<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><!-- generator="wordpress/2.3.3" -->
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	>
<channel>
	<title>Comments on: اسلامی بینکاری</title>
	<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/05/14/islamic-banking/</link>
	<description>I've done things that I regret but mainly I've done things you regret :P</description>
	<pubDate>Thu, 28 Aug 2008 18:40:33 +0000</pubDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.3.3</generator>
		<item>
		<title>By: بدتمیز</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/05/14/islamic-banking/#comment-70505</link>
		<dc:creator>بدتمیز</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 May 2008 00:35:56 +0000</pubDate>
		<guid>http://www.badtamiz.com/blog/2008/05/14/islamic-banking/#comment-70505</guid>
		<description>یہ اتنا قابل استعمال نہیں۔ اور خاص طور پر ہمارے جیسے ملکوں‌ میں جہاں stability نام کو نہیں۔ دوسرے اگر کسی نے سن دو ہزار میں سونا لیا جب دس گرام سونا پانچ ہزار روپے کا تھا اور سن دو ہزار سات میں واپس کرنا تھا جب دس گرام سونے کی قیمت پندرہ ہزار روپے سے تجاوز کر چکی تھی یعنی اس کو ہر گرام پر دس ہزار روپے زیادہ دینے پڑ رہے تھے۔ 
میرا تو بس اتنا ماننا ہے کہ اسلامی نام کے دم چھلے میں مت پھنسیں اور اچھی طرح تسلی کر لیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یہ اتنا قابل استعمال نہیں۔ اور خاص طور پر ہمارے جیسے ملکوں‌ میں جہاں stability نام کو نہیں۔ دوسرے اگر کسی نے سن دو ہزار میں سونا لیا جب دس گرام سونا پانچ ہزار روپے کا تھا اور سن دو ہزار سات میں واپس کرنا تھا جب دس گرام سونے کی قیمت پندرہ ہزار روپے سے تجاوز کر چکی تھی یعنی اس کو ہر گرام پر دس ہزار روپے زیادہ دینے پڑ رہے تھے۔<br />
میرا تو بس اتنا ماننا ہے کہ اسلامی نام کے دم چھلے میں مت پھنسیں اور اچھی طرح تسلی کر لیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.badtamiz.com/blog/2008/05/14/islamic-banking/#comment-67873</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 May 2008 17:16:56 +0000</pubDate>
		<guid>http://www.badtamiz.com/blog/2008/05/14/islamic-banking/#comment-67873</guid>
		<description>اسکی واحد وجہ جو میری سمجھ میں‌ آتی ہے وہ جدید معاشیات کے اصولوں کی اسلامی لحاظ سے تشریح‌ نہ کرنا ہے ۔ انفلیشن ایڈجیسٹمینٹ اور سود یا ربا کی تعریفوں میں‌سخت کنفیوژن ہے اور ایک عام مسلمان کے لیے یہ چیزیں بہت مشکل ہوجاتی ہے ۔۔ یہ بھی دیکھنے میں‌ آیا ہے کے اسلامی بینکاری کے نام پر جو پراڈکٹ لائے جاتے ہیں‌ انکی بعض شرائط ساہوکارانہ نظام سے بھی زیادہ کرخت ہیں جن میں مثال کے طور پر بینک اور صارف گھر کے حصے دار ہوتے ہیں‌لیکن پراپرٹی ڈیویلیو ہونے پر بینک نقصان سے صفا صفا نکل جاتا ہے جیسے کے آج کل امریکا میں ہاؤسنگ مارکیٹ کی صورتحال ہے۔

اسکا ایک سادہ حل کموڈٹی میں لین دین ہے ۔۔ مثال کے طور پر اگر آپ سے کوئی لاکھ روپیہ ادھار مانگے تو آپ لاکھ روپے کی کرنسی کے بجائے لاکھ روپے کا سونا ادھار دے دیں‌ جو مثال کے طور پر 40 گرام بنے تو قرض دار چالیس گرام سونا واپس کرے گا ۔۔ اس طرح کرنسی ڈیویلیو ہونے کا نقصان نہیں‌ اٹھانا پڑے گا ۔۔

&lt;em&gt;راشد کامران's last blog post..&lt;a href='http://www.urdublogging.com/?p=35' rel="nofollow"&gt;ہمیں ماتھے پے بوسہ دو۔۔&lt;/a&gt;&lt;/em&gt;</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اسکی واحد وجہ جو میری سمجھ میں‌ آتی ہے وہ جدید معاشیات کے اصولوں کی اسلامی لحاظ سے تشریح‌ نہ کرنا ہے ۔ انفلیشن ایڈجیسٹمینٹ اور سود یا ربا کی تعریفوں میں‌سخت کنفیوژن ہے اور ایک عام مسلمان کے لیے یہ چیزیں بہت مشکل ہوجاتی ہے ۔۔ یہ بھی دیکھنے میں‌ آیا ہے کے اسلامی بینکاری کے نام پر جو پراڈکٹ لائے جاتے ہیں‌ انکی بعض شرائط ساہوکارانہ نظام سے بھی زیادہ کرخت ہیں جن میں مثال کے طور پر بینک اور صارف گھر کے حصے دار ہوتے ہیں‌لیکن پراپرٹی ڈیویلیو ہونے پر بینک نقصان سے صفا صفا نکل جاتا ہے جیسے کے آج کل امریکا میں ہاؤسنگ مارکیٹ کی صورتحال ہے۔</p>
<p>اسکا ایک سادہ حل کموڈٹی میں لین دین ہے ۔۔ مثال کے طور پر اگر آپ سے کوئی لاکھ روپیہ ادھار مانگے تو آپ لاکھ روپے کی کرنسی کے بجائے لاکھ روپے کا سونا ادھار دے دیں‌ جو مثال کے طور پر 40 گرام بنے تو قرض دار چالیس گرام سونا واپس کرے گا ۔۔ اس طرح کرنسی ڈیویلیو ہونے کا نقصان نہیں‌ اٹھانا پڑے گا ۔۔</p>
<p><em>راشد کامران&#8217;s last blog post..<a href='http://www.urdublogging.com/?p=35' rel="nofollow">ہمیں ماتھے پے بوسہ دو۔۔</a></em></p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
