امریکہ روانگی

مئی کا مہینہ تھا۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں چڑھ رہی تھیں۔ پاکستان کے صدر سعودی عرب سے فری تیل کھا کر ختم کر چکے تھے لہذا قیمتیں بڑھ رہی تھی اور لوڈ شیڈنگ چاری تھی۔ گھر پر ڈھیر سارے مہمان جمع تھے اور لائٹ غائب۔ ٹارچ۔ ایمرجنسی لائٹ سیل فون کی لائٹ جلا جلا کر کام ہو رہ تھے۔ سب کچھ پیک کیا اور ائیرپورٹ کے لئے نکلے۔

ہماری ٹکٹ کویت ائیر لائنز سے تھی۔ کویت ایئر لائنز کا فئیر پی آئے اے کے مقابلے میں 5000 فی کس کم تھا۔ دراصل پاکستان میں اس کا فئیر پی آئے اے کے برابر ہی بتایا جاتا ہے لیکن جب خریدیں تو آپ کو کم قیمت پر ملتا ہے اس کی وجہ ہمارے ایک انکل نے جو کہ کسی دوسری ائیر لائن میں کام کرتے ہیں نے پی آئے اے کی  مناپلی بتائی۔ اب آگے علم نہیں۔ کویت ائیر لائن میں سفر کرنے کے بعد میرا موڈ ہے کہ ایک دفعہ پی آئی اے میں بھی سفر کر کے د یکھوں کہ کیوں لوگ اس سے نالاں ہیں۔ جہانزیب نے ایک دفعہ ذکر کیا تھا کہ ان کو کبھی پی آئے اے  میں پرابلم نہیں ہوئی۔

کویت ائیر لائن لاہور سے ایک چھوٹے جہاز پر آپ کو کویت لے جاتی ہے۔ جہاں سے آپ براستہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار برطانیہ، امریکہ روانہ ہوتے ہیں۔ ہر ملک کی ائیر لائن ایسے ہی کرتی ہے۔ شائد فرانس وغیرہ کی اپنے ملک سے ڈائریکٹ امریکہ لےجاتی ہوں۔

ہمارے بچپن میں جب انکل وغیرہ جاتے تھے تو وہ جب جی چاہتے اندر چلے جاتے تھے۔ نیو ائیر پورٹ پر صرف تین گھنٹے قبل اندر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اتنی دیر باہر ہجوم اکٹھا کریں۔ نیو ائیر پورٹ صحیح معنوں میں غریب قوم کی عیاشی کی داستان ہے۔ اس قدر سجا سجایا ائیر پورٹ ہماری جیسی غریب قوم کو زیب نہیں دیتا۔ خاص طور پر کویت کا ائر پورٹ دیکھ کر یا پھر برطانیہ اور امریکہ کے ایئر پورٹ جہاں جدیدیت ہے پر سجاوٹ نہیں۔

بورڈ پر لائٹ جلتے ہی آپ کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ باری باری اندر جائیں۔ سامان کا خیال رکھیں۔ آپ کسی کو بڑی آسانی سے روند سکتے ہیں یا کسی کی ٹرالی سے دھکا کھا سکتےہیں۔ پورٹر آپ کا سامان لے کر بھاگنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ جتنی دیر میں آپ عزیزوں سے “نمٹتے” میرا مطلب ہےملتے ہیں اتنی دیر میں پورٹر وہ اندر پہنچ چکا ہوتا ہے۔

اندر سب سے پہلے ایک دیسی کسٹم ہے۔ یہاں کچھ باوردی اہلکار ہینڈ بیگز کی تلاشی لیتے ہیں۔ جان پہچان والے شخص کی تلاشی نہیں لی جاتی۔ خاص طور پر فیملیز کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے اور ایک آدھا بیگ دیکھ کر باقی سب گزار دئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اندر  پٹ سن یا پتہ نہیں اس کو کیا کہتے تھے جو پانچویں جماعت میں معاشرتی علوم میں پڑھایا جاتا تھا سے آپ کے بیگ باندھے جاتے ہیں۔ یہ ایک نیا سیکیورٹی فیچر ہے اس کو ضرور کروائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ کسٹم آپ کے بیگ میں سے کچھ نہیں نکال سکتا۔ کمبختوں نے میرا پرفیوم پار کر لیا  وہ سوٹ کیس میں تھا جس کو میں لاک کرنا بھول گیا تھا اور سخت پلاسٹک کا ہونے کی وجہ سے اس کو “تازہ ترین سیکیورٹی لاک” نہیں لگوایا تھا۔

یہاں سے آپ کویت ایر لائن کے کاؤنٹر پر جائیں ٹکٹوں کی پڑتال کروائیں۔ بورڈنگ کارڈ لیں۔ سامان کا وزن کروائیں۔ جب ہم آ رہے تھے تب 32 کلو کے دو سوٹ کیس لانے کی اجازت تھی۔ اب کا علم نہیں۔ وزن زیادہ ہونے کی صورت میں یا تو وزن نکال کے دوسرے بیگ میں تقسیم کریں یا فیس ادا کریں۔ جان پہچان عام طور پر نہیں چل سکتی۔

عزیزوں سے نمٹنے کے دوران میرے ابو مصر تھے کہ سیل فون ان کے عزیزوں میں تقسیم کر دئے جائیں۔ باقی سب نے کر دئے میں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ میں نے لاکھ سمجھایا کہ یہ سیل فون امریکہ میں چلتے ہیں لیکن اباجان نہیں مانتے۔ خیر میرا سیل فون کام آ گیا۔ سارا سامان وزن کروا کر جب میں خاتون کے دئے گئے فارم بھر رہا تھا تو ایک دم یاد آیا کہ چند کاغذات تو گھر بھول آئے ہیں۔ فورا چچا کو فون کیا اور کہا کہ جب لے آئیں تو فون کر دیں۔ ایسی کسی صورت میں باہر خالی ہاتھ مت جائیں۔ اپنی ٹکٹ ساتھ لے کر جائیں۔ ٹکٹ نہ ہونے کی صورت میں آپ کو واپس اندر نہیں آنے دیا جائے گا۔

فارم فل کر خاتون کو دیں اور اب اپنی تلاشی سے گزریں۔ سب سے پہلے جو جو آپ کی چیزیں ہیں کو ایک سکینر اور خود کو قد آدم سکینر سے گزاریں۔ ہینڈ بیگ میں ٹھوس چیزیں رکھنے کی ممانعت ہے اب تو مائع چیزیں جیسے ٹوتھ پیسٹ تک پر پابندی ہے۔ اس کے بعد آپ جا کر بورڈنگ لاؤنج میں بیٹھ کر اناؤنسمنٹ کا انتظار کریں۔

اب آپ کو سیڑھیاں چڑھنی نہیں پڑتی نہ بورڈنگ لاؤنج سے رن وے کے آس پاس مٹ گشت کرتے طیارے تک جانے کی ضرورت ہے۔ ایک سرنگ نما کوریڈور لاؤنج کے دروازے سے جہاز کے دروازے تک لگ جاتا ہے۔ آپ اس میں سے گزرتے جہاز تک پہنچیں اور اپنی نشست دیکھ کر سنبھالیں نہیں تو ہوسٹس کی مدد لیں۔ عام طور پر لوگ بہت نروس ہوتے ہیں مجھے خاص طور پر ایک دیہاتی یاد ہے جو کھڑکی کی ساتھ والی نشت پر بیٹھا تھا اور صرف ائیر ہوسٹس کے اتنا کہنے پر کہ یہ آپ کی سیٹ نہیں اس قدر گھبرایا جیسے کوئی جرم کر بیٹھا ہو۔ مجھے اس پر ترس بھی آیا اور ہنسی بھی کہ ہم ساری جگہ بدمعاش بنتے ہیں مگر نئی جگہ پر کیسے جان نکلی ہوتی ہے۔

کویت ائیر لائن کے اس طیارے کی نشستیں نیو خان کی بس سے بھی تنگ تھیں۔ مجھے تو بہت سخت غصہ آیا۔ اوپر سے ایک ہی ہوسٹس اور وہ بھی کام کی نہیں۔ اپ کا کیپٹین آپ سے یہ جانتےہوئے بھی کہ آپ عربی اور انگلش دونوں سے نابلد ہیں میں سلام دعا کرتا ہے۔ اردو بولنے میں شرم محسوس کرنے والی ہماری قوم کے لئے یہ طمانچہ ہے۔ ہدایات کے بعد جہاز پرواز کرتا ہے اور سیدھا کویت کی طرف رخت سفر باندھتا ہے۔ اس دوران آپ کی خاطر تواضع کی جاتی ہے۔

کویت کا ائیرپورٹ سادگی اور جدیدیت کا بہترین نمونہ ہے۔ صحرا میں دھول اڑتی رہتی ہے اور چند گز سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر پرانے طریقے کے مطابق رن وے سے پیدل چل کر آنا پڑے تو آپ دو دو کلو ریت تو اپنے پر آسانی سے چڑھا ہی لیں۔ کویت ائیر پورٹ پر سارا عملہ عرب خواتین لیکن انگلش بولنے والوں پر مشتمل ہے۔ عمارت سادہ ہے اور بڑے بڑے ستون چھت کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ عرب اور اسلامی دنیا کے کرنٹ افئیرز پر مشتمل پوسٹر لگائے ہوئے ہیں۔ کسی پر کسی نیوز چینل کا ہے تو کسی پر کسی اہم میٹنگ کا۔ ان دنوں شائد شوکت عزیز عرب دنیا کے دورے پر تھے اور اس سے متعلقہ پوسٹرز لگے ہوئے تھے اور میں سوچ رہا تھا اس کو اتنی عزت؟ :P

یہاں ایک بڑے طیارے پر آپ کی ری پورڈنگ ہوتی ہے۔ سامان بالا ہی بالا ایک طیارے سے دوسرے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ آپ بورڈنگ ٹکٹ لیں اور جہاز میں سوار ہوں۔ لیٹ جانے کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ پہلا سارا رش سمٹ چکا ہوتا ہے اور دوسرا آپ کو جہاز کے اینڈ کی نشست ملتی ہے جہاں ٹیک آف کے وقت خدا یاد آ جاتا ہے کیونکہ آپ سے آگے سارا جہاز آپ سے اوپر اٹھا ہوتا ہے۔ دیسی لوگ عام طور پر اپنی سیٹس بدلتے رہتے ہیں کہ کسی کی فیملی کہیں ہے تو وہ خود کہیں۔ کمبل کی آفر ہو تو جھٹ سے لے لیں۔ میری طرح انکار کریں گے تو بعد میں سردی لگے گی۔

یہاں سے آپ پہنچتے ہیں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کے پاس۔ ہیتھرو ایئرپورٹ۔ یہاں خوامخواہ آپ کو پورے ائیر پورٹ کی سیر کروائی جاتی ہے اور وہ بھی پیدل۔ سیر سے فارغ ہو اشارے فالو کریں۔ اور آگے ایک جم غفیر۔ اتنی ساری پروازوں کے سب مسافروں کو اس تنگ گلی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ باری باری سکینر سے گزریں۔ اپنی اشیا سکینر سے گزاریں۔ میں نے تو انکل سے وقت پوچھ لیا تھا کہ مقامی وقت کیا ہے۔ جتنی دیر آپ کو ادھر ادھر گھمایا جاتا ہے اتنی دیر جہاز کی تلاشی لی جاتی ہے۔ پتہ نہیں کون کہہ رہا تھا کہ کتوں سے پورا جہاز چیک کروایا جاتا ہے۔ نامعلوم برطانوی کتوں کو دیسی منشیات کا علم ہوتا ہے کہ نہیں۔

یہاں سے پروازوں کا عملہ اپنی اپنی پرواز کے مسافروں کو ان کے بورڈنگ ایریا تک بھیجتا ہے۔ بدقسمتی سے مجھے پی آئی اے میں آنے والے لوگ رلتے نظر آئے جو پوچھ رہے تھے کہ پی آئی اے کے لئے کہاں جانا ہو گا۔ آپ کے کویت والے بورڈنگ کارڈ یہاں کارآمد ہوتے ہیں گم ہونے یا پھر جہاز میں چھوڑ آنے کی صورت میں آپ کو دوبارہ کارڈ ایشو ہوتا ہے لیکن سب سے آخر میں اور کافی وقت لگتا ہے۔ لہذا اپنے بورڈنگ کارڈ ساتھ رکھیں۔

لندن میں جہاز کا عملہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہاں سے نیا عملہ جہاز لے کر امریکہ جاتا ہے۔ جہاز سے اترتے وقت عام طور پر پائلٹ اور ہوسٹس دروازے پر خدا حافظ کہنے موجود ہوتے ہیں۔ کسی کی طبعیت خراب ہونے پر جہاز میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا لہذا اناؤنسمنٹ کی گئی تھی کہ اگر کوئی ڈاکٹر ہو تو وہ کپتان سے رابطہ کرے۔ مجھے اس بارے میں علم نہیں کہ 7٫8 گھنٹے یا پھر 12٫13 گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز میں ڈاکٹر کا کیا متبادل یا حل پیش کیا جاتا ہے؟

لندن سے نکلنے کے بعد سارا سفر سمندر پر ہے۔ جہاز پر اپنے سامنے لگی سکرین پر آپ چاہیں تو نقشے اور جہاز کی رفتار مقام وغیرہ سے لطف اندوز ہوں یا فلم سے۔ سمندر سے گزرتے ہوئے اکثر اوقات جہاز ائیر پاکٹ میں سے گزرتا ہے لہذا مجھے میرے ساتھ بیٹھے انکل نے کہا تھا کہ گرمیوں میں سیٹ بیلٹ لگا کر ہی رکھا کرنا۔ وہ انکل کافی باتونی اور ملنسار قسم کے تھے اور ہر کسی کی مدد پر تلے ہوئے تھے۔ نیویارک پر پروازوں کا کافی رش ہوتا ہے۔ لہذا ہمارا جہاز تقریبا 45 منٹ تو نیویارک سمندر کے اوپر ہی چکر لگاتا رہا۔

نیویارک jfk airport پر شام کے وقت بالکل بھی رش نہیں تھا۔ صرف ہماری ہی پرواز تھی یا کہیں اور بھی کاؤنٹر ہونگے۔ امریکن ایمبیسی آپ کو پاسپورٹ کے ساتھ مہر بند لفافے بھی دیتی ہے جو کہ کھولنے پر دراصل آپ کے مہیا کردہ سارے فارمز اور کاغذات پر مشتمل پلندہ ہوتا ہے۔ لائن میں لگیں اور جب کاؤنٹر کے سامنے جائیں تو امیگرینٹ اور نان امیگرینٹ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ہم امیگرینٹ والے کاؤنٹر پر گئے تھے۔ یہاں ایک کاؤنٹر پر ایک فرد جاتا ہے۔ ساری فیملی نہیں جا سکتی۔ میں جس کاؤنٹر پر گیا وہاں ایک گورا نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ میرے ڈاکیومنٹس کی پن نکالتے ہوئے بڑبڑایا “ٹاپ سیکرٹ، سٹوپڈ” خیر سارے کاغذات چیک کر کے آپ کا ویزہ مشین میں سے گزار کر چیک کیا جاتا ہے پھر فنگر پرنٹس لے کر آپ کو امیگریشن والوں کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ یہاں آپ نام پکارنے پر جائیں۔ یہ آپ کے کاغذات رکھ لیتے ہیں اور کاغذ پر آپ کی انگلی کے نشانات لے لیتے ہیں۔ اب آپ اپنا سامان کنوئیر بیلٹ سے لیں۔ اور گھر کو جائیں۔

سامان کے لئے ٹرالی ایک ڈالر میں ملتی ہے یا اس وقت ملتی تھی۔ مشین پانچ ڈالر تک کا نوٹ وصول کر سکتی ہے۔ عام طور پر ایسی مشینوں میں نوٹ ڈالتے وقت اندر کا یعنی صدر کی تصویر والی سائیڈ سامنے یا اوپر کی سمت رکھ کر ڈالا جاتا ہے۔ پرانی مشینیں پرانے نوٹ ہونے کی صورت میں نخرے کرتے ہیں لہذا نوٹ کی تہیں درست کر لیں۔ نئی مشینوں پر نوٹ کی سمت یا نئے پرانے کا نخرہ نہیں لیکن ابھی ایسی مشینیں خال خال ہی ہیں۔

نیویارک بہت سردی تھی اور میں شکر کر رہا تھا کہ جیکٹ لے آیا۔ چونکہ میں نے امریکہ آ کر نئے گناہ کرنے تھے لہذا پہلے گناہ بخشنے کے لئے اللہ نے یہ کیا کہ مجھے سامان اور عثمان (بھائی) دونوں کے ساتھ بیٹھا دیا۔ سارا رستہ جو میں تنگ ہوا۔ اسی لئے اب میں کہیں آنے جانے پر ڈرائیو کرتا ہوں۔ دو گاڑیاں لیں ورنہ میں نہیں جا رہا۔ ائیر پورٹ سے ہم ورجینیا کے لئے نکلے سب کا نیند سے برا حال تھا لہذا نیویارک سوتے سوتے گزارا۔ جرسی ٹرن پائیک برگر کنگ پر کھانا کھانے رکے تھے۔ نئے نئے دیسی کے طور پر حلال حرام کے خیال سے میں نے ماموں سے پوچھا یہ حلال ہوتا ہے؟ انہوں نے ایسے ہی مذاق کیا نہیں سب کچھ کھا لیتے ہیں۔ اب مجھے کیا پتہ تھا پی ایچ ڈی مذاق بھی کرتے ہیں۔ لہذا میں نے لارج فرائز کا آرڈر کر دیا اور میرے پیچھے سب کے سب نے لارج فرائز کا آرڈر کر دیا۔ شکر تھا رات کا وقت تھا دن کا وقت ہوتا تو لوگ دیکھ کر ہنستے کہ سارا ٹبر فرائز کھا رہا ہے۔

صبح صبح 5 بچے ماموں کے گھر پہنچے۔ ماموں کی ڈرائیونگ کا مجھے یہی دکھ ہے۔ پوسٹڈ سپیڈ لمٹ ہے 65 تو ماموں 60 پر چلا رہے ہیں۔ میں عام طور پر ہائی وے پر 65 کو 70 سمجھتا ہوں ورنہ 68۔ امریکی 65 کو 80 سمجھتے ہیں اور 45 کو بھی 80 لہذا اکثر مارے جاتے ہیں۔ عام طور پر امریکی پوسٹڈ سپیڈ لمٹ سے 10٫15 زیادہ تیز چلا رہے ہوتے ہیں۔

بس پھر ہم سونے چل پڑے۔ سو کر اٹھے اور سوچیں تو یہ ہے امریکہ؟

 

Popularity: 13%

Popularity: 13%

181 views

 

 

Related Posts

  • gov gone wild On March 6, 2007, 4 Comments
  • If you live on planet earth you would have known “girls gone wild”, If you live in United States of America, You must have known “guys gone wild”. But there is somethin you are missing. The famous gov gone wild. The next release of “guvs gone wild”, we all have been watching this crazy drama over

 

Random Posts


5 Responses to “امریکہ روانگی”

  1. 1 راشد کامران(41)

    چلیں جی امریکہ میں خوش آمدید۔
    پی آی اے کا تجربہ نہ ہی کریں تو اچھا ہے :)
    راشد کامران’s last blog post..ہمیں ماتھے پے بوسہ دو۔۔

  2. 2 ڈفر(11)

    اچھی تحریر ہے
    یہ سفرنامہ یا آپ بیتی سیریز جاری رہے گی نا؟

    ڈفر’s last blog post..پہلا بچہ

  3. 3 راہبر(84)

    انٹرسٹنگ :kool:
    راہبر’s last blog post..وکیل صاحب

  4. 4 ماوراء(48)

    پی آئی اے سے تو واقعی کوئی نہ جائے۔۔۔ایسے لگتا ہے ، افغانستان کے ٹرکوں کی سیٹیں لگائی ہوئی ہیں۔ اور اوپر سے جو ہمارے پاکستانی ہوتے ہیں، اللہ معاف ۔۔جہاز کو گھر سمجھ لیتے ہیں اپنا۔۔۔ارد گرد زیادہ باتیں کرنے والے بیٹھے ہوں تو کان کھا جاتے ہیں۔

    لاہور ائیر پورٹ۔۔۔کیا زبردست ائیر پورٹ ہے، اور اوپر سے ان کی سروس ۔۔۔ شاندار۔۔۔ پچھلی بار میں پہلی بار لاہور سے آئی۔
    میڈم یہاں لمبی لائن ہے، یہاں آ جائیں۔ میڈم کچھ کھانے کو چاہیے ہو تو بتائیں، مجھے تو پہلی بار کسی نے میڈم کہا تھا۔میں تو اتنے میں ہی خوش ہو گئی۔ :laugh:
    ماوراء’s last blog post..17 مئی

  5. 5 بدتمیز(431)

    راشد کامران: شکریہ۔آپ کی نصیحت پلے سے باندھ لی ہے۔ کبھی موڈ ہو تو اپنا تجربہ لکھیں اور یہ بھی کہ آپ کس ایئر لائن سے آتے جاتے ہیں۔

    ڈفر: خوش آمدید سفرنامہ تو ختم ہو گیا اس کے بعد یہاں‌ریگولر لکھتا رہا ہوں آپ آرکائیوز میں دیکھ سکتے ہیں۔

    راہبر: :embarrassed:

    ماورا: ہاں جہانزیب نے یہ بھی بتایا تھا کہ بہت باتونی لوگ ہوتے ہیں۔ دراصل یہاں انگلش میں گٹ پٹ کرنے والے ترسے ہوتے ہیں اردو بولنے کو۔ خود میرے ابو بہت تنگ ہیں :P ان کو یہ جگہ نہیں پسند
    یہ آپ کو کون کہاں میڈیم بلا رہا تھا؟

Leave a Reply







Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: فیصل: جی ابھی دنیا میں‌ کم و بیش 70 فیصد لوگ موجود ہیں۔...
    • بدتمیز: میں‌ ذرا خاتون کی کوالیفیکیشن دیکھ کر لکھتا ہوں۔
    • راشد کامران: بل کلنٹن کی تقریر سب سے متاثر کن تھی۔۔ ویسے جان مکین...
    • راشد کامران: زیادہ تر فیچرز تو وہی ملے ہیں‌ جو فائر فاکس 3 میں...
    • فیصل: واہ ابھی دنیا میں‌انٹر نیٹ ایکسپلورر والے لوگ بھی ہیں :laugh:
    • ڈفر: زرداری کو نہیں بنوا سکتے ہم کسی طرح امریکہ کا صدر؟ اور پیجے...
    • ڈفر: متاثرکرتا ہے؟ ہمیں تو ہر امریکی صدر ڈستا ہی ہے :D ڈفر’s last...
    • راہبر: یہاں کے اخبارات میں اوباما کی کوریج کافی منفی انداز میں...
    • خاور: میں اب بھی اس بات پر یقین رکھتا هوں که اوبامه ایک کالا هونے...
    • بدتمیز: ڈفر: امریکہ کا صدر سادی دنیا کا صدر ہوتا ہے۔ یہ آپ کو کسی...

     

    Recent Trackbacks:

    • جہیز: آپ کو جہیز کی حسرت دل میں ہو تو شادی سے پہلے جہیز سلسلے کی...
    • بدتمیز: پھر بچ گیا۔
    • بدتمیز: yet another oil story
    • ترقی یافتہ: امریکہ میں درخت کاٹنا جرم ہے ، جبکہ یہاں انسانوں تک...
    • بدتمیز: شہد کی مکھی

    Most Viewed

  • Honda Accord 2008 - 1,597 views
  • Runaway Love - 1,564 views
  • urdu bloggin plugin tidbits - 1,315 views
  • aitzaz ahsan interview - 986 views
  • میں رہ گیا کنوارہ - 877 views
  • جہیز - 834 views
  • میرا تعارف - 678 views
  • عورت کہیں جسے - 656 views
  • talk - 638 views
  • jextr - 620 views
  • About - 618 views
  • کارٹون - 607 views
  • Toyota Camry - 592 views
  • افسوس - 585 views
  • میں پاگل میرا دل وی پاگل - 579 views
  • @live.com.pk - 564 views
  • ہم اس لئے گھورتے ہیں۔ - 550 views
  • Contact - 536 views
  • ڈومز ڈے - 523 views
  • جامعہ حفصہ - 517 views
    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 573
    • Links to posts: 56
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: جہیز (41) سب سے پہلے پاکستان (33) جامعہ حفصہ (20)
    • Comments: 1661
    • Comments per post: 2.90
    • Top3 commenters: -بدتمیز (431) -راہبر (84) -اجمل (64)
    • Pagerank: 2
    • Alexarank: 0

     

    اردو بلاگرز

    Powered by SideRSS Plugin

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->