ہو گیا تو پھر کتنی تباہی آئے گی؟ افغانستان اور عراق کے درمیان اتنا بڑا ایران ہے۔ امریکہ ان دو چھوٹے ملکوں کو قابو نہیں کر سکا جہاں سرحدیں قائم ہیں۔ اگر ایران بھی شامل ہو گیا تو پھر تو اس وسیع علاقے میں سرحدیں مٹ جائیں گیں اور کنٹرول نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان کا ایک نقشہ چھپا تھا جس میں رہ سہا پاکستان دیکھایا گیا تھا کہ پنجاب اور سندھ پر مشتمل ہے۔ ظاہر بات ہے ایران کے ساتھ بلوچستان ہے اور شمالی علاقہ جات سرحد۔ اب نامعلوم بھارت میں اکھنڈ بھارت میں سرحد اور بلوچستان شامل ہیں کہ نہیں۔
Popularity: 7%
Popularity: 7%
172 views
Related Posts
- None Found
Random Posts








جی یہ گانا ہی تھا تو وہ کوڈ ڈالنا بھول گیا۔
اگر آپ امریکی ہوں اور دودھ پیتے بچے ہوں تو سوچیں اسامہ پاکستان میں ہوگا
اگر اوبامہ کو اتنی چھوٹی سی بات کا ہی نہیں کہ یہ سارا ڈرامہ ہے ، تو وہ صدر بن کر کیا کرے گا؟ مجھے اس رپورٹ کا حوالہ ڈھونڈنا ہوگا ، ابھی یاد نہیں ہے کہ ، ستر کی دہائی میں سی آئی اے نے اپنے ہی بحری بیڑے کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، مفادات حاصل کرنے کے لیے ۔
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک شخص کو پکڑنے کے لیے ہزاروں انسانوں کو مار ڈالا جائے اور کروڑوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی جائیں؟ امریکہ کی انٹیلی جنس کدھر ہے ؟
تزک نگار’s last blog post..Love You Mahrukh
[reply to this comment]
قدیر احمد رانا ملناتی: تم نے بھیڑئے اور میمنے کی کہانی نہیں پڑھی؟ ستر کی دہائی میں جب ایسا ہوا تو صدر بش تو ابھی بھی کہتا ہے کہ اس کو عراق کے بارے میں سی آئی اے نے غلط رپورٹ فراہم کی۔ تم نائن الیون کے حوالے سے تیس سال بعد کوئی رپورٹ نہیں پڑھ سکو گے کہ صدر بش نے ایک دستخط سے ان دستاویزات کو تیس سال بعد بھی جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکیوں نے ایمل کانسی تک پاکستان سے برآمد کروا دیا تھا اگر اسامہ بھی پاکستان سے گرفتار ہوا تو تم کہو گے کہ نہیں یہ تو وہاںسے پکڑ کر لائے اور ادھر ڈرامہ کیا۔
[reply to this comment]
بدتمیز امیرکی: دیکھ لیں گے کہ ان کا ایجنٹ کہاں سے برآمد ہوتا ہے
تزک نگار’s last blog post..Innocence
[reply to this comment]
قدیر صاحب اگر یہ سب ڈرامہ ہے بھی تو امریکہ کا کیا نقصان ہے ۔۔ طویل مدتی فوائد تو اس نے حاصل کرلیے۔۔ تیل پر قبضہ بھی کر لیا اور اسلام کے نام نہاد قلعوں کی فصیلیںبھی ہلا کر رکھ دیں۔۔ باقی رہی امریکی معیشت ۔۔ اسکی فکر امریکیوںسے زیادہ وہ کریںگے جن کاسب کچھ اس معیشت میںلگا ہے ۔۔ پاکستان کے نقشے کی تو فکر ہی نہ کریں۔۔ یہاںتو بات بات پر ویسے ہی وفاق ٹوٹنے کی دھمکی چلتی رہتی ہے۔۔ ویسے بھی ان سرحدوں کا کیا فائدہ جس میں جس کا جب دل چاہا منہ اٹھا کر داخل ہوگیا۔۔
راشد کامران’s last blog post..اب کسے ٹیگوں ؟
[reply to this comment]