بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ کسی جگہ کا دستور تھا کہ ہر چند سالوں بعد شہر کے دروازے پر نوارد کو بادشاہ چن لیتے اور پہلے سے موجود بادشاہ کو صحرا میں چھوڑ آتے جہاں وہ بھوک پیاس سے جان دے دیتا۔ اب یہ بادشاہ ساری مدت خوب عیش کرتے اور خوب دل کھول کر موج مستی میں وقت گزارتے حتی کہ پھر وقت آ جاتا کہ ایک نوارد کو بادشاہ بنایا جائے اور پرانے بادشاہ سے جان چھڑائی جائے۔
کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اس دفعہ جو بادشاہ نازل ہوا وہ پوچھ بیٹھا مجھے تو بادشاہ بنا رہے ہو پہلے کا کیا کرو گے لوگوں نے بتایا تو اس نے پہلی فرصت میں شہر کے سارے مزدور کارندے بھیج کر صحرا میں محل اور باغات بنوانے شروع کر دئے۔ جب وقت پورا ہوا اور نئے بادشاہ کو لایا گیا اور اس کو صحرا میں چھوڑنے گئے تو دیکھا وہاں تو ہریالی ہی ہریالی ہے۔ تب لوگوں نے اسی بادشاہ کو تاحیات بادشاہت دے دی۔
شنید ہے کہ یہ بادشاہ مسلمان تھا۔ تب سے مسلمانوں میں بادشاہ کرسی سے تاحیات چمٹ جاتے ہیں اور ان کی قربانی کر کے ہی ان سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ اب نیا وقت ہے اور نئے انداز۔ اب صحرا میں گھر تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں دبئی ہے نہ۔ پھر ترکی میں گھر خریدا جا سکتا ہے یا سرے میں محل۔ سعودی عرب بھی جدہ پیلس کو پھر سے آباد کرنے کو بیقرار ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں اتنے پیسے جمع ہو سکتے ہیں کہ بعد میں مفاہمت بھی ہو سکے۔ صدر کے پاس 525 ملین کے اثاثے کی خبر تھی لیکن ان کے گھر کی جو جنک تصاویر شائع کی گئی وہ بھارتی ذرائع سے شاہ رخ خان کے گھر "منت" کی کہی جا رہی ہیں ویسے بھی میرا نہیں خیال صدر ایسا گھر پسند کر سکتے ہیں۔ جو حالات ہیں صدر کو "بنکرز" میں رہائش زیر غور لانی چاہئے۔
امریکہ صدر کو اپنے پاس لانا نہیں چاہتا اور ترکی ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلاول مشرف امریکی شہری ہونے کے ناطے صدر کو فوری طور پر بلا نہیں سکتا؟ جنرل جمشید کے انٹرویو کی آخری لائن تھی جو ان کے منہ سے نکل گئی کہ he will drag his feet وہ ایک دم چونک بھی گئے تھے۔ لیکن پھر کہا yes I kno him very well تو بس اب کے ہم نے اپنے جنرل مشرف کی قربانی کرنی ہے۔
اور کیا بھی کیا جائے؟ ہمارے ملک میں ایسی کوئی روایت ہی نہیں۔ کیونکہ ہمارے حکمران پہلے پہل امریکہ اور آرمی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے بعد فرار ہونے پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کا سربراہ کرسی چھوڑنے کے بعد کسی اور جگہ نوکری نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے ایسے تمام ملک جو ترقی پذیر ہیں وہ ہمیشہ اس قسم کے حکمرانوں سے نبردآزما رہیں گیں جو کرسی سے جونک کی مانند چمٹ جاتے ہیں۔
امریکی صدور اول تو صدر ہی اس وقت بنتے ہیں جب ایک ٹانگ قبر میں ہوتی ہے۔ (اس دفعہ ایک صاحب کی دونوں ٹانگیں قبر میں ہیں۔) لہذا وہ صدارتی مدت پوری کرنے کے بعد زیادہ کام کاج نہیں کر سکتے اور پنشن پر موج کرتے ہیں۔ کچھ ایک جیسے بل کلنٹن خطبے دیتے ہیں اور خوب دولت کماتے ہیں، کتاب لکھ کر بھی رائلٹی سمیٹتے ہیں۔ کوئی ہیومن رائٹس میں شامل ہو جاتا ہے یعنی کسی بھی طور یہ آئندہ گورنمنٹ میں پیش پیش نہیں ہوتے۔
پھر ان کی صدارت بھی بس نام کی ہے۔ بل کلنٹن کی سالانہ تنخواہ صرف 200000 ڈالر تھی۔ صدر بش کی تنخواہ 400000 ڈالر ہے۔ امریکہ میں صدر کی تنخواہ اس لئے نہیں بڑھاتے کہ مہنگائی بڑی ہو گئی ہے۔ صدر کی تنخواہ صرف اس لئے بڑھانی پڑ جاتی ہے کہ اس کے نیچے کام کرنے والوں کی pay rise ہو کر صدر کی تنخواہ کے قریب ہو جاتی ہے یعنی ان سب کی تو بڑھتی رہی صدر کی وہیں کی وہیں رہی ایک وقت آتا ہے کہ اگلی تنخواہ کے بڑھنے پر ان کے ماتحت صدر سے زیادہ کمانے لگیں گے لہذا صدر کی تنخواہ ان کے نیچے والوں کی وجہ سے بڑھائی جاتی ہے۔ اسی طرح صدر اگر شبنم مجید کو بلوا کر ان سے سانوں نہر آلے پل تے بلا کے سننا چاہیں تو اس کے لئے صرف 19000 ڈالر کا انٹرٹینمنٹ اکاؤنٹ ہے اور صدر کی ادھر ادھر سیروں کے لئے صرف 100000 ڈالر کا اکاؤنٹ ہے۔ ہماری طرح نہیں کہ صدر صاحب کو دوروں پر دوڑے پڑتے ہیں جو دنیا کے ایک ایک ملک جا کر ہی دور ہوتے ہیں۔ اور ان کی ایک ایک رات قوم کو بیس بیس لاکھ روپے میں پڑتی ہے۔
امریکی صدر کی پینشن صرف 191000 ڈالر سالانہ ہوتی ہے۔ بل کلنٹن اور ہیلری کے گوشوارے جو جمع کروائے گئے تھے ان کے مطابق پچھلے سال انہوں نے ایک ملین ڈالر کمائے جبکہ صدر بش اور لارا بش نے ایک سال میں 924000 ڈالر کمائے۔ ہمارے کسی صدر تو کجا ایک ننھے سے ایم این اے ایم پی اے کے گوشوارے نظر نہیں آتے۔ صدر ٹیکس سے پھر بھی نہیں بچتا اور اس کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے یہاں ٹیکس کا نظام الٹ ہے اور جو جتنا امیر ہے وہ اتنا زیادہ ٹیکس پے کرتا ہے۔ ہاں صدر بش جیسے بےضمیر لوگ بہت بڑی کمپنیوں کو ٹیکس بریک دیتے رہتے ہیں۔ لیکن ٹیکس بریک کچھ اور کہانی ہے۔ اور اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ یہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
چونکہ ان کے کارناموں سے کسی نہ کسی کو ایسی چوٹ پہنچی ہوتی ہے جو ان کا جانی دشمن ہو سکتا ہے لہذا سیکرٓٹ سروس کی طرف سے ان کو تاحیات حفاظت فراہم کی جاتی ہے۔ صدر بش کو صرف دس سال کی ملے گی لیکن ان کی حرکات کی وجہ سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس قانون کو ختم کر کے تاحیات مدت کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ وائس پریزیڈنٹس کو صرف چھ ماہ بعد تک ایسی حفاظت فراہم کی جاتی ہے۔
یہ صدور اپنے دور صدارت کے تمام کاغذت کتابیں تصاویر ویڈیوز اور ڈاکیومینٹس سنبھال کر رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جان چھوڑنے پر ان کے نام سے ان کی آبائی ریاست میں ایک لائبریری بنا دی جاتی ہے جہاں یہ سب چیزیں جمع کر دی جاتی ہیں۔ یہ لائبریری بھی حکومتی امداد سے تعمیر نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے فنڈ ریزنگ ہوتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اس کو بنائے
میرے خیال سے ہمیں لائبریریوں کی ضرورت نہیں۔ ہمیں عبرت گاہوں کی ضرورت ہے۔ جیسے ہم صدر مشرف کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ بقول ان کے ساتھ کمانڈروں کے ایڑیاں رگڑ کر ہی جان چھوڑیں گیں تو ان کی قربانی کے بعد ان کی حرکات کی ویڈیو آڈیو تصاویر تقاریر بیانات اور دوروں کی مکمل تفصیل ان کے گھر کو میوزیم بنا کر جمع کر دیں۔ اسی کے احاطے میں ان کی قبر بھی بنا دی جائے۔ ساتھ دو گارڈ کھڑے کر دئے جائیں کہ کہیں پھر سے باہر نہ نکل آئیں۔ اس عبرت گاہ پر ہر نئے آنے والے حکمران کی سالانہ حاظری لازمی ہو
Popularity: 6% [?]
Popularity: 6% [?]
231 views
Related Posts
- None Found


























شاہ فیصل مسجد کے دامن میں ایسی ایک عبرت گاہ بنی ہوئی ہے لیکن اقتدار کا ہما انسان کو شاید اندھا اور بہرا کردیتا ہے چناچہ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ویسے بادشاہ والی کہانی خوب تھی۔۔ شاید سعودی عرب میں ایسے ہی بنائے جاتے ہوں گے پہلے اب تاحیات ہوگئے ہیں
راشد کامران’s last blog post..شہر کراچی ہے جس کا نام
یہ امریکی وہ قوم ہیں کہ انہیں صرف اپنے لوگ انسنان نظر آتے ہیں ، دوسروں کو تو جانور بھی نہیں سمجھتے ۔
تزک نگار’s last blog post..امریکی حملہ،گیارہ پاکستانی فوجی جاں بحق
نہیں ہمیں ایسی عبرت گاہ نہیں چاہٕے ہمیں موجودہ صدارتی محل کو عبرت گاہ بنانا چاہٕے۔ ہمیں چھوٹی چیزیں نظر نہیں آتیں۔