مارکیٹنگ کرنا ایک فن بن چکا ہے۔ بسوں میں چڑھ کر صاحبان مہربان قدر دان کی صدا لگا کر کسی خوشبو کے لئے رومال طلب کرنا اور آخر میں اپنا ہی رومال جس کو تین چار سو دفعہ خوشبو لگائی جا چکی ہوتی ہے پر پرفیوم چھڑک کر پوری بس میں لہرانا اور لوگوں کو قائل کرنا کہ واقعی اس کا پرفیوم دیر پا خوشبو کا حامل ہے سے لے کر نیویارک میں بھاگتی دورتی پیلی ٹیکسیوں پر لگے سائن بورڈز تک پر یہ باقاعدہ صنعت ہے۔
اشتہار بنانے والی کمپنیاں نت نئے اشتہارات بناتی رہتی ہیں۔ باقاعدہ ٹی وی پر پروگرام کئے جاتے ہیں جن میں ووٹنگ سے برے ترین اشتہارات کو رینک کیا جاتا ہے۔ جیسے مجھے ہیڈ آن کا یہ اشتہار سخت زہر لگتا ہے۔
پاکستان میں بچپن میں لاڈو سوب والا اشتہارات تو اتنی دفعہ دیکھا ہوا ہے کہ ہر بچہ کو زبانی یاد ہے اور تو اور یہ اشتہار انڈین فلم کی کیسیٹ تک میں ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ جو سب سے عجیب اشتہار تھا وہ گائے سوپ کا تھا۔ نہ جانے کس نے بنایا ہو گا۔
امریکہ میں ہر چیز چل ہی اشتہارات کے سہارے ہیں۔ عام طور پر بہت سی گھٹیا مصنوعات کے اشتہارات بدیانتی اور جعلسازی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس ڈیجیٹل دور میں ہر جنس کو ریٹ کرنے کے لئے ویبسائیٹس موجود ہیں۔ آپ نے جس بھی اسٹور سے خریدی اس کی سائیٹ پر جائیں اور اس کے بارے میں اپنے تاثرات قلم بند کریں۔ بہت سے فورم اور ویبسائیٹس تو ایسی ہیں جہاں آپ کسی بھی قسم کی مصنوعات یا کسی ہوٹل کے کھانوں یا ویٹروں کے روئے پر اپنی دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ یہ ریویو واقعی بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اب اشتہارات کی صنعت ویڈیو ہوسٹنگ کے سبب ٹی وی سے نکل کر انٹرنیٹ پر پہنچ چکی ہے۔ ذرا آپ اندازہ کریں کہ آپ کسی سائیٹ پر کام سے گئے اور ایک آواز سے چونک گئے اس آواز کا سراغ لگاتے لگاتے ویڈیو اشتہار دیکھنے میں ایسے مگن ہوئے کہ اس اشتہار کے لنک پر پہنچ گئے۔
اسی طرح بہت سی کمپنیاں اپنے اشتہارات یوٹیوب پر ہوسٹ کرتی ہیں جہاں ان کو مفت میں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں اس طرح ان کمپنیوں کا پیغام بلامعاوضہ کتنے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔
مثلا یہ ایک اشتہار LENOVO لیپ ٹاپ کا۔ پچھلے سال تک ایسا لیپ ٹاپ عام دستیاب تھا کہ اس میں فنگر ریڈر لگا ہوا تھا۔ آپ انگلی رکھیں اور انگلی کے نشانات میچ ہونے پر ہی کمپیوٹر لاگ ان ہو سکے گا۔ اب یہ نیا ہے کہ FACE RECOGNITION کے ساتھ ہے یعنی اگر آپ کا چہرہ سکین کرنے کے بعد میچ ہوا تب یہ کمپیوٹر لاگ ان ہو گا۔ یہ ٹیکنالوجی عام لیپ ٹاپ میں دستیاب ہے۔
اس طرح بلینڈ ٹیک مختلف اقسام کے بلینڈر بناتی ہے۔ انہوں نے اپنی نئی سیریز کی مشہوری کے لئے ایک دلچسپ کیمپیگن چنی جسکا نام رکھا گیا ہے WILL IT BLEND? جس میں یہ مختلف چیزوں کو بلینڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اشتہارات میں IPOD سے لے کر IPHONE اور بہت سی دوسری چیزوں کو بلینڈ کیا گیا ہے۔ اس کی یوٹیوپ پر تمام ویڈیوز موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو جس میں آئی فون کو بلینڈ کیا گیا ہے۔
آئی فون سے یاد آیا کیا آئی فون پاکستان میں آ چکا ہے؟ یا کسی نے باہر سے لے جا کر چلایا ہو؟ عام فونز کا تو مجھے علم ہے کہ ان لاک کروا کر پاکستان میں استعمال کئے جا سکتے ہیں لیکن آئی فون کا علم نہیں کہ وہاں چل جاتا ہے کہ نہیں۔
Popularity: 10% [?]
Popularity: 10% [?]
250 views
Related Posts
- None Found



























میں نے کوشش کی تھی لیکن پاکستان میں آئی فون استعمال نہیں ہوسکا۔ کچھ لوگ ان لوک کروا کر استعمال کرتے ہیں لیکن اسکے بعد آپ غالبا اسکا آپریٹنگ سسٹم مناسب طریقے سے اپ ڈیٹ نہیں کرسکتے۔
راشد کامران’s last blog post..کتنے آدمی تھے ۔۔۔
پاکستان یا کسی تھرڈ پارٹی سے یہاں ان لاک کروائیں تو شائد ایسا ہو عام فون تو میں نے دیکھے ہیں کہ اے ٹی اینڈ ٹی کے آفس فون کر کے ان لاک کروائے جا سکتے ہیں۔ یہاں سے جو لوگ عرب ممالک یا پاکستان جاتے ہیں وہ فون اپنی کمپنی سے ہی ان لاک کروا لیتے ہیں کہ ہم اپنے ملک جا رہے ہیں اور یہ فون استعمال کرنا ہے تو کمپنی کوڈ دیتی ہے اینٹر کرنے پر فون ان لاک ہو جاتا ہے۔ آئی فون کا پتہ نہیں۔