پچھلے سال ایک عرب مجھے ملا۔ اس نے اپنی گھڑی میرے آگے کی اور کہا یہ کتنے کی ہو گی؟ میں نے دیکھا ڈائل کے اندر پانی بھاپ سا ہو کر شیشہ سے چپکا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہا 30 یا 40 ڈالر مجھے کہتا نو مین یہ 300 ڈالر کی ہے۔ میں بہت حیران ہوا۔ میں نے کہا اتنی مہنگی کیوں کہتا بس۔ الٹا مجھ پر رعب ڈالے کہ مال سے لی ہے۔ میں نے اس کو اپنی گھڑی دیکھائی پوچھا کتنے کی ہو گی؟ کہتا پتہ نہیں میں نے اس کو کہا یہ صرف 7 ڈالر کی ہے اور میں نے خریدنے سے پہلے اس کی بار کوڈ مشین ڈھونڈ کر سکین کر کے قیمت دیکھ کر لی تھی۔ پھر میں نے اس سے پوچھا میری تو صرف وقت بتاتی ہے تمہاری گھڑی کیا کرتی ہے؟ وہ مجھے اچھا خاصا پاگل سمجھ رہا تھا۔
اب کل بھی مجھے اسی کے ملک کا ایک اور بندہ ملا۔ میری اس سے اچھی سلام دعا ہے۔ یہ اپنے ملک واپس جا رہا ہے دو ماہ کے لئے اور اس کو میرے سے کچھ کام تھا۔ باتوں باتوں میں اس نے بھی مجھے اپنی گھڑی دیکھائی۔ میں نے پوچھا کتنے کی ہے۔ کہتا یہ 375 ڈالر کی ہے سیل میں 297 ڈالر کی ملی ہے۔ مین نے پوچھا کیوں اتنی مہنگی کیوں لی؟ کہتا بس یہ ڈیزائن میرے ملک میں بہت مقبول ہے میں نے پوچھا یہ ہی کیوں؟ کہتا یہ آٹو میٹک ہے۔ میں نے اسکو بتایا کہ میں نے کرسمس پر ایک گھڑی دیکھی تھی والمارٹ پر 39 ڈالر کی ابھی تک سوچ رہا ہوں کے لے لوں یا نہیں۔ مجھے کہتا والمارٹ پر کوئی گھڑی نہیں۔ اپنی شرٹس نکال کر دیکھائی۔ یہ شرٹ پیکنگ میں ہے مارشل پر 27 ڈالر کی ہوتی ہیں اور مال پر 70 80 ڈالر کی۔ پرفیوم دیکھائے۔ 99 99 ڈالر کے پرفیوم۔ حد یہ ہے کہ یہ سب شاپنگ وہ اپنے ملک جا کر کرے تو کل ملا کر 100 ڈالر بھی نہ لگے۔ لیکن یہاں وہ قرض لے کر یہ سب کر رہا ہے۔ مجھے ٹوتھ پیسٹ دیکھائی کم از کم بھی 15 20 ٹوتھ پیسٹس شاپر میں۔ کہتا میرے ملک ملک میں یورپ سے مال آتا ہے مجھے امریکن مال پسند ہے۔ عام طور پر سبھی تارکین وطن اپنے ملک جاتے وقت پانچ ہزار ڈالر کم از کم لے کر جاتے ہیں۔ اب اگر یہ سارا ادھر خرچ کر لے گا تو واپس آ کر کیا کرے گا۔
جہانزیب نے ایک دفعہ مجھے بڑے لوگ یعنی سیلبریٹیز کا فرق سمجھایا تھا کہ ان لوگوں کو اپنا سٹیٹس قائم رکھنے کے لئے جتنا کماتے ہیں اتنا خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اور لوگ ان کے سٹیٹس کے بخار کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ بالکل درست بات ہے۔
ابھی ابو واپس آ رہے تھے۔ کچھ دوستوں نے تحائف بھیجنے تھے۔ ایک نے مجھے ھیوگو باس بھیجا۔ میں نے کہا یار اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کہا تم کو پسند ہے نہ میں نے کہا یار لیکن میری تو 15 روپے والی عطر کی اوقات ہے ہفتہ اس کی خوشبو نہیں جاتی نہ نشان۔ ایک دوست کے ساتھ میں جا کر عینک بنواتے وقت بچتیں کرتا ہوتا تھا۔ ہم لوگ پاکستان میں بس سفید پوش تھے۔ میں بچتیں کرنے کے لئے 450 روپے کی عینک نہیں بنواتا تھا ابو سے پانچ سو لیا اور لوہاری میں مارکیٹ تھی میں نظر کی priscription لے کر باہر مارکیٹ سے بنواتا تھا اچھی خاصی 210 تک بن جاتی تھی۔ اور فریم بھی پوری مارکیٹ سے گھوم پھر کر پسند کرنا۔ اب میرے اس دوست نے بنوا کر بھیجی۔ تین فریم ہیں اور تین ہزار کے ہیں۔ میں نے اس کو وہ وقت یاد دلایا۔
باہر رہنے والوں کو نہ میں نے کبھی دوسروں سے زیادہ اہمیت دی ہے نہ کبھی چاہا ہے کہ مجھے کوئی خصوصی ٹریٹمنٹ دیا جائے۔ میں بھی ایک عام سا بندہ ہوں جاہے یہاں رہے یا وہاں کیا فرق پڑتا ہے۔ میں کبھی کسی کی دولت سے متاثر نہیں ہوا۔ الٹا مجھے ان لوگوں کو قیمتی تحائف پر بہانے سے پیسے بھیجنے پڑے ہیں کہ ان کا نقصان نہ ہو نہیں تو میرے خاندان کے اکثر لوگ باہر سے آ کر تحائف وصول کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
مجھے کسی نے کہا تم نے اپنی کار اور موبائل کی بہت شو ماری۔ میں نے کہا ہو سکتا ہے تم کو ایسا لگا ہو لیکن یہ میری بچپن کی عادت ہے۔ جو چیز مجھے اچھی لگے میں اس کی بار بار تعریف کرتا ہوں۔ کسی کو شو مارنا لگتا ہے کسی کو میری خوشی۔ چاہے چیز میری ہو یا کسی کی میں پسندیدگی کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر میں نے اس کو کہا ہاں کار میری کمزوری ہے۔ مجھے اچھی کاریں پسند ہیں لیکن موبائل مجھے پلان کے ساتھ فری ملا ہے۔ یہ مجھے پسند تھا لہذا جب یہ پلان کے ساتھ فری ہوا تو لے لیا۔ کچھ چیزیں لوگوں کے لئے سٹیٹس سمبل ہوتی ہیں لیکن میرے لئے ضد ہوتی ہے ایک طرف میں مہنگی کار کا شوقین ہوں دوسری طرف میں کتنے سالوں سے زمین پر سو رہا ہوں۔ مجھے تو کوئی عار نہیں۔
مجھے جو چیز پسند ہو میں نے ضرور لینی ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا آ جاتا ہے کہ اگر اس سے بھی زیادہ کچھ اچھا لگے تو میں وہ لے لیتا ہوں۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی ہے کہ مجھے کوئی چیز جتنی مرضی عزیز ہو کسی نے تعریف کی تو میں اس کو دے دیتا ہوں۔ اگر وہ خود نہ لے تو اور بات ہے ورنہ مجھے دینے پر کوئی عار نہیں۔ ورنہ نئی خرید کر دے دیتا ہوں۔ اگر نئی بہت مہنگی ہو تو معذرت کر لیتا ہوں کہ یہ لینا ہے تو لے لو نئی لینا ممکن نہیں۔
میرا مسئلہ ہے کہ میں expressive نہیں۔ لہذا لوگ مجھے مغرور سمجھتے ہیں۔ مجھے اس حوالے سے کافی طعنے مل چکے تھے لہذا سوچا لکھ ڈالوں۔ مجھے سٹیٹس سمبل کا بھوت نہیں سوار مجھے بس چیز پسند ہو تو لینی ہوتی ہے۔ یعنی شو مارنا مقصد نہیں چیز کا حصول مقصد ہے۔
Popularity: 15% [?]
Popularity: 15% [?]
292 views
Related Posts
- :( On January 7, 2008, 4 Comments
- آپ نے کبھی آئینہ گر کے ٹوٹتے دیکھا ہے۔ اگر نہیں تو آپ میری بات نہیں سمجھ سکیں گیں۔ لیکن اب ایسی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں کہ جا کر آئینہ توڑ کر دیکھیں۔ ویسے ہی تصور کریں۔ ٹوٹے ہوئے آئینہ میں دیکھیں تو آپ کو ہر ٹکڑے میں اپنی شکل نظر آتی ہے۔ میں
- بھگوڑا کون؟َ On June 19, 2009, 35 Comments
- http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100651146&Issue=NP_LHE&Date=20090619 بہت سے لوگ آجکل بحث کر رہے ہیں کہ نواز شریف کا ملک چھوڑنا اس کو قومی لیڈر ثابت نہیں کرتا۔ کرے نہ کرے سانوں کی؟ لیکن جان بچانے کو اگر بی بی اتنے سالوں باہر رہ سکتی ہے اور گارنٹی ملنے پر ہی ملک واپس آتی ہے تو اس کو کیوں بھلا دیا جاتا
- خادم اعلیٰ On September 13, 2008, 0 Comments
- http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100482112&Issue=NP_LHE&Date=20080913 :taye: :thinkin/ جدہ کی گرمی لگ گئی یا لندن کی ٹھنڈ؟ AKPC_IDS += "833,";Popularity: 15% [?] Share and Enjoy:



























Bhai jis tarah aap ko mehngi gari ka shauq hay usi tarah kuch logon ko mehngi ghari ka shauq hota hay. I know people who wear 10K+$ watches.apna apna shuq ki bat hoti hay.
لیکن ادھار لے کر؟
I guess that you did not pay fully for your “Mehngi” car when you got it ? Did you finance it ? Did you lease it ? Woh bhi aik udhar hay, right ?
. Even if you paid fully then more power to you.
yes I financed it but this a bit different than them, I am establishing my self here unlike them who live in poor conditions, wearing or driving an expensive thing and living hand to mouth dont go hand to hand, do they?