جہیز پاکستانی معاشرے میں ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اور کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں ہے۔ ماشااللہ ہم لوگ ہر کام کا بتنگڑ بنانے میں ماہر ہیں لہذا اس کو بھی بتنگڑ بنا رکھا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے جہیز لینے والے سخت برے لگتے ہیں میں نے خود لسٹس دی جاتی دیکھی ہیں۔ لسٹ مختصر اور جامع ہوتی ہے۔ لسٹ میں صرف ہاتھی کی کمی رہ جاتی ہے جو کہ خاتون کے سسرال کے پاس پہلے ہی ہوتا ہے۔
میں نے ایسا بھی دیکھا کہ بزرگوں نے خاتون کے بزرگوں کو اپنا ایک خالی گھر دیکھایا اور پھر اس کو “بھروایا” ایسا بھی ہوا ہے کہ خاتون کے گھر والوں نے اتنا دیا جتنی انکی اوقات نہیں تھی لہذا رکھنے کو جگہ نہ تھی۔ ایسا بھی ہوا کہ خاتون بیاہ دی اور اس کے نالائق دیور کی بےوقوفی سے کوئی الیکٹرونکس تباہ اور فرنیچر خراب ہو گیا تو سسرال سے وہ ولیمہ والے دن واپس آ گیا کہ اس کو ٹھیک یا نیا بھیجا جائے۔
آپ نے بیٹی بیاہی اور یہ سب ہوا تو آپ نے بدلہ بیٹے کی شادی کر کے کسی اور خاندان سے لیا۔ لوگ جہیز کو برا کہتے ہیں لیکن دوسروں کی باری اپنی دفعہ لینے سے باز نہیں آتے۔ سب سے بری بات خاتون خود گھر والوں سے فرمائش کرتی ہے کہ یہ بھی لے کر دیں اور وہ بھی۔ کچھ خاندان بیٹی کو اس کا حصہ جہیز کی صورت دے دیتے ہیں۔
میں نے ایسے ایسے خبیث دیکھ رکھے ہیں جو یتیم لڑکی کا رشتہ نہیں لیتے کہ جہیز نہیں ملے گا۔ آج یہ مر جائیں ان کی بیٹی کا رشتہ کون لے گا؟
جیو پر شادی آنلائن دیکھ لیں۔ میں نے اس کی کم از کم 20٫25 اقساط دیکھی ہونگی۔ آج تک میں نے ایسا لڑکا نہیں دیکھا جو کہے کہ نہیں جہیز نہیں چاہئے۔ سب یہی کہتے ہیں جو ان کی خوشی۔ کاہے کی خوشی؟ پال پوس کر پڑھا لکھا کر بڑا کر دیا بس کافی ہے۔ کیا لڑکی والے جہیز دے کہ ہماری لڑکی تم نے رکھنی ہے۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو جہیز نہیں لیتے۔ میں چند ایک ایسے لوگوں سے واقف ہوں۔ ایک ایسے ہی صاحب نے اپنے بھائیوں کی شادی کی تو جہیز نہیں لیا۔ اس پر کسی نے اعتراض کیا کہ اس نے اس لئے نہیں لیا کہ اس کو اپنی بہنوں کو نہ دینا پڑے۔ میں نے کہا بہن کو نہیں دے رہا تو تہماری طرح کسی سے لے بھی نہیں رہا۔
ایسے ہی ایک صاحب نے اپنے بھائیوں کی شادی کی تو ایک ٹکا تک نہ لیا بلکہ جوڑے کو گھر کی ضرورت کی چیزیں تک خود لے کر دیں۔ لیکن ان کے ساتھ الٹا ہوا لڑکی والے کراچی کے تھے انہوں نے کچھ زیادہ ہی منہ کھول لیا۔ بیچارے اب تک پچھتاتے ہیں کدھر پھنس گئے۔ اب الٹا ہر مہینے لڑکی کوئی فرمائش کر دیتی ہے۔
ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی برائی لوگ کیا کہیں گے؟ میں نے نہ کبھی کسی کی پرواہ کی اور اسی کی اپنے بزرگوں کو تلقین کرتا ہوں۔ بہت سے لوگ صرف اس لئے کہ لوگ کیا کہیں گیں ایسے کام کرتے ہیں جو نہیں کرنے چاہئے۔ جیسے کچھ لوگ قرض تک لے کر بچیوں کی شادی کرتے ہیں۔
اسی طرح شادی بیاہ اور اس کے بعد کی زندگی میں بھی والدین کی مرضی زیادہ چلتی ہے جس سے کافی پرابلمز پیش آتی ہیں۔ والدین کو بچے کی شادی کر کے اپنے آپ پر فل اسٹاب لگا لینا چاہئے بچوں کی ازدواجی زندگی میں مداخلت کسی بھی صورت مناسب نہیں میں ایسے ایک رشتہ کی شدید مخالفت کی تھی جہاں لڑکا اپنی والدہ کے زیر اثر تھا خدا کا لاکھ شکر ہے کہ وہاں سے بات ختم ہو گئی تھی۔
ہماری قوم والدین کے احترام اور ایسی الا بلا کے تحت والدین کو ان کی حدود سے نکال کر خدا کے مرتبہ تک لے جاتی ہے۔ ایک بیچاری عورت جس کے شوہر صاحب مجازی خدا ہیں وہ ان کو بھی پوجے اور ان کی اماں کو بھی۔ عقل مند والدین بچوں کی شادی کے بعد ان کے معاملات ان کو خود چلانے اور سلجھانے دیتے ہیں ورنہ چولہے پھٹتے ہیں۔
بہت سے نوجوان مثبت سوچ کے حامل بھی خاتون کو دو جوڑوں میں گھر لاتے ہچکچاتے ہیں۔ اس کی وجہ یا تو والدین کے شدید زیر اثر ہونا ہے یا پھر ایسے لوگ جن کے والدین کی ناک کٹ سکتی ہے۔ میں ایسے لوگوں پر افسوس ہی کر سکتا ہوں ایسے دو تین لوگ ہیں جنکو میں جانتا ہوں جو جہیز کے خلاف تھے لیکن صرف والدین کی وجہ سے لینا پڑا۔
ایسے والدین جمعہ جمعہ آٹھ دن بعد عموما پہلے پوتے کو دیکھے بغیر ہی اوپر پہنچ جاتے ہیں نہ جانے کیوں جہیز سے اتنا شغف رکھتے ہیں۔ زندگی بچوں نے گزارنی ہے اور الٹی حرکتیں یہ پکی عمریں کرتے ہیں۔
سکول میں میرے ایک بےوقوف دوست کا خیال تھا کہ یار اتنی نئی چیزیں اکٹھی مل جاتی ہیں کیوں چھوڑ دیں؟ میں نے کہا یار تم خود کما کر خرید لو۔ فرمایا مفت ملتی ہیں۔ میں نے کہا پھر تم مرد نہیں ہو۔ اگر تم ایک عورت کو کما کر کچھ نہیں دے سکتے تو کہاں کے مرد ہو؟
عام طور پر ایسی ذہنیت کے لوگ لڑکی کی عمر کچھ زیادہ ہو جانے پر ملتے ہیں اور فٹ ان کے پلے لڑکی باندھ دی جاتی ہے۔ غریب اوسط درجہ کے پڑھے لکھے بےوقوف گھرانوں کے لڑکوں سے شادی کر کے ان کا منہ بند کرنے کے لئے لڑکی کو بہت سا جہیز دینا لازمی ہوتا ہے۔
اب سے چند سال قبل میرے جاننے والے ایک خاندان کی بچی کی شادی تھی۔ اس کے بھائی کے متوقع سسرال نے اس لڑکی کی شادی پر خرچہ کیا تھا بالکل ویسی ہی صورت اب پھر ہے۔ ایک لڑکی کی شادی ہے اور اس کے بھائی کو جو لوگ داماد بنانا چاہتے ہیں وہ اس لڑکی کی شادی پر خرچہ کر رہے ہیں۔ اچھے لڑکے اس قدر کمیاب ہیں کہ لوگ سالوں پہلے لڑکے نظر میں رکھتے ہیں اور یہ معاشرتی ٹرینڈ ہے کہ اپنی بچی کی اچھی زندگی کے لئے ان کو خرچہ بھی کرنا پڑتا ہے۔
یہ ساری صورتحال بہت افسوسناک ہے۔ پڑے لکھے والدین کا ہوتا ہے کہ بچہ پر اتنا پیسا لگایا اب اونچی جگہ ان کی شادی ہو۔ نتیجتہ غریب اور متوسط طبقہ کی لڑکیاں اپنے سے بھی گئے گزرے خاندانوں میں بیاہی جاتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گیں۔ پھر جو کھچڑی پکتی ہے۔ کسی بھی خاندان میں لڑکوں کے بچے اور ان کے سسرال ان لڑکوں کی بہنوں کے بچوں اور ان کے سسرال سے مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی خاندان میں ہی سوشل تضاد جنم لیتا ہے۔ اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جاتا ہے۔ شائد ایک دو نسلوں کے بعد تعلیم کا کچھ اثر والدین کے زیر اثر بچوں میں بھی آ جائے اور وہ اپنے بچوں کی باری ایسی حرکات بند کر دیں جن لوگوں کی شادی ہو چکی اور انہوں نے جہیز لیا تھا۔ بہت اچھا کیا آپ کا نصیب تھا مل گیا۔ جن کی شادی نہیں ہوئی وہ کوشش کریں کہ کسی بھی دباؤ میں مت آئیں اور جہیز لینے سے پرہیز کریں۔
Popularity: 9% [?]
Popularity: 9% [?]
1,087 views
Related Posts
- None Found
Random Posts
42 Responses to “جہیز”
- 1 Pingback on Aug 28th, 2008 at 9:35 am
- 2 Pingback on Oct 11th, 2008 at 6:13 am








“لڑکی والے کراچی کے تھے انہوں نے کچھ زیادہ ہی منہ کھول لیا”
اس سے بظآہر ایسا لگتا ہے کہ باقی ملک میںفرشتے پیدا ہوتے ہیںبس کراچی میںمعاملہ مختلف ہے۔۔پنجاب کے عوام کراچی کے اک لیڈر کو تو طعنہ دیتے ہیںلیکن موقع ملے تو تعصب سے نہیںچوکتے۔۔یہ بات صرف اس جملے کی وجہ سے نہیںکہ رہا بلکہ مرا مشاہدہ ہے
بہت اچها لکها ہے
اس معاشرتی مسئلے کا کوئی حل نکلنا چاهیے
احمد صاحب کے تبصرے پر بهی تبصره
که احمد صاحب کو ساری تحریر میں سے کراچی والوں کا گلا هی کیوں برا لگا ؟؟
لکهاری کو خلوص نیت کا بهی یقین رکهیں
جہیز کے معاملےمیں بهی زیاده تر بہنوں کا بنایا هوا مسئله هوتا ہے جو که بہنوں هی کے سامنے بهی آتا ہے
خاور’s last blog post..آپے شاھ
جہیز اور اس جیسے بہت سے معاشرتی مسائل ہمارے اپنے پیدا کئے ہوئے ہیں ۔۔ اور ہم ان سے جان چھڑانے کے بجائے اور بری طرح سے جکڑتے جا رہے ہیں ۔۔ جہیز کے علاوہ بھی لڑکی والوں کے شادی کے لوازمات اور دعوتوں اور لڑکے اور اس کے گھر والوں کو قیمتی تحائف دینے میں بھی لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں ۔۔ اور یہ واقعی بہت افسوسناک صورتحال ہے ۔۔ شادی جیسے اہم فریضے کو ہم لوگوں نے کاروبار بنایا ہوا ہے ۔۔
سسرال والوں کی طرف سے جہیز کی لسٹ میں ‘ہاتھی’ کی کمی اس لئے ہوتی ہے کیونکہ لڑکی بذاتِ خود ان کے لئے ‘ہاتھی’ کی حیثیت رکھتی ہے۔۔شادی سے پہلے لاکھ کی اور شادی کے بعد ‘مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا’۔۔۔کیونکہ شادی کے موقع پر جہیز سے گھر پھرنے کے بعد بھی سسرال کے فرمائشی پروگرام کو فل سٹاپ نہیں لگتا۔۔۔
مجھے کوئی امید نہیں کہ یہ برائی ختم ہو گی!!
ایک مزے کی بات بتاؤ! ہمارے ایک دوست نے کلاس میں اس “جہیز“ کے خلاف تقریر میں پہلا انعام حاصل کیا اور اپنی ہم جماعت ایک لڑکی سے شادی کی اور اس قدر مال ودولت پایا کہ باقی “جہیز کے خواہش مندوں“ کے لئے ایک مثال بنا!!
شعیب صفدر’s last blog post..مشرف کا کالم اور کراچی دھاندلی ویڈیو!!
سلام!
مجھے ایک دوست نے بتایاکہ جب انہوں نے جہیز لینےسے انکار کردیا تو لڑکی والوں نےیہ کہ کر جہیز لینے کی فرمائش کردی کہ “بغیر جہیز کے شادی کرنے پر خانداں اور دوستوں میں ہم بدنام و رسوا ہونگے۔اور ہماری فمیلی کو طعنے دئے جائینگے کہ انہونے اپنی بچی کا رشتہ اس شخص سے اس لئے کر دی کہ وہ جہیز نہیں لیتے۔”
شائد برصغیر پاک وہند بشمول بنگلہ دیش نیپال سری لنکا کے لوگ ابھی بھی اس چیز کو اچھا سمجھتے ہوں۔( مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے ۔۔۔۔میرا خیال یہ ہے کہ یہ ہندؤوں کی ایک رسم ہے)۔
خاور جس چیز پر برا لگا اس پر لکھ دیا باقی پر کوئی اعتراض نہیں اب صرف اک اعتراض کی تنہائی دور کرنے کے لئے دوسرا اعتراض کرنا عجیب بات ہوگی۔۔
اسلام علیکم
ہماری قوم کو نا جانے کب سمجھ آئے گی کہ جہیز ایک لعنت ہے
اس پر مزید بات پھر کبھی ہوگی
بحرحال میرا شمار ان خوش قسمتوں میں سے ہے جن کی شادی بغیر جہیز کے ہوئی میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس لعنت سے بچایا اس وقت جب میں اتنا شعور نہیں رکھتا تھا
میرے پاس جہیز کے خلاف ایک چھوٹی سی کتاب ہے
اسکین کی ہوئی ہے آپ کو کیسے بھیجوں
سلام
احمد: تعصب کی بات کچھ غلط ہے۔ دراصل ہوتا کچھ یوں ہے کہ اگر کسی جگہ سے آپ کو دو تین واقعات مل جائیں تو آپ ایسی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ دراصل جب ہم کراچی والے کہتے ہیں تو ہمارے ذہن میں صرف وہی کردار ہوتے ہیں جن سے ہم عاجز ہوتے ہیں۔ کراچی سے دو جاننے والوں کی زبان دراز بھابھیاں ہی برآمد نہیں ہوئیں خود میرے خاندان کے کچھ لوگ وہاں ہیں اور بالکل برگر فیملی ہیں مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دو تین لوگوں کی زبانی کراچی والوں کی بےمروتی کے قصے سنے اور ایک کا تو رونا بھی رویا گیا۔
کراچی میں برے لوگ نہیں چند بہت اچھے بلکہ بہترین لوگ بھی ہیں۔ جیسے
شعیب صفدر
http://pensive-man.wakeel.org/
راشد کامران
http://www.urdublogging.com/
اور رضوان
http://sarab.urdutech.com/
ایک نبیل بھی ہیں ان کا پکا علم نہین کراچی سے ہیں کہ لاہور سے۔
http://simunaqv.blogspot.com/
اسی طرح مجھے اسلامآباد سخت برا لگتا ہے اور اس شہر سے مجھے نفرت ہے لیکن میرے تین چار بہترین دوستوں کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ اور وہ کافی برا مناتے ہیں جب میں ایسا کچھ کہتا ہوں
خاور: اس کا حل بہت آسان ہے لیکن لوگ کرنا نہیں چاہتے۔ جہیز سے انکار۔ کچھ لوگ نسبتا اچھے بھی زیادہ سے زیادہ اتنا کرتے ہیں کہ منعہ نہیں کرتے اور جتنا آتا ہے اتنا آنے دیتے ہیں۔
سارہ: میں آپ سے آپکی شادی کے بعد انشااللہ پوچھوں گا آپ خود نے اپنی امی کو کہا کہ نہیں کہ ان کو یہ یہ دیں :
شعیب صفدر: بالکل ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ کا علم نہیں کتنا لیں گیں میرا تو ارادہ ہے چار سے چار گھر بھروا لوں لہذا چار مکانات کی تعمیر جاری ہے۔
پاکستان: لڑکی والے دیں وہ اور بات ہے کچھ امیر گھرانے بچی کو جائیداد کا حصہ اس کو گھر وغیرہ بنا کر دے دیتے ہیں جو کہ اس کا حق ہے اس پر اعتراض میرے خیال سے درست نہیں لڑکی کو اس کا حصہ ملنا چاہئے لیکن لڑکے والوں کی طرف سے مانگنا بے غیرتی ہے۔
سید محمد حنیف: آپ تو بہت نیک انسان ہیں میں نے بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہیں جو اس برائی سے دور رہے ہوں خود میرا یہ تحریر لکھنے کے باوجود دل کر رہا ہے کہ چار شادیاں کروں اور خوب جہیز بٹوروں ٓآپ کی سکین شدہ بک مجھے راہ راست پر لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے ٓآپ مجھے
thegame[at]live[dot]com
پر میل کر سکتے ہیں۔
اسلام علیکم
کتاب آپکو روانہ کر رہا ھوں
امید ہے کہ ہم اس کوشش میں کچھ کامیابی حاصل کر پائیں
ایک فلم بنائی گئی تھی، جہیز، اس کا گانا تھا
دنیا والو جہیز کی لعنت آج تو ہے کیا کل بھی رہے گی
لو پاکستان ۔۔ آپ نے بالکل ٹھیک کہا یہ ہندوؤں کی رسم ہے یہ اور اس جیسی بہت ساری فضول رسمیں جیسا کہ شادیوں پر الٹی سیدھی رسمیں ۔۔ جوائنٹ فیملی سسٹم بہوؤں پر بہت ساری زمہ داریاں ڈال دینا ۔۔ پیروں فقیروں پر جانا منتیں مانا ۔۔ (اس کے علاوہ بھی بہت ساری رسمیں ہیں ) یہ سب بر صغیر میں برسہا برس ہندوؤں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں آئیں ۔۔ اس وقت کے لوگ غیر تعلیم یافتہ تھے جن کو اپنے مذہب کا بھی ٹھیک سے پتا نہیں تھا ۔۔ جہ جس نے کہ دیا بس اس کو اپنا لیا ۔۔ اور ہم لوگ لکیر کے عقیر تعلیم اور شعور رکھنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں آٹھتے ۔۔
بدتمیز آپ ابھی پوچھ لیں اللہ کا شکر ہے ہماری فیملی مٰن شادیاں بھی کیونہ خاندان میں ہی ہوتی ہیں اس لئے کوئی ڈیمانڈ یا طعنے دینے وغیرہ کا معاملہ نہیں ہوتا ۔۔ اپنی خوشی سے جو جتنا دے ۔۔ ہاں اگر بیٹی کسی غیر خاندان میں جا رہی ہو تو پھر خیال رکھنا پڑتاکہ زیادہ سے زیادہ چیزیں دے دی جائیں ہے کہ اسے سسرال جا کر طعنے نہ ملیں ۔۔۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں لڑکے والے کے گھروالوں کو قیمتی تحائف دینے کا رواج نہیں ہے جیسے کہ اکثر لوگوں میں میں نے دیکھا ہے کہ ساس نندوں بلکہ چاچیوں مامیوں تک سونے کی چیزیں دی جاتی ہیں ایسا ہمارے ہاں نہیں ہوتا ۔
گولڈ بھی لڑکی والے کم دیتے ہیں ۔۔ لڑکے والے زیادہ دیتے ہیں جو کہ تقریباً اتنی مالیت کا ہو جاتا ہے جتنا لڑکی والوں کا جہیز وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے ۔۔ اس لئے دونوں طرف میں سے کسی پر زیادہ بوجھ نہیں ہوتا۔۔
بدتمیز میری غلطیاں ٹھیک کر دیا ۔۔ اتنے ڈبے بن رہے ہیں لکھتے ہوئے کہ غلطیاں پتا نہیں چلتیں ۔۔
واہ کیا خوبصورت انداز میں قلم اٹھایا ہے اس برإی پر لیکن شاید نظر بد سے بچانے لیے علاقائی تعصب بھی شامل کر دیا ے۔
یہ لکھنا کہ چونکہ لڑکے والے کراچی کے تھے اس لیے انہوں نے زیادہ ہی منہ کھول لیا چہ معنی دارد
سیّد محمد خنیف شاہ صاحب کا منہ چومنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ ماشاء اللہ بہت خوش قسمت ہیں
اور جناب آپ نے کراچی اور بھی اچھے لوگ ہیں جنہیں آپ بھی جانتے ہیں ۔
اجمل’s last blog post..ضروری اطلاع
ہندو، جہیز کو کنّیادان کہتے ہیں – کنّیا بمعنی لڑکی اور دان بمعنی عطیہ یا انگریزی میں ڈونیشن- کیونکہ ہندوؤں کے اواسار (مطابق) بیٹی کو جائداد میں سے حصہ نہیںدیتے اس لیے شادی کے وقت اسے کنیادان کرتے ہیں یعنی جہیز دیتے ہیں – جبکہ عربی اور اسلامی رسم و رواج میں لڑکی کو وراثت میں حصہ دیا جاتا ہے- کنیا دان نہیں کیا جاتا- اس لیے جو لوگ جہیز کی مخالفت کرتے ہیں تو اس بات کی حمائت بھی کریں کہ لڑکیوں کو وراثت میں لڑکوں کے برابر حصہ ملنا چاہیے -
ایسے والدین جمعہ جمعہ آٹھ دن بعد عموما پہلے پوتے کو دیکھے بغیر ہی اوپر پہنچ جاتے ہیں نہ جانے کیوں جہیز سے اتنا شغف رکھتے ہیں۔
—————————–
السلام علیکم
اس موضوع پر آپ کی یہ پوسٹ پڑھ کر ایک بہت دلچسپ واقعہ یاد آگیا ۔ چند سال پہلے پیش آیا تھا یہاں ۔
یہ تو بات ہوئی جہیز کی لعنت پر۔ اب اصل بات یہ ہے کہ اس سے کیسے بچا جائے۔ یہاں ہوتا یہ ہے کہ پہلے لڑکے والے لینے پر مصر اور اگر وہ انکار کریں تو لڑکی والے دینے پر مُصر۔ میں نے کرنی ہے اسی سال شادی، ان شاء اللہ۔۔۔۔کوئی اللہ کا بندہ مجھے اس لعنت سے چھٹکارے کی ترکیب بتائے۔
سید محمد حنیف: بہت شکریہ میل مل گئی تھی۔
سارہ: بالکل درست یہ سب اس علاقے کی رسم و رواج تھی جس کا اسلام میں کوئی جواز نہیں۔ آپ کے خاندان میں جیسا ہوتا ہے ایسا تقریبا سبھی پڑھے لکھے شریف گھرانوں میں ہوتا ہے۔ اور جہیز کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن نچلے درجہ کے گھرانوں کے لئے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ لڑکی لینا احسان سمجھا جاتا ہے جس کے لئے عجیب عجیب باتیں کی جاتی ہیں۔
آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے کم از کم مجھے نظر نہیں آئی آپ نے اصل میں اردو سپورٹ نہیں انسٹال کی ہوئی اس لئے ایسا لگتا ہے۔
فاتح: ویلکم میں نے اپنا موقف آپ سے پہلے کمنٹ میں بیان کر دیا ہے۔ لیجئے کراچی کے اچھے لوگوں میں شگفتہ کو بھی شامل کر لیں مجھے وہ بھول گئیں تھیں۔
اجمل انکل: میں نے گنوا تو دئے ہیں
سخنور: جہیز کی مخالفت تب کی جاتی ہے جب جہیز مانگا جائے۔ ویسے بھی اسلام کے طور طریقون کے مطابق وراثت میں حصہ مقرر ہے۔ اگر کوئی اپنی زندگی میں دینا چاہے تب وہ سب کو برابر دے سکتا ہے اس میں بھی کسی کو اعتراض نہیں۔
شگفتہ: واقعہ یاد آ گیا تو لکھنا کسنے تھا؟
ساجد اقبال: اس کا دارو مدار اس پر ہے کہ آپ کتنا گھر والوں کے زیر اثر ہیں یعنی ان کے آگے بول نہیں سکتے۔ ویسے تو آپ پٹھان ہیں آپ کے ہاں تو ایسا نہیں ہوتا ہو گا۔ جیسے لاہور میں منہ کھول کھول کر مانگا جاتا ہے۔ (اب لاہور والے نہ میرے پیچھے پڑ جائیں( :aha/
پہلے یا بعد میں لیکن ادا کردونگا کیونکہ کم از کم یہ میری مردانگی کے خلاف ہے کہ خاتون کے گھر سے ٹرک لدوا کر لاؤ آپ ویسے اپنے حالات سے پل پل باخبر رکھ سکتے ہیں راہبر کی طرح
ہاں اگر آپ میری طرح انا کے مارے ہوئے ہیں جس کی انا پہلے آتی ہے تب جہیز کی ساری رقم خود ادا کریں۔ کم از کم میں نے سوچا ہوا ہے کہ اول تو خود اپنا گھر بناوں اور اس میں اپنی فطرت کے مطابق سامان بھروں لیکن اگر خاتون کے گھر والوں نے کچھ دیا تو خاتون کے گھر والوں کو ساری رقم نقد دے دونگا
بھائی مجھے تو جہیز میں ایک بیڈ اور مسہری ملی تھی خاصجو میری امی نے کافی لڑ کر نانی سے دلوائی تھی
وہ یادگار کے طور پر موجود ہے اب بھی۔
اس کے بعد ماموں آئے تھے اور جب اسی پر بات چلی تو کافی عجیب سا لگا اور انہوں نے باقاعدہ مجھ سے اور امی سے ٹی وی ، فرج اور دوسری اشیا کے بارے میں پوچھا مگر ہاں کہنے کی ہمت نہ مجھ میں تھی نہ میری والدہ میں ۔ جانے لوگ لسٹیں کیسے بنا لیتے ہیں ؟ شادی کے اپنے اخراجات ہی ہم لوگوں نے اتنے بڑھا لیے ہیں کہ جہیز تو بہت ہی مشکل اور بھاری کام ہے شادی کے ساتھ۔ پڑھے لکھے گھروں میں یہ لعنت کافی حد تک کم ہو گئی ہے مگر لوئر مڈل کلاس میں زور و شور سے قائم ہے ۔ میں خود ایک دفعہ ایک عزیز کے ذریعہ جہیز کے لیے فنڈنگ کر چکا ہوں مگر اس میں لڑکی کی مدد کی غرض سے ایسا کیا گیا ۔
میرا خیال ہے اگر والدیں اپنی بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر دیں تو یہ مشکل بہت حد تک کم ہو جائے گی ۔ ایک والد کو میرا دوست جانتا ہے جنہوں نے لڑکوں والے سے صاف کہا کہ وہ جہیز نہیں دیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی بیٹی کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا ہے اور اس اصول موقف پر ان کی بیٹیوں کی شادی ہو گئیں ویسے بھی جو لوگ اتنے لالچی ہوں انہیں رشتہ دے کر تمام عمر کی پریشانی مول لینے سے بہتر ہے کہ اچھے کردار کے نسبتا غریب لڑکوں سے شادی کر دی جائے۔
محب علوی’s last blog post..انگریزی کے شیدائی
بدتمیز، سارہ بھی کراچی سے ہے۔
اور نبیل بھائی کو کراچی کا بنا دیا؟ :haye: نبیل بھائی لاہور سے ہیں۔
،،،
اور میں نے تو امی کو کہہ دیا ہوا ہے ذرا اچھا بھلا جہیز تیار کروانا۔ نہیں تو ایک بڑی رقم میرے اکاؤنٹ میں جمع کروا دینا تاکہ کسی سے کچھ مانگنا نہ پڑے۔
ماوراء’s last blog post..The Kite Runner
محب: کون یادگار کے طور پر ہے بیڈ یا مسہری؟
بس محب آجکل میں بھی کسی کے جہیز کے لئے فنڈنگ کر رہا ہوں :-s حصہ ڈالنا ہے؟
نکاح کے وقت ہاں کہہ دیا تھا کہ نہیں؟
لوئر مڈل کلاس عام طور پر اپنے طبقے سے باہر نکل کر دیکھتے بھی نہیں کچھ ان کے اپنے گھریلو حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بہت دیر کر دیتے ہیں۔
ماورا: ہاں مجھے سارہ اور راہبر بھی بھول گئے تھے اور بھی کراچی سے لوگ نکل آنے ہیں۔
بتا دیں امیدواروں کو آسانی رہے گی
:haye: بڑی رقم؟ کتنی بڑی؟
ہاں، “شب” بھی
امیدواروں۔۔۔۔؟؟ :dont: امیدوار کہیں امیدوار۔۔۔۔! اور یہ آسانی کاہے کی؟ :-s
ماوراء’s last blog post..The Kite Runner
ہاں جی شب بھی۔ توبہ مجھے نہیں پتہ تھا کراچی میں اتنے لوگ ہیں اب کوئی رہ تو نہیں گیا؟
امیدواروں ہاں جی امیدواروں۔ امیدواروں میں سے ہی ایک امیدوار چنے گیں نہ۔
آسانی آپ کو نہیں امیدواروں کو ہو گی۔ آجکل تو فیشن ہے لڑکے ڈھونڈ کر امیر سسرال ڈھونڈتے ہیں بس اتنا کافی ہے کہ اور سمجھاؤں؟
واقعہ یاد آ گیا تو لکھنا کسنے تھا؟
————————————————
واقعہ لکھتی تو تبصرہ آپ کی پوسٹ کے برابر ہو جاتا ۔ اچھا لکھتی ہوں ، یہاں پر تبصرہ لکھنے کی کوئی حد ہے کیا ؟ کتنی ؟
اگر خاتون کے گھر والوں نے کچھ دیا تو خاتون کے گھر والوں کو ساری رقم نقد دے دونگا
پہلے یا بعد میں لیکن ادا کردونگا کیونکہ کم از کم یہ میری مردانگی کے خلاف ہے کہ خاتون کے گھر سے ٹرک لدوا کر لاؤ آپ ویسے اپنے حالات سے پل پل باخبر رکھ سکتے ہیں راہبر کی طرح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے اگر تین یا چار کرلیں تو ساری زندگی ان کے جہیز کی رقم چکانے میں نہ گزر جائے۔۔۔۔
راہبر’s last blog post..ربیع النور مبارک ہو
شگفتہ: پوست جتنی تو ہو گی ہی۔
راہبر: مجھے بڑا کروڑوں کا کوئی جہیز ملنا ہے
پٹھانوں کے رواج بڑے اچھے ہیں ، شادی کے دن کے لیئے خرچہ بھی لڑکا دیتا ہے لڑکی والوں کو ، شادی پٹھان سے کرنی چاہیئے ، جہیز نہیں مانگتے ۔
اندرون سندھ بھی بارات کا کھانا لڑکے والے بھیجتے ہیں لڑکی والوں کو ۔۔۔
حجاب ، پھٹانوں کے ہاں دولہن خریدی جاتیں ہیں ، مطلب پیسے دے کر ، دولہن خریدی جاتی ہے ۔
ہاہاہا
میں تو پٹھان سے شادی کرنے سے رہا مجھے تو دینا ہی پڑے گا نہ۔ کوئی خاتون ہی پٹھان سے کر سکتی ہیں۔ ویسے پٹھان باہر شادی نہیں کرتے اور جو کر لیتے ہیں وہ پٹھان نہیں رہتے۔
سارہ: ایسے رسم وہ رواج کچھ اس وقت ختم ہوتے ہیں جب لڑکی والے خود پیر پھیلا لیتے اور دیکھتے دیکھتے سارا معاشرہ پیچھے چل پڑتا ہے۔
بوچھی: دولہن خریدنے اور شادی پر خرچ کرنے میں کچھ فرق ہو گا۔ خریدنے کا مطلب تو یہ ہوا نہ کہ لڑکی کی مرضی نہیں تھی۔
پشتونوں میں عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا ممکن ہےکہ کچھ قبائلی یا افغانی لوگوں میں بیٹیاں بیچنے کا رواج ہو، لیکن عام طور پر یہ بات انتہائی سخت ناپسند کی جاتی ہے۔
ہمارے ہاں رواج یہ ہےکہ زیورات اور کھانا لڑکے کے گھروالوں کی طرف سے ہوتاہے۔ لڑکی والوں سے کچھ مانگنا بہت معیوب بات سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے شادی میں لڑکے والوں کا ہی زیادہ خرچہ ہوتاہے۔ ایسابھی ہوتا ہے، کہ اگر لڑکا خاندان سے باہرشادی کررہا ہو، تولڑکی والے کچھ شرائط رکھتے ہیں۔ جیسے، اتنے تولے سونا، اتنے جوڑے کپڑے وغیرہ۔
بہرحال بات یہ ہےکہ افراط وتفریظ دونوں طرف سے نہیں ہونی چاہیئے۔
غلط۔۔۔پختون بھی باہر شادی کرتے ہیں اور پختون ہی رہتے ہیں۔
استغفراللہ۔۔۔پھر تعصب والی بات۔ چند فیصد لوگوں میں یہ قبیح رسم ہے ضرور لیکن اس سے سارے پشتونوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ کام اور ونی وغیرہ تو جنوبی پنجاب میں بڑے دھڑلےسے ہوتا ہے، تو کیا ہم یہ کہیں کہ پنجابی بیٹیاں بیچنے اور ونی کرنے کا کام کرتے ہیں؟ لگتا ہے تفسیر بھائی کے ناول کا اثر ہو گیا ہے۔
بالکل رواج ایسا ہی ہے لیکن مسئلہ اسوقت پڑ جاتا ہے جب لڑکا میری طرح قلاش ہو۔ :laugh: اب میں اپنا خرچہ تو پورا کر لوں گا لیکن لڑکی والوں کو کہاں سے دوں۔ کبھی کبھی اچھی رسمیں بھی گلے پڑ جاتی ہیں۔
گل خان : ویلکم
بالکل لڑکی والوں سے کچھ لینا مناسب بات نہین۔ اور ان کو یہ جان کر کے لڑکے والوں کو دینا چاہٕے حیرت کے پہاڑ ٹوٹتے محسوس ہوتے ہیں۔ خرچ لڑکے کا ہی ہونا چاہٕیے۔
بلکل۔ خرچہ لڑکے والوں کا ہی ہونا چاہیئے۔ لیکن بہرحال بہت زیادہ افراط و تفریط سے بچنا چاہیئے۔
سب سے اہم بات یہ ہے، کہ شادی کے بات میاںبیوی خوش رہیں اورایک دوسرے کے حقوق ادا کرسکیں گے۔ کیونکہ شادی کے بعد بندے نے سازوسامان کے ساتھ نہیں بلکہ بیوی کے ساتھ زندگی گذارنی ہوتی ہے۔
کتنے اچھے ہیں پٹھان ، زیور ، کھانا خود دیتے ہیں ۔کم از کم لڑکی والوں کو اس دو چیزوں کی فکر تو نہیں ہوتی ۔
باقی چیزوں میں بھی کوئی ایسا نہیں ہوتا کہ لڑکی والوں کو لسٹ تمھادی جاتی ہو۔ بلکہ جو لڑکی کے گھروالے دے سکیں بس وہی کافی ہوتا ہے۔ کیونکہ عام طورپرلڑکی کے گھروالوں سے کچھ مانگنا بے غیرتی سمجھی جاتی ہے۔