دوہرے معیار
231 views Published January 31st, 2008 in اردو, پاکستان نامہ.چوبرجی لاہور سے مینار پاکستان جاتے ہوئے جہاں سے ملتان روڈ دو حصوں میں بٹتی ہے ایک حصہ مینار پاکستان کو چلا جاتا ہے دوسرا ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل جاتا ہے۔ اس جگہ سیکنڈ ہینڈ دروازے کھڑکیاں فروخت ہوتی ہیں۔ 1990 کے آس پاس اس جگہ ایک بورڈ تھا۔ لکھا ہوتا تھا
رشوت لینا جس کا کام
ذلیل کمینہ اس کا نام
میں اپنے ہر بزرگ سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ سب نے بتایا رشوت لینا بہت بری بات ہے۔ ایسے نہیں کرتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ بہت برسوں بعد ان سبھی بزرگوں نے میرے ہاتھوں ایل ڈی اے والوں کو رشوت دلوائی۔ یہ ذرا اور سٹوری ہے پھر کبھی صحیح۔ لیکن ایک بات واضح ہوئی من حیث القوم ہم لعنت ملامت کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے باتیں ہماری صرف کہنے کی ہوتی ہیں اعمال وہی ہوتے ہیں جن پر لعنت بھیجی جا رہی ہوتی ہے۔
مجھے چھوٹے ہوتے ہوتے جس جس بزرگ نے بتایا کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے اس نے کبھی نہ کبھی مجھے فون یا باہر دروازے پر کسی نہ کسی کو جھوٹ بولنے کا کہا۔
میری ایک بزرگ نے مجھے لیکچر دیا کہ وہ پیسے جو تمہارے پاس ہیں تمہارے نہیں فلاں کے ہیں لاؤ مجھے دے دو خاتون زمین پر بیٹھی ہوئی تھیں میں نے کہا یہ آپ کے بھی نہیں میرے پاس امانتا رکھوائے ہوئے ہیں لے لیں لیکن جوابدہ اب آپ ہیں یہ کہہ کر میں نے سارے پیسے ان کے پاس زمین پر گرا دئے۔ خاتون کو اپنی بدمعاشی بھول کر میری بدتمیزی نظر آ گئی خیر دل میں چور تھا زیادہ شور نہ مچا سکیں۔
میرے ایک بزرگ مجھ سے پوچھتے نہیں تھکتے تھے کہ تم نیٹ پر کیا کرتے ہو؟ بدقسمتی ان کی وہ نہ جان سکے میں کیا کرتا ہوں میں نے جان لیا وہ کیا کرتے ہیں۔
میرے تمام ایسے بزرگ جو کہ نیکو کار بنتے نہیں تھکتے اور شریف تو ان جیسا کوئی نہیں مجھے ان کے راز پتہ ہیں۔ میں ان کی تقاریر سنتا ہوں موڈ ہو تو بات کر لی ورنہ وہ نشر ہوتے رہتے ہیں اور میں ادھر ادھر۔
میرے کچھ بزرگوں کو عادت تھی جھوٹا وعدہ کر لیتے تھے۔ پھر وقت آنے پر پورا نہیں کر سکتے تھے نتیجتا آنکھیں دیکھاتے تھے۔ اب ہم معصوم بچے۔ باقی سب تو معصوم رہے میں اب ان جیسا ہوں ان سے وعدہ کر لیتا ہوں اور وقت آنے پر جان بوجھ کر لیٹ کرتا ہوں۔ بزرگ اب نہ آنکھیں دکھا سکتے ہیں نہ کام نکلوا سکتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ جھوٹ اور بددیانتی پر قائم ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو نصیحت کی تھی کہ تم جھوٹ بولنا بند کر دو باقی گناہ بھی چھٹ جائیں گیں اور ایسا ہی ہوا۔ میں خود بہت سے ایسے کاموں سے میں صرف اس لئے رک جاتا ہوں کہ اگر کسی نے پوچھ لیا تو کیا کرونگا۔
ہمارے معاشرے کی یا ہمارے لوگوں کی انتہائی بری عادت ڈبل سٹینڈرڈ ہے۔ میں ایسے کتنے بزرگوں کو جانتا ہوں وہ جو خامی کسی اور میں نکالتے ہیں وہ ان کے اپنے برخودار میں ہوتی ہے لیکن انہوں نے کبھی اس کی ٹھکائی نہیں کی۔ میرا بس چلتا تو میں دونوں کی ٹھکائی کر دیتا۔ میری ایک بزرگ تو اپنے بچے میں ایسی ایسی خوبیاں ڈھونڈ لیتی تھیں جو بچہ کے ابا تو کیا خود ان کے ابا تک میں نہ ہوں۔
ہماری قوم میں میں پھنس چکی ہے۔ مجھے کتنے لوگوں نے طعنہ مارا کہ تم میں میں پھنسے ہوئے ہو۔ میں کہتا ہوں ہاں پھنسا تو ہوا ہوں کوشش کرتا ہوں کبھی کامیاب ہو جاتا ہوں کبھی ناکام۔ ہماری قوم بشمول مجھ جیسے نکمے سے صدر پاکستان تک جو میں نے کیا اچھا ہے باقی سب برا کے شکار ہیں۔
اردو کی اہمیت پر کسی نے تقریر کرنی تھی۔ مجھ سے کچھ مدد مانگی۔ میں نے انٹرنیٹ کے حوالے دے دو تین باتیں بتائیں۔ پھر پوچھا تقریر کس زبان میں ہے۔ فرمایا انگلش میں۔ میرے خدا! اردو کی اہمیت انگلش میں۔
میں نے کہا آپ اردو میں تقریر کر لیں جبکہ آپ نے جا بجا اردو کی خدمت اور اس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ فرمایا سب انگلش میں کریں گیں۔ ہم سب اردو اردو کرتے ہیں لیکن انگلش دانوں میں جا کر انگلش ہی ہو جاتے ہیں۔ انگلش دان بھی ایسے جو اردو پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ خیر کیا ہو سکتا ہے۔ انگلش بولنے والوں کو احساس کمتری کا مارا قرار دینا اور دوسروں کو کہنا اردو میں سب کچھ کرو اور خود انگلش میں جا کر اردو کی اہمیت بتانا۔ واہ بھئی۔
یہ منافقت ہر جگہ ہر کسی میں ہے۔ ہم پوری قوم منافق ہے۔ امریکہ میں آجکل پرائمریز ہیں۔ سب سے اہم بات لوگ پتہ کیا دیکھ رہے ہیں؟ یہ مت دیکھو کون کیا کیسے بیان دے رہا ہے۔ یہ دیکھو کہ اس نے ماضی میں کس کو ووٹ دیا۔ جیسے ہیلری عراق جنگ کے خلاف بیان دیتی رہی اور اب بھی مخالفت کرتی ہے لیکن ووٹ اس نے حق میں دیا۔ ایک صاحب نے باہر بل کے خلاف ووٹ دیا اور اندر جا کر اس کے حق میں ووٹ دیا اور اس کا اتنا مذاق اڑایا گیا۔ عقل مند باتوں سے نہیں بہلتے وہ اعمال پر نظر ڈالتے ہیں۔
Popularity: 30%
Popularity: 30%
231 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









السلام علیکم
کہنا تو نہیں چاہے لیکن مجبوری ہے کہنا پڑھے گا بدتمیز بھائی آپ نے کچھ زیادہ ہی سچ نہین لکھ دیا ہمارے ہان ایسا ہی ہوتا ہے ہاتھی کے دانت دیکھانے کے اور اور کھانے کے اور
بہت اچھا لکھا ہے اپ نےآ
نوائے ادب’s last blog post..یہ ہے میرا پاکستان
یہ منافقت ہر جگہ ہر کسی میں ہے۔ ہم پوری قوم منافق ہے۔
