زمان و مکاں

امریکی سال میں دو تین ہفتہ بہت خوش رہتے ہیں۔ جب گھنٹہ آگے کر دیا جائے تو چھٹی کے وقت خوشی کہ گھر اصل وقت سے ایک گھنٹہ پہلے جا رہے ہیں اور جب گھنٹہ پیچھے کر دیا جائے تو جاتے وقت خوشی کہ ایک گھنٹہ لیٹ جا رہے ہیں۔ انسانی دماغ کی کارستانی ہے کہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وقت اتنا ہی ہے۔

پاکستان میں آجکل گھنٹہ سے پھر چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے جس سے ملک ناراض ناراض سا ہے۔ ہمارے کالم نویس اپنی ذمہ داری صحیح طرح نہیں نبھاتے اور ان کی معلومات کسی طور قابل بھروسہ نہیں۔

پہلی بات کسی بھی پالیسی کے نتائج برآمد ہونے کے لئے وقت لگتا ہے۔ آپ صرف ایک دفعہ وقت آگے کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ پالیسی کی consistency بہت ضروری ہے کہ آپ جو بھی پالیسی بنائیں اس کا تسلسل جاری رکھیں۔ مطلوبہ نتائج حاصل ہوں تو بہت بہتر ورنہ اس پالیسی کو بہتر بنائیں

جب پاکستان میں پہلی دفعہ یہ نافذ ہوا تو میں اس کے مخالفین میں تھا۔ اس کی بنیادی وجہ وژن کا محدود ہونا تھا۔ اس وقت بھی اور ابھی بھی کالموں میں ایک بنیادی بات جو بیان کی جاتی ہے وہ یہ کہ ڈے لائیٹ سیونگ دراصل قطبین کے ممالک کے لئے ہے۔ اسی کالم میں برطانیہ کی مثال پیش کی گئی ہے۔ پہلی بات برطانیہ قطبین پر نہیں دوسری بات برطانیہ میں ڈے لائٹ سیونگ کی جا رہی ہے۔ ان صاحب کو غلطی یہ لگی ہو گی کہ 2005 میں صدر بش نے ایک بل پر سائن کئے تھے کہ 2007 سے ڈے لائٹ سیونگ مزید بڑھا دی جائے اپریل سے اکتوبر کے بجائے اس کو مارچ سے نومبر تک پھیلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے سمجھا کہ شائد گھڑیاں پیچھے نہیں کی گئیں جبکہ ان کی معلومات غلط ہیں۔ اس طرح اس کالم میں ان مثالوں کو پیش کیا گیا ہے جو کہ خوشاآمدی چونچلوں میں شمار کی جاتیں ہیں نہ کہ پالیسی میکنگ میں۔

کوئی بھی ایسی جگہ جہاں آپ کو سردیوں اور گرمیوں میں دو اوقات دینے پڑیں وہاں ڈے لائٹ سیونگ استعمال کی جا سکتی ہے۔ جیسے میرا سکول گرمیوں میں صبح سات بجے اور سردیوں میں صبح آٹھ بجے لگتا تھا۔ آپ نے اسکول کا وقت رکھا صبح سات بجے اب گرمیوں میں چونکہ وقت آگے کیا گیا ہوتا ہے لہذا اسکول سات بجے ہی لگ رہا ہے لیکن سردیوں میں وقت پیچھے کرنے سے اسکول سات بجے ہی لگ رہا ہے لیکن ایک گھنٹہ کے فرق سے روشنی ہو چکی ہو گی۔ اسی طرح بینکوں دفاتر ریلوے اور سب جگہ پر دو دو اوقات دینے، ٹکٹوں اور شیڈول بنانے سے بھی بچ جائیں گیں۔

ہم لوگ شائد ہر چیز کے تاریک پہلوؤں کو دیکھنے کے بہت شوقین ہیں۔ بہت سی جگہیں ایسی ہیں جو کہ ہم سے بھی زیادہ گرم علاقوں پر مشتمل ہیں لیکن وہ بھی ڈے لائٹ سیونگ استعمال کرتی ہیں لیکن کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جو نہیں کرتے مثال کے طور پر امریکی ریاست انڈیانا نے ابھی حال ہی میں ڈے لائٹ سیونگ استعمال کرنا شروع کی ہے اور اس ریاست میں تو ویسے بھی وقت دو دو چلتے ہیں ایسٹ والے ایسٹرن وقت استعمال کرتے ہیں اور شکاگو کی طرف والے سینٹرل وقت۔ اسی طرح امریکی ریاست ایریزونا ڈے لائٹ سیونگ استعمال نہیں کرتی۔ کینیڈا کا بھی ایک صوبہ اور کچھ علاقہ ڈے لائٹ سیونگ استعمال نہیں کرتے یہ تو قطبین کے سب سے نزدیک ہیں۔ آسٹریلیا کا بھی کچھ حصہ استعمال نہیں کرتا اسی طرح برازیل کا بھی۔

اگر آپ اس کا صرف ایک پہلو دیکھتے رہیں گیں تو پھر جہاں ہیں وہی رہیں گیں۔ ڈے لائٹ سیونگز توانائی کے استعمال میں کمی میں مددگار ہے یا نہیں اس کا بہت بہتر تجزیہ ادارے پیش کرسکتے ہیں نہ کہ وزیر یا کالم نگار۔ ہمیں مزید توانائی پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن پہلے سے موجود توانائی کی بچت بھی ضروری ہے۔ تبھی ہماری ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔

اسی طرح میں نے پتہ نہیں کہاں پڑھا کہ اب بارہ بجے ایک بج جایا کرے گا تو ہمیں تو بھوک ہی ایک بجے لگتی ہے بارہ بجے کھا کر کیا کریں گیں۔ یہ محدود وژن کی نشانی ہے۔ آپ نے صبح سات بجے ناشتہ کیا اور آپ کو بھوک لگتی تھی ایک بجے۔ ابھی بھی وقت جب تبدیل ہوا تو صرف دوپہر بارہ بجے کے لئے تو نہیں ہوا صبح سات بجے کے لئے بھی ہوا یعنی چیز وہی ہے صرف انسانی دماغ اس کو ماننے سے resist کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب خیالات صرف پہلے ایک ڈیڑھ ہفتہ ہوتے ہیں اس کے بعد جسم اس تبدیلی کو قبول کر لیتا ہے۔ جیسے نیند کا ہے کہ اگر آپ رات کو نو بجے سوتے تھے وقت پیچھے کرنے سے اب دس بجے تک نیند آتی ہے کیونکہ بایو کلاک تو ویسے ہی ٹکا رہا ہے اور کچھ وقت لے گا نئے وقت کے ساتھ ایڈجیسٹ ہونے میں اس کے لئے یہ ایک حل تجویز کیا گیا ہے۔

کسی بھی چیز کے نقصانات یا فوائد ہوتے ہیں انسان ہمیشہ ایسی چیز کو منتخب کرتا ہے جہاں فوائد اس کے نقصانات سےزیادہ ہو۔ شراب کے لئے بھی جیسے حکم ہے کہ اس کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں۔ کیا ہم "میں نہ مانو" پر قائم ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈے لائٹ سیونگ کو تجربہ کرنے کے بجائے پالیسی کے طور پر نافذ کیا جائے اور اس کا تسلسل برقرار رکھ کر اس کا نتیجہ دیکھا جائے۔

 

 

 

 

 

Popularity: 6% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 6% [?]

271 views

 

 

Related Posts

    None Found


3 Responses to “زمان و مکاں”

  1. 1 راشد کامران

    ہمارے یہاں کے مسائل پالیسی میں بذات خود نہیں‌ہوتے بلکہ انکا اطلاق اتنا بھونڈا ہوتا ہے کے مطلوبہ نتائج حاصل ہی نہیں‌ ہوسکتے۔ توانائی کے ضیاع کے دوسرے ذرائع اتنے وسیع ہیں‌کے ایک گھنٹے کا ادل بدل کوئی خاص فرق پیدا نہیں‌ کرپاتا۔۔ نو بجے سے پانچ بجے تک تو کم از کم پورا ملک سورج کی روشنی میں رہتا ہے لیکن وقت کی پابندی عموما نہیں جاتی خاص طور پر سرکاری دفتروں‌میں۔ سڑکوں پر بجلی کا استعمال دن اور رات کے فرق کے بغیر جاری و ساری رہتا ہے ۔ ڈیم نہیں‌ بنائیں‌گے، پانی اور ہوا سے بجلی پیدا نہیں‌کریں‌گے۔۔۔ ایک گھنٹہ آگے کرکے کیا فائدہ ہوگا؟ نہ کوئی چیز وقت کے ادل بدل سے منسلک آٹو میٹک ہے اور نہ ہی گرین عمارتیں بنانے کا کوئی کلچر ہے ۔۔ سنجیدگی سے توانائی بچانے اور متبادل ذرائع کا انتظام نہ کیا تو پاکستان میں‌توانائی عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور نکل جائے گی۔۔

    راشد کامران’s last blog post..اگلے جنم موہے “سوکن“ نہ دیجو

  2. 2 میرا پاکستان

    تصویر کا دوسرا رخ پڑھ کر معلومات میں‌اضافہ ہوا اس کا شکریہ۔ آپ کی دلیل اچھی ہے۔

    میرا پاکستان’s last blog post..گھنٹہ بڑھا دیا

  1. 1 میرا پاکستان » گھنٹہ بڑھا دیا

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2859
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 385079

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->