رہنما
214 views Published April 19th, 2008 in دنیا نامہ, پاکستان نامہ.قوم اپنے رہنما سے پہچانی جاتی ہے۔ لیکن رہنما کافی نہیں قوم اپنے آپ سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ رہنما کو جتنی عزت دی جائے اتنی اس قوم کی توقیر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونئیر، افریقن امریکن کے قائد مانے جاتے ہیں۔ وہ صرف 39 سال کے تھے جب ان کو ایک گورے نے قتل کر دیا تھا۔ وہ کالے اور گورے کی تفریق کے خلاف افریقن امریکن کی جدوجہد کا نشان تھے۔ ان کے قاتل کا ابھی 1998 میں جیل میں انتقال ہوا ہے۔
اپریل چار کو میں نے عجیب نظارہ دیکھا۔ ویسے تو اخبارات ویسے بھی جلد ہی بک جاتے ہیں اور نیوز سٹینڈ پر کواٹر ڈالیں بھی تو خالی ڈبہ منہ چڑاتا ہے اور جتنا غصہ چڑھتا ہے کم ہے۔ لیکن اس دن ہر افریقن امریکن ہاتھ میں اخبار دبائے گھوم رہا تھا۔ صرف اس لئے کہ یہ مارٹن لوتھ کنگ ڈے تھا اور اخبارات میں اس پر مضامین تھے۔
ہم میں سے کتنے ہیں جو بابائے قوم سے ایسی عقیدت رکھتے ہوں؟ ہماری ساری عقیدت لال اور ہرے نوٹوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم کہتے بہت کچھ ہیں لیکن عملی کام صفر بھی نہیں رہ گیا۔
مارٹن لوتھر کنگ کے بارے ایک دو مضامین پڑھے پھر بچوں کا ایک صفحہ پڑھا۔ اس میں باقی ساری چیز تو کامن ہونی ہی تھی ایک اور بات بڑی کامن تھی۔ وہ تھی مارٹن لوتھر کا گاندھی سے inspire ہونا۔ ویسے تو ہم کافی زور گاندھی کے عیار چالاک مکار دغا باز ہونے پر صرف کرتے ہیں لیکن میرا نقطہ نظر ہے کہ ہر قوم اور اس کے رہنما کو حق ہے کہ وہ اپنے فائدے میں بہترین فیصلے کرے اگر آپ بےوقوف ہیں تو اس میں ان کا قصور نہیں۔ لہذا میں گاندھی سے لے کر صدر بش تک کو مجرم نہیں گردانتا۔
کیا کسی کو اثرورسوخ نام کی چڑیا کا علم ہے؟ نہیں اچھا تو صرف اتنا جانئے کہانی صرف انڈیا میں R&D اور کال سینٹر قائم کرنے تک محدود نہیں رہی۔ انڈیا کی tata motors نے فورڈ سے جیگوار اور لینڈ روور خرید لی ہے۔ فورڈ نے یہ کاریں نوے کی دہائی میں خریدی تھیں۔ یہ کاریں لگژری کاروں میں شمار ہوتی ہیں اور یورپ تک میں انڈیا کی واہ واہ ہو جائے گی۔ مظبوط معیشت مستحکم حکومتوں کے قیام سے قیام میں آتی ہے۔ صرف 60 سال کی مستحکم اور پالیسیوں کے تسلسل نے انڈیا کو وہ مقام دلا دیا ہے جو ہم بھی حاصل کر سکتے تھے لیکن درمیان میں صدر مشرف جیسے انسان شب خون مارنے سے باز نہیں آتے۔ ویسے صدر مشرف کو اب چائنا نے طلب کر لیا خیال ہے کہ ان سے ضمانت طلب کی جا رہی ہے کہ جو معاہدے کئے گئے تھے ان کا تسلسل کیا ہو گا۔
قائداعظم کو ہم نے چھوڑا نہیں۔ بچے کھچے اس قابل نہیں۔ کیا واقعی ہم ایک تہی دامن قوم ہے جو ستر ڈھکنے والے جانوروں پر مشتمل ہے اور پیٹ بھرنا اور مزید پیٹ پیدا کرنا کام ہے؟
Popularity: 14%
Popularity: 14%
214 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







جناب بدتمیز صاحب: کیا آپ میری گزشتہ دو ای میلز اور میرے فون پر بیان کیے گئے مسائل کو حل کرنے کی کوشش فرمائیں گے؟
قدیر احمد’s last blog post..ہائے میری ویب سائیٹ
اچھا تمہاری طرف لگتا ہے یا تو پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں، یا لاٹری کے رزلٹ کے لئے اخبارات کا سہارا لینے والے رہتے ہیں ۔ لول ۔ یہاں نیویارک میں سڑکوں کے کنارے ہاکر کھڑے ہوتے ہیں، اور ساڑھے آٹھ نو بجے کے بعد جتنے اخبارات بچ جاتے ہیں، وہ مفت میں گاڑیوں میں لوگوں کو دے رہے ہوتے ہیں ۔
جہانزیب’s last blog post..ایک سوال
جہانزیب: نہیں لاٹڑی کا رزلٹ تو میں نے کبھی اس اخبار میں نہیں دیکھا۔ ہاں ٹی وی پر آتے ہیں۔