Pop quiz کہتے ہیں جو امتحان اچانک لیا جائے۔ اس امتحان کے بارے میں پہلے سے بتایا نہیں گیا ہوتا اور ایک دن استاد کلاس میں داخل ہوتا ہے تو حسب معمول کتابیں کھولنے کے بجائے خوشی خوشی نعرہ بلند کرتا ہے کہ یہ وقت ہے pop quiz کا اور ساری کلاس پر مردنی چھا جاتی ہے اور oh اور ah کی ایک مکس سی سرد آہ بھی آواز نکلتی ہے۔
میرے پاس بھی آج ایک pop quiz ہے۔ آپ کہاں زیادہ آزادی محسوس کرتے ہیں؟ گھر میں باہر؟ دوستوں میں یا تنہائی میں؟
کوئی بھی ایسا کام جو آپ ایک جگہ کرتے ہوئے آزادی محسوس کریں لیکن وہی کام دوسری جگہ کرتے ہوئے شرم محسوس کریں اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ آپ منافق ہیں۔ اگر ایک کام ایک گروپ کے سامنے کرتے نہیں شرماتے لیکن اس کو دوسروں کو دیکھاتے یا بتلاتے شرم آتی ہے تو آپ اپنی اداؤں پر غور کریں۔
Popularity: 13% [?]
Popularity: 13% [?]
320 views
Related Posts
- None Found



























مردنی
اچھا آپ نے صرف عمل کی آزادی کی بات کی یا سوچ کی بھی ؟
جو عمل درست نہیں وہ گھر ، باھر ، دوستوں میں اکیلے میں کہیں بھی کرنے میں آزادی نہیں محسوس ہوتی ۔
میں نے مُسلم ہائی سکول راولپنڈی میں تعلیم حاصل کی اور 1963ء میں پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ ہمارے سکول میں اچانک امتحان لینا عام سی بات تھی ۔ کوئی اُستاذ کسی بھی وقت کہہ دیتے کہ امتحان والی کاپیاں نکالیں چلیں ہال میں ۔ کوئی استاذ ہفتے میں ایک بار اور کوئی مہینہ میں ایک یا دو بار امتحان لیتے تھے ۔ یہ سلسہ گرمیوں کی چھُٹیوں میں بھی ایک ماہ کیلئے چلتا تھا ۔اس کے علاوہ صرف سالانہ امتحان ہوتے تھے ۔
اب آپ کے سوال کا جواب ۔ منافقت کی جو تعریف آپ نے لکھی ہے میں اس سے متفق ہوں لیکن فی زمانہ اس فعل کی بہتات ہے ۔
اجمل’s last blog post..ایک سوال
میں دوستوں کی محفل میں زیادھ آزادی محسوس کرتا هوں
کیونکه میرے قول اور فعل میں کوئی تضاد نهیں هے
اور میں نے جو بات کسی کے منه پر بهی کہـ لینی هوتی هے وهی اس کی پيٹھ پیچھے بهی کرتا هوں
اگر میں کسی کو اس کے منه پر گالی دینے کی جرات نهیں رکھتا تو اس کی پیٹھ پيچھے بهی اس کو گالی نهیں دیتا ـ
شائد اسی لیے میں ایک ناکام بندھ هوں ـ
خاور’s last blog post..مانگا اور توهین قران
شگفتہ: سوچ آپ کے ساتھ رہتی ہے اور سوچ پر اختیار نہیں۔
اجمل انکل: یہاں ایسے کوئز ہونا معمول کی بات ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یہ ٹرینڈ بالکل نہیں۔ منافقت ہی تو ہم لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہے۔
خاور: پھر تو آپ ناکام لیکن اچھے انسان ہوئے۔
منافقت۔۔۔۔ آج کے دور میں کہیں ضروری ہے اور کہیں مجبوری۔۔۔۔
راہبر’s last blog post..پھر ملیں گے
اجمل صاحب میں نے بھی مسلم ہائی سکول راولپنڈی سے پڑھا ہے، آپکے بارے میں بھی یہی پتا چلا تو انجانی سی خوشی ہوئی۔
میں تو منافقت کی اس تعریف سے متفق نہیں
ایسا بالکل ہو سکتا ہے کہ آپ ایک کام ایک جگہ کریں اور دوسری جگہ نہ کریں یا نا کرنا چاہیں۔ ہر ایک کی پرسنیلٹی ڈائمنشزہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ دوستوں میں ھلا گلا کرتے ہیں تو آفس میں بھی کریں۔جیسے گھر میں ہوں ویسے ہی دوستوں میں۔ ہم ماحول کے مطابق ہی ایکٹ اور ری ایکٹ کرتے ہیں۔
میرے خیال میں منافقت تو یہ ہے کہ ایک جگہ کوئی کہے کہ یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور دوسری جگہ وہی کام خود کرے۔ایک جگہ کہے کہ میں یہ کام نہیں کرتا اور دوسری جگہ کرے، مطلب کہے کچھ اور کرے کچھ
شاید میں غلط ہوں؟
میں دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ پرسکون محسوس کرتا ہوں پرآزادی
صرف تنہائی میں
ڈفر’s last blog post..پہلا بچہ
منافقت کی یہ تعریف جس نے بھی لکھی ہے، سراسر غلط ہے۔
آپ اپنے بلاگ پر جو تحاریر لکھتے ہیں، یقیناً اپنے گھر میں موجود سب لوگوں کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتے ہوں گے۔ کہنے کا مطلب کہ بہت سے کام، باتیں دوستوں سے کی جا سکتی ہیں، بزرگوں سے نہیں۔ اس لیے یہ منافقت نہیں ہے۔
ماوراء’s last blog post..فٹ بال کھلاڑی:D
بہت ہی سطحی تعریف کی آپ نے منافقت کی۔ معاشرے میں رہنے کے کچھ اصول قائدے ہوتے ہیں اور ہر محفل کے بھی۔ میں جو بات اپنی بیوی سے کر سکتا ہوںوہ والدہ سے نہیں اور بھائی اور والد میں فرق رکھتا ہوں۔ اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ میں منافق ہوں۔
باقی رہی بات منافقت کی تو شائد آپ گوروں سے زیادہ متاثر ہوں لیکن منافق وہ بھی ہوتے ہیں۔ ہر قوم کا ایک ہی حال ہے۔
راہبر: شائد ایسا ہوتا ہو۔ میرا ابھی ایسا کوئی خاص تجربہ نہیں۔
ڈفر ماورا اور فیصل: آپ تینوں نے معذرت کے ساتھ اس ڈیفینشن کو بہت چھوٹے پیمانے پر پرکھا ہے۔ ویسے یہ تعریف سوشیالوجی سے ہے۔ سوشیالوجی کی کافی تعریفیں شائد آپ کو پسند نہ آئیں۔
ماورا میرے گھر والے میرا بلاگ پڑھتے ہیں۔ ان کو میرے خیالات کا اچھی طرح علم ہے۔
فیصل مجھے آپ سے اتنی جلد بازی تبصرے کی توقع نہیں تھی یہ آپ ہی ہیں نہ؟ گورے سے متاثر ہونے کا الزام :haye: ہماری ساری قوم ایک جیسی ہے