بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو عموما جن بھوت سے ڈرایا جاتا ہے۔ ہماری دادی جان سختی سے بچوں کو جن بھوتوں سے ڈرانے سے منع کرتی تھیں۔ ہماری امی بھی زیادہ سے زیادہ جس سے ڈراتی تھی وہ چوکیدار ہوتا تھا کہ رات کو گھڑی دیکھ کر 12 بجے وہ باہر سے گزرتا تھا اور میرا ڈر اس کو تب دیکھ کر بالکل کافور ہو گیا جب ایک دن وہ ماہانہ پیسے لینے آیا۔
ایک اور چیز جس سے بچوں کو بہت ڈرایا جاتا ہے وہ ہیں محترم ابا جان۔ بچے ذرا بڑے ہوئے تو جن بھوتوں سے ڈرتے نہیں الٹا الہ دین پڑھ پڑھ کر گھر کے سارے دیئے رگڑتے ہیں کہ کدھر ہے جن۔ نتیجتا ماؤں کے پاس ایک ایسی ہی چیز رہ جاتی ہے جس سے بچے ڈر سکتے ہیں اور وہ ہیں ابا جان۔ آپ دیکھ لیں سب مائیں شام کو بچوں کی باجماعت شکایتیں لگاتیں ہیں جس پر ابا جان محترم حسب توفیق گھوری سے لے کر ایک آدھ ہاتھ تک لگاتے ہیں۔
قصور سرا سر ماں کا کہ شکائت کیوں لگائی اور ماں پھر بھی پیاری ہی رہتی ہے اور بچہ ابا جان سے دور ہوتا جاتا ہے۔ کچھ ہمارے ابا جان بھی غلطی سے اس برانڈ کے ہوتے ہیں کہ کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے۔ ماں باپ کے فرائض بھی کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں ماں کھانا کھلا رہی ہے کپڑے پہناتی ہے لاڈ اٹھاتی ہے پیار کرتی ہے اور ابا جان کے ذمہ لگاتی ہے شرارتوں پر کان کھینچنے۔ فیل ہونے پر مرمت اور ہوم ورک کیا؟ دانت برش کئے؟ نہائے؟ اب ایسے سوالات سے بچہ ابا جان سے بھاگتے ہیں۔
ابا جان ساری زندگی جس کو احترام سمجھتے ہیں وہ دراصل ڈر اور خوف ہوتا ہے۔ نتیجتا ہمارے معاشرے میں جنریشن گیپ جو ہے وہ یہی "احترام" ہے۔ اکبر فرما گئے ہیں کہ
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
جنہیں پڑھ کر بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
اکبر چوک گئے ورنہ وہ نئے نئے ابا جانوں کو بھی سمجھا جاتے کہ آج کے بچے جو باپ کو خبطی سمجھتے ہیں وہ کل کے خبطی ہونگے۔
مدرز ڈے پر سب ماں کو یاد کرتے ہیں تحریرں لکھتے ہیں فادرز ڈے پر کیوں چوک جاتے ہیں؟ ہمارے گھر میں بھی جنریشن گیپ بہت زیادہ ہے۔ بقول خاور "گھروں گھری ایہوں حال اے" (گھر گھر کا یہی حال ہے) ہم لوگ ذرا سفید پوش تھے۔ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی رات بھوکے سوئے ہوں یا کسی تہوار پر نئے کپڑے نہ ملے ہوں اس میں خدا کی مہربانی کے بعد سراسر ہمارے ابو کی محنت ہے۔
ایک دن کے لئے ہی صحیح چلیں اپنے اپنے ابا جان کو سیلوٹ کریں کہ ان کی محنت سے ہم کسی قابل ہیں۔ پہلے سے موجود جنریشن گیپ یعنی آپ کا اور آپ کے ابا کے درمیان جو خلا ہے وہ تو شائد پر نہیں ہو سکتا لیکن ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ اپنی اولاد کے ساتھ وہ گیپ نہ پیدا کریں جس کا نشانہ ہم ہی ہونگے کہ نہ ابا جان کے ساتھ نہ بچوں کے ساتھ۔
سب ابا جان بلاگرز کو گزشتہ فادرز ڈے مبارک۔
Popularity: 4% [?]
Popularity: 4% [?]
187 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







0 Responses to “fathers day”
Please Wait
Leave a Reply