تارکین وطن کی کہانیاں کم و بیش ایک جیسی ہوتی ہیں۔ گروہ بندی کر لیں اور یہ سب ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ جیسے میں نے لکھا کہ کچھ لوگ مہنگی گھڑی پہنتے ہیں اور دیکھاتے ہیں۔ اس پر میرا ایک دوست مطمئن نہیں۔ میں پوری کہانی بیان کرتا ہوں۔ یہ سارا سینیریو ایک پوسٹ میں مکمل نہیں ہوتا لہذا وقتا فوقتا لکھتا ہوں۔ جیسے پاکستانی اور انڈین کمیونٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انڈین ٹیکسی سے اٹھ کر سٹورز اور اب موٹلز تک پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ پاکستانی ٹیکسی کے بعد چار پیسے کما کر پاکستان واپس چلے جاتے ہیں۔ کچھ سٹورز تک آتے ہیں لیکن ابھی اتنے زیادہ نہیں۔
اب یہ عرب جس کی میں نے بات کی یہ یہاں سٹورز پر کام کرتا ہے۔ دوپہر 12 سے رات 11 تک۔ اس کے ملک کے کچھ لوگ تو دوپہر 11 سے رات 1 بجے تک کام کرتے ہیں روزانہ۔ لیکن جو کما رہے ہیں وہ سارا اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ اب وہاں ان کی جائیداد ہے مگر ادھر ویسے کے ویسے۔ اتنی محنت کے بعد کسی کو ایستھما ہو جاتا ہے تو کسی کو دل کی تکلیف۔ پانی نہ پینے اور ہر وقت کولا پینے سے آئے دن ڈاکٹر سے مل کر پانی زیادہ سے زیادہ پیو کی نصیحت سن کر آتے ہیں۔
ساری شاپنگ کیش پر کرتے ہیں۔ نتیجتا کسی کی بھی کریڈٹ ہسٹری نہیں بنی ہوتی۔ جس کی بنی ہوتی ہے وہ خراب کر لیتا ہے۔ اپنے ملک جائیداد بناتے ہیں ادھر یہ چالیس چالیس سال کے ہو جاتے ہیں۔ اب آنے کے 6٫7 سال بعد جب واپس جاتے ہیں تو کم عمر لڑکی سے شادی کرتے ہیں۔ جیسے اس نے دو سال پہلے 21 سالہ لڑکی سے شادی کی۔ اب اس کو جانے کی جلدی نہیں تھی وہ لڑکی بلا رہی ہے تو اس کو جانا پڑ رہا ہے۔ اس کے پاس 2000 ڈالر تھا 5000 ادھار لے کر جا رہا ہے جس طریقے سے شاپنگ کر رہا ہے واپس آ کر کیا کرے گا؟ پیسہ اگر اپنا ہو تو ٹھیک لیکن ادھار پر عیش کرنا۔
میں نے کہا تم لوگ جو اتنی محنت کرتے ہو اور 8٫ 10 سالوں سے hourly worker ہو تم اگر پیسہ اپنے ملک بھیجنا بند کرو تو دو تین سالوں میں اپنا سٹور لے کر منافع آدھا آدھا تقسیم کر لو۔ ویسے بھی میں نے نوٹ کیا ہے کہ آپ کسی کو پیسے بھیجیں تو وہ اسی حساب سے اپنے خرچہ بھی بڑھا لیتا ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے لئے اس کو انوسیٹ کر رہا ہوتا ہے۔ جیسے اس کے بھائی وہاں اس کے پیسے سے جائیداد تو بنا رہے ہیں شائد کچھ اور کاربار کا بھی بتا رہا تھا۔
اسی طرح اس کے ملک کا ایک ابھی واپس آیا ہے۔ یہاں ٹیکسی چلاتا تھا اور ایک دو دفعہ مجھے کہیں جانا تھا تو میں نے ٹیکسی کال کی تو وہ آیا تھا۔ میں نے پوچھا اب ٹیکسی نہیں چلاتے؟ کہتا نہیں۔ میں نے کہا کیوں؟ کہتا واپس جانا پڑا تھا تو ٹیکسی بیچ کر ٹکٹ وغیرہ کی رقم کا بندوبست کیا۔ شاپنگ یہ بھی مال سے کرتا ہے۔ اگر آپ نے ایمرجنسی فنڈ نہیں قائم کر رکھا تو کیا کیا ہے؟ شوق آپ کے سارے کے سارے زبردست۔
برانڈ نیم کلوتھ کالوں میں بہت مقبول ہیں۔ یہ کافی مہنگے ہوتے ہیں اور ایک طرح سے ان کا سٹیٹس سیمبل ہوتے ہیں۔ انہی کے ملک کا ایک اور بندہ ایک انڈین کے سٹور پر تھا۔ وہ انڈین ہر وقت یہی رونا روتا تھا کہ بندہ اچھا ہے لیکن جو ملتا ہے سب کپڑوں پر لگا دیتا ہے اور ادھار مانگتا رہتا ہے۔ آج پچاس دے دو تو آج بیس۔
اب ان لوگوں کا ایکسیڈینٹ ہو تو یہ ایمرجنسی نہیں جاتے۔ جب تک حالات ایسے نہ ہوں کہ ان کو لے جایا جائے۔ پین کلر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر کی طرف سے ہو آتے ہیں۔ اگر ان کا معیار زندگی صحت کے حوالے سے بلند نہیں تو یہ کیسے گزارہ کریں گیں؟ ایک ایک ڈربہ میں چھ چھ لوگ رہتے ہیں۔ مجھے تو ان کا طریقہ کار پسند نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جہاں رہتے ہیں وہاں اپنے آپ کو مظبوط بنائیں۔ بعد میں جب واپس جانا چاہئے سب سمیٹیں اور چلے جائیں۔ اپنے ملک آپ بڑے رئیس اور یہاں کنگلے اور غلطی بھی آپ کی اپنی۔ کچھ عجیب سی بات ہے۔ اس سال جون میں اس کو پاسپورٹ مل جانا ہے۔ اگر اتنے سالوں سے اس نے یہاں کچھ اثاثہ جات بنا رکھے ہوتے تو وہ اگلے سال تک اپنی بیوی یہاں بلا لیتا۔
Popularity: 9% [?]
Popularity: 9% [?]
240 views
Related Posts
- Ultimate Windows Vista Celebration On January 26, 2007, 0 Comments
- Exclusive Invitation to Our Valuable Windows Community,Join us as we celebrate the launch of Windows Vista around the country! You’ve heard the buzz, tested the product and drove excitement and news, now it’s time to celebrate! Join us for 24 hours of Windows Vista Launch Celebrations on January 29th and 30th taking place at



























0 Responses to “رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن”
Please Wait
Leave a Reply