بیج
138 views Published June 8th, 2008 in امریکہ نامہ, پاکستان نامہ.
امریکہ میں بیج نہیں ہوتے۔ سارے بیج غائب کر دئے گئے ہیں۔ صرف سیب میں بیج نظر آتے ہیں یا خربوزوں میں۔ امریکیوں کو بانجھ چیزیں بہت پسند ہیں۔ آپریشن کروائیے اور بانجھ ہو جائیے جدھر مرضی منہ ماریں پریشانی گلے نہیں پڑے گی۔ کچھ ایسا ہی حال پھلوں اور سبزیوں کا کر دیا گیا ہے۔
کہاں پاکستان میں تربوز کھانا اور کہاں امریکہ میں۔ امریکہ میں تربوز صرف ایک طرح کھایا جاتا ہے۔ کاٹیں اور کانٹے سے کھا لیں۔ ورنہ کٹا کٹایا پیک کیا ہوا چھوٹا سا پیس بھی ملتا ہے یا پھر فروٹ سلاد بنا کر ایک تنک سا جو کانٹے کا کام دیتا ہے۔
پاکستان میں تربوز کئی طریقوں سے کھایا جاتا ہے۔ جیسے آپ تربوز سمیت نہر میں چھلانگ لگا دیں، تربوز اور آپ جب آدھ میل سفر طے کر چکیں تو باہر نکلیں اور تناول فرمائیں ساتھ ساتھ مرضی ہے بیج نکال کر جس مرضی پر بھینکیں۔ یہاں تربوز میں دور دور تک بیج نہیں۔ خربوزے میٹھے ہوتے ہیں لیکن پاکستان والی شکل و صورت کے نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے خربوزے تربوز اور کوکونٹ سے رنگ پکڑتے رہے ہیں۔
اسی طرح موسمی اور مالٹے بھی بیج سے "پاک" ہوتے ہیں۔ کہاں مالٹے کا تصور ہی یہ ہوتا ہے کہ کھٹا ہو گا گلا پکڑا جائے گا اور یہاں آپ شرط لگا سکتے ہیں کہ ہو گا ہی میٹھا۔ اور بیج سے پاک۔
آم بالکل ہی عام ہوتے ہیں۔ امریکہ میں اصل آم نہیں ہوتے۔ یہاں گٹھلیاں آم کے بھاؤ ملتی ہیں۔ عجیب سا ذائقہ ہوتا ہے اور بہت غصہ چڑھتا ہے کہ کس کو آم کہہ کر بیچا جا رہا ہے۔ دیسی اسٹورز پر آم مل جاتا ہے پر وہاں بھی شائد انڈیا سے تھے
انگور اکثر اوقات کھٹے ہی ہوتےہیں۔ خاص طور پر ہرے رنگ کے۔ وہاں اگر انگور کا رنگ پیلا نہیں ہو تو لوگ نہیں خریدتے۔ یہاں انگور ہرے رنگ کے لیکن اس قدر میٹھے۔ میں نے جب پہلی دفعہ لئے تو میں نے سوچا بہت کھٹے ہونگے لیکن بالکل بھی نہیں۔ انگوروں میں بھی بیج نہیں ہوتے۔
پاکستان میں انار کھاتے تھے تو منہ بیجوں سے بھر جاتا تھا۔ اکثر لوگوں کی پلیٹ ان بیجوں سے بھری ہوتی تھی۔ یہاں پورا انار ختم ہو جاتا ہے اور بیج برائے نام ہی ہوتا ہے۔ صرف انار وہ واحد پھل ہے جو امریکہ میں on average پاکستان کے پھل سے چھوٹا ہی ہوتا ہے ورنہ باقی سب پھلوں کی جسامت بڑی ہے۔
یہ سب genetically engineered ہیں۔ ان کی مٹھاس جسامت سب سائنس کا کمال ہے۔ لیکن اس کی ایک قیمت بھی ہے۔ اب بیج خریدنا پڑتا ہے۔ ایسے نہیں کہ آم کھا کر گٹھلی دبا دی تو پودا نکل آیا یا جہاں آپ نے تربوز کھایا تھا دو چار دنوں میں "گواہیاں" زمیں سے برآمد ہو گئیں۔
پہلے زمانے میں فصلیں اگانا مشکل کام نہیں تھا۔ نہ کسان مکاؤ پروگرام ہوا کرتے تھے نہ زرعی بینک۔ اچھا زمانہ تھا فصل پک کر تیار ہوئی تو کچھ بوریاں گھر کے استعمال کی رکھ لی کچھ بوریاں اگلی فصل کے بیج کے طور پر اور باقی ساری فصل بیچ دی جاتی۔
صدر مشرف کا آج کا بیان ہے کہ دالیں مہنگی ہو گئیں ہیں تو مرغی کھائیں۔ "پاکستان میں اتنی گرمی پڑ رہی ہے؟" اب نیا زمانہ ہے ضیا کی جگہ پرویز ہے۔ اب پہلے زرعی بینک سے قرضہ لیں اس سے بیج لیں، فصل اگائیں، فصل پکنے پر کچھ بوریاں گھر کے استعمال کے لئے رکھیں اور باقی ساری بازار میں بیچ دیں، قرضہ چکائیں اور نئی فصل کے لئے قرضہ اپلائی کریں اور اپنی کریڈٹ ہسٹری بنائیں۔ نئی فصل ساری کی ساری بانجھ ہوتی ہے۔ اس کو دوبارہ زمین میں بیج کر فصل نہیں اگائی جا سکتی۔
ورلڈ بینک کے صدر نے یہ تو بتا دیا کہ خوراک کا بحران ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ سب سے بڑی وجہ کیا ہے۔ ہمارے جیسے ملکوں میں کسان مکاؤ پروگرام ہیں۔
ان بیجوں کو صرف بانجھ بیج پیدا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی جاتی۔ ان کو بیماریوں کے خلاف مدافعت بھی دی جاتی ہے اور کسانوں کو بھی ترغیب دی جاتی ہے کہ یہ بیج فلاں فلاں بیماری یا سنڈی سے متاثر نہیں ہوتا۔ کسان ایک دفعہ ایسے بیج پر لگ جائے تو لگا ہی جاتا ہے۔ لیکن اس بیج کو اس طرح جنیٹیکلی alter کرنے کے انسانوں پر کیا اثرات ہونگے؟ اگر ایسی کسی رپورٹ یا سٹڈی ہو گی بھی تو اس پر کس کا قبضہ ہو گا۔ جیسے گلوبل وارمنگ کے اثرات پر امریکہ ہر چار سال بعد رپورٹ شائع کرتا ہے۔ اب آٹھ سالوں بعد ابھی تین چار دنوں پہلے یہ رپورٹ ریلیز ہوئی ہے۔ صدر بش نے 2004 کی رپورٹ تب سے روکی ہوئی ہے اور عدالتی حکم کے بعد اب جاری کی گئی ہے۔ ساتھ یہ اس سال کی رپورٹ بھی اختتام پر due ہو گی۔
پچھلے سال مرغی کے گوشت کی ایک پرانی قسم نئے سرے سے مارکیٹ میں متعارف کروائی گئی کہ یہ سو فیصد قدرتی طور پر پلی بڑھی ہے اور اس کو اینٹی بائیوٹیکس اور growth harmones کی ادویات نہیں دی گئی۔ اسی طرح اس سال ابھی دو ماہ قبل والمارٹ نے اعلان کیا کہ وہ صرف ایسا دودھ بیچے گا جس میں گروتھ ہارمونز نہیں ہونگے۔ اس کی سٹڈیز تھیں کہ یہ انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس سے والمارٹ کی سیل ایک دم بڑھ گئی کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے دودھ لینا ہی وہ ہے جو ہارمونز سے پاک ہو اور literally میں نے دودھ کی شیلفس خالی دیکھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سٹڈی کتنی دیر پہلے ہو چکی تھی اور اس کو لاگو کرنے میں کتنا وقت لیا گیا۔
پاکستان میں تو ایسی Know-how نہیں کہ لوگ بروقت جان سکیں یا پھر اس پر ایکٹ بھی کر سکیں اگر ایسی کسی بھی disaster ہو جس میں بہت سے لوگ بیک وقت متاثر ہوں تو کیا ہو گا اور کیا یہ جو ایک ہی علاقے کے لوگ ایک دم ہسپتال پہنچ جاتے ہیں اور جسکا الزام پینے کے پانی پر لگا دیا جاتا ہے وہ واقعی ہی پانی سے ہوتے ہیں یا پیچھے اور بھی کوئی وجہ ہو سکتی ہے۔
Popularity: 5%
Popularity: 5%
138 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







ڈفر’s last...
0 Responses to “بیج”
Please Wait
Leave a Reply