پڑھنے سے پہلے اپنا شناختی کارڈ دیکھ کر تسلی کر لیں کہ آپ 18 سال سے زائد عمر کے ہیں۔


انسان ساری زندگی زیادہ تر جنس سے متعلق سوچیں سوچتا رہتا ہے۔ بوڑھے اور نوجوان کی سوچ میں فرق ہے۔ بوڑھے عام طور پر فی گیلن قیمت دیکھ دیکھ کر ہلکان ہوئے جاتے ہیں اور نوجوان جنس مخالف دیکھ دیکھ کر۔ میں عام طور پر دونوں پر ہلکان ہو لیتا ہوں۔ ہلکان ہی ہونا ہوتا ہے نہ؟

پاکستان میں جب صحافت کا عروج ہوا تو بریف کیس بھر بھر کر کالم نگاروں کے پاس جانے لگے۔ ایسے میں اخبار مالکان بڑے رنجیدہ خاطر ہوئے۔ لہذا انہوں نے فٹ پاتھ پر بیٹھے نیم حکیم سے لے کر کسی نکڑ میں دکان والے تک کے اشتہارات دینے شروع کر دئے۔ لہذا اخبار نکالنا بھی بڑا منافع بخش کاروبار بن گیا۔ اور ایسے ایسے احمق وجود میں آئے جنکا فرمان تھا کہ میں تو خبر بیچنی ہے چاہے حلال ہو یا حرام۔

ان اشتہارات میں آنکھیں گردے پھیپھڑے کلیجے اور ناک منہ کان گلے کے بعد سب سے آخری اشتہارات کمزوری بھرے اشتہارات ہوتے تھے۔ ابھی بھی ہوتے ہیں؟ حکیم سے لے کر ہومیو پیتھک اور پھر کسی امپورٹڈ دواؤں کے ڈاکٹر تک سب کے سب مردانہ کمزوری کے علاج میں لگے ہوتے تھے۔ میں بڑا حیران کہ پورا پاکستان نامرد ہو گیا ہے۔ ابھی تک آپ جگت بازوں میں کسی کو حکیم کے پاس جانے کا مشورہ سن سکتے ہیں۔

ان میں سے ایک اشتہار تو اتنا عام تھا کہ ہر اتوار کو اخبار میں ہوتا تھا ذرا ملاحظہ کریں۔ “اب بیگم سے منہ چھپانے کی ضرورت نہیں۔” میں سکول سے گھر واپسی کا سارا رستہ اسی غور و حوض میں کہ کونسا میاں ہو گا جو اپنی بیگم سے منہ چھپاتا ہو گا؟

بدقسمتی سے ان اشتہارات میں ایسی کوئی وضاحت نہیں ہوتی تھی کہ کن کن عوامل کے سبب بندہ بیگم سے پردہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

سکول ختم ہوا لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہو سکا۔ ہمارے چچا کا گھر بن رہا تھا۔ مجھے ایک رات مزدوروں کی نگرانی پر لگا کر سب لوگ کھانا کھانے چلے گئے۔ صبح لینٹر ڈلنا تھا۔ الیکٹریشن پہلے تو نیچے ایک بابا جی کے گوڈوں سے جڑا رہا اور بابا جی اس سے بالغانہ سوال کرتے رہے۔ اس کے بعد الیکٹریشن صاحب مستری صاحب سے مشورہ لینے اوپر تشریف لائے۔ مستری صاحب کینچوے سے علاج تجویز کر ہی رہے تھے کہ ابا جان نے دیکھا کہ ان کا لخت جگر 50٫60 فٹ اوپر جہاں گھوم پھر رہا ہے وہ بانسوں کا پلیٹ فارم ہے نتیجتا ان کے ساتھ کلام میں میں نے مستری صاحب کا تجویز کردہ نسخہ سننے سے محروم رہ گیا ورنہ لکھ کر آپ کی دعائیں پاتا۔ لیکن ایک بات سمجھ آ گئی سارا پاکستان ہی نامرد ہوا ہوا ہے۔

پھر پاکستان میں دھوم مچ گئی ویاگرا کی۔ اس جیسے اشتہار اور نہ جانے کیا کیا۔ ایک دفعہ ایک صاحب نے اپنے گھر بلایا کمپیوٹر چلانا سیکھا کہ پھر خود گھر میں بچیوں کو تعلیم مرحمت فرمائیں گے۔ کچھ دیر تو اپنی ای میل دیکھتے رہے پھر کہتے وہ ویاگرا والی ای میل کونسی ہوتی ہیں؟ مجھے تو بڑی ہنسی آئی میں نے کہا جنک فولڈر میں ڈھونڈیں۔

امریکہ میں ویاگرا نہیں ہوتی۔ اور بہت کچھ ہوتا ہے۔ پاکستان میں تو خط لکھ کر منی آرڈر بھیج کر ایسی دوا منگوائیں یا کسی کیمسٹ نے رکھی ہونگی۔ یہاں عام سے سٹور پر بھی پورا سٹال لگا ہوتا تھا۔ یہاں آ کر پتہ چلا کہ امریکہ بھی نامرد ہی ہے۔ جملہ معترضہ۔ لیکن ایسی دواؤں کا ایک جہاں آباد ہے۔

کچھ لوگ تو لگے ہوتے تھے لہذا آ کر مانگتے ہی اپنا برانڈ تھے۔ کچھ نے سوچ بچار کرنا ہوتا تھا۔ شائد نئے نئے شرمندہ ہونا شروع ہوئے ہونگے۔ ستم ظریفی تو دیکھئے کہ مجھ معصوم کو جو ابھی تک “مہر بند” ہے سے پوچھتے تھے کیا یہ واقعی کام کرتی ہے؟ میں ہمیشہ جل کر جواب دیتا تھا استعمال کر کے بتانا۔ آپ کو وہ واقعہ تو پتہ ہی ہے جہاں مجھ سے خاتون نے پوچھا تھا یہ کام کرتی ہے؟ اور میں نے پوچھا تھا آپ کو پتہ ہے نہ یہ مردوں کی ہے؟

مردوں کو چھوڑئے ان گناہگار آنکھوں نے تو خواتین کے لئے بھی ایسی ادویات دیکھ رکھی ہے۔ میں نے ایک نگاہ بھر کر کوئی تین چار گھنٹے دیکھا کہ بہر حال پہلی نظر معاف ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں لگی جونسا کام ہوتا نہیں وہ کرنا کیوں؟

اس سب اخلاق باختہ حکایات کا مقصد؟ امریکہ میں جنسی ادویات کے ساتھ ساتھ عام طاقت کی ادوا کا بھی بہت رجحان ہے۔ فیمس ریڈ بل نے تو لاکھوں ڈالر کمائے اس کے بعد باقی کمپنیاں بھی انرجی ڈرنک کے نام پر پل پڑیں۔ اب 3 آور انرجی کے بعد 5 اور 6 آور انرجی نکل آئی ہیں۔ عام طور پر یہ تین ڈالر سے اوپر کی ہیں۔ یعنی ماہانہ آپ تقریبا 100 ڈالر ان پر خرچ کر رہے ہیں۔

ایسی ادویات کا اصول ہے کہ یہ جسم کو مجبور کرتی ہیں کہ جو زائد انرجی کسی بھی صورت میں اس نے محفوظ کی ہو اس کو فراہم کر کے انسان کو کم تھکن محسوس ہونے دے۔ میں نے سب سے پہلے یہ بات نوٹ اسی اوپر مذکورہ بننے والے گھر کے دوران کی تھی۔ عام طور پر گھروں میں دیواریں کھڑے کرتے وقت اصول ہے کہ کمرہ یعنی درمیانی والی جگہوں پر اینٹوں کے ڈھیر اکٹھے کر دئے جاتے ہیں اور وہیں پانی لگایا جاتا ہے۔ ہمارے پاس ایک مزدور تھا اور اینٹوں کا وہ ٹھیکہ کر لیتا تھا کہ ساری اینٹیں وہ اوپر چڑھائے گا۔ عام طور پر ایک مزدور 12 یا بہت ہو تو 16 اینٹیں اوپر لے کر جاتا ہے۔ یہ والا اس دن اپنی پگڑی سے سگریٹ برآمد کرتا تھا اور اس طفیل 20 سے 25 اینٹیں ایک وقت میں اوپر لے جاتا تھا۔

یعنی اس کا مطلب ہوا کہ اگر جسم کے پاس اتنی توانائی ہے کہ وہ ایک سال تک جسم کی ضرورت پوری کر سکتی ہے اور آپ ایسی ادویات استعمال کر کے اس توانائی کو چھ ماہ میں استعمال کر لیتے ہیں تو سٹیپ بائی اسٹیپ آپ اپنے جسم کی کارکردگی ختم کر رہے ہیں۔

پاکستان میں تو ان دنوں ایسی خبریں بہت تھیں کہ شادی کی پہلی رات نوجوان حکیم صاحب کا کشتہ کھا کر ہسپتال یا رب کے پاس۔ یہاں بھی اکثر لڑھک ہی جاتے ہیں۔ اب ایسے ہی ایک صاحب 5 آور کی جان نہیں چھوڑ رہ تھے۔ نئی نئی گرل فرینڈ پر رعب ڈالنے انہوں نے اور دی کاؤنٹر ایسی ایک دوائی استعمال کر لی اور سنا ہے ہائے ہائے کر رہے تھے۔

اگر آپ کو اپنے بارے میں کسی بھی قسم کا شبہ ہے تو گھبرائیں مت پاکستان ہی نہیں امریکہ میں بھی یہی حال ہے ایسی کسی دوائی کے استعمال سے پہلے شک پکا کر لیں۔ :P

 

 

Popularity: 7% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 7% [?]

494 views

 

 

Related Posts

    None Found


6 Responses to “جنس :P”

  1. 1 قدیر احمد

    “مہر بند” کا لفظ استعمال کر کے تم نے میرے اس شبہ کو یقین میں بدل دیا ہے کہ تمہاری جنس “مرد” نہیں ہے۔ یہ لفظ سوچ کر لکھا تھا یا کسی سے پوچھ کر؟ِ :laugh:

    مہر بند کو انگریزی میں سِیلڈ کہتے ہیں ۔ اور یہ سیل عورتوں کے ہوتی ہے ، مردوں کے نہیں ، سمجھ لگی؟ hymen کا نام سنا ہے کبھی؟

    قدیر احمد’s last blog post..سکون کی تلاش

  2. 2 شکاری

    دونوں حضرات نے بہت کھلا لکھا ہے یہاں پر فی میل بلاگر بھی ہوتی ہیں تھوڑا خیال کریں۔

    شکاری’s last blog post..بہتر مستقبل کی تلاش

  3. 3 بدتمیز(427)

    قدیر احمد رانا ملتانی: تم نے اس تبصرے سے میرے موقف کی تائید کی کہ نوجوان اسلام کا زیادہ وقت جنس پر سوچتے گزرتا ہے۔ :P
    دوسری بات تمہیں میری جنس کے متعلق چنداں فکر کرنے کی ضرورت نہیں البتہ اگر :aha/ آہو۔ :lol:
    اچھا ڈکشنری استعمال کر لیتے ہو۔ ویری گڈ۔ یہ گئے وقتوں کی باتیں ہیں جو تم آجکل کر رہے ہو۔ :laugh:
    اور تم ایسی تحاریر پڑھنے سے پہلے اپنا شناختی کارڈ نہیں اپنی تفصیلی میڈیکل رپورٹ پڑھ کر تسلی کر کے پھر ایسی تحاریر پڑھا کرو انشااللہ افاقہ ہو گا۔ :bahbah

    شکاری: نہیں‌ خواتین ایسی تحاریر نہین پڑھتیں۔

  4. 4 قدیر احمد

    بدتمیز: تم تک میرا پیغام پہنچ گیا ہے ، اس لیے برائے مہربانی میرے تبصرے کا دوسرا حصہ ختم کر دو ۔ نہیں کرتے تو تمہاری مرضی :mears:

    قدیر احمد’s last blog post..سکون کی تلاش

  5. 5 ماوراء

    شکاری، ان حضرات کو شرم دلانے کا شکریہ، لیکن کیا ہے کہ جب شرم ہی ختم ہو جائے تو پھر کسی اور چیز کا خیال نہیں رہتا۔ ویسے بھی بقول ان کے ہی۔۔۔ ان کا اپنا بلاگ ہے، انہیں آزادی ہے جو مرضی لکھیں۔ آزادی کی حد کہاں ختم ہوتی ہے، یہ نہیں معلوم۔

    بہرحال، آجکل کے نوجوان اور بے حیائی پر ایک بحث ہونی چاہیہے، اس بارے میں میں کچھ سوچتی ہوں۔

    ماوراء’s last blog post..فٹ بال کھلاڑی:D

  6. 6 قدیر احمد

    یہ بدتمیزکی ذمہ داری تھی کہ وہ میرا تبصرہ پڑھ کر ڈیلیٹ یا ایڈٹ کر دیتا ، مگر اس نے ایسا نہیں کیا ۔ کیونکہ وہ لوگوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ دیکھو قدیر کس طرح کی باتیں کرتا ہے ۔

    قدیر احمد’s last blog post..چوں چوں کا مربہ

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2859
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 385079

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->