جب ہم سب کزن اکٹھے ہوتے تھے تو عام طور پر ایک تفریح ہماری دادا ابو کے “غائب” ہونے کے بعد بھارتی فلم دیکھنا ہوا کرتی تھی۔ اقبال ٹاؤن جب سب جمع ہوتے تھے تو دادا ابو کوئی شام 6 یا 7 بجے تک وہاں رہتے تھے اس کے بعد وہ ہمارے گھر چلے جاتے تھے کہ ان کا دل اقبال ٹاؤن نہیں لگتا تھا۔ اب ہم لوگ دن کے وقت کوئی انڈین فلم لا کر چھپا دیتے تھے اور شام کو دادا ابو کے جاتے ہی لگا کر بیٹھ جاتے تھے۔
اب سے دس سے پندرہ سال پیشتر کی ان فلموں میں عام طور پر ولن اور ہیرو کی ابتدائی چپقلش میں ولن ہیرو کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے اور فلم کے اختتام تک وہ ہیرو کے گھرانے کو جانی مالی نقصان کے ساتھ ساتھ اس کی محبوبہ کو بھی اٹھا کر لے جا چکا ہوتا ہے۔ مجھے ان فلموں پر بڑا غصہ آتا تھا۔ اول ہیرو کو پہلی لڑائی میں ولن کو قتل کر دینا چاہئے لیکن اگر ایسا ہو تو فلم کیسے چلے؟ اور اگر ہیرو کے آنے سے پہلے پہلے ولن محبوبہ کا حشر نشر کر دے تو؟ خیر یہ تو فلم ہے اس میں تو سب پہلے سے لکھا گیا ہے لہذا پرواہ نہیں۔
ہمارے ارد گرد جو واقعات رونما ہوتے ہیں ہم ان کو بھی فلم ہی سمجھ لیتے ہیں کہ ایسا ہونا ہی تھا۔ دراصل بے حسی کی انتہا کو پہنچے اس معاشرے میں ہلچل نہیں مچتی بلکہ گندگی کے ڈھیر پر بیٹھنے والی مکھیوں جیسی آواز مسلسل آتی رہتی ہے اور ذرا آپ نے پنکھا ہلایا اور مکھیوں کے پروں کی آواز نسبتا تیز ہو گئی۔
اب سے کچھ عرصہ پہلے بشری نام کی خاتون نے ٹرین کے آگے کود کر خودکشی کر لی۔ اس پر سب کالم نگاروں کو ایک ٹاپک مل گیا کہ اس پر لکھنا ہے۔ یعنی ایسے واقعہ صرف کالم کا پیٹ بھرنے کو ہیں۔ یا ان میں وزیراعظم کا ذکر کر کے اس سے کچھ پیسے ایٹھنے کو۔
ابھی کراچی میں کچھ ڈاکوؤں کو زندہ جلایا گیا۔ ڈاکو بھی عجیب کہانی ہیں۔ ہمارے ملک میں عام طور پر ڈاکو کو معاشرے کا ستایا گیا فرد دیکھایا جاتا ہے جس کی محرومیاں اس کو ڈاکہ ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے نتیجتا ڈاکو برا نہیں لگتا۔
اب سے کچھ عرصہ قبل ہمارے چند عزیزوں کے گھر ڈاکو گھس گئے۔ ان کا گھر قبرستان کے بالکل کونے پر تھا ڈاکو ساری رات تھپڑ مار مار کر دونوں بھائیوں سے کھیلتے رہے۔ یعنی ہر بات پر تھپڑ مارا۔ اس کے فوری بعد یہ لوگ اس جگہ پر جہاں سالوں سے رہ رہے تھے دوسری جگہ بس گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ضرور مزید مار کٹائی کی ہو گی۔ اب اگر آپ کے ذہن میں نیک شریف معاشرے کے ستائے گئے غریبوں کے ہمدرد ڈاکوؤں کا خیال ہو تو اس کو خود ہی ٹھیک کر لیں۔
کراچی کے واقعات پر لوگ بحث کر رہے ہیں۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ پچھلے سال ایم کیو ایم نے جو کیا اس پر کوئی کچھ نہیں کر سکا لیکن اس سال سویلین نے جو کیا اس پر سبھی غمگین ہیں۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ایک مجمع کے اندر انقلاب کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ انہوں نے اپنے جیسے انسانوں کو زندہ جلا دیا۔ یہ کوئی اور نہیں ہم اور آپ جیسے لوگ ہیں جو اس قدر مشتعل ہوئے کے انہوں نے ظالم کو زندہ جلاتے ہوئے ذرا دکھ محسوس نہ کیا۔ اس کے پیچھے وجوہات کی کتنی لمبی داستان ہو گی کسی کو نہیں علم۔
انسانی فطرت ہے کہ جو ظلم اس کے سامنے نہ ہوا ہو اس ظلم پر ملنے والی سزا پر وہ سزا پانے والے کے لئے ہمدردی محسوس کرتا ہے۔ یہی کچھ اس واقعے پر ہے۔ آپ کے گھر ظالم گھسیں تو آپ بھی ایسا ہی ری ایکٹ کریں گیں۔
بہت سے لوگ آٹا چاول اور تیل کے بحرانوں کو عدلیہ کی بحالی سے زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔ چاول کے بحران کا صرف اس سے اندازہ لگائیں کہ یہاں sams club میں چاول کا ایک تھیلا فی کسٹمر کر دیا گیا ہے۔ یہ امریکہ میں حال ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے آپ جو بھی اقدامات کریں وہ یقینا نیک نیت سیاست دانوں کے حق میں ہونگے آپ سٹیل ملز جیسے کسی پراجیکٹ کو بیچنے، جس نے ابھی ریکارڈ پرافٹ کمایا ہے کس عدالت میں چیلنج کریں گیں؟ حکومتیں یا اس میں شامل افراد بہت سے ایسے معاملات طے کرتی ہیں جو کہ عوام کے نہیں بلکہ ان کے اپنے مفاد میں ہوتے ہیں ایسے گھناؤنے کاموں کو روکنے کے لئے آپ کو ایک بہت بڑے اسٹینڈ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ سوائے عدلیہ کے کہیں نہیں ملتا۔ باقی بحران اپنی جگہ لیکن ایک غیر جانبدار عدلیہ یعنی انصاف کے بغیر آپ معاشرہ سدہار نہیں سکتے۔
کراچی میں جو ہوا میں اس کی مکمل سپورٹ کرتا ہوں۔ میرے خیال سے ہمارا معاشرہ اس قدر بے حس ہے کہ اس کا سدھار انتہائی سختی سے ہی ممکن ہے۔ مجرم کو موقع پر ختم کر کے ہی جرائم میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ نہ صرف جرائم میں بلکہ مجرموں کو موقع پر ہی ختم کر کے آپ پولیس کے محکمے میں بھی مزید بھرتیوں کا امکان پیدا کر سکتے ہیں۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ مجرم آزاد ہے وہ جتنے مرضی لوگوں کو قتل کرے لوٹے نقصان پہنچائے لیکن معاشرہ اس کو پکڑ کر اس سے اقبال جرم کروائے اور اس کو تب سزا دے۔ مجرم آزاد ہے کہ پولیس والے پر جب جی چاہے گولی چلا دے پولیس والا مقید ہے کہ پہلے وارننگ دے اور پھر گولی چلائے۔ گھن کے ساتھ گیہوں بھی پستا ہے اور بے گناہ عدالتوں سے گزر کر بھی مرتے ہی ہیں لہذا موقع پر مجرم ختم کرنا زیادہ سود مند ہے۔
ظلم ہمیشہ مظلوم کی بزدلی کے باعث ہوتا ہے۔ استحصال سے نمٹنے کا واحد رستہ ہمیشہ مزاہمت ہے۔ اگر بھرے مجمع کے سامنے ڈاکو لوٹ مار کریں تو لوگ بزدل اور بے حس کے مدد کو نہ آئے اور اگر لوگ ایکشن لیں تو لوگ ظالم۔
میں اپنی سخت اور ظالمانہ رائے دینے سے گریز کر رہا تھا لیکن تابوت میں آخری کیل جنگ کے رؤوف کلاسرہ کا کالم تھا جن کے اکثر کالم بچگانہ پن لئے ہوتے ہیں۔
Popularity: 6% [?]
Popularity: 6% [?]
293 views
Related Posts
- None Found



























مسئلہ آُ پ کی رائے کی تردید یا توثیق کا نہیں مسئلہ اس چیز کا ہے http://www.jang.net/jm/5-19-2008/images/1736.gif
ہمارے معاشرے میں ہر چیز دو نمبر ہوگئی ہے نوبت یہاںتک آگئی ہے کے انتقام بھی دو نمبر۔ اگر یہ ٹرینڈ معاشرے میں عام ہوگیا تو ہر چوک پر ایک بے گناہ کی لاش جل رہی ہوگی اور لوگ اسے ڈکیتی کا شاخسانہ قرار دیںگے۔۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے لیکن آگ سے جلانے کا حق صرف خدا تعالی کا ہے اور جرم کا تعین کیے بغیر سزا کا تصور نہ اسلامی ہے ، نہ مغربی اور نا ہی کامن سینس پر مبنی۔
کراچی میںجو کچھ ہوتارہا ہے میںاسکا براہ راست نشانہ بن چکا ہوں، میری کار اور قیمی اشیاء مجھ سے چھن چکی ہیںلیکن اس بربریت کے لیے حمایت کرنا پھر بھی ممکن نہیں۔۔ یہ تو ہماری انسانیت چھین لے گی
راشد کامران’s last blog post..کوا بریانی
اسلام علیکم،
بدتمیز میں آپ کی بات سے مکمل طور پر متفق ہوں اسی قسم کی ایک تحریر میں نے اپنے بلاگ لکھی ہے جس پر تنقید بھی ہوئی ۔
لیکن آپ کا انداز تحریر بہت اچھا لگا۔ اللہ کرے زور قلم اور بھی۔
شکاری’s last blog post..بہتر مستقبل کی تلاش
ڈاکوؤں کو جلا کے اچھا کیا لوگوں نے ، اتنی مہنگائی لوگ اپنی چیزیں اس لیئے نہیں خریدتے کے بس روک کے ڈاکو آ کے لے جائیں وہ چیزیں ، کب تک لوگ خود کو لٹیروں کے حوالے کرتے رہتے اچھا ایکشن ہے ۔میرا تو موڈ ہے میں بھی پی ٹی سی ایل کو جلا دوں :angry:
راشد کامران: ایسا ممکن ہے۔ بہت سے لوگ ظلم ہونے پر ظلم کرنے کے بجائے پہلے ظلم کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ڈرائیور حضرات تو ویسے کافی بدمعاش ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ہر طریقہ کار کو غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حتی کہ عدالتوں تک میں۔
آپ کے نقصان کا مجھے افسوس ہے میرا قیاس ہے کہ یہ 12 مئی کے دوران ہوا ہو گا یا اس سے برسوں قبل جب حالات خراب تھے لیکن محلے میں آپ ڈاکوؤں کو نذر آتش کریں تو بہت کم چانس ہے کہ املاک کو بھی نقصان پہنچایا جائے۔ میرے خیال سے عوام کو سڑکوںپر خود آ کر اپنی حفاظت کا بندوبست اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہئے تب تک جب تک ان کی حفاظت کو ترجیح اور بیرونی دوروںکا خاتمہ نہیں ہو جاتا جرائم کے بعد وزرا اور بیوروکریٹس کی بھی باری لائی جا سکتی ہے۔ جیسے وصی ظفر کہیں گالی نکالیں تو وہیں ان کو مرغا بنا دیا جائے یا پھر ارباب رحیم خان کسی کو تھپڑ مارے تو وہیں اس کو جوتے مارے جائیں۔
زاہد: بہت شکریہ
حجاب: پی ٹی سی ایل کو کیوں؟
کراچی کے اکثر لوگوں کی رائے یہی ہے کہ جو ہوا بالکل ٹھیک ہوا۔ جو لوگ ان ڈاکوؤں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے، ان کو اندازہ ہے کہ محنت کی کمائی لٹنے کا صدمہ کتنا بڑا ہوتا ہے۔
اور میڈیا کی رپورٹس یہی ہیں کہ ان واقعات کے بعد کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں 50 سے 75 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ ہماری قوم دراصل اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اس کو ڈنڈا مار کر ہی ٹھیک کرنا پڑے گا۔ ایسے چند واقعات سے اب ان لٹیروں میں کچھ خوف پیدا ہوگا ورنہ یہ لوگ بہت نڈر ہوگئے تھے اور ان کے بیک پر پولیس والوں کی سپورٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ڈاکوؤں کو پکڑ کر پولیس کے حوالہ کیا جاتا تو وہ دے دلا کر چھوٹ جاتے تھے۔
یہ دیکھئے کہ بے چارے لوگ کتنے بپھرے بیٹھے تھے کہ ایک واقعہ کیا ہوا جیسے باقیوں کو حوصلہ مل گیا اور پھر پے در پے کئی واقعات رونما ہوئے۔ یہ درحقیقت عوام میں پھیلے انتشار اور فرسٹریشن کا بھی اظہار تھا۔ خیر، ابھی تو چھوٹے لٹیروں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ جس دن بڑے لٹیروں پر ہاتھ اٹھنے کی ابتداء ہوگئی نا، وہ دن انقلاب کا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔
راہبر’s last blog post..پھر ملیں گے
پی ٹی سی ایل کو اس لیئے جلانا ہے ، کہ میرا فون جو بار بار خراب کر رہے ہیں ، مجھے تو لگتا ہے میرا فون دھوپ کی روشنی سے چلنے لگا ہے ، دن کے ٹائم ایک گھنٹہ کھل جائے گا ، شام ہوئی اور بند ۔ یہ ساری کارستانی لائن مین کی ہوتی ہے ، لائن مین کو پیسے دیتے رہو ، فون نہیں ہوگا بند ، ہم بھی کم ڈھیٹ نہیں ہیں ، بغیر پیسوں کے فون ٹھیک کرواتو لیا ہے مگر دیکھتی ہوں کب تک ٹھیک رہتا ہے ۔اب یا تو لائن مین کو جلا دوں یا پی ٹی سی ایل کو :angry:
راہبر: ایسا ہی ہونا چاہئے۔ بلکہ ایسا ہونا چاہئے ڈاکے کے بعد دیکھا جائے کہ تھانے میںکون کون سا اہلکار غیر حاظر ہے۔
حجاب۔ لائن مین کی پٹائی کبھی نہیں ہوئی؟ ایک زمانہ گزرا ہمارے علاقے کی لائن مین کی پٹائی ہوئی تھی اس کے بعد سے لائن مین نے فوں خراب کرنا تو دور کی بات اگر کبھی آندھی طوفان سے لائن خراب ہو جاتی تو ٹھیک کر کے جاتا اور ایک پیسہ تک نہ لیتا۔
ویسے ہاٹ لائن سے کروائیں تو میرا خیال ہے زیادہ جلدی اور دیر تک درست رہتا ہے۔
لائن مین کی پٹائی ہماری طرف نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ جس پارٹی کا ہے اُس کی مخالف پارٹی یہاں نہیں ہے ، اور عوام بے چاری ہے ، میرے فون سے تو لائن مین بدلے لے رہا ے شائد
ڈی ای فونز تھے جاننے والے سال بھر ایک فون کال پر فون ٹھیک کرتا رہا لائن مین ، فون کر کے کہتا تھا آپ کے رشتے دار کا فون آیا تھا کہ فون ٹھیک کر دو ، اب وہ ڈی ای فونز ریٹائر ہو گئے ہیں ، لائن مین کو موقع مل گیا بس ۔
لائن مین بھی پارٹیاں جوائن کر رہے ہیں :haye: پھر ہماری طرف شریف ہی ہیں۔ جسکا دل کرے پٹائی کر دے