دوہرے معیار

چوبرجی لاہور سے مینار پاکستان جاتے ہوئے جہاں سے ملتان روڈ دو حصوں میں بٹتی ہے ایک حصہ مینار پاکستان کو چلا جاتا ہے دوسرا ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل جاتا ہے۔ اس جگہ سیکنڈ ہینڈ دروازے کھڑکیاں فروخت ہوتی ہیں۔ 1990 کے آس پاس اس جگہ ایک بورڈ تھا۔ لکھا ہوتا تھا

رشوت لینا جس کا کام

ذلیل کمینہ اس کا نام

میں اپنے ہر بزرگ سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ سب نے بتایا رشوت لینا بہت بری بات ہے۔ ایسے نہیں کرتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ بہت برسوں بعد ان سبھی بزرگوں نے میرے ہاتھوں ایل ڈی اے والوں کو رشوت دلوائی۔ یہ ذرا اور سٹوری ہے پھر کبھی صحیح۔ لیکن ایک بات واضح ہوئی من حیث القوم ہم لعنت ملامت کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے باتیں ہماری صرف کہنے کی ہوتی ہیں اعمال وہی ہوتے ہیں جن پر لعنت بھیجی جا رہی ہوتی ہے۔

مجھے چھوٹے ہوتے ہوتے جس جس بزرگ نے بتایا کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے اس نے کبھی نہ کبھی مجھے فون یا باہر دروازے پر کسی نہ کسی کو جھوٹ بولنے کا کہا۔

میری ایک بزرگ نے مجھے لیکچر دیا کہ وہ پیسے جو تمہارے پاس ہیں تمہارے نہیں فلاں کے ہیں لاؤ مجھے دے دو خاتون زمین پر بیٹھی ہوئی تھیں میں نے کہا یہ آپ کے بھی نہیں میرے پاس امانتا رکھوائے ہوئے ہیں لے لیں لیکن جوابدہ اب آپ ہیں یہ کہہ کر میں نے سارے پیسے ان کے پاس زمین پر گرا دئے۔ خاتون کو اپنی بدمعاشی بھول کر میری بدتمیزی نظر آ گئی خیر دل میں چور تھا زیادہ شور نہ مچا سکیں۔

میرے ایک بزرگ مجھ سے پوچھتے نہیں تھکتے تھے کہ تم نیٹ پر کیا کرتے ہو؟ بدقسمتی ان کی وہ نہ جان سکے میں کیا کرتا ہوں میں نے جان لیا وہ کیا کرتے ہیں۔

میرے تمام ایسے بزرگ جو کہ نیکو کار بنتے نہیں تھکتے اور شریف تو ان جیسا کوئی نہیں مجھے ان کے راز پتہ ہیں۔ میں ان کی تقاریر سنتا ہوں موڈ ہو تو بات کر لی ورنہ وہ نشر ہوتے رہتے ہیں اور میں ادھر ادھر۔

میرے کچھ بزرگوں کو عادت تھی جھوٹا وعدہ کر لیتے تھے۔ پھر وقت آنے پر پورا نہیں کر سکتے تھے نتیجتا آنکھیں دیکھاتے تھے۔ اب ہم معصوم بچے۔ باقی سب تو معصوم رہے میں اب ان جیسا ہوں ان سے وعدہ کر لیتا ہوں اور وقت آنے پر جان بوجھ کر لیٹ کرتا ہوں۔ بزرگ اب نہ آنکھیں دکھا سکتے ہیں نہ کام نکلوا سکتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ جھوٹ اور بددیانتی پر قائم ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو نصیحت کی تھی کہ تم جھوٹ بولنا بند کر دو باقی گناہ بھی چھٹ جائیں گیں اور ایسا ہی ہوا۔ میں خود بہت سے ایسے کاموں سے میں صرف اس لئے رک جاتا ہوں کہ اگر کسی نے پوچھ لیا تو کیا کرونگا۔

ہمارے معاشرے کی یا ہمارے لوگوں کی انتہائی بری عادت ڈبل سٹینڈرڈ ہے۔ میں ایسے کتنے بزرگوں کو جانتا ہوں وہ جو خامی کسی اور میں نکالتے ہیں وہ ان کے اپنے برخودار میں ہوتی ہے لیکن انہوں نے کبھی اس کی ٹھکائی نہیں کی۔ میرا بس چلتا تو میں دونوں کی ٹھکائی کر دیتا۔ میری ایک بزرگ تو اپنے بچے میں ایسی ایسی خوبیاں ڈھونڈ لیتی تھیں جو بچہ کے ابا تو کیا خود ان کے ابا تک میں نہ ہوں۔

ہماری قوم میں میں پھنس چکی ہے۔ مجھے کتنے لوگوں نے طعنہ مارا کہ تم میں میں پھنسے ہوئے ہو۔ میں کہتا ہوں ہاں پھنسا تو ہوا ہوں کوشش کرتا ہوں کبھی کامیاب ہو جاتا ہوں کبھی ناکام۔ ہماری قوم بشمول مجھ جیسے نکمے سے صدر پاکستان تک جو میں نے کیا اچھا ہے باقی سب برا کے شکار ہیں۔

اردو کی اہمیت پر کسی نے تقریر کرنی تھی۔ مجھ سے کچھ مدد مانگی۔ میں نے انٹرنیٹ کے حوالے دے دو تین باتیں بتائیں۔ پھر پوچھا تقریر کس زبان میں ہے۔ فرمایا انگلش میں۔ میرے خدا! اردو کی اہمیت انگلش میں۔ :D میں نے کہا آپ اردو میں تقریر کر لیں جبکہ آپ نے جا بجا اردو کی خدمت اور اس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ فرمایا سب انگلش میں کریں گیں۔ ہم سب اردو اردو کرتے ہیں لیکن انگلش دانوں میں جا کر انگلش ہی ہو جاتے ہیں۔ انگلش دان بھی ایسے جو اردو پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ خیر کیا ہو سکتا ہے۔ انگلش بولنے والوں کو احساس کمتری کا مارا قرار دینا اور دوسروں کو کہنا اردو میں سب کچھ کرو اور خود انگلش میں جا کر اردو کی اہمیت بتانا۔ واہ بھئی۔

یہ منافقت ہر جگہ ہر کسی میں ہے۔ ہم پوری قوم منافق ہے۔ امریکہ میں آجکل پرائمریز ہیں۔ سب سے اہم بات لوگ پتہ کیا دیکھ رہے ہیں؟ یہ مت دیکھو کون کیا کیسے بیان دے رہا ہے۔ یہ دیکھو کہ اس نے ماضی میں کس کو ووٹ دیا۔ جیسے ہیلری عراق جنگ کے خلاف بیان دیتی رہی اور اب بھی مخالفت کرتی ہے لیکن ووٹ اس نے حق میں دیا۔ ایک صاحب نے باہر بل کے خلاف ووٹ دیا اور اندر جا کر اس کے حق میں ووٹ دیا اور اس کا اتنا مذاق اڑایا گیا۔ عقل مند باتوں سے نہیں بہلتے وہ اعمال پر نظر ڈالتے ہیں۔

Popularity: 12% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 12% [?]

311 views

 

 

Related Posts

    None Found


4 Responses to “دوہرے معیار”

  1. 1 خرم شہزاد خرم

    السلام علیکم
    کہنا تو نہیں چاہے لیکن مجبوری ہے کہنا پڑھے گا بدتمیز بھائی آپ نے کچھ زیادہ ہی سچ نہین لکھ دیا ہمارے ہان ایسا ہی ہوتا ہے ہاتھی کے دانت دیکھانے کے اور اور کھانے کے اور

  2. 2 نوائے ادب

    بہت اچھا لکھا ہے اپ نےآ

    نوائے ادب’s last blog post..یہ ہے میرا پاکستان

  3. 3 عبدالقدوس

    یہ منافقت ہر جگہ ہر کسی میں ہے۔ ہم پوری قوم منافق ہے۔
    :kiss

  4. 4 انکل ٹام

    بہت اچھے بھای یہ تو معاشرے کا کڑوا سچ ہے لیکن پھر بھی لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں‌ کہ وہ دوغلے پن کا شکار ہیں‌

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2859
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 382622

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->