میں نے کچھ عرصہ پہلے ناروے کے سیڈ بینک ڈومز ڈے کے بارے میں لکھا تھا۔ عام طور پر ہم ایسی کسی خبر پر کہتے ہیں یار یہ تو ویلے لوگ ہیں ایسے کرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ قومیں خطرے کو بھانپ کر پہلے سے اس کے مقابلے کی تیاری کرتی ہیں۔
اب کچھ ہی عرصہ سے امریکی شور مچا رہے ہیں کہ چین اور بھارت کے لوگ پہلے بھوکے ننگے تھے اب پیسہ آنے سے دو کے بجائے تین وقت کھانا کھانے لگے ہیں لہذا امریکہ میں مصنوعات کی قیمت بڑھ رہی ہے۔
گلوبل وارمنگ والے کہتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ فصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ رہی سہی کسر بائیو فیول پوری کر رہے ہیں۔ امریکی سینیٹرز کہتے ہیں کہ سعودی عرب مزید تیل پیدا کرے اور ایگزون موبل کا تیل پروڈکشن بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
مصنوعات کی قیمتوں کو تیل سے جوڑ کر قیمتیں بہت زیادہ بڑھا دی گئی ہیں۔ قیمتوں کا اندازہ اس سے لگائیں کہ کیلوں کا جو گچھا 85 سینٹ کا تھا وہ صرف ایک ماہ بعد ایک ڈالر پندرہ سینٹ کا ہو چکا تھا اور صرف دو ہفتے بعد قیمت ایک ڈالر بتیس سینٹ ہو چکی تھی۔
صرف اس سے اندازہ لگائیں کہ امریکہ میں اگر یہ حال ہے تو پاکستان جیسے ملک میں کیا حال ہونے والا ہے؟ آگے حالات بد سے بدتر ہونے والے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ بچت کرنا شروع ہو جائیں۔ سٹیٹس سمبل جیسی چیزوں کو کچھ عرصہ کے لئے بھول جائیں۔
پاکستان میں کوکنگ آئل کا ڈبہ 800 روپے سے اوپر ہے۔ شجاعت اور پرویز الہی بیان دیتے ہیں کہ نئی حکومت مہنگائی کر رہی ہے۔ اس مہنگائی پر حکومت کا کنٹرول نہیں۔ اس سے آپ کو خود نمٹنا ہو گا۔ تیل کی قیمت پاکستان میں ہی نہیں بڑھی ہر جگہ بڑھ رہی ہے۔ پورے ایک سال قبل تیل کی قیمت دیکھ لیں۔ اس وقت تیل کی قیمت فی گیلن 4 ڈالر ہو چکی ہے۔
سیمز کلب پر لگا یہ نوٹس۔ ویسٹ کوسٹ پر فی کسٹمر ایک چاول کا ایک تھیلا لینے کی اجازت ہے۔ ایسٹ کوسٹ یعنی میری طرف یہ نوٹس لگا ہوا ہے۔
پڑھئے اور سر دھنئے۔ ویسٹ کوسٹ پر تو زمیندار اپنی فصلوں کا پانی باقاعدہ پانی کے پیاسے شہروں کو بیچ کر پیسے کما رہے ہیں۔ جیسے کیلی فورنیا کی ریاست کو اور لاس ویگاس کو۔ اب جب فصل اگائی ہی نہیں جا رہی تو مصنوعات کی قلت پیدا تو ہو گی۔
Popularity: 12% [?]
Popularity: 12% [?]
262 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







صاحب آپ کو تو چار تھیلے مل رہے ہیں آپ نے صحیح لکھا یہاں لاس اینجلیس میں ایک ہی تھیلا مل رہا ہے۔۔ گیس کی قیمتوں نے اچھے اچھوں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ بی ایم ڈبلیو گھر پر کھڑی کر کے اسٹریٹ بائیکس پر آفس جانے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق تو اگر پاکستان نے ڈیم نہ بنایا تو جلد وہاں سوکھا پڑھ جائے گا۔۔ اور وہی آپ کی بات کے امریکہ میں یہ حالات ہیں تو پاکستان میں تو خانہ جنگی ہوجائے گی۔۔ سندھ کے زیریں علاقے تو صحرا بن جائیں گے۔
راشد کامران’s last blog post..کوا بریانی
ہم تو سمجھے تھے کہ ہمارے ہاں یہ حال ہے، یہاں تو سبھی جگہ خطرے کے آثار نظر آتے ہیں۔ اللہ رحم کرے۔ ویسے ہمارے ہاں عوامی سطح پر اس بارے میں زیادہ آگاہی نہیں ہے، یہ بھی مسئلہ ہے۔
راہبر’s last blog post..پھر ملیں گے
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ججوں کی بحالی ہے۔ نوازشریف۔
راشد کامران: ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ شام کو بڑے بڑے ٹرک میں پھرنے والے چھوٹی چھوٹی گاڑیوںمیں پھرتے ہیں۔ چار تو ہو گئی اور امریکی پرنٹ میڈیا آرٹیکل شائع کرتا ہے کہ کیوں چار ڈالر فی گیلن بھی کم قیمت ہی ہے۔
راہبر: عوام سمجھتی ہے کہ حکومت کا کیا دھرا ہے اور سچ بھی لگتا ہے کہ جو پیسہ غیر ملکی دوروں پر خرچ ہوتا ہے وہ سبسڈی نہیں دی جا سکتی۔
نعمان: میرا بھی یہی خیال ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
بہت معلوماتی اور اہم پوسٹ ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی حکمت عملی بھی اپنائی جا رہی ہے یا وہاں بھی اس معاملے سے مکمل صرف نظر کیا جا رہا ہے؟ دوسری جانب بائیو فیول کی پیداوار میں کمی کے لیے بھی کوئی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے یا نہیں یا پھر اس کے کارخانوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے؟ اگر ان دونوں سوالات کے جواب توقعات کے برعکس ہیں تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی قوت عسکری محاذ کے بعد اب معاشی میدان میں بھی زوال کی جانب رواں ہے؟
ابوشامل’s last blog post..?رنگین? پاکستانی سیاست کا ایک ?سنگین? مظاہرہ
ابو شامل: امریکہ میں بحران سے نمٹنے کی سرکاری حکمت عملی کا اگر ایک لفظی جواب دینا ہو تو آپ کے بدترین خدشات کی تصدیق ہوتی ہے۔ چاول کے بحران کی وجہ بھارت کا نومبر 2007 میں برآمد بند کرنا تھا لیکن امریکہ جاپان میں موجود اپنے چاولوں کے ذخیرے کو اوپن مارکیٹ میں لانے پر غور کر رہا ہے۔
بائیو فیول کم تو نہیں ہاں اب بڑھتی ہی جائے گی۔ ابھی امریکہ میں صرف 6 اعشاریہ 5 بلین گیلن ایتھانول بنتی ہے یا پچھلے سال بنائی گئی تھی۔ ٹارگٹ شائد 36 بلین گیلن کا ہے کہ اس حدف کو حاصل کرنا ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
http://www.ksgrains.com/ethanol/useth.html
اس لنک پر ہر سال کا موازنہ موجود ہے۔