اسلامی بینکاری
161 views Published May 14th, 2008 in پاکستان نامہ, کیوں؟.برصغیر کے رہنے والے شائد ساری زندگی 1857 سے 1957 کے درمیان زندگی بسر کریں گیں۔ زمانہ کتنی تیز رفتار ترقی کیوں نہ کر جائے اس کے باسی ہمیشہ وقت سے پیچھے رہیں گیں۔ ہندو پانی مسلم پانی کے بعد اب مسلم بینک ہے۔ کل کلاں کو مسلمان سور، شراب اور جوا کی بھی اسلامی قسمیں ایجاد کر سکتے ہیں۔
سود ایک متنازعہ چیز ہے۔ مجھے اس کی تاریخ کا زیادہ علم نہیں۔ میری طرح میری پوری قوم کو سود کا اور اس مسئلے کا علم نہیں لہذا سود کے نام پر بدک جاتے ہیں۔ سود کے بارے میں سب لوگ متفق ہیں کہ یہ حرام ہے۔ میں نے یہاں جو سود کی حالت دیکھی اس حوالے سے بات کرونگا۔
برصغیر میں عام طور پر قرض لینے والا ساری زندگی سود ہی چکاتا رہتا تھا اور اصل رقم وہیں کی وہیں پڑی رہتی تھی۔ یہ پریکٹس غلط ہے اور ظلم ہے۔ جیسے آپ نے گھر خریدنا ہے اور علم ہے کہ ساری عمر رقم جمع کریں تب بھی گھر نہیں خرید سکتے لیکن یہی آپ قرض لے لیں تو جو رقم ماہانہ کرایہ دینی ہے وہ گھر کی مورٹگیج بن جائے گی۔ اب بینک کہتا ہے کہ جو رقم میں نے تم کو دینی ہے وہ اگر میں بزنس میں لگاؤں تو مجھے اتنا منافع ہو گا۔ تمہیں دینے سے مجھے کیا فائدہ؟ ظاہری بات ہے بینک اگر سارے پیسے اسی طرح دے دے تب تو بینک کے معاملات چلانے کے لئے اس کے پاس رقم نہیں ہو گی لہذا بینک کچھ پرسنٹ انٹرسٹ رکھ دیتا ہے کہ اچھا اتنی رقم دو تو میں سمجھوں گا کہ رقم بزنس میں لگی ہوئی ہے۔
برصغیر اور اس مثال کے سود میں کیا فرق ہے؟ برصغیر والا سود دائمی ہے۔ آپ ساری عمر پیسے ادا کرتے رہیں یہ قائم رہے گا آپ کے بعد آپ کے بچے ادا کریں گیں اور ان کے بعد ان کے بچے۔ یہاں یہ رقم فکس ہو جائے گی۔ آپ نے ایک لاکھ ڈالر رقم قرض لی تو اس پر اگر 5 فیصد انٹرسٹ تھا تو آپ کو ایک سال کے اندر بینک کو ایک لاکھ پانچ ہزار ڈالر واپس کرنے ہیں۔ اب قسطوں میں ادا کرتے رہیں۔ اگر آپ وفات پاگئے تو یا تو انشورنس پے کرے گی یا گھر بیچ کر بینک اپنی رقم لے لے گا اور باقی رقم آپ کے لواحقین کو دے دی جائے گی۔
اسی طرح پاکستان میں اسلامی بینکاری کا شور ہے۔ مجھے زیادہ علم نہیں لیکن جتنی معلومات ہیں یہ بینک عام بینکوں سے زیادہ گھناؤنے کام کر رہے ہیں۔ اول یہ چھ ماہ بعد نفع نقصان کی بنیاد پر اکاؤنٹ ہولڈرز کو منافع ادا کر رہے ہیں۔ جتنے مولوی ہیں سارے ان بینکوں میں پیسہ جمع کروا رہے ہیں یہ سوچ کر کہ صرف ان کے نام کے ساتھ اسلامی لگا ہوا ہے تو یہ جائز اور برحق ہے۔
ان بینکوں کے باقی معاملات کا مجھے علم نہیں لیکن ایک کام جس میں پیسہ لگایا جا رہا ہے وہ ہے ذخیرہ اندوزی جو کہ اسلامی طور سے ناجائز ہے تو پھر یہ بینک اسلامی بینک کا ٹھپہ لگا کر ناجائز کام کیسے کر سکتے ہیں اور ان کے داڑھیوں والے پنچ وقت کی نماز پڑھنے والے عقل سے پیدل اکاؤنٹ ہولڈرز کیسے اس منافع کو حلال تسلیم کر سکتے ہیں؟
کوئی بھی بینک نقصان یا گھاٹا نہیں ظاہر کر سکتا۔ ورنہ تو مزید کسٹمر آنے بند ہو جائیں اور پہلے والے غبن دھوکہ فراڈ کے نعرے لگائیں۔ یہ بینک چھ چھ ماہ کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کے کام میں پیسہ لگا رہے ہیں۔ رقم چھ ماہ تک کسی چیز کی ذخیرہ اندوزی میں لگا دی جاتی ہے۔ چھ ماہ کے بعد جب اس کی قیمت بڑھ چکی ہوتی ہے تو اس کو مارکیٹ میں لا کر منافع کمایا جاتا ہے۔ مجھے ابھی زیادہ علم نہیں لیکن ان معلومات کا سہر ایک ایسے اندر کے صاحب سے ہے جنکو خود بینک نے آفر کی تھی کہ وہ سٹاک کر لیں۔ لیکن کیا حالیہ آٹے کا بحران سمگلنگ کے ساتھ ساتھ ایسی کسی کوشش کا نتیجہ ہے اور کیا پاکستان جیسے ملک میں ایسی قلتیں پیدا کرنے کا جو کارنامہ شوکت عزیز نے کیا تھا وہ اب ہر جگہ سرائیت کر چکا ہے؟ اس بارے میں زیادہ بہتر معلومات صحافی یا بینکار حضرات کے پاس ہونگی۔ بدقسمتی سے صحافی اور بینکر دونوں آجکل غائب ہیں۔
Popularity: 9%
Popularity: 9%
161 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







ابھی سنا ہے کیا؟ کب تک جوانی چھپاؤگی...
اسکی واحد وجہ جو میری سمجھ میں آتی ہے وہ جدید معاشیات کے اصولوں کی اسلامی لحاظ سے تشریح نہ کرنا ہے ۔ انفلیشن ایڈجیسٹمینٹ اور سود یا ربا کی تعریفوں میںسخت کنفیوژن ہے اور ایک عام مسلمان کے لیے یہ چیزیں بہت مشکل ہوجاتی ہے ۔۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کے اسلامی بینکاری کے نام پر جو پراڈکٹ لائے جاتے ہیں انکی بعض شرائط ساہوکارانہ نظام سے بھی زیادہ کرخت ہیں جن میں مثال کے طور پر بینک اور صارف گھر کے حصے دار ہوتے ہیںلیکن پراپرٹی ڈیویلیو ہونے پر بینک نقصان سے صفا صفا نکل جاتا ہے جیسے کے آج کل امریکا میں ہاؤسنگ مارکیٹ کی صورتحال ہے۔
اسکا ایک سادہ حل کموڈٹی میں لین دین ہے ۔۔ مثال کے طور پر اگر آپ سے کوئی لاکھ روپیہ ادھار مانگے تو آپ لاکھ روپے کی کرنسی کے بجائے لاکھ روپے کا سونا ادھار دے دیں جو مثال کے طور پر 40 گرام بنے تو قرض دار چالیس گرام سونا واپس کرے گا ۔۔ اس طرح کرنسی ڈیویلیو ہونے کا نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا ۔۔
راشد کامران’s last blog post..ہمیں ماتھے پے بوسہ دو۔۔
[reply to this comment]
یہ اتنا قابل استعمال نہیں۔ اور خاص طور پر ہمارے جیسے ملکوں میں جہاں stability نام کو نہیں۔ دوسرے اگر کسی نے سن دو ہزار میں سونا لیا جب دس گرام سونا پانچ ہزار روپے کا تھا اور سن دو ہزار سات میں واپس کرنا تھا جب دس گرام سونے کی قیمت پندرہ ہزار روپے سے تجاوز کر چکی تھی یعنی اس کو ہر گرام پر دس ہزار روپے زیادہ دینے پڑ رہے تھے۔
میرا تو بس اتنا ماننا ہے کہ اسلامی نام کے دم چھلے میں مت پھنسیں اور اچھی طرح تسلی کر لیں۔
[reply to this comment]