پچھلا ہفتہ بے حد شدید گرم تھا۔ مسلسل چھ دن ایسے گرم گزرے کہ لان کی ساری گھاس چل گئی، ارد گرد لگے چھوٹے چھوٹے پودوں کے پتے جلنے لگے۔ روزانہ 105 فارن ہائیٹ تک درجہ حرارت تھا۔ لاہور کے مقابلے میں یہ کچھ کم ہی ہے لیکن سبزہ کی فراوانی اور کچھ سمندر کی مہربانی سے حبس بھی ہو جاتا ہے۔ ہوتا ایسے ہے کہ اگر ہوا کا رخ لینڈ سے ہو تو حبس نہیں ہوتا لیکن اگر سمندر کی طرف سے ہوا ہو تو بہت حبس ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اب گرمی کا وہ زور نہیں لیکن خشک سالی کی لہر جاری ہے۔ پرسوں “چھٹا” لگا تھا اور آج کچھ چھٹا لگا ہے لیکن ابھی بھی کھل کر بارش نہیں ہوئی۔
اب جب ایسی گرمی پڑے تو گرج چمک ہونی لازمی ہوتی ہے۔ طوفانوں کی شدت بڑھ گئی ہے۔ بارش بھی اب امریکہ کو چکمہ دے دیتی ہے۔ کچھ کمال اس سیٹلائٹ کا بھی ہو گا جس پر امریکی لڑ رہے ہیں۔ بش ایڈمنسٹریشن ماننے کو تیار نہیں اور سابق موسمیاتی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طوفانوں خاص طور پر ہریکینوں کو بہتر طور پر پیشنگوئی کرنے کے لئے یہ ناگزیر ہے لیکن واشنگٹن ڈی سی میں موجود سیاستدان اس خطرہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ کچھ صدر بش بھی جنگوں پر زیادہ پیسہ لگا رہے ہیں لہذا اتنا پیسہ بچتا نہیں۔ دوسرے موسم سے متعلقہ سبھی کاموں میں صدر بش ٹانگ اڑا دیتے ہیں اور وہ ٹھپ ہو کر رہ جاتے ہیں حتی کہ عدالت مداخلت کر کے ایسے کاموں سے صدر کی ٹانگ نکالتی ہے۔
اب بارش کیسے چکمہ دیتی ہے؟ یہاں موسم کا حال دیکھنا کچھ کچھ لازمی ہی ہے۔ بیچ دسمبر ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے ایک دن ایسا بھی آ جاتا ہے کہ درجہ حرارت 88 فارن ہائیٹ چھو لیتا ہے اور اس جون میں کل اور پرسوں رات شدید گرمی کے بعد اچانک اتنی ٹھنڈ ہو گئی کہ جیکٹ پہننی پڑ گئی۔ اب ویدر ڈاٹ کام پر بارش کا چانس ذرا بھی نہیں آسمان بھی صاف ہی ہے آپ نے گاڑی دھوئی چمکائی اور ایک گرج کی آواز آئی اور سارے کئے کرائے پر پانی پھر گیا۔
اس سال سے شدید طوفان کی آمد سے قبل گھروں میں فون کئے جاتے ہیں۔ ہوتا کچھ یوں تھا کہ ویدر ریڈیو بہت کم لوگ لیتے تھے یا رات کو کسی وقت آ گیا طوفان اور لوگ سوئے ہوئے ہوں تو اب فون کر کے خبردار کیا جاتا ہے۔ اب دو دفعہ تو طوفان ان سے بھی آنکھ مچولی کر چکا ہے۔ پہلے تو ابھی ایک ماہ قبل ٹورنیڈو آیا تو اس کے ہٹ ہونے کے بعد فون آیا کہ آ رہا ہے۔ دوسرا تھنڈر سٹارم گزر بھی گیا خوب گرج چمک ہو گئی تو فون آیا کہ جی تھنڈر سٹارم آ رہا ہے۔ میں تو گھر داخل ہوں اور امی کا موڈ بنا ہو تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ ضرور فون آیا ہو گا۔ میری امی کا خیال ہے کہ سیل فون سے بندہ فون کر کے بتا دے کہ میں خیر خیریت سے ہوں۔ میں نے تو بہت سمجھایا کہ یہ آتے جاتے رہتے ہیں لہذا اتنا نہ ڈریں دوسرا پاکستان نہیں کہ بچہ گم ہو گیا ہے تو تھانے اور ہسپتال خود چیک کریں۔ جہاں بھی جو بھی ہو گا گھر فون آ ہی جائے گا۔
![]()
کچھ امریکی بادل بھی طرحدار حسینہ کی طرح آتے جاتے ہیں۔ واشنگٹن ریاست کو جل تھل کرتے ہیں تو کیلیفورنیا اور ایریزونا کو منہ نہیں لگاتے اور ٹیکساس کو سیراب کرتے ہیں تو پھر ساؤتھ یعنی البامہ اور جارجیا کو خشک رکھ کر اوپر نیویارک کی طرف بھاگتے ہیں۔ ہماری قسمت اچھی ہو اور کولڈ فرنٹ ان کو ٹکر جائے تو اچھی بارش ہو جاتی ہے۔ ان کا موڈ خراب ہو تو اوہائیو پر کھل کر برستے ہیں اور لوزیانہ کا حشر نشر کر دیتے ہیں۔
آج بھی ایک رپورٹ جاری ہوئی ہے کہ زمین کا کیا حال کر دیا ہے مثال کے طور پر اگر پہلے 20 سال بعد گرم ترین دن آتا تھا تو کچھ عرصہ میں گھٹ کر 3 سال بعد آگے لگے گا۔ جو موسمی حالت پہلے شاذونادر ہوتی تھی اب بار بار ہو گی۔ گرمیوں میں بارشیں اور سردیوں میں برفانی طوفان شدت حاصل کر لیں گے۔ ہریکینز مزید طاقتور ہواؤں کے ساتھ حملہ آور ہونگے اور پہلے جو بیس سال میں بارش ہوتی تھی وہ پانچ سالوں میں برس جایا کرے گی۔ جہاں سوکھا پڑ رہا ہو گا وہ ختم ہی نہیں آنے کو ہو گا۔
یو ایس گلوبل چینج ریسرچ پروگرام
Popularity: 3% [?]
Popularity: 3% [?]
219 views
Related Posts
- None Found


























بدتمیز ميں نے آپ کو ٹيگ کيا ہے جواب ضرُور ديجيۓ گا
اکرام’s last blog post..ٹیگ ٹیگ کا کھیل