میرا سامان کہیں تھا اور میں کہیں تھا نتیجتا سیل فون جو کہ سارے رستے چیٹ اور فون سننے گانے بجانے کے کام آتا رہا اگلے دن لو بیٹری پر تھا۔ چارجر گاڑی میں اور میں بڑی بڑی بلڈنگز میں۔ اب اگر فون ڈیڈ ہو جاتا تو میں جہانزیب کو فون کیسے کرتا؟
گیدڑ کی جب شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔ میں نے بھی ایک دفعہ پھر شہر (نیویارک) کا رخ کیا۔ اس شہر کو مجھ سے بہت محبت ہے لہذا یہ مجھے بلا بلا کر مارتا ہے۔ میں بھی بہت ڈھیٹ ہوں پھر بھی بعض نہیں آتا۔
میں نے ہفتہ منانے کی کوشش کی کہ گاڑی پر چلیں لیکن کوئی نہ مانے۔ میں نے سب کو بتایا کہ میں گاڑی اب صحیح چلا لیتا ہوں لیکن کچھ کو اعتبار نہ تھا کچھ کو نیویارک میں ٹھہرنے کا مسئلہ تھا۔ میں نے کہا بھی سارا دن چڑیا گھر میں گزارنا اور شام کو واپسی لیکن کہاں جناب۔ میں نے اکیلے جانے کی ٹھانی لہذا بہت معصومیت سے بس سٹیشن پر شام 4 بچے پہنچا جبکہ علم تھا کہ ہفتہ کو سب دفاتر دوپہر بارہ بجے تک کھلتے ہیں۔ برا ہو بس سٹیشن والوں کو وہ ہفتہ کو بھی فل ٹائم اوپن ہوتے ہیں لہذا ٹکٹ لینا پڑی ورنہ میں نے تو دو gps اکٹھے کر لئے تھے۔
پاکستان کی بسیں زیادہ اچھی ہیں۔ وقت پر چلتی ہیں۔ یہاں کی عجیب مصیبت ہے۔ بس کا وقت ساڑھے آٹھ بجے ہیں بس کی مرضی چاہے تو 8 بجے ہی آکر چلی جائے یا پھر پونے دس بجے تک نازل ہو لہذا مجھے بس کا سفر ذہر لگتا ہے۔ اوپر سے سیٹس اس قدر تنگ کہ دل چاہتا ہے بس پر دو حرف بھیج کر ابھی کسی ٹیکسی کو کال کریں۔ میں تو سارے رستے قسمت کو کوستے گیا۔
اس دفعہ بس میں تو کیا پورے سٹیشن پر کوئی گوری نطر نہیں آئی۔ لہذا میرے ساتھ ایک انڈین آ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد کہتا یہ نارتھ کالونی ہے؟ میں نے کہا کیا مطلب؟ کہتا نارتھ کالونی ہے؟ سٹیٹ؟ میں نے کہا نہیں یہ ورجینیا ہے اور وہ نارتھ کالونی نہیں نارتھ کیرولینا ہے۔ پھر بھی کہتا اچھا نارتھ کالونی نہیں ہے۔ بالٹی مور پر بس چلنے کو تیار ہو اور یہ باہر ہی۔ اب دروازہ بند ہو گیا تو باہر کھڑا ہو ڈرائیور نے پوچھا تم میری بس میں تھے؟ یہ چپ چاپ اس کو گھورے۔ اس نے جب تیسری دفعہ پوچھا تو میں نے کہا ہاں یہ تھا۔ ڈرائیور نے کہا دیسی
اور سب لوگوں کی ٹکٹیں چیک کرنے لگ گیا۔ اب یہ میرے ساتھ بیٹھا اور پھر کہتا سیٹس بہت تنگ ہیں اور آگے والی لڑکی کے ساتھ بیٹھ گیا اور جو گپیں مارنی شروع کی تو نیویارک اتر کر بھی نہ بند ہوئیں۔ میں تو مزے سے اس کی سیٹ پر بھی قبضہ کر کے سوتا گیا۔
نیویارک اتر کر گیدڑ کو اتنی خوشی شہر دیکھنے کی نہیں ہوتی ہو گی جتنی مجھے بس سے چھٹکارا پا کر۔ لہذا میں تو گوریوں کا تاڑتا ہوا ادھر ادھر مٹر گشت کرنے لگتا ہوں۔ یہاں جس کا سر اٹھا ہوا ہو وہ نیا ہوتا ہے اور جو سیدھے منہ بھاگے جا رہے ہوں وہ لوکل ہوتے ہیں۔ لہذا میں بھی ادھر ادھر نظریں گھماتا جاتا ہوں۔
ہمیشہ کی طرح جہانزیب کو تکلیف دی۔ وہ بھی کہتے ہونگے زیادہ ہی فری ہو گیا ہے۔ پلو پکڑایا تھا بچے نے پہونچا ہی پکڑ لیا ہے۔ میں تو تصویریں اتارنے کے چکروں میں تھا۔ ابھی ایک ہی لی تھی اور دوسری کے لئے پر تول رہا تھا کہ وہ آن پہنچے۔ لہذا جانا پڑا۔ پتہ لگ رہا ہے نہ کتنی تیز زندگی ہے۔
باہر کھانا کھاتے جہانزیب کے ایک دوست سہیل مل گئے۔ عام طور پر میرے دوستوں کے دوست مجھے زیادہ گھاس نہیں ڈالتے۔ لہذا میں بھی سلام دعا کے بعد چپ ہو جاتا ہوں۔ سہیل اچھا انسان ہے میرا خیال تھا حسب توفیق وہ بھی مجھے نظر انداز کر دے گا پر ایسا نہ تھا۔ بہت اپنائیت سے ملا اور بالکل دوستوں کی طرح خیال رکھا مجھے تو شرمندگی ہونے لگی تھی کہ ان کو بھی اتنی تکلیف دی۔ سہیل کو شکائیت رہی کہ میں بہت کم بولتا ہوں اور شرماتا زیادہ ہوں۔
اگلے دن جہاں جہاں جانا تھا وہاں گئے۔ میرا سیل فون چارجر ساتھ نہیں تھا ورنہ میں رات کو چارجنگ پر لگا دیتا ہوں۔ لہذا اگلے دن سیل فون بیٹری لو تھی۔ اب میں سوچ رہا تھا اگر سیل فون نہ رہا تو فون کیسے کرونگا؟ تنگ آ کر جہانزیب کا نمبر ایک کاغذ پر لکھ لیا کہ اگر بیٹری ختم ہو گئی تو پے فون سے کر دونگا۔ لہذا کی نوٹس اگر آپ نیویارک جا رہے ہیں۔
سیل فون کا چارجر ہمیشہ جیب میں رکھیں۔
اہم نمبرز سیل فون کے ساتھ ساتھ جیب میں کاغذ میں بھی رکھیں۔
بزرگوں کی نصیحت ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں اور اپنی گاڑی پر جائیں۔
صبح سات بجے سے جو میں نے انتظار کرنا شروع کیا وہ بخدا رات 12 بجے تک چلا۔ پہلے صبح اٹھ کر انتظار کر کر کے پھر سو گیا۔ پھر ایک جگہ انتظار اتنی لمبی باری کے بعد دوسری جگہ انتظار۔ پھر 7 بجنے کا انتظار پھر کھانے کا انتظار اور حد تو یہ پھر گھر جانے کا انتظار۔ جتنا پچھتاوا مجھے گاڑی نہ لے جانے کا اس سارے دن ہوا کبھی نہیں ہوا۔ ستم دیکھئے میں بس اسٹیشن 8:18 پر پہنچا خاتون نے کہا 8:30 پر بس جا رہی ہے یا پھر 45 منٹ بعد 9:15 پر۔ مجھے پتہ تھا کہ 8:30 والی تو بھر چکی ہو گی میں نے کہا نہیں 9:15 والی دے دو۔ اس بس پر بھی اتنی لمبی لائن اور جیسے ہی رینگ رینگ کر میری باری آئی بس والے انکل نے کہا بس سیٹس ختم۔ لہذا پھر 11:30 کا انتظار کھڑے کھڑے کوسنوں میں گرے ہاؤنڈ والوں کو بھی حسب توفیق حصہ دیا۔
یہاں سب لوگوں کو شائد آج کے دن ہی سیل فون چارج کرنے تھے۔ یہ شخص یہاں زمین پر بیٹھا ڈی وی ڈی پلئیر پر ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ ایسے لوگ امریکہ میں بہت ہیں۔ سارا دن مانگ تانگ کر گزارا کرتے ہیں اور سب رقم عیاشی میں اڑا دیتے ہیں۔ ان کو تو کوئی بھی منہ لگانا پسند نہیں کرتا۔ اس نے big mama’ house لگا رکھی تھی اور ساتھ ہی ایک افریقن امریکن بچہ بیٹھا فلم دیکھ رہا تھا اس شخص نے پلئیر کا رخ بچے کی طرف کر رکھا تھا۔ یعنی courtesy کے طور پر۔
کچھ دیر بعد بچہ اٹھ کر چلا گیا۔ اس شخص نے اپنے بیگ میں موجود پندرہ بیس ڈی وی ڈیز میں سے girl next door نکالی اور مجھ سے پوچھا تم دیکھو گے؟ میں نے کہا میں نے دیکھ رکھی ہے۔ ابھی فلم چلی ہی تھی کہ وہی بچہ دوبارہ آ گیا۔ میرا خیال تھا کہ بچہ بیٹھا رہے گا لیکن یہ فلم تبدیل نہیں کرے گا۔ اس شخص نے فوری طور پر فلم نکال کر بچے کی پسند سے rush hour 3 لگا دی۔ یہ بالغ نظری کا اعلٰی نمونہ تھا۔ میں نے ایسے ایسے لوگ دیکھ رکھے ہیں جو اپنے ہی گھر میں ٹی وی پر ایسی فلمیں دیکھتے وقت بچوں کو کمرے سے نکال دیتے ہیں۔
کچھ دیر بعد میں وہاں سے ہٹ گیا کیونکہ اعلان ہو گیا کہ بس جی اب ذرا دوسرے دروازے پر تشریف لے جائیں۔ اتنی دیر میں ایک پولیس والی آنٹی تشریف لائیں۔ فرمایا سیل فون چارج کر سکتے ہیں ڈی وی ڈی پلئیر نہیں چلا سکتے۔ اس نے فوری طور پر اس کو بند کر دیا۔ ایک دیسی ہونے کے ناتے میں نے اس کو کہا تم کہیں اور بیٹھ کر لگا لو تو اس نے کہا نہیں رہنے دو۔ مجھے کافی شرمندگی محسوس ہوئی۔ یہ شخص امریکی معاشرے کے حساب سے نچلے ترین طبقہ کا ہے لیکن قانون کا احترام کر رہا ہے ہم دیسی لوگ کہیں بھی ہوں قانون کو مذاق بنانے سے بعض نہیں آتے۔
ہماری بس کا ڈرائیور بس کی تاریخ میں سست ترین انسان ہو گا۔ عام طور پر بس دروازے پر 15 منٹ پہلے وارد ہو جاتی ہے اور وقت مقررہ تک چل بھی پڑتی ہے۔ ہمارے انکل تشریف ہی 11:25 پر لائے اور اندر گھس کر پتہ نہیں کیا کیا کرتے رہے۔ پھر سب کو بس میں بٹھا کر خود غائب ہو گئے۔ 12 بجے تشریف لائے تو انہوں نے usuall announcements کرنے کی زحمت نہیں کی۔ عام طور پر اگر ٹکٹ پر لکھا ہو کہ بس 6 بجے پہنچے گی تو اگر کہیں بھی ٹریف بلاک نہ ہو تو ایک گھنٹہ قبل بس منزل پر پہنچ جاتی ہے لیکن انکل نے اس پر بھی دیر فرمائی۔ رچمنڈ پہنچنے سے پہلے تو انہوں نے ذرا زحمت نہیں کی کہ لوگوں کو ان کی کنیکٹنگ بس وغیرہ کی بات بتا سکیں۔ رچمنڈ پہنچ کی بس ایک ہی خوشی تھی۔ بس سے چھٹکارے کی۔ :d
Popularity: 14% [?]
Popularity: 14% [?]
387 views
Related Posts
- Runaway Love On January 19, 2007, 0 Comments
- A few days back I wrote somethin about african american’s culture. This song here reflects a major part of their population. I liked the song becoz while listening it really affects you and its kind of cruel what they are going through. Yeah, and it go a little something *scratch* like this Runaway
- عشق دی مستی On January 15, 2008, 3 Comments
- ریٹڈ آر اپنی ذمہ داری پر پڑھیںآجکل مجھے مستی چڑھی ہوئی ہے۔ ایک خاتون نے تو باقاعدہ میری بلائیں لیں کہ بچہ بڑا خوش لگ رہا ہے۔ البتہ امی نے ناک بھوں چڑھائی کہ آجکل میری مستی سے سب سے زیادہ تنگ وہیں ہیں۔ آجکل پر ہی کیا موقوف ہمیشہ سے تنگ ہیں۔ ایک افریقن
- "Lips Of An Angel" On December 23, 2006, 0 Comments
- Honey why you calling me so late? It’s kinda hard to talk right now. Honey why are you crying? Is everything okay? I gotta whisper ’cause I can’t be too loud Well, my girl’s in the next room Sometimes I wish she was you I guess we never really moved on It’s really good to hear your voice say my
- ہیلری کلنٹن On November 17, 2006, 0 Comments
- صدر کلنٹن کے سامنے ایک منصوبہ پیش کیا گیا تھا جس کی رو سے ان کو افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانی تھی۔ مگر انہوں نے اس طاقت کی نہیں مانی جس نے ان کو آرکنساس سے اٹھا کر white house پہنچایا تھا۔ نتیجتہُ ان کو مونیکا لیونسکی کے اسکینڈل میں پھنسا کر ذلیل و
- haulin house On July 30, 2008, 4 Comments
- کافی سالوں پہلے روس کی خبر تھی کہ وہاں کوئی تاریخ عمارت تھی جو کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی گئی تھی۔ یعنی بنیادوں سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جائی گئی تھی۔ امریکہ میں ایسے گھروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے۔ جیسے اگر آپ
- Honda or Corolla On August 19, 2007, 2 Comments
- Unlike “I am looking for a drive who is qualified” I am looking for a car. Lets admit it, I am a decent (if not nice) person. I like quality stuff. American cars, they are luxury but they require good care too. Japanese cars. they are fun and good mileage. I am a bit poor
- لان ورک On November 21, 2006, 0 Comments
- آج مجھے بے حد غصہ چڑھا ہوا ہے۔ وجہ؟ بس قسمت ہی خراب ہے۔ چھوٹے ہوتے ہوم ورک ملا کرتا تھا امریکہ آ کر لان ورک ملنا شروع ہو گیا۔ ہوم ورک ہمیں حد سے زیادہ مشکل لگا کرتا تھا یہ لان ورک تو اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ مجھے greenery کا جتنا شوق ہے
- دہشت گردی On January 15, 2010, 5 Comments
- بعض لوگوں کو بات گھمانے میں بے حد مہارت حاصل ہوتی ہے۔ سیدھی سیدھی بات کو پیچیدہ بیان کرنا ان کا وصف ہوتا ہے۔ معاملہ صرف میدان مارنا ہوتا ہے۔ آجکل ہمارے ملک میں دہشت گردی پر بہت زور صرف ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کیا ہے۔ اس دہشت گردی سے قطع
- Wyclef Jean – Sweetest Girl (Dollar Bill) On February 8, 2008, 0 Comments
- Wyclef Jean – Sweetest Girl (Dollar Bill) [NEW]Uploaded by Drink-A-Lot AKPC_IDS += "876,";Popularity: 14% [?] Share and Enjoy:
- اردو انگلش On February 18, 2007, 9 Comments
- یہ علی ہے۔ عرب ہے۔ انڈین لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔ انگلش میں صرف ابتدائی طور پر اپنا مدعا بیان کر سکتا ہے۔ اس سے جب میں نے پوچھا کہ انڈین لوگوں کو ناپسند کرنے کی وجہ تو اس کا جواب تھا کہ اس کو جس امیگریشن کورٹ میں پیش کیا گیا تھا وہاں کی



























” میں بھی بہت ڈھیٹ ہوں پھر بھی “بعض” نہیں آتا۔ ”
اور غلطیاں کرنے سے بھی “باز” نہیں آتے۔
ماوراء’s last blog post..یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
بچے کی پسند کا خیال رکھنے اور قانون کا احترام کرنے والا واقعہ اچھا بھی لگا اور افسردہ بھی کرگیا۔۔۔ خدا کرے کہ کہ ہمارے ہاں بھی ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں۔
راہبر’s last blog post..27 مارچ 2008ء
سلام
رتل: میں تو کسی کو تنگ نہین کرتا۔ آپ کو کیوں لگا کہ میں تنگ کرتا ہونگا؟
ماورا: باز تو میں کبھی بھی نہیں آتا۔
راہبر: ہمارے ہاں ایسا ہونا ذرا مشکل ہے۔۔
آپکی حرکتوں سے قدیر بھائ کی عزت افزائ سے :fav/